ہم کہاں جا رہے ہیں
*ہم کہاں جا رہے ہیں*
بدھ 05 نومبر 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
یہ چیز روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عصر حاضر میں انسانیت مفقود ہوتی جا رہی ہے انسانوں میں حیوانیت بڑھتی جا رہی ہے اخلاقی قدریں گرتی ہوئی نہیں بلکہ یکسر بدل رہی ہیں۔ چاہے بات دین کی کریں۔ مذہب کی کریں یا خالص دنیا کی کریں محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے قبلے یکسر فرداً فرداً مختلف نظر آتے ہیں اور ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جس مقام پر ﷲ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئیں۔ کیونکہ ہم سدھرنے کی حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔
حقیقت حال یہ ہے کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے کہ ہم اپنے رخ سیدھے کر لیں مثال واضح ہے کہ اگر ہم سرگودھا سے لاہور جانا چاہیں تو ہمیں اپنا رخ لاہور کی طرف کر کے سفر پر روانہ ہونا پڑے گا لیکن حقیقتاً ہمارا رخ میانوالی کی طرف ہے اور اس رخ پر چاہے ہم ساری عمر ہی کیوں نہ چلتے رہیں ہم قطعاً لاہور نہیں پہنچ پائیں گے۔ تاوقتیکہ ہم اپنا رخ لاہورکی طرف تبدیل کریں یا کوئی رہبر ہمیں بتلا دے کہ میاں لاہور کا راستہ اس طرف ہے آپ کہاں بھٹک رہے ہیں یہ روش ہماری دینی اوردنیاوی معاملات میں ایک جیسی ہے۔
آج کل ہم اصو ل پر نہیں چل رہے بلکہ ہرکام میں شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں جس سے وقتی کامیابی تو ہو سکتی ہے مگر مستقل فلاح نہ پا سکیں گے۔ذرا غور کیجیے کہ والدین اولاد کے حصول کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتے اور جب اولاد ہو جاتی ہے تو ہم اسے ہر ممکن بہترین ماحول دینے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جب بچہ ذرا بڑا ہوتا ہے تو اسے بہترین سکول میں داخل کرواتے ہیں اسے اچھی پرائیویٹ یونیرسٹیوں میں داخل کرواتے ہیں تا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اچھا شہری بن سکے اور والدین کا سہارا بن جائے۔
جب یہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے اپنا جاب تلاش کرتا ہے جو کہ پاکستان میں آجکل خاصا مشکل مرحلہ ہے اور جاب ملتے ہی اس نوجوان کی شادی کی کوشش میں لگ جاتے ہیں مگر بھرے بازار میں ایک موبائل چھیننے والا اس سے موبائل چھیننا چاہتا ہے مگر نوجوان اپنے مال کی حفاظت میں مذاحمت کرتا ہے اور موبائل چھیننے والا موبائل کو اپنا حق سمجھتے ہوئے اس نو جوان کو گولی مار دیتا ہے اور موبائل لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ اس پورے کیس کا کوئی کیس یا FIR درج نہیں ہوتی اور نو جوان کے والدین رو پیٹ کر بیٹھ جاتے ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے اپنا مقدر سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
اہل علم و دانش اس پر غور کریں حکومت اس بے راہ وری کا سد باب کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ زمین پر امن ہو اگر امن ہو گا تو رزق بھی میسر آئے گا ، خوشحالی بھی آئے گی ۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے جو دعاء مانگی تھی کہ اے اللہ اس شہر (مکہ) کو امن کا شہر بنا اورپھر کہا کہ اس شہر کے نیک باسیوں کو ثمرات کا رزق دیجئے تو ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس شہر مکہ کو امن کا شہر بنایا لیکن رزق تو کسی قدر میں ان کو بھی دوں گا جو مجھے نہیں مانتے لیکن پھر انہیں میرے پاس ہی لوٹنا ہے۔ ﷲ تعالی ٰکا وعدہ سچا ہے اور آج بھی شہر مکہ میں امن ہے اور ثمرات کا رزق ہی نہیں بلکہ ورلڈ کلاس رزق وہاں میسر ہے۔
لیکن ہمارے وطن عزیز جیسی کیفیت وہاں نہیں ہے کیونکہ وہاں تو ﷲ کا قانون نافذ ہے چوروں کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے زانی اور ڈاکو و رہزن مجرم کی گردن سر سے جدا کر دی جاتی ہے اور اسی وجہ سے وہاں پر امن ہے غالباً ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو ﷲ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کیا اس کو ایک سلطان نافذ کر سکتا ہے۔مزید یہ کہ عادل سلطان پر ﷲ تعالیٰ کا سایہ ہوتا ہے۔اہل عقل و دانش والو غور کریں کہ ہم کون ہیں ہماری اخلاقی قدریں کیا تھیں اور اب ہم کہاں جا رہے ہیں۔
دوستو! ایک وقت تھا کہ ہماری خواتین شٹل کاک برقعہ اوڑھتی تھیں پھر اس کی جگہ فینسی برقعے نے لے لی تو بڑا والیلاکیا گیا اوررفتہ رفتہ فینسی برقعہ اتر گیا اور اس کی جگہ چادر نے لے لی اور ایک وقت آیا کہ چادر بھی اتر گئی اور فقط ایک ہلکا سا دوپٹہ رہ گیا۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دوپٹہ گلے سے بھی نکل گیا ہے اس طرح یہ کہ سلیو لیس (بے بازو) لمبی قمیض جس کے چاک ایک ایک گز پھٹے ہوئے اور چلتے ہوئے کوہلے، ننگے دعوت گناہ نہ سہی بے حیائی ضرور پھیلا رہے ہیں اور اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ شلوار تو اتر ہی گئی اوراس کی جگہ سکن ٹائٹ نے لے لی ۔آج کل بازاروں میں عورتیں کم اور بے حیائی کا سائین بورڈ زیادہ نظر آتی ہیں۔
کہاں ہیں ان بچیوں کے والدین ، بھائی یا شوہر اور ان کی غیرت کہاں ہے ۔مزید کتنا اپنی عزتوں کو ننگا کرنا ہے ﷲ سے ڈرو اور عقل کے نا خن لو اور اپنے عقیدوں کو سدھارو اپنے رخ سیدھے اس اپنے رب کی طرف کرلو اگر فلاح چاہتے ہو وگرنا وہ قادر ہے کہ تمہاری جگہ دوسری قوم کولے آئے" نذیر اکبر الٰہ آبادی نے کیا خوب کہا تھا:
کل شب نظر آئیں جو بے پردہ چند بیبیاں
اکبر غیرت غم سے ؐکڑھ گیا۔
پوچھا جو آ پ کا پردہ کہاں گیا
ہنس کے بولی کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
ائے اہل دانش ۔علم والو۔ اہلاہل و عقد ائے ممبر و محراب کے مالکو! کیوں نہیں اپنا کردارادا کرتے یقیناً تم بھی برا کرتے ہو اور اس بے راہ وری کے ذمہ دار ہو کیونکہ تم نبوت کے وارث ہو قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
" ۔۔۔۔۔جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ حیوان ہیں اور حیوانوں سے 'بھی بد تر ہیں۔۔۔۔۔۔" (سورۃ انعام)
معزز خواتین میک اپ کرنا آپ کا حق ہے لیکن اپنے شوہر کے لئے ۔ آپ کانان ونفقہ واخراجات توشوہر برداشت کرے لیکن آپ کے حسن سے دوسرے محضوظ کیوں ہوں۔ معزز خواتین پردہ کریں۔ قبل اس کے کہ آپ پردہ میں چلی جائیں۔آئیں اس بے حیائی کی رفتہ یلغار کو روکیں اور اپنے اپنے گھروں کا محاسبہ کریں۔اپنے محلوں میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو قرآن و سنت کا پیغام دیں اور حکومت وقت ایسے قوانین وضح کریں ۔جس سے آنے والے زمانے کے برے اثرات پر قابو پایا جا سکے اور اس کا بہترین حل قرآن و سنت کا نفاذ ہے دیر کیسی کس چیز کا انتظار ہے۔
*الدعاء*
یا اللہ تعالی ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں نیک و صالح اولاد عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik. com
Cell:00923008604333
تبصرے