اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آئمہ اربعہ کا مشترک پیغام

 ائمہ اربعہ کا مشترک پیغام اگر ہم چاروں ائمہ کے افکار کا خلاصہ کریں تو وہ یہ ہوگا: ✔ قرآن کو مضبوطی سے تھامو۔ ✔ سنت کی پیروی کرو۔ ✔ صحابہؓ کے نقشِ قدم پر چلو۔ ✔ علم حاصل کرو۔ ✔ اختلاف میں ادب قائم رکھو۔ ✔ تعصب سے بچو

نماز کی تصحیح فرما

 ذرا غور فرمائییے کیا آپ سب رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم والی نماز پڑھتے ہیں؟؟ 1-کیا رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ربی جعلی پڑھتے تھے؟ 2-کیا رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ میں ثنا پڑھتے تھے؟ 3- کیا آپ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں جبکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھتے تھے(بخاری) 4- کیا آپ نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں جبکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے (مسلم) زندگی میں ایک بار بخاری و مسلم  شریف سے اپنی نمازوں کو موازنہ کر لیجئے اور اپنی تصحیح فرما لیجئے۔ وما علینا الا البلاغ المبین  انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اٹم بم کس نے بنایا

   پاکستان میں ایٹےئم بم جمہوری ملک میں اتنا بڑا کام کوئی فرد واحد نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی سرزمیں پر پاکستان اٹامک انرجی کا بیج ذوالفقار علی بھٹو نے بویا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کی آبیاری کی اور فصل میاں نواز شریف نے کاٹی۔ انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

چوتھے دن کی قربانی

*چوتھے دن کی قربانی کا جواز و عدم جواز* جمہ 29 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  فقہی طور پر یہ سہولت صرف حاجی کے لئے ہے وہ اس لئے کہ اگر حاجی 12 ذوالحجہ کو مغرب سے پہلے مینا نہ چھوڑ سکے تو اسے 13 تاریخ کو بھی رمی کرنی پڑے گی اور اسی لئے وہ حاجی 13 کو بھی قربانی کر سکتا ہے  اس کی اصل فقہی بنیاد یہی ہے، اور اسی نکتے کو بعض اہلِ علم نے 13 ذوالحجہ تک قربانی کے جواز کے ضمن میں بھی ذکر کیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ یعنی: “جو شخص دو دن میں جلدی واپس آ جائے اس پر بھی گناہ نہیں، اور جو تاخیر کرے اس پر بھی گناہ نہیں۔” اس آیت کی رو سے:  • حاجی اگر 12 ذوالحجہ کے غروب سے پہلے مِنیٰ چھوڑ دے تو وہ “تعجّل” کر گیا۔ • لیکن اگر غروبِ آفتاب تک مِنیٰ میں موجود رہے تو پھر اسے 13 ذوالحجہ کی رمی بھی کرنا ہو گی۔ اسی وجہ سے 13 ذوالحجہ بھی “ایامِ تشریق” میں شامل ہے۔ اب استدلال یہ کیا جاتا ہے کہ جب:  • 13 تاریخ ایامِ منیٰ میں شامل ہے۔ • رمی جمرات اس دن بھی مشروع ہے۔ •...

خطبے عید الاضحی

 عید الاضحی کے دونوں خطبوں کا اردو ترجمہ: بدھ 27 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  ✦ پہلا خطبۂ عید الاضحیٰ  اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ، نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِيْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ، وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّاٰتِ اَعْمَالِنَا۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اَمَّا بَعْدُ! اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ تقویٰ ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ آج عید الاضحیٰ کا مبارک دن ہے۔ یہ دن حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر و رضا کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ...

عید الاضحی خصوصی مسائل

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌹 عید الاضحی مبارک *عید الاضحٰی کے خصوصی مسائل* تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  ✦ عید الاضحیٰ کے دن نمازِ عید سے پہلے کچھ نہ کھانا سنت و مستحب ہے۔ ✦ اگر قربانی جلد ہو جائے تو قربانی کے گوشت سے کھانا شروع کرنا بھی مسنون اور افضل ہے۔ ✦ لیکن اگر قربانی میں تاخیر ہو تو نمازِ عید کے بعد ناشتہ یا عام کھانا کھایا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ✦ البتہ جس شخص نے قربانی کرنی ہو اس کے لیے بہتر اور سنت کے مطابق یہ ہے کہ: یکم ذوالحجہ سے قربانی ہونے تک بال اور ناخن نہ کاٹے جائیں۔ ✦ جب قربانی ہو جائے تو پھر بال اور ناخن کاٹ سکتا ہے۔ یعنی کھانے کا تعلق نمازِ عید کے بعد سے ہے، جبکہ بال اور ناخن کا تعلق قربانی مکمل ہونے سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین 🌹 احقر العباد: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

ہماری دینی کاوشیں

  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سلانوالی ضلع سرگودھا میں عیدین کی نماز عین مسنون اوقات پر الحمدللہ، مجھے تقریباً 20 سال سے اپنی ذاتی کوشش اور خرچ سے ایک عیدگاہ کے انتظام کی سعادت حاصل ہے، جہاں عیدین کی نماز حتی المقدور عین مسنون وقت پر ادا کی جاتی ہے۔ جب میں سعودی عرب سے نقلِ مکانی کرکے اپنے آبائی شہر سلانوالی واپس آیا تو یہاں یہ صورتحال دیکھی کہ اکثر مقامات پر نمازِ عید صبح 10 یا ساڑھے 10 بجے تک ادا کی جاتی تھی۔ چنانچہ میں نے مقامی علماء کرام سے ادب اور خیرخواہی کے ساتھ مشورہ کیا اور حرمین شریفین میں رائج طریقہ اور مسنون اوقات کے دلائل پیش کیے کہ نمازِ عید سورج بلند ہونے کے بعد بلاوجہ مؤخر کرنا سنت کے خلاف ہے۔ ابتداء میں بعض علماء کرام نے اختلاف بھی کیا، لیکن جب میں نے احادیث اور فقہی حوالہ جات کے ساتھ مسنون اوقات کی وضاحت کی تو رفتہ رفتہ فضا تبدیل ہوتی گئی۔ الحمدللہ آج سلانوالی کے تقریباً 22 مقامات میں سے 15 مقامات پر نمازِ عید انہی اوقات کے قریب ادا کی جا رہی ہے جو سنت اور آثارِ سلف کے زیادہ موافق ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ آج بھی سچی، مدلل اور خیرخواہ بات کو قبول کرتے ہیں...

روحوں کی واپسی

 *مرنے کے بعد روحوں کی واپسی کی حقیقت، قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ* منگل 26 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  مرنے کے بعد روحوں کی واپسی کی حقیقت قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ انسان ہمیشہ سے موت، روح اور عالمِ برزخ کے متعلق متجسس رہا ہے۔ بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد روحیں دوبارہ دنیا میں آتی ہیں، اپنے گھروں میں گھومتی ہیں، یا زندہ لوگوں سے رابطہ کرتی ہیں۔ جبکہ بعض لوگ ہر خواب اور ہر احساس کو روحوں کی آمد قرار دے دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے تاکہ عقیدہ درست رہے اور انسان توہمات سے محفوظ رہے۔ *موت کے بعد دنیا میں واپسی نہیں* قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ دنیا کی زندگی میں واپس نہیں بھیجا جاتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: حَتّٰی إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ۝ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۝ كَلَّا “یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں نیک اعمال کرلوں جو م...

جن کی معیت کا حکم

  قرآنِ مجید نے جن لوگوں کی معیت (ساتھ رہنے) کا حکم دیا ہے، وہ دراصل وہ باکردار، نیک اور سچے لوگ ہیں جو انسان کو اللہ کی طرف لے جائیں۔ قرآن اس کو مختلف انداز میں بیان کرتا ہے، لیکن بنیادی طور پر تین بڑے گروہ واضح ہوتے ہیں: 1) الصادقین (سچے لوگ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ” (سورۃ التوبہ: 119) یہاں “سچے لوگ” سے مراد وہ افراد ہیں: جو قول و فعل میں سچائی رکھتے ہیں جن کی زندگی میں نفاق نہیں ہوتا جو دین پر ثابت قدم ہوتے ہیں جو حق بات کھل کر کہتے ہیں، چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو 👉 یعنی قرآن کا حکم ہے کہ انسان اپنی صحبت ایسے لوگوں کے ساتھ رکھے جو سچائی کی عملی تصویر ہوں۔ 2) الصالحین (نیک اور صالح لوگ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین” (سورۃ النساء: 69) یہ آیت بہت جامع ہے، اس میں چار بڑے طبقے ہیں: 1. انبیاء وہ ہستیاں جو اللہ کا پیغام پہنچاتی ہیں۔ 2. صدیقین وہ لوگ جو انتہائی سچے، مخلص اور کامل ایمان وا...

صالحین کے پہچان

 *آج کے صالحین کی پہچان* تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  آج کے دور میں صالح انسان کی پہچان زیادہ تر اس کے “عمل، نیت اور کردار” سے ہوتی ہے—نہ کہ نام، شہرت یا ظاہری دعووں سے۔  آج کے صالحین کی پہچان  1) اللہ سے مضبوط تعلق صالح انسان کی پہلی علامت یہ ہے کہ: وہ پانچ وقت نماز کا پابند ہوتا ہے قرآن سے اس کا تعلق ہوتا ہے تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھتا ہے قرآن کا اصول ہے: “بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے” جو نماز کے باوجود گناہ سے نہیں بچتا، اس کے عمل میں کمی ہوتی ہے۔  2) سچائی اور دیانت آج کے صالح انسان کی بڑی علامت: جھوٹ سے نفرت وعدہ پورا کرنا امانت میں خیانت نہ کرنا چاہے کاروبار ہو، نوکری ہو یا گھریلو زندگی—وہ سچائی پر قائم رہتا ہے۔ 3) حلال و حرام کی تمیز صالح انسان: رشوت نہیں لیتا دھوکہ نہیں دیتا حرام کمائی سے بچتا ہے  وہ جانتا ہے کہ: “کم مگر حلال بہتر ہے، زیادہ مگر حرام نہیں” 4) حیا اور پردہ داری خصوصاً آج کے فتنوں میں: مرد و عورت دونوں اپنی حدود کا خیال رکھتے ہیں نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بے حیائی کے ماحول سے بچتے ہیں حیا ایمان کا حصہ ہے، ...

زیتون کا تیل

 *قرآن، سنت اور جدید سائنس کی روشنی میں زیتون کے تیل کے فوائد* پیر 25 مئی 2025 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا   قرآن، سنت اور جدید سائنس کی روشنی میں زیتون کے تیل کے فوائد اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو اپنی خاص نعمت قرار دیا ہے، اور بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر ان کی عظمت واضح فرمائی ہے۔ زیتون انہی مبارک نعمتوں میں سے ایک ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: > ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ “قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔”( سورۃ التین: 1) یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زیتون ایک عظیم، بابرکت اور فائدہ مند پھل ہے۔ زیتون کا تیل صدیوں سے غذا، دوا اور علاج کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے بھی اس کے بے شمار فوائد کو تسلیم کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی زیتون اور اس کے تیل کی تعریف فرمائی۔ حدیث شریف میں ہے: “زیتون کا تیل کھایا کرو اور اسے اپنے جسم پر لگایا کرو، کیونکہ یہ مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے۔(سنن ترمذی) زیتون کا تیل کیا ہے؟ زیتون کے پھل سے نکالا جانے والا خالص تیل “زیتون کا تیل” کہلاتا ہے۔ اس میں قدرتی چکنائیاں، وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹس اور مف...

یوم عرفہ کا روزہ

 *یومِ عرفہ کے روزے کی عظیم فضیلت* امسال یوم عرفہ کا روزہ پاکستان اور سعودی عرب میں ایک ہی دن 9 ذوالحجہ بروز منگل 26 مئی 2026ء کو ہو گا   آپ ﷺ نے فرمایا: “مجھے اللہ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔” (صحیح مسلم)

موت اور روح کا سفر

 سوال: السلام علیکم مرنے والے کی روح جب عالم ارواح میں پہنچتی ہے تو کیا وہاں موجود روحیں اس آنے والی روح سے اپنے غزیز و اقارب کا حال احوال لیتی ہیں؟ الجواب: وعلیکم سلام  جی، متعدد آثارِ صحابہؓ اور بعض احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کسی مومن کی روح عالمِ برزخ میں پہنچتی ہے تو وہاں موجود اہلِ ایمان کی ارواح اس سے دنیا والوں کے حالات دریافت کرتی ہیں، خصوصاً اپنے عزیز و اقارب کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ البتہ یہ معاملہ “عالمِ برزخ” سے تعلق رکھتا ہے جس کی مکمل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، اس لیے انہی نصوص تک محدود رہنا چاہیے جو معتبر طور پر منقول ہیں۔ اس بارے میں ایک مشہور روایت حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب مومن کی روح قبض کی جاتی ہے تو اہلِ رحمت اس کا استقبال کرتے ہیں… پھر وہ اس سے دنیا والوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔” اسی طرح بعض آثار میں ہے کہ ارواح اپنے رشتہ داروں کے متعلق دریافت کرتی ہیں: “فلاں شخص کا کیا حال ہے؟” اگر بتایا جائے کہ وہ ابھی دنیا میں ہے تو خوش ہوتے ہیں، اور اگر معلوم ہو کہ وہ فوت ہو چکا ہے تو کہتے ہیں: “وہ تو ہمارے پاس نہ...

پردہ،حیا اور پاکیزگی

 *پردہ، حیا اور معاشرتی پاکیزگی* مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  قرآن و سنت کی روشنی میں ایک اہم پیغام اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے بہترین اصول عطا کرتا ہے۔ انہی اصولوں میں ایک عظیم اصول “پردہ اور حیا” ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جس تیزی کے ساتھ بے حیائی، فحاشی، خاندانی انتشار اور اخلاقی زوال بڑھ رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ پردے سے دوری اور غیر محرم مرد و عورت کے درمیان بے احتیاطی ہے۔ قرآنِ مجید نے مرد و عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «“مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔” (سورۃ النور: 30)» اسی کے فوراً بعد ارشاد فرمایا: «“اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں…” (سورۃ النور: 31)» یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام صرف عورت ہی نہیں بلکہ مرد کو بھی حیا، پاکیزگی اور حدودِ شرع ک...

آخرت سے غفلت معاشرتی بگاڑ

 *آخرت سے غفلت، معاشرتی بگاڑ کی اصل وجہ* مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہر طرف ایک عجیب بے چینی، بے حیائی، بے ایمانی، رشوت، ظلم، دھوکہ دہی، قتل و غارت اور حقوق کی پامالی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز مٹتی جا رہی ہے۔ انسان اپنی خواہشات کا غلام بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس تباہی کی اصل وجہ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس تمام فساد کی جڑ “اللہ کے خوف” اور “یومِ آخرت کے یقین” کا کمزور ہو جانا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے، اصل فیصلہ آخرت میں ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور بے شک تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دی جائے گی۔” جب انسان یہ یقین کھو دیتا ہے کہ ایک دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اپنے ہر لفظ، ہر نگاہ، ہر خیانت اور ہر ظلم کا حساب دینا ہے، تو پھر وہ بے خوف ہو جاتا ہے۔ پھر نہ اسے قانون کا ڈر رہتا ہے، نہ معاشرے کی پرواہ، اور نہ اللہ کی پکڑ کا احساس۔ اسی لیے آج ہم دیکھتے ہیں کہ: *رشوت عام ہ...

قربانی کے جانور

 *قربانی کے جانور، ان کی شرائط اور نقائص* ہفتہ 23 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ ﷺ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں ایک مدلل و مربوط مضمون۔ الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، محمدٍ وآلہ واصحابہ اجمعین۔ قربانی شعائرِ اسلام میں سے ایک عظیم عبادت ہے۔ یہ سنتِ ابراہیمیؑ کی یادگار اور اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور اطاعت کا عظیم مظہر ہے۔ مسلمان ہر سال ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جانور ذبح کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «“اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ ان چوپایہ جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے۔” (الحج: 34)» ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: «“ہرگز اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔”(الحج: 37) قربانی کن جانوروں کی جائز ہے؟ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے کہ قربانی صرف “بہیمۃ الانعام” یعنی چوپائے مویشی جانوروں کی جائز ہے، جیسے: - اونٹ- گائے- بکری- - بھیڑ / دنبہ رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور امتِ...

انسانیت کی تباہی

 ہم مسلمان تلوار کے دھنی تھے آج تلوار اور ڈھال کا زمانہ نہیں رہا لیکن آج میزائل، ڈراون اور لیزر جیٹ کا زمانہ ہے نیوکلئر بم تو ایک ڈرابہ ہے جب چلے گا تو تباہی ہوگی نہ دوست بچے گا اور نہ دشمن بلکہ اپنے پرائے سب مارے جائیں گے الامان والحفیظ۔ کویت وار سے ہمیں ڈش انٹینا اور سیٹلائیٹ ٹیلیویژن میسر آیا تھا اور ایران امریکہ اور اسرائیل سے ہمیں ڈرون بچے گا اور ایئر ٹیکسی ملے گی اگلی جنگ میں لیزربیم تباہی مچائے گی اللہ کی قیامت تو جب آئے گی تب آئے گی ہم انسانوں نے اپنی موت کا بندوبست پہلے ہی کر لیا ہے  دنیا تو جب تباہ ہو گی وہ تو اللہ کے حکم سے ہوگی مگر انسانیت انسان کی اپنی کار ستانیوں سے ناپید ہو جائے گی۔ فرمان باری تعالی ہے کہ جو تمھیں فائدہ پہنچتا ہے وہ ہماری طرف سے پہنچتا ہے اور جو تمھیں گزند پہنچتا ہے وہ تمھاری شامت اعمال سے پہنچتا ہے۔ اے انسانوں اس خوبصورت دنیا کی قدر کرو اللہ تعالی کی اس سجی سجائی دنیا کو تباہ نہ کرو۔ امریکہ تو اس دنیا گا غنڈہ ہےجسے چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے جو چاہتا ہے منوا لیتا ہے  میری مانو اس غنڈے کا بندوبست کرو وگرنہ یہ اس دنیا اور چھوٹے ملکوں کی تباہی و ب...

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

 امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں   ہفتہ 23 مئی 202 ٹحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو صرف انفرادی عبادات ہی نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح، اخلاقی پاکیزگی اور معاشرتی بھلائی کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کے اجتماعی نظام کا ایک عظیم ستون “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہے، یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کے ذریعے معاشرے میں خیر، عدل، پاکیزگی اور امن قائم رہتا ہے، جبکہ اس کے ترک سے فتنہ، فساد، ظلم اور اخلاقی تباہی جنم لیتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کی فضیلت کا ایک بڑا سبب یہی بیان فرمایا: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ “تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔” اس آیت سے واضح ہوا کہ امتِ مسلمہ کی عظمت صرف نام یا نسل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرم...

فلاح دارین کا راستہ

 *فلاح دارین کا راستہ* میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان کا عقیدہ توحید ہو، شرک نہ کرے اور عمل صالح ہوں، حقوق اللہ ادا کرتا ہو اور حقوق العباد ادا کرتا رہے، گناہ کبائر جیسے زنا، چوری، ڈاکہ، حقوق العباد کی درست ادائیگی اپنے پرائے پر زیادتی نہ کرے، کسی کا مال ناحق نہ کھاتا ہو، مال غصب نہ کرے اور وہ گناہ نہ کرے جن پر قرآن میں حد مارنے یا سزا کی وعید آئی آئی ہو اللہ پر کامل ایمان، قران پر ایمان و رکھتا ہو اور اپنی بساط کے مطابق عمل کتا رہے۔ مسلمان ہو نمازی ہو تہجد گزار ہو غیب پر ایمان رکھتا ہو کسی کا حق نہ مرتا ہو، رزق حلال کھاتا ہو، حرام نہ کھاتا ہو، جھوٹ نہ بولتا ہو آنکھوں کی خیانت سے بچتا رہے اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو، اور جب کبھی کفار سے جنگ ہو تو جہاد فی سبیل کرے اور اپنے رب سے شہادت کی امید رکھے، رزق حلال سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتا ہو ریا کاری سے بچتا رہے ایمان دار ہو خیانت نہ کرے اپنی اور دوسروں کے عزت و ناموس کی حفاظت کرتا رہے۔ رمضان کے روزے اور دیگر روزے رکھتا رہے عبادت فقط اللہ تعالی کی کرتا ہو قبروں اور غیر اللہ کی پوجا نہ کرتا ہو۔ اللہ کی ...

فلاح دارین کی کنجی

 *فلاحِ دارین کی کنجی* تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  ایمانِ کامل، عملِ صالح اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی انسانی زندگی ایک مختصر سفر ہے، جس کی ابتدا دنیا سے اور انتہا آخرت پر ہوتی ہے۔ دنیا امتحان گاہ ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کی زندگی۔ کامیاب وہی انسان ہے جو اپنے رب کو پہچان لے، اپنے نبی محمد ﷺ کی اطاعت اختیار کرے، اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال لے۔ یہی دراصل فلاحِ دارین یعنی دنیا و آخرت کی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرمایا: > فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ “جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہوگیا۔” ایک مومن کی سب سے پہلی بنیاد خالص توحید ہے۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، معبود، مشکل کشا اور حاجت روا مانتا ہے۔ عبادت، دعا، سجدہ، نذر و نیاز اور استعانت صرف اللہ کے لیے خاص کرتا ہے۔ شرک، بدعات، قبروں کی پوجا اور غیر اللہ سے فریاد کو اپنے ایمان کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کے بعد ایمان بالرسالت آتا ہے۔ مومن یقین رکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، اور نجات صرف آپ ﷺ...

چوہدری جاوید کو اپریشیایشن

 چوہدری صاحب واقعی میں آپ ایک بڑے اور منجھے ہوئے جرنلسٹ ہیں اور آپکی انفرمیشن اور اصطلاحات پن پوائنٹ ہوتی ہیں آج آپ نے ایک لفظ بولا ہے کی جب ایک جاسوس پکڑا جاتا ہے تو اس سے آگے لیڈ مل جاتی ہے یہ بڑی گہری ٹیکنیکل ٹرم ہے آفریں ہے آپکی ذھانت اور تجربے کو۔ ایک مرتبہ آپ نے ایرانی نیوکلئیر ری ایکٹر کی بات کر رہے اس وقت بھی میں سن رہا تھا آپ اس فیلڈ کی صحیح اور گہری اصطلاحات استعمال کر رہے تھے وہ اصطلاحات میں یہ سمجھتا ہوں کے نیوکلئیر فیلڈ کے لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ میں ایک نیوکلئیر انجینیئر  ہوں اور پاکستان اٹامک انرجی کے پائینئر میں سے ہوں۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جب آپکے پروگرامز میں آپکو سنتا ہوں۔  میں آپ کے استدلال کو سلام کرتا ہوں۔ اللہ آپکا مذید اقبال بلند کرے آمین یا رب العالمین  دعاگو! انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  0092300860 4333

یکم ذوالحجہ سے بال ناخن

 *قربانی کرنے والے کے لیے یکم ذوالحجہ سے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم* ہفتہ 16 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  قرآن و سنت اور اقوالِ اہلِ علم کی روشنی میں ایک جامع مضمون اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ عبادات کے باب میں بھی شریعت نے ایسے آداب اور احکام بیان فرمائے ہیں جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، قربانی کے جذبے اور شعائرِ اسلام کے احترام کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہی مسائل میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔ یہ مسئلہ احادیثِ نبویہ ﷺ سے ثابت ہے اور فقہاء و محدثین نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ قربانی کی عظمت: اللہ تعالیٰ نے قربانی کو اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا: “اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے۔” (سورۃ الحج: 36) اور فرمایا: “پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔” (سورۃ الکوثر: 2) قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل سپردگی، ایثار اور سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرنے ...

عذاب قبر لازمی نہیں

 *عذابِ قبر حق ہے لیکن یہ ہر انسان پر لازمی نہیں* پیر 18 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  عذابِ قبر ہر انسان کے لیے لازمی اور یکساں نہیں ہے، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قبر انسان کے اعمال کے مطابق یا تو نعمتوں کا باغ بنتی ہے یا عذاب کا گڑھا۔ قرآن مجید کی روشنی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا “وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں۔” سورۂ غافر 40:46 مفسرین نے اس آیت کو عذابِ برزخ یعنی عذابِ قبر کی دلیل قرار دیا ہے، کیونکہ قیامت ابھی قائم نہیں ہوئی، پھر بھی آلِ فرعون پر عذاب جاری ہے۔ اسی طرح شہداء کے بارے میں فرمایا: بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ “بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں۔” — سورۂ آل عمران 3:169 یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد برزخی زندگی موجود ہے، جس میں نعمت یا عذاب ہو سکتا ہے۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں: حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔”  (جامع ترمذی...

ذوالحجہ کے دس ایام

 *ذوالحجہ کے پہلے دس ایام کی فضیلت قرآن و سنت، احادیث نبوی ﷺ اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں* اتوار 17 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  اسلام میں بعض اوقات اور دن ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ انہی مبارک ایام میں ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن شامل ہیں۔ یہ دن عبادت، ذکرِ الٰہی، توبہ، قربانی، حج اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کے عظیم دن ہیں۔ قرآن و سنت میں ان ایام کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ 1۔ قرآن مجید میں ذوالحجہ کے دس دن: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  وَالْفَجْرِ ۝ وَلَيَالٍ عَشْرٍ “قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔”( الفجر: 1-2) اکثر مفسرین مثلاً عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن زبیر اور امام ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔ 2۔ نیک اعمال کے لیے سب سے افضل دن۔ محمد ﷺ نے فرمایا:  “اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی بھی دن میں نیک عمل کرنا ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔” صحابہؓ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟” فرمایا: “جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال لے کر نکلا اور کچھ ...

موت قبر سفر آخرت

 *انسانی زندگی کا سفر: موت، قبر، برزخ، حشر اور آخرت کی تیاری* اتوار 17 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں ایک فکر انگیز مضمون انسان اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا۔ دنیا کی زندگی ایک عارضی سفر ہے جس کی ابتدا پیدائش سے ہوتی ہے اور اختتام موت پر۔ مگر موت فنا نہیں بلکہ ایک نئی اور دائمی زندگی کا دروازہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید بار بار انسان کو غفلت سے جگاتا اور آخرت کی تیاری کی دعوت دیتا ہے۔ آج انسان دنیا کی رنگینیوں، مال و دولت، جاہ و منصب اور خواہشات میں اس قدر کھو چکا ہے کہ اسے اپنی موت، قبر، حساب اور آخرت یاد ہی نہیں رہتی، حالانکہ ہر سانس انسان کو اپنی منزلِ آخرت کے قریب لے جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔” (سورۃ العنکبوت: 57) ایک اور مقام پر فرمایا:  “اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔” ( آل عمران: 185) موت — انسان کی پہلی منزلِ  موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نہ کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ نبی، نہ امیر، نہ غر...

شفاعت رسول ایک واقع

 *شفاعت رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدے پر ایک سبق آموز سچا واقعہ* جمعرات 14 مئی 2026 تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ ایک ریٹائرڈ تحصیلدار صاحب میرے آفس خیام چوک سرگودھا تشریف لائے۔ عمر تقریباً ستر سال سے اوپر تھی۔ بظاہر بڑے بے فکر اور نڈر معلوم ہوتے تھے۔ دین کی باتیں شروع ہوئیں تو فرمانے لگے: “ملک صاحب! زیادہ فکر نہ کریں، رسول اللہ ﷺ شفاعت کرا دیں گے، سب ہو جائے گا، کوئی مسئلہ نہیں۔” میں نے بڑی نرمی سے عرض کیا: “بھائی! شفاعت حق ہے، لیکن شفاعت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور سنت سے محبت رکھتے ہوں گے۔” مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ بار بار یہی کہتے: “بس جی! رسول اللہ ﷺ شفاعت کرا دیں گے۔” آخر میں مجھے کچھ سخت لہجہ اختیار کرنا پڑا۔ میں نے کہا: “بھائی! ذرا قیامت کا منظر تصور کریں۔ میدانِ حشر لگا ہوا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ تشریف فرما ہیں۔ آپ آگے بڑھتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: ‘یا رسول اللہ ﷺ! میری شفاعت فرما دیجیے۔’ اور رسول اللہ ﷺ آپ کی طرف دیکھ کر فرمائیں: ‘بندے! دنیا میں تم نے میری کون سی بات مانی تھی کہ آج ...

سفر مین جمع بین

 *سفر میں نمازوں کو جمع کرنا  سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک مدلل جائزہ* مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی فطری ضروریات، کمزوریوں اور حالات کو ملحوظ رکھتا ہے۔ عبادات میں بھی شریعت نے سختی نہیں بلکہ اعتدال اور آسانی کو اختیار کیا ہے۔ اسی رحمت و سہولت کا ایک مظہر سفر میں نمازوں کو جمع کرنا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی سنتِ مطہرہ سے ثابت ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے مسلمان اس سنت سے ناواقف ہیں، جبکہ بعض لوگ اسے غیر ضروری یا خلافِ معمول سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنتِ نبوی ﷺ کو دلائل کے ساتھ سمجھا جائے اور اعتدال کے ساتھ زندہ رکھا جائے۔ سفر میں جمع بین الصلاتین کا مفہوم: “جمع بین الصلاتین” سے مراد یہ ہے کہ: ظہر اور عصر کو ایک وقت میں یا مغرب اور عشاء کو ایک وقت میں ادا کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں: 1.جمع تقدیم پہلی نماز کے وقت میں دونوں نمازیں ادا کرنا۔ مثلاً: ظہر کے وقت عصر پڑھ لینا یا مغرب کے وقت عشاء پڑھ لینا 2.جمع تاخیر پہلی نماز کو مؤخر کر کے دوسری نماز کے وقت میں دونوں پڑھنا۔ مثلاً: ظہر کو عصر کے وقت پڑھنا یا مغرب کو عش...

صلاۃ جمع بین کی رخصت

 *سفر میں نماز قصر اور جمع بین کی رخصت، کتنے فاصلے اور کتنے دن تک؟* تحقیق و تحقیق: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  اسلام نے مسافر کے لیے نماز میں آسانی رکھی ہے۔ اس میں دو اہم رخصتیں ہیں: 1.قصر چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھنا 2.جمع بین الصلاتین دو نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرنا: فقہاء نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ 1.قصر نماز کب شروع ہوتی ہے؟ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ترجمہ: “جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر نماز قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔” سورۃ النساء: 101 2.سفر کا فاصلہ کتنا ہو؟ فقہاء نے احادیث اور آثارِ صحابہ کی بنیاد پر مختلف انداز سے مسافت بیان کی ہے۔ فقہ حنفی احناف کے نزدیک: تقریباً 48 شرعی میل یعنی لگ بھگ 77 تا 88 کلومیٹر یا اس سے زیادہ سفر ہو تو آدمی “مسافر” شمار ہوگا۔ جمہور فقہاء (شافعی، مالکی، حنبلی) ان کے نزدیک بھی تقریباً یہی مسافت معتبر ہے، اگرچہ تعیین میں معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ عملاً آج کے دور میں: تقریباً 80 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر ک...

بارش میں صلاۃ جمع بین

 *بارش میں نماز مغرب اور نماز عشاء کے جمع بین کرنے اور حدیث “صلّوا في الرحال” کے باہمی تعلق پر ایک مدلل اور مربوط مضمون* مئی 2026 تحقیق و تحریر:  انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  بارش میں نماز اور “صلّوا في الرحال” کی احادیث کا فقہی تجزیہ۔ اسلام دینِ رحمت ہے جو عبادات میں سہولت اور رفعِ مشقت کو بنیادی اصول کے طور پر پیش کرتا ہے۔ نماز، جو دین کا ستون ہے، اس کے اوقات کی پابندی لازم ہے، لیکن شریعت نے بعض حالات میں رخصت بھی دی ہے تاکہ بندہ مشقت میں مبتلا نہ ہو۔ انہی رخصتوں میں سے ایک اہم مسئلہ بارش کے دوران نماز کا طریقہ ہے، جس پر دو معروف احادیث اور فقہی آراء کی بنیاد پر گفتگو کی جاتی ہے۔ 1.حدیث “صلّوا في الرحال” کا مفہوم: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ سے روایت ہے کہ: جب بارش یا سخت سردی ہوتی تو مؤذن کو حکم دیا جاتا کہ اعلان کرے: “ألا صلّوا في الرحال” یعنی: اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ یہ روایت واضح طور پر درج ذیل امور پر دلالت کرتی ہے: بارش یا مشقت میں مسجد آنا لازم نہیں رہتا۔ جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز ادا کرنا جائز ہے: دین میں آسانی کا پہلو غالب ہے لیک...

صلاۃ جمع بین

 سفر میں نمازوں کو جمع کرنا  سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک مدلل جائزہ اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی فطری ضروریات، کمزوریوں اور حالات کو ملحوظ رکھتا ہے۔ عبادات میں بھی شریعت نے سختی نہیں بلکہ اعتدال اور آسانی کو اختیار کیا ہے۔ اسی رحمت و سہولت کا ایک مظہر سفر میں نمازوں کو جمع کرنا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی سنتِ مطہرہ سے ثابت ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے مسلمان اس سنت سے ناواقف ہیں، جبکہ بعض لوگ اسے غیر ضروری یا خلافِ معمول سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنتِ نبوی ﷺ کو دلائل کے ساتھ سمجھا جائے اور اعتدال کے ساتھ زندہ رکھا جائے۔ سفر میں جمع بین الصلاتین کا مفہوم “جمع بین الصلاتین” سے مراد یہ ہے کہ: ظہر اور عصر کو ایک وقت میں یا مغرب اور عشاء کو ایک وقت میں ادا کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں: 1. جمع تقدیم پہلی نماز کے وقت میں دونوں نمازیں ادا کرنا۔ مثلاً: ظہر کے وقت عصر پڑھ لینا یا مغرب کے وقت عشاء پڑھ لینا 2. جمع تاخیر پہلی نماز کو مؤخر کر کے دوسری نماز کے وقت میں دونوں پڑھنا۔ مثلاً: ظہر کو عصر کے وقت پڑھنا یا مغرب کو عشاء کے وقت ادا کرنا قرآنِ کریم ...

توبہ اور شفاعت رسول

 اسلام میں توبہ اور شفاعت رحمت کے دروازے ہیں، مگر انہیں گناہ کا “لائسنس” سمجھ لینا خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ جمعہ 15 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  اسلام میں توبہ اور شفاعت رحمت کے دروازے ہیں، مگر انہیں گناہ کا “لائسنس” سمجھ لینا خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ لوگ گناہ کیوں نہیں چھوڑتے اصل وجہ توبہ اور شفاعت کے غلط تصور ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ: گناہ کو معمولی سمجھ لیتے ہیں پھر “اللہ غفور الرحیم ہے” کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں، یا پیر، عرس، شفاعت اور ظاہری عبادات کے سہارے مسلسل نافرمانی کرتے رہتے ہیں۔ قرآن و سنت اس طرزِ فکر کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔ 1۔ جان بوجھ کر گناہ پر قائم رہنا خطرناک دھوکہ ہے جو شخص: زنا، دھوکہ، فحاشی، سود، ظلم، یا قحبہ گری جیسے کبیرہ گناہوں پر مسلسل قائم رہے، اور ساتھ یہ سوچے کہ: “آخر میں توبہ کر لوں گا، پیر بچا لے گا، شفاعت ہو جائے گی” تو وہ حقیقت میں اللہ کی رحمت سے کھیل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ترجمہ؛ “کیا یہ لوگ اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہ...