اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مروجہ پیری مریدی اور اسلام

 *مروجہ پیری مریدی اور دینِ خالص: کتاب و سنت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں ایک جائزہ* بدھ 15 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  دین اسلام کا اصل حسن اور اس کی طاقت اس کا سادگی، براہِ راست تعلق باللہ اور توحیدِ خالص پر مبنی ہونا ہے۔ جب ہم تاریخ کے آئینے میں اسلام کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ فلاح اور ہدایت کا واحد معیار وہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جس کی عملی تصویر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں نظر آئی۔ عہدِ رسالت اور دورِ صحابہ میں دینداری کا تصور نہایت سادہ، عملی اور کتاب و سنت کی پیروی تک محدود تھا۔ اس پاکیزہ دور میں انسان کا اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کے لیے کسی دنیاوی واسطے، گدی نشینی، درگاہ یا خاندانی پیر خانے کا کوئی وجود نہیں تھا۔ صحابہ کرام کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مقتدا، رہبر، معلم اور مربی کا تھا، جہاں عقیدت کا محور شخصی کرامات کے بجائے وحی الٰہی کی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاق تھے۔ ر...

فقہا اربعہ جمنائی مناظرہ

 *علمی و فکری مکالمہ: دین، فقہ اور جدید سائنس کے تقاضے* پیر 13 جولائی 2026 مناظرہ مابین: جمنائی مصنوعی ذھانت اور انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال (انجینئر نذیر ملک):  فقہاء اربعہ (ائمہ اربعہ) اگر نہ ہوتے تو کیا رسول اللہ ﷺ کا دین ہم تک نہ پہنچتا؟ جواب (جیمنائی): وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یہ ایک انتہائی گہرا، سنجیدہ اور علمی موضوع ہے۔ اس بحث کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے ہمیں دین کی حفاظت کے خدائی وعدے اور ائمہ اربعہ کی تاریخی و علمی خدمات کے فرق کو باریک بینی سے دیکھنا ہو گا۔ 1۔ دین کی حفاظت کا الٰہی وعدہ: اسلام کے بنیادی عقیدے کے مطابق، یہ دین کسی انسان کی کوششوں کا محتاج نہیں ہے، بلکہ خود اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے: "بے شک یہ ذکر (قرآن/دین) ہم ہی نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔" (سورہ الحجر: 9)۔ لہٰذا، اگر یہ چار عظیم ائمہ نہ بھی ہوتے، تو بھی اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کے لیے کوئی نہ کوئی دوسرا ذریعہ یا شخصیات پیدا فرما دیتا۔ دین ہم تک ضرور پہنچتا۔ 2۔ ائمہ اربعہ کا اصل مقام: رسول اللہ ﷺ کے بعد دین کو...

مسئلہ تقدیر

 *مسئلہ تقدیر اور انسانی اختیار: جبرِ محض کی حقیقت اور قرآنی مینوفیسٹو* تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا ہمارے معاشرے میں عقائد کی ایک بہت بڑی خرابی یہ پیدا ہو چکی ہے کہ لوگ اپنی سستی، غفلت، کوتاہیوں اور یہاں تک کہ گناہوں کا ملبہ بھی تقدیر اور "اللہ کی مرضی" پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ ایک عام تاثر یہ پھیلا دیا گیا ہے کہ انسان بالکل بے بس ہے اور جو کچھ بھی (برا یا بھلا) کائنات میں ہو رہا ہے، وہ اللہ ہی ہم سے زبردستی کروا رہا ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی عقل، عدلِ الٰہی اور شریعت کے پورے نظامِ جزا و سزا کو معطل کر کے رکھ دیتا ہے۔ اگر انسان اپنے اعمال میں بالکل مجبورِ محض ہوتا، تو پھر چور کو سزا دینا، زانی پر حد لگانا، اور نیکوکار کو جنت کی خوشخبری دینا سراسر ناانصافی ہوتا (نعوذ باللہ)۔  اللہ تعالیٰ عادل ہے، اور اس کا عدل یہ تقاضا کرتا ہے کہ سزا اور جزا صرف اسی عمل پر ہو جو انسان نے اپنے اختیار سے چنا ہو۔ ذیل میں قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں اس عقیدے کی اصل حقیقت اور درست اسلامی موقف کو تفصیل سے وا...

بسم اللہ سورہ فاتحہ

 @Engineer Nazir Malik:یاد رہے کہ سورہ فاتحہ قرآن نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کا دیباچہ ہے قرآن تو الم سے شروع ہوتا ہے ایک اور نکتہ ہے کہ صوبہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے اور بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ ہے اور اس کے 19 حروف ابجد ہیں جب آپ بسم اللہ صورت فاتحہ سے پہلے نہیں پڑھتے تو آپ فقط 6 آیات پڑھتے ہیں جبکہ آللہ تعالی نے یہ سات آیات اتاریں جیسے فرمان ربانی ہے کہ ہم نے 7 آیات اور قرآن اتارا۔ جب آپ فاتحہ بسم اللہ کے بغیر پڑھتے ہیں تو آپ 6 آیات پڑھتے ہیں اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے 19 حروف ہیں جو تو آپ نے پڑھیں نہیں تو اس کا ثواب کیسے ملے گا

تبلیغی جماعت کو خط

 *کلامِ الٰہی سے رشتۂ فہم: دعوت و تبلیغ کا کام وقت کا اہم ترین تقاضا* الداعی الیٰ عملِ خیر:  انجینئر نذیر ملک (سرگودھا) الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين۔ اما بعد! موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو ایمان پر قائم رکھنے، مساجد کو آباد کرنے اور عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی باتوں کی طرف لانے میں "تحریکِ تبلیغ" نے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں آنے والا اخلاقی اور عملی انقلاب اس مخلصانہ محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن کسی بھی متحرک کام میں وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق نظرِ ثانی اور اصلاح کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں، اس میں ایک مخلصانہ اور دردمندانہ گزارش تبلیغی محنت سے وابستہ بھائیوں، اور بالخصوص اس کام کے نگران علماءِ کرام کی خدمت میں پیش کرنا وقت کا سب سے بڑا دینی تقاضا معلوم ہوتا ہے۔ اصل المیہ: "ہجرِ قرآن" کا خاموش سیلاب قرآنِ مجید فرقانِ حمید انسانیت کے لیے ہدایت کی آخری دستاویزی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ک...

یزیدیت کا جدید روپ

 *یزیدیت کا جدید روپ اور مسلم امہ کا زوال* منگل 07 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  تاریخِ انسانیت میں معرکہ کربلا محض ایک وقتی سیاسی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ دو متضاد نظریات اور فکری رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف امام حسین علیہ السلام کی صورت میں حق، عدل، اصول پسندی اور قرآنی نظام کی پاسداری تھی، تو دوسری طرف یزید کی شکل میں ظلم، ملوکیت، اقربا پروری اور اخلاقی پامالی کا نظام تھا۔ چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج جب ہم مسلم معاشروں اور ریاستوں کا فکری اور تحقیقی جائزہ لیتے ہیں، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس یزیدی مائنڈ سیٹ کے خلاف امام عالی مقام نے قربانی دی تھی، وہ بدقسمتی سے آج کے مسلم معاشروں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ یزیدی سوچ کے تین بڑے مظاہر اور موجودہ مسلم قوم: تحقیقی نقطہ نظر سے یزیدیت کسی فردِ واحد کا نام نہیں بلکہ ایک مخصوص طرزِ عمل کا نام ہے۔ یزید کے دور کے تین بڑے سیاسی اور معاشرتی نظریات تھے، جن کا موازنہ اگر آج کے مسلم ممالک سے کیا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ پہلا مظہر ملوکیت اور خاندانی اجارہ داری ہے۔ یزید کا اقتدار میں آنا اسلامی نظامِ خل...

اقرباء پروری

 *اسلام میں اقربا پروری ممنوع اور حرام ہے* منگل 07 جولائی 2026 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  اسلام میں اقربا پروری (Nepotism)، یعنی میرٹ اور صلاحیت کو نظر انداز کر کے محض رشتہ داری، دوستی یا تعلق کی بنیاد پر کسی کو عہدہ، نوکری یا مراعات دینا، شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔ اسلام کا پورا نظام عدل، انصاف اور امانت داری پر قائم ہے، اور اقربا پروری ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں: ۱۔ عہدے اور نوکریاں ایک امانت ہیں اسلام کی رو سے کوئی بھی سرکاری، سماجی یا نجی عہدہ ایک امانت ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو۔ (سورہ النساء: 58) جب کوئی شخص کسی نااہل کو رشتہ داری کی بنیاد پر آگے لاتا ہے، تو وہ اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ ۲۔ رسول اللہ ﷺ کی سخت وعید احادیث مبارکہ میں اس عمل پر شدید تنبیہ کی گئی ہے: جس شخص کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران (امیر) بنایا گیا، پھر اس نے رشتہ دا...

یزید کا دور

 *یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں اہم تاریخی واقعات کے اسباب و نتائج کا تحقیقی جائزہ* منگل 8 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  یزید بن معاویہ کی خلافت کا دور تقریباً تین سال آٹھ ماہ رہا۔ آغازِ خلافت: رجب 60 ہجری میں، اپنے والد معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد۔ اختتامِ خلافت: ربیع الاول 64 ہجری میں، جب ان کا انتقال ہوا۔ اسلامی تاریخ میں یزید بن معاویہ کا دور حکومت سیاسی، سماجی اور مذہبی لحاظ سے انتہائی ہنگامہ خیز اور دور رس اثرات کا حامل رہا ہے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید نے زمامِ اقتدار سنبھالی، تو امتِ مسلمہ ایک ایسے نئے سیاسی نظام سے متعارف ہوئی جس کی بنیاد شورائیت کے بجائے موروثیت پر تھی۔ یزید کے مختصر دورِ اقتدار میں تین ایسے بڑے تاریخی واقعات رونما ہوئے جنہوں نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ ان واقعات میں سانحہ کربلا، واقعہ حرہ (مدینہ منورہ پر حملہ) اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ شامل ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں ان تینوں بڑے واقعات کے اسباب اور ان کے پیدا ہونے والے نتائج کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 1۔ سانحہ کربلا (61 ہجری) ا...

ہمارے ہیں حسین

*ہمارے ہیں حسین* منگل 07 جولائی 2026  تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  حضرت امام حسین علیہ سلام کی ذاتِ گرامی کائناتِ انسانیت کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس کی روشنی کسی ایک مکتبِ فکر، کسی ایک علاقے یا کسی ایک دور تک محدود نہیں ہے۔ آپ حق، شجاعت، صبر اور قربانی کا وہ عالمگیر استعارہ ہیں جس پر پوری امتِ مسلمہ کا دل دھڑکتا ہے۔ حسین ہر اس آنکھ کا آنسو ہیں جو مظلومیت پر روتی ہے، اور ہر اس دل کی دھڑکن ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت آباد ہے۔ *نبی کریم کے لاڈلے نواسے ہیں حسین* امام حسین علیہ سلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت محض ایک نانا کی روایتی محبت نہ تھی، بلکہ یہ ایک الٰہی اور روحانی بندھن تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس نواسے کو دیکھ کر مسکرا دیا کرتے تھے اور ان کے چہرے کو چوم کر اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے۔ سنن ترمذی کی مستند حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔ یہ جملہ کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو کسی انسان کو ملا، جہاں کائنا...

بڑے بھائی پر شرعی کیس

 *اللہ تعالی کے عدالت میں بھائی پر شرعی کیس* محترم انجینئر نذیر ملک صاحب (سرگودھا)، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا یہ تفصیلی خط اور اس کے اندر چھپا ہوا ایک ایک لفظ آپ کے دل کے اس گہرے دکھ، صدمے اور مٹتے ہوئے خونی رشتوں کے درد کا آئینہ دار ہے۔ پردیس کی محنت سے بنائے گئے تین مکانوں کا کرایہ اور زندگی بھر کی پونجی (۵ کروڑ روپے) غصب ہو جانا ایک طرف، مگر سگے بھائی کا ایسا تکبر، اور پھر اس کے بعد سگے داماد (بھتیجے) کا گھر کی دہلیز پر کھڑا کر کے اندر نہ آنے دینا انسان کی روح کو اندر سے چھلنی کر دیتا ہے۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ یہ رقم ماہانہ بنیادوں پر بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ آپ کا حقِ حلال آج بھی ان کے قبضے میں ہے۔ آپ کا یہ عزم کہ آپ نے اپنا فیصلہ احکم الحاکمین (اللہ تعالیٰ) کی عدالت پر چھوڑ دیا ہے، ایک مومن کا سب سے مضبوط اور آخری سہارا ہے۔ آپ کی ہدایت کے مطابق، پچھلے تمام شرعی و علمی حقائق اور آپ کی موجودہ صورتحال کو یکجا کر کے ایک جامع اور باحوالہ "حقائق نامہ و شرعی مقدمہ" (کیس) تیارکیا گیا ہے۔  تاکہ آپ اسے اپنے عزیز و اقارب، بھائی کے سالوں اور لواحقین (بیٹے/داماد) کو د...

اندھی تقلید

*اندھی تقلید منع ہے* ہفتہ 4 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  سوال: کیا ایک مقلد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جس امام کی تقلید کر رہا ہو، اس کی ہر بات مانے؟ خواہ یہ واضح ہو جائے کہ اس کے بعض مسائل قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، تب بھی کیا اس امام کی بات ماننا لازم ہوگا؟ جواب: کسی بھی مقلد کے لیے اپنے امام کی اندھی تقلید کرنا، یا واضح اور صحیح حدیث سامنے آنے کے بعد بھی محض امام کے قول پر اڑے رہنا شرعاً بالکل جائز نہیں ہے اور سخت گناہ ہے۔ اسلام میں اصل اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں:  ۱. ائمہ کرام کے اپنے فرامین چاروں مشہور ائمہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل) نے خود اپنی اندھی تقلید سے سختی سے منع فرمایا ہے۔  امام ابو حنیفہؒ کا قول:   "جب کوئی صحیح حدیث مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔" انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ کسی کے لیے حلال نہیں کہ ہماری دلیل جانے بغیر ہمارے فتوے پر عمل کرے۔      امام مالکؒ کا قول: "رسول اللہ ﷺ کے سوا دنیا میں ہر شخص کی بات مانی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی...

شوسل میڈیا کی بدعات

 برادرم السلام علیکم و رحمہ جمعہ مبارک کہنا کسی بھی حدیث یا تاریخ سے ثابت نہیں ہے یہ خالصا" شوسل میڈیا کی جاری کردہ بدعت ہے اور اسلام میں ثواب بس انھیں اعمال کا ملتا ہے جو سنت رسول اللہ سے ثابت ہوں جو عمل نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق نہ ہو گا وہ رد کردیا جائے گا بلکہ ایسے غیر مسنون اعمال دوسروں کو کے ساتھ شئر کرنے کا گناہ بھی ہوتا ہے کیوں کہ یہ نبی کریم کی سنت کی مخالف ہوتا ہے مثال یوں سمجھئیے کی اگر ہم نماز ظہر کی چار کی بجائے پانچ رکعت پڑھ لیں تو نماز نہ ہو گی اور نہ ہی اس کا ثواب ملے گا حالانکہ آپ پانچویں رکعت میں سورہ فاتح بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں اور رکوع و سجود  بھی کر رہے ہوتے ہین۔ الہذالقیاس سنت رسول اللہ پر عمل کیجئے اور ثواب پائیئے۔ برادرم آپ ہر صبح نماز کے لئے میسج کرتے ہیں یہ بھی غیر مسنون عمل ہے یہ ثواب کمانے کا طریقہ خود ساختہ ہے کیونکہ یہ بھی سنت رسول اللہ سے ثابت نہیں ہے اگر لوگوں کو نماز کے لئے اٹھانے کا ثواب لینا ہے تو مسجد میں آذان دیا کریں  بہت بڑا ثواب کا کام ہے  میری اس پوسٹ کا مقصد آپکی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ ایک جاری کردہ بدعت کو ...

امت کی یکجہتی

 *امت کی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت* پیر 29 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  کلمہ ایک، خدا ایک، رسول ایک: پھر یہ دوریاں کیوں؟ آج جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مسجدیں الگ، منبر الگ، اور سب سے بڑھ کر دل الگ ہو چکے ہیں۔ جس امت کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا تھا، وہ آج فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ 1400 سال پہلے کی تاریخ کے وہ تلخ ابواب، جن کا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے تھا، انہیں آج ہم نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کا جواز بنا لیا ہے۔ آئیے! نفرتوں کے اس تپتے ہوئے صحرا میں قرآن و سنت کے ٹھنڈے چشموں سے سیراب ہوں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ قرآن کا فیصلہ: تفرقہ جہنم کا گڑھا ہے اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں مسلمانوں کو جتھہ بندی اور فرقوں میں بٹنے سے روکا ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ (سورہ آلِ عمران:...

افطاری کا مسنون وقت

 روزہ کھولنے (افطار کرنے) کا مسنون اور شرعی وقت جمعہ 2 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا   غروبِ آفتاب یعنی سورج کا افق میں پوری طرح چھپ جانا ہے۔ جیسے ہی سورج کا دائرہ مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہو جائے، روزہ افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں اس کی تفصیل درج ذیل ہے: قرآنِ کریم کی روشنی میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ (سورة البقرة: 187) ترجمہ: "پھر رات ہونے تک روزے کو پورا کرو۔" عربی زبان اور شریعت کی رو سے "لیل" (رات) کا آغاز سورج کے غروب ہوتے ہی ہو جاتا ہے۔ جب آفتاب کا پورا دائرہ چھپ جائے تو دن ختم اور رات شروع ہو جاتی ہے، یہی افطار کا شرعی وقت ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں احادیثِ نبوی ﷺ میں سورج غروب ہوتے ہی بلا تاخیر روزہ کھولنے کی شدید تاکید کی گئی ہے اور اسے خیر و برکت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ 1۔ افطار کے وقت کی تعیین: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب رات اس طرف (مشرق) سے نمودار ہو جائے اور دن اس طرف (مغرب) سے پیٹھ پھیر لے اور سورج غروب ہو ج...

نماز عید شیعہ

 وعلیکم السلام برادرم، اہلِ تشیع (فقہ جعفریہ) کے مطابق نمازِ عید الاضحی پڑھنے کا مکمل طریقہ،  مستحب قنوت کا اردو ترجمہ اور ایک متبادل (مختصر) دعا نیچے تفصیل سے درج ہے: بنیادی معلومات اور نیت نمازِ عید الاضحی دو رکعت ہے اور اس میں اذان یا اقامت نہیں ہوتی، بلکہ مؤذن تین مرتبہ الصلاۃ کہتا ہے۔ امامِ زمانہ کی غیبت کے زمانے میں یہ نماز سنتِ مؤکدہ ہے اور اسے باجماعت یا اکیلے دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے دل میں یا زبان سے اس طرح نیت کریں: "پڑھتا ہوں دو رکعت نمازِ عید الاضحی، قربۃً الی اللہ"  پہلی رکعت کا طریقہ 1۔ نیت کے بعد تکبیرۃ الاحرام (اللہ اکبر) کہہ کر ہاتھ باندھے بغیر چھوڑ دیں (ہاتھ باندھنا جائز نہیں ہے)۔ 2۔ سورہ الحمد اور کوئی دوسری سورت (بہتر ہے کہ سورہ اعلیٰ) پڑھیں۔ 3۔ سورت مکمل کرنے کے بعد پانچ مرتبہ مسلسل تکبیر کہنی ہے اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھنا ہے (یعنی 5 تکبیریں اور 5 قنوت)۔ 4۔ پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبیر (چھٹی تکبیر) کہہ کر رکوع میں جائیں۔ 5۔ رکوع اور اس کے بعد حسبِ معمول دو سجدے ادا کریں۔ دوسری رکعت کا طریقہ 1۔ دوسرے سجدے سے اٹھ کر دوسری رکعت...

شعیہ سنی اختلافات

 *فقہ جعفریہ اور چاروں مشہور فقہائے اہل سنت میں اختلافات* جمعہ 3 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  فقہ جعفریہ (شیعہ مکتبہ فکر) اور چاروں مشہور فقہائے اہل سنت (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے درمیان بنیادی عقائد (جیسے توحید اور رسالت) میں اتفاق ہے، لیکن فروعی یعنی فقہی مسائل، نماز کے طریقے، اور روزمرہ کے احکام میں کچھ واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلافات زیادہ تر احادیث کی قبولیت کے معیار، ائمہ اہل بیت کے فرامین پر اعتماد اور قرآنی آیات کی تشریح کے فرق کی وجہ سے ہیں۔ ذیل میں اہم ترین فقہی اختلافات کو واضح کیا گیا ہے 1. نماز (صلوٰۃ) کے احکام نماز کی ہئیت اور شرائط میں چند نمایاں فرق ہیں:  ہاتھ باندھنا یا چھوڑنا:  اہل سنت (مالکی فقہ کے علاوہ) نماز میں ہاتھ باندھتے ہیں۔ فقہ جعفریہ میں نماز میں ہاتھ باندھنا (تکتُّف) جائز نہیں ہے، وہ ہاتھ بالکل سیدھے چھوڑ کر (سدل) نماز پڑھتے ہیں۔  سجدے کی جگہ: فقہ جعفریہ کے نزدیک سجدہ صرف زمین یا زمین سے اگنے والی غیر خوردنی چیزوں (جیسے لکڑی، پتے، یا مٹی کی ٹکیہ جسے 'سجدہ گاہ' یا 'تربت' کہتے ہیں) پر ہی جائز ہے۔ چ...

قیامت کی نشانیاں

 *قیامت کی نشانیاں* جمعہ 03 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  قیامت کی نشانیاں (علاماتِ قیامت) وہ باتیں اور واقعات ہیں جن کی پیش گوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تاکہ مسلمان آنے والے وقت کے فتنوں سے باخبر رہیں۔ علماء نے ان نشانیوں کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے: وہ نشانیاں جو پوری ہو چکی ہیں، وہ جو اب پوری ہو رہی ہیں (یعنی علاماتِ صغریٰ/چھوٹی نشانیاں)، اور وہ جو بالکل قیامت کے قریب ظاہر ہوں گی (یعنی علاماتِ کبریٰ/بڑی نشانیاں)۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے: وہ نشانیاں جو پوری ہو چکی ہیں  * نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت (دنیا میں تشریف آوری) اور آپ کی وفات۔  * شق القمر (چاند کا دو ٹکڑے ہونا) جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں معجزے کے طور پر ہوا۔  * حجاز (عرب) کی زمین سے ایک عظیم آگ کا نکلنا، جس کی روشنی سے شام کے شہر بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں نظر آنے لگیں۔ یہ واقعہ تاریخ میں (654 ہجری میں) رونما ہو چکا ہے۔  * بیت المقدس کی فتح (جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی)۔ وہ نشانیاں جو ہمارے دور میں پوری ہو رہی ہیں (علاما...

شعیہ سنی اختلافات

 *فقہ جعفریہ اور چاروں مشہور فقہائے اہل سنت میں اختلافات* جمعہ 3 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  فقہ جعفریہ (شیعہ مکتبہ فکر) اور چاروں مشہور فقہائے اہل سنت (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے درمیان بنیادی عقائد (جیسے توحید اور رسالت) میں اتفاق ہے، لیکن فروعی یعنی فقہی مسائل، نماز کے طریقے، اور روزمرہ کے احکام میں کچھ واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلافات زیادہ تر احادیث کی قبولیت کے معیار، ائمہ اہل بیت کے فرامین پر اعتماد اور قرآنی آیات کی تشریح کے فرق کی وجہ سے ہیں۔ ذیل میں اہم ترین فقہی اختلافات کو واضح کیا گیا ہے 1. نماز (صلوٰۃ) کے احکام نماز کی ہئیت اور شرائط میں چند نمایاں فرق ہیں:  ہاتھ باندھنا یا چھوڑنا:  اہل سنت (مالکی فقہ کے علاوہ) نماز میں ہاتھ باندھتے ہیں۔ فقہ جعفریہ میں نماز میں ہاتھ باندھنا (تکتُّف) جائز نہیں ہے، وہ ہاتھ بالکل سیدھے چھوڑ کر (سدل) نماز پڑھتے ہیں۔  سجدے کی جگہ: فقہ جعفریہ کے نزدیک سجدہ صرف زمین یا زمین سے اگنے والی غیر خوردنی چیزوں (جیسے لکڑی، پتے، یا مٹی کی ٹکیہ جسے 'سجدہ گاہ' یا 'تربت' کہتے ہیں) پر ہی جائز ہے۔ چ...