دیدا الہی پر شاہ ولی اللہ
شاہ ولی اللہ کا حتمی فیصلہ آپ کے سوال کا جواب دراصل پورے اس علمی سلسلے کا نقطۂ عروج ہے۔ کیونکہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے: فقہ حدیث کلام تصوف اور فلسفہ سب کو ایک میزانِ واحد میں رکھ کر ابنِ عربیؒ اور ان کے ناقدین—دونوں—پر حتمی، متوازن اور فیصلہ کن بات کہی۔ میں یہاں شاہ ولی اللہؒ کا موقف تین درجوں میں واضح کرتا ہوں: ① شاہ ولی اللہؒ کا بنیادی اصول (Methodology) شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں (حجۃ اللہ البالغہ اور تفہیمات الٰہیہ کے مجموعی مفہوم کے مطابق): “اہلِ حق کے اختلافات اکثر الفاظ اور تعبیرات میں ہوتے ہیں، نہ کہ اصل مقاصد میں” یعنی: صوفیہ اور متکلمین ابن عربیؒ اور ان کے ناقدین اکثر ایک ہی حقیقت کو مختلف زبانوں میں بیان کر رہے ہیں۔ ② وحدت الوجود پر شاہ ولی اللہؒ کا فیصلہ یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کی وضاحت وہ فرماتے ہیں کہ: وحدت الوجود: ایک عرفانی حال ہے جس میں سالک کو “وجودِ حق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا” لیکن یہ: عقیدہ نہیں حقیقتِ مطلقہ نہیں بلکہ حالِ مشاہدہ ہے اسی لیے وہ صاف کہتے ہیں: “وحدت الوجود کو اگر عقیدہ بنا لیا جائے تو گمراہی ہے، اور اگر حال سمجھا ج...