مروجہ پیری مریدی اور اسلام
*مروجہ پیری مریدی اور دینِ خالص: کتاب و سنت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں ایک جائزہ* بدھ 15 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا دین اسلام کا اصل حسن اور اس کی طاقت اس کا سادگی، براہِ راست تعلق باللہ اور توحیدِ خالص پر مبنی ہونا ہے۔ جب ہم تاریخ کے آئینے میں اسلام کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ فلاح اور ہدایت کا واحد معیار وہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جس کی عملی تصویر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں نظر آئی۔ عہدِ رسالت اور دورِ صحابہ میں دینداری کا تصور نہایت سادہ، عملی اور کتاب و سنت کی پیروی تک محدود تھا۔ اس پاکیزہ دور میں انسان کا اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کے لیے کسی دنیاوی واسطے، گدی نشینی، درگاہ یا خاندانی پیر خانے کا کوئی وجود نہیں تھا۔ صحابہ کرام کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مقتدا، رہبر، معلم اور مربی کا تھا، جہاں عقیدت کا محور شخصی کرامات کے بجائے وحی الٰہی کی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاق تھے۔ ر...