اشاعتیں

دسمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دیدا الہی پر شاہ ولی اللہ

 شاہ ولی اللہ کا حتمی فیصلہ آپ کے سوال کا جواب دراصل پورے اس علمی سلسلے کا نقطۂ عروج ہے۔ کیونکہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے: فقہ حدیث کلام تصوف اور فلسفہ سب کو ایک میزانِ واحد میں رکھ کر ابنِ عربیؒ اور ان کے ناقدین—دونوں—پر حتمی، متوازن اور فیصلہ کن بات کہی۔ میں یہاں شاہ ولی اللہؒ کا موقف تین درجوں میں واضح کرتا ہوں: ① شاہ ولی اللہؒ کا بنیادی اصول (Methodology) شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں (حجۃ اللہ البالغہ اور تفہیمات الٰہیہ کے مجموعی مفہوم کے مطابق): “اہلِ حق کے اختلافات اکثر الفاظ اور تعبیرات میں ہوتے ہیں، نہ کہ اصل مقاصد میں” یعنی: صوفیہ اور متکلمین ابن عربیؒ اور ان کے ناقدین اکثر ایک ہی حقیقت کو مختلف زبانوں میں بیان کر رہے ہیں۔ ② وحدت الوجود پر شاہ ولی اللہؒ کا فیصلہ یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کی وضاحت وہ فرماتے ہیں کہ: وحدت الوجود: ایک عرفانی حال ہے جس میں سالک کو “وجودِ حق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا” لیکن یہ: عقیدہ نہیں حقیقتِ مطلقہ نہیں بلکہ حالِ مشاہدہ ہے اسی لیے وہ صاف کہتے ہیں: “وحدت الوجود کو اگر عقیدہ بنا لیا جائے تو گمراہی ہے، اور اگر حال سمجھا ج...

آخرت میں دیدار الہی

  اخرت میں  دیدار ا لہی سوال: جب ہم اپنے رب کا دیدار کریں گے تو کیسا سرور آئے گا کہ انسان اپنے رب کی طرف سے نظر بھی نہ اٹھائے گا وہ سرور کیسا ہو گا جواب: یہ سوال دراصل ایمان کے ذوق، شوق اور کمالِ معرفت سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کیفیت کو الفاظ میں مکمل سمویا نہیں جا سکتا، مگر اہلِ علم نے اس کے کچھ اشارات ضرور بیان کیے ہیں۔ 🌿 رب کے دیدار کا سرور کیسا ہو گا؟ جب اہلِ ایمان اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ سرور: ہر نعمتِ جنت سے بڑھ کر ہو گا ہر خوشی، ہر لذت، ہر خواہش کو ماند کر دے گا ایسا سرور ہو گا کہ انسان خود کو بھول جائے گا زبان خاموش، دل لرزاں اور روح سراپا تسلیم ہو گی 📖 قرآن کا اشارہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ ۝ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (القیامہ: 22–23) “اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے” یہ “ناضِرَة” صرف چہرے کی تازگی نہیں، بلکہ روحانی سرشاری، عشق، ہیبت اور قرب کی کیفیت ہے۔ 🕊️ نظر کیوں نہیں اٹھے گی؟ یہ کیفیت ڈر کی نہیں، محبت اور ہیبت کی ہو گی: جیسے کوئی بندہ اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے ہو تو آنکھ اٹھانا...

نماز غیر عربی زبان میں

 جی ہاں، امام ابو حنیفہؒ سے غیر عربی زبان میں نماز پڑھنے کے بارے میں روایات ملتی ہیں، لیکن اس مسئلے کو تحقیقی، تاریخی اور فقہی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ صرف ایک جملہ نقل کر دینے سے امام ابو حنیفہؒ کے حتمی مذہب کا صحیح تعین نہیں ہوتا۔ ذیل میں میں اس مسئلے کا مکمل تحقیقی جائزہ پیش کر رہا ہوں: 📌 تحقیقی جائزہ امام ابو حنیفہؒ اور غیر عربی زبان میں نماز 1️⃣ اصل روایت کیا ہے؟ فقہی کتب میں یہ بات منقول ہے کہ: امام ابو حنیفہؒ نے ابتداءً یہ رائے دی تھی کہ اگر کوئی شخص عربی پر قادر نہ ہو تو وہ نماز میں قرآن کا ترجمہ اپنی زبان میں پڑھ سکتا ہے۔ 📚 حوالہ: المبسوط للسرخسی بدائع الصنائع فتح القدیر یہ روایت صحیح طور پر منقول ہے، اس کا انکار نہیں۔ 2️⃣ یہ اجازت کن لوگوں کے لیے تھی؟ یہ اجازت: ✔️ صرف اس شخص کے لیے تھی جو عربی بالکل نہ جانتا ہو ✔️ اسلام کے ابتدائی دور کے نو مسلموں کے لیے ✔️ عارضی رخصت کے طور پر یہ عام اجازت نہیں تھی۔ 3️⃣ امام ابو حنیفہؒ کی دلیل کیا تھی؟ امام ابو حنیفہؒ کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ: قرآن کا اصل مقصد “معنی” ہے، نہ کہ صرف زبان وہ فرماتے تھے کہ: اگر بندہ اللہ کے کلام ک...

بیت المقدس کے رخ پر قدیم مسجد

 *قبلہ اول بیت المقدس کے  رخ پر قدیم بارواڑا مسجد پر ایک تحقیقی جائزہ* جمعہ 26 دسمبر 2025 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  تعارف: گھوگھا (بھاؤن گڑھ، ریاست گجرات، بھارت) میں واقع بارواڑا مسجد پر ایک مفصل تاریخی و تحقیقی جائزہ جس میں اس کے پس منظر، اہمیت، قبلہ رخ، اور ماہرین کی آراء شامل ہیں: بارواڑا مسجد: ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ قبلہ رخ اور اس کے تاریخی اہمیت: بارواڑا مسجد کی سب سے اہم خصوصیت اس کا قبلہ رخ ہے۔ محراب کی سمت بیت المقدس (یروشلم) کی جانب ہے جو کہ روایتی قبلۂ اَوّل تھا، یعنی اسلام کے ابتدائی دور میں نمازوں کا رخ یہی تھا۔ اسلامی تاریخ کے مطابق:  610–623 عیسوی تک مسلمانوں نے نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا کی۔ 623 عیسوی میں حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور قبلہ تبدیل ہو کر کعبہ (مکہ المعظمہ) مقرر ہوا۔  بارواڑا مسجد کے محراب کی سمت تقریباً یروشلم کی طرف 20° شمال کی جانب تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسے اسی ابتدائی اسلامی دور میں تعمیر کیا گیا ہوگا  یعنی قبل از وہ وقت جب قبلہ کعبہ کی طرف مقرر ہوا۔  عمارت کی ساخت و فنِ تعمیر مسجد...

فرقہ واریت سے کیسے نجات پائیں

 تلاشِ دینِ حق مسلمان فرقہ واریت سے کیسے نجات پا سکتے ہیں؟  جمعہ 26 دسمبر 2025 تحقیق و تحریر:  انجینیئر نذیر ملک سرگودھا تلاشِ دینِ حق مسلمان فرقہ واریت سے کیسے نجات پا سکتے ہیں؟ ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا﴾ (آلِ عمران: 103) یہ آیت امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک وعظ نہیں بلکہ دستورِ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نجات کو اجتماع کے ساتھ اور ہلاکت کو تفرقہ کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس کے باوجود آج امتِ مسلمہ فرقوں، مسالک، جماعتوں اور ذاتی وابستگیوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے: جب سب قرآن و حدیث ہی کا حوالہ دیتے ہیں تو پھر اختلاف دشمنی کیوں بن جاتا ہے؟ فرقہ واریت کی اصل وجہ فرقہ واریت کی بنیادی وجہ قرآن و حدیث نہیں بلکہ: اپنی رائے کو حقِ مطلق سمجھ لینا ہے *مدِ مقابل کی رائے کو سننے سے انکار۔ اختلاف کو کفر و بدعت تک لے جانا دین کو انا اور گروہ بندی کا مسئلہ بنا لینا حالانکہ سلف صالحین کے ہاں اختلاف کے باوجود: ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی جاتی تھی نیت پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔ دلیل کو دلیل سے پرکھا جاتا تھا اختلاف: سنتِ صحابہ، تفرقہ: فتنہ صحابہ کرامؓ کے ما...