اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خواب عالم برزخ و جنت

 السلام علیکم و رحمہ الحمداللہ رب العالمین  رات خواب میں مجھے اللہ تعالی نے عالم برزخ کا نظارہ کرایا یعنی سیر کرائی جب انکھ کھلی تو یہ نماز تہجد کو وقت تھا الحمدللہ میں نے اپنی روٹین کی نماز تہجد پڑھی اور شکرانے کے دو نفل بھی پڑھے کہ اللہ تعالی نے اپنے غیبی حالات کا ادراک بخشا اور اسی دوران کی ساری کیفیت مجھے روز روشن کی طرح عیان اور یاد ہے اور ذیل میں آپ کے سامنے من و عن پیش کر رہا ہوں یعنی آپ سے شیئر کر رہان ہوں تاکہ آپ اس معلومات کو قرآن و احادیث کی روشنی میں پرکھیں۔ یاد رہے کہ آج سے تقریبا" 22 سال قبل جب میں سعودی عرب سے اپنی مدت ملازمت 23 سال 4 ماہ پوری کر کے نیا نیا پاکستان آیا تھا۔ میں نے جنت کی بھی سیر کی تھی اور یہ گھنے درختوں والی سرسبز سرزمین تھی یہان کا موسم  عالم برزخ سے بہتر اور پر سکون تھا مگر وہاں اس وقت کوئی بھی نہ تھا یعنی جنت تیار ہے لیکن آباد نہیں۔ میں آپکو کیفیت بتلاتا ہوں آپ قرآن و احادیث کی روشنی میں میری کیفیت کو پرکھیں اور بتائیں کہ یہ واقعی میں عالم برزخ تھا یا میرا وھم ہے وقت آج صبح تہجد سے قبل  زمیں اپنی زمین جیسی موسم معتدل تھا نہ گرمی نہ...

دعا کربلا

*دعا بحضورِ ربِ ذوالجلال: سانحہ کربلا کے تناظر میں دلوں کے سکون اور امت کی اصلاح کے لیے* جمعہ 26 جون 2026 دعاگو: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  یا اللہ، یا حی یا قیوم، اے کائنات کے اکیلے مالک، ہر چیز پر قدرت رکھنے والے اور دلوں کے احوال سے واقف پروردگار۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ اے اللہ، نواسہ رسول، سیدنا امام حسین اور ان کے رفقاء نے کربلا کے میدان میں حق کی سربلندی اور تیرے دین کی حفاظت کے لیے جو عظیم قربانی دی، تو ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرما، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما اور ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرما۔ یا ارحم الراحمین، اس دردناک واقعے کا ذکر سن کر ہمارے دلوں میں جو رنج و غم پیدا ہوتا ہے، اسے ہمارے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ بنا دے۔ ہمارے دلوں کو وہ استقامت، سکون اور اطمینان عطا فرما جو تیرے سچے بندوں کا شیوہ ہے۔ اے اللہ، ہمیں بھی حق پر ڈٹ جانے، باطل کا انکار کرنے اور دینِ اسلام کی تعلیمات پر ہر حال میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں سے دنیا کا خوف، لالچ اور محبت نکال دے اور انہیں اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی...

سانحہ کربلا

 *سانحہ کربلا کا حقیقی پس منظر، واقعات اور دربارِ یزید تک کی تفصیل* جمعرات 25 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  سانحہ کربلا تاریخِ اسلام کا وہ المناک اور دلدوز واقعہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض دو شخصیتوں یا دو خاندانوں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اسلامی نظامِ خلافت، سیاسی اقدار اور حق و باطل کے اصولوں کا ایک عظیم معرکہ تھا۔ اس واقعے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی طرف داری سے بالا تر ہو کر، مستند تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کے پس منظر، اصل محرکات اور نتائج کا جائزہ لیا جائے۔ واقعے کا پس منظر اور بنیادی وجوہات: اس سانحے کی بنیاد اس وقت پڑی جب سن ساٹھ ہجری میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد نامزد کر دیا تھا۔ یہ نامزدگی اسلامی تاریخ میں ایک بالکل نیا موڑ تھی، کیونکہ اس سے پہلے خلافت کا نظام شوریٰ، مصلحت اور امت کے مقتدر لوگوں کے مشورے سے طے ہوتا تھا، جیسا کہ خلفائے راشدین کے دور میں ہوا۔ یزید کی ولی عہدی سے خلافت کا نظام ملوکیت یعنی خاندانی بادشاہت...

سانحہ کربلا

 *سانحہ کربلا کا حقیقی پس منظر، واقعات اور دربارِ یزید تک کی تفصیل* جمعرات 25 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  سانحہ کربلا تاریخِ اسلام کا وہ المناک اور دلدوز واقعہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض دو شخصیتوں یا دو خاندانوں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اسلامی نظامِ خلافت، سیاسی اقدار اور حق و باطل کے اصولوں کا ایک عظیم معرکہ تھا۔ اس واقعے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی طرف داری سے بالا تر ہو کر، مستند تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کے پس منظر، اصل محرکات اور نتائج کا جائزہ لیا جائے۔ واقعے کا پس منظر اور بنیادی وجوہات: اس سانحے کی بنیاد اس وقت پڑی جب سن ساٹھ ہجری میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد نامزد کر دیا تھا۔ یہ نامزدگی اسلامی تاریخ میں ایک بالکل نیا موڑ تھی، کیونکہ اس سے پہلے خلافت کا نظام شوریٰ، مصلحت اور امت کے مقتدر لوگوں کے مشورے سے طے ہوتا تھا، جیسا کہ خلفائے راشدین کے دور میں ہوا۔ یزید کی ولی عہدی سے خلافت کا نظام ملوکیت یعنی خاندانی بادشاہت...

حقیقت درود

 *حقیقتِ درود: الجھنوں سے پاک ایک مسنون منہج* ہفتہ 27 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینئر نظیر ملک، سرگودھا ہم روزانہ اپنی نمازوں میں درودِ ابراہیمی پڑھتے ہیں: اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید۔ اگر ہم اس مبارک درود کے ترجمے اور اس کے صیغوں پر اپنے انداز میں تھوڑا غور فرمائیں، تو عقیدے کا ایک بہت بڑا اور گہرا نکتہ واضح ہوتا ہے۔ جب ہم درودِ ابراہیمی پڑھتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ تعالیٰ سے ریکوئسٹ یعنی عاجزانہ درخواست کر رہے ہوتے ہیں کہ: "یا اللہ! تو رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر۔" یہاں رک کر ایک بہت اہم بات سمجھنے کی ہے جو امت کے ایک بڑے جڑے ہوئے مسئلے کا خوبصورت حل پیش کرتے ہیں۔  آج کل علمی حلقوں اور عوام میں یہ بحث بہت عام ہے کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں سنتے، یا نبی کریم ﷺ تک ہمارا درود کیسے پہنچتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر بھیجے جانے والے درود میں یہ بڑی باریکی رکھی ہے کہ ہم خود براہِ راست درود نہیں بھیجتے، بلکہ ہم کائنات کے مالک اللہ سے ریکوئسٹ کرتے ہیں کہ یا اللہ! تو بھیج۔  اب یہ اللہ تعالی...

عقیدہ عودہ روح

*عقیدہ عودہ روح* جون 2026 تحریر و ٹحقیق: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  سوال: یاد رہے زندگی جسم سے روح کا الحاق ہے اور موت جسم سے روح کا نکل جانا ہے اب قرآنی آیات پر غور کریں قرآن مجید دو اموات اور دو حیات کا ذکر کرتا ہے۔ جب تک انسان دنیا میں نہیں آتا اکیلی روح موت کی کیفیت ہے جب پیدا ہوتا ہے تو یہ پہلی زندگی ہے ہوئی۔ جب دنیاوی زندگی گزار کر مرتا ہے تو دوسری موت ہوئی لیکن جب حشر میں اللہ تعالی روحون کو جسموں سے ملا دیگا یہ دوسری حیات ہوئی اب اگر قبر مین عودہ روح کو مان لیا جائے تو یہ تیسری زندگی بنتی ہے جبکہ قران مجید فرقان حمید دو موت اور دو حیات کو صراحت سے بیان کرتا ہے۔ میں قران کو مانوں یا حدیث کو؟ جواب: محترم انجینئر صاحب، آپ نے ایک بار پھر نہایت شاندار، منطقی اور وزنی سوال اٹھایا ہے۔ یہ وہ اشکال ہے جو بڑے بڑے اہل علم کے سامنے آتا ہے جب وہ سورہ غافر کی آیت ۱۱ ("رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ" - اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی) پر غور کرتے ہیں۔ آپ کا یہ سوال کہ "میں قرآن کو مانوں یا حدیث کو؟"، اس کا پہلا اور اصو...

عالم مشرق کا جنیوا

 *عالمِ مشرق کا جنیوا اور قانونِ استبدال: امتِ مسلمہ کی تقدیر بدلنے کا لمحۂ موجود* اتوار 28 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  امت واحدہ کا قرآنی تصور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس امت کو جغرافیائی، نسلی یا لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بجائے ایک ایسی وحدت قرار دیا ہے جس کی جڑیں کلمہ توحید اور رسالت میں پیوست ہیں۔ سورہ الانبیاء کی آیت 92 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔ لیکن تاریخ کے مختلف ادوار کی طرح آج بھی امت مسلمہ ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف عالمی استکباری قوتیں یعنی یہود و نصاریٰ اور ان کے حواری مسلمانوں کو مٹانے پر تلی ہوئی ہیں، اور دوسری طرف مسلم حکمرانوں کی اکثریت مصلحت پسندی اور بزدلی کا شکار ہے۔ ایسے میں قرآن و حدیث کا ایک آفاقی قانون حرکت میں آتا ہے، جسے قانون استبدال یعنی قوموں کی تبدیلی کا قانون کہا جاتا ہے۔ 1۔ سورہ محمد اور سنت الٰہی: قانون استبدال کیا ہے؟ جب دین کے دعویدار اپنے فرائض، نصرت دین اور مظلوموں کی حمایت سے منہ موڑتے ہیں، تو اللہ کا دین ک...

شجرہ نسب کامل

 *شجرہ نسب انجینئر نذیر ملک آف جنجر پور ہریانہ متحدہ ہندوستان* اتوار 19 جون 202 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  ہمارے گھرانے کی مستند تاریخ اور شجرہِ نسب: عہدِ محمد بن قاسم تا سِلانوالی، سرگودھا  ہجرت، علم، اور خدمتِ دین کا سفر ۱۔ خاندانی شجرہِ نسب (پدرانہ لڑی) محمد (پوتا) بن واصف نذیر ملک (صاحبزادے — MSCS، یونیورسٹی آف سرگودھا، ۲۰۲۱ء) بن انجینیئر نذیر ملک (ایس اے نذیر ملک) (پیدائش: ۳۰ نومبر ۱۹۵۲ء، سِلانوالی — سابق آپریشنز انجینئر، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ KANUPP، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن و سعودی آرامکو) بن میاں مسیت علی (پیدائش: ۱۹۰۹ء، جنجر پور بانیِ تعلیمی انقلابِ خاندان) بن ممتاز علی (ساکن و مدفن: جنجر پور، مڈل اوائل ۲۰ ویں صدی) بن قلندر بخش (ساکن: جنجر پور) بن پیر بخش کھوکھر (جدِ امجد — ملتان سے جنجر پور ہجرت کرنے والے) ۲۔ تاریخ اور ہجرت کے لازوال مراحل پہلا باب: کڑیانہ ہل (سرگودھا) کا تاریخی آغاز (سن ۷۱۲ء) اس خاندان کی اصل شناخت اور جڑیں چج دوآب (دریائے جہلم و چناب کا درمیانی علاقہ) سے جڑی ہیں۔ سن ۷۱۲ء میں جب محمد بن قاسم کا اسلامی لشکر اس خطے میں آیا، تو...

شجرہ نسب

 محمد بن واصف بن انجینیئر نذیر ملک بن مسیت علی بن ممتاز علی بن قلندر بخش بن پیر بخش کھوکھر ساکن جنجر پور تحصیل کیتھل ضلع کرنال صوبہ ہریانہ متحدہ ہندوستان

عقیدہ حیات الانبیاء کی ضرورت

 عقیدہ **حیات الانبیاء** محض ایک فکری یا کلامی بحث نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی روحانیت، عشقِ رسول ﷺ، اور ایمان کی بقا کے لیے ایک **بنیادی ستون** کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عقیدے کی ضرورت اور اہمیت کو چند اہم نکات سے سمجھا جا سکتا ہے: ### ۱. بارگاہِ رسالت ﷺ کے آداب اور تعلقِ خاطر اسلام میں ایمان کی جان **حبِّ رسول ﷺ** (نبی کریم ﷺ سے محبت) ہے۔ یہ عقیدہ اس محبت کو زندہ اور متحرک رکھتا ہے:  * جب ایک مسلمان یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے نبی ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں زندہ ہیں اور اس کا درود و سلام خود سن کر جواب دیتے ہیں، تو آپ ﷺ کے ساتھ اس کا **روحانی اور قلبی تعلق** مضبوط ہوتا ہے۔  * اگر معاذ اللہ یہ عقیدہ نہ ہو، تو نبی کریم ﷺ کی ذات (مسلمان کے ذہن میں) صرف ایک تاریخی شخصیت بن کر رہ جائے گی، جس سے وہ زندہ اور براہِ راست تعلق محسوس نہیں کر سکے گا۔ ### ۲. مقامِ نبوت کی عظمت و توقیر کا تحفظ انبیاء علیہم السلام کائنات کی سب سے معزز اور افضل ہستیاں ہیں۔  * قرآن کی رو سے جب عام شہداء کو مردہ کہنا جائز نہیں، تو انبیاء کرام کو (جو شہداء کے بھی امام ہیں) عام انسانوں کی طرح مٹی میں مل کر ختم ہو جا...

عقیدہ حیات الانبیاء قرآن

 قرآنِ کریم میں انبیاء علیہم السلام کی برزخی حیات کا ذکر صراحت کے ساتھ (براہِ راست لفظوں میں) تو موجود نہیں ہے، لیکن جمہور مفسرین اور علماءِ امت نے قرآنِ مجید کی متعدد آیات سے **اشارۃً اور دلالۃً** اس عقیدے کو ثابت کیا ہے۔ قرآنِ پاک کی روشنی میں اس عقیدے کے دلائل درج ذیل ہیں: ### ۱. شہداء کی حیات سے استدلال (قیاسِ اولیٰ) قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی زندگی کو بہت واضع انداز میں بیان فرمایا ہے: > **وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۖ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ** > *"اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ہے۔"* (سورہ البقرہ: 154) >  ایک اور جگہ فرمایا: > **وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ** > *"اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔"* (سورہ آل عمران: 169) >  **استدلال کی وجہ:** علماءِ امت (جیسے...

عقیدہ حیات الانبیاء صحاح ستہ

 جی ہاں، عقیدہ حیات الانبیاء (بالخصوص حیات النبی ﷺ) **صحاح ستہ** (احادیث کی چھ مستند ترین کتابوں) کی احادیث سے بالکل ثابت ہے، خواہ صراحت کے ساتھ ہو یا ان احادیث کے ذریعے جن سے یہ عقیدہ دلالتہً ثابت ہوتا ہے۔ علماءِ امت نے صحاح ستہ کی روشنی میں اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے درج ذیل بنیادی احادیث پیش کی ہیں: ### ۱. انبیاء پر مٹی کا حرام ہونا (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) صحاح ستہ میں شامل تین بڑی کتابوں میں یہ مشہور اور صحیح حدیث موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: > **"إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ"** > *"بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا (خراب کرنا) حرام کر دیا ہے۔"* > **(سنن ابی داؤد: 1047، سنن نسائی: 1374، سنن ابن ماجہ: 1636 - الفاظ ابی داؤد کے ہیں)** >  یہ حدیث اس بات کی واضع دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام کے اجسامِ مبارکہ اپنی قبور میں بالکل اسی طرح محفوظ اور سلامت ہیں جیسے زندگی میں تھے، اور یہی حیاتِ برزخی کی بنیاد ہے۔ ### ۲. قبرِ مبارک پر درود کا سنا جانا اور سلام کا جواب (سنن ابی داؤد...

عقائد اہل سنت کامل

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ انجینئر صاحب، یہ بالکل ممکن ہے اور آپ کی یہ سوچ نہایت ہی دوراندیشی پر مبنی ہے۔ اس اہم اور علمی گفتگو کا ریکارڈ پاس ہونا واقعی مستقبل میں آپ کے بھی کام آئے گا اور اگر آپ کسی دوسرے بھائی کی رہنمائی کرنا چاہیں تو اس کے لیے بھی ایک بہترین دستاویز ثابت ہوگا۔ میں نے آپ کی اس پوری گفتگو (قرآن، حدیث، عقل اور محکم اصولوں کے تمام پہلوؤں) کو نہایت ترتیب کے ساتھ ایک تفصیلی اور جامع آرٹیکل کی صورت میں نیچے یکجا کر دیا ہے۔ آپ اس پورے متن (text) کو یہاں سے کاپی (copy) کر کے اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں **Word File (.docx)** یا **Notes** کی صورت میں محفوظ فرما سکتے ہیں، اور اسے اپنے واٹس ایپ (WhatsApp) کے حلقہ احباب میں شیئر کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ # دستاویز: عقیدۂ حیاتِ برزخی اور دین میں عقل کا توازن *(قرآن، صحیح احادیث، آثارِ صحابہ اور عقلِ سلیم کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ)* ### تمہید دینِ اسلام اندھی عقیدت یا محض مادی عقل پرستی کا نام نہیں، بلکہ یہ وحیِ الٰہی اور عقلِ سلیم کا ایک بہترین توازن ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں قبر کی زندگی (عالمِ برزخ) کے مت...

حیات برزخی انبیاء

  انبیاءِ کرام قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں اسلامی عقائد اور احادیث کی روشنی میں، تمام انبیاءِ کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کی یہ حیاتِ برزخی جسمانی و روحانی ہوتی ہے ۔ آئیے اس حوالے سے مستند اسلامی دلائل اور تفصیلات پر ایک نظر ڈالتے ہیں: انبیاءِ کرام کی حیات: قرآنی آیات: اللہ تعالیٰ نے شہداء کو زندہ قرار دیا ہے اور انبیاءِ کرام کا درجہ شہداء سے بلند ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں" (البقرہ: 154)۔ احادیثِ مبارکہ: متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ مثال کے طور پر، معراج کے سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر (مزار) میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ قبروں میں نماز کی ادائیگی: احادیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں نماز ادا کرتے ہیں۔ صحیح مسلم کی ایک مشہور حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے شبِ معراج حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سرخ ٹیلے ...