اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

توفیق او اختیار

توفیق اور اختیار – وٹس اپ ورژن 🌿 اللہ نے انسان کو مکمل آزادی دی ہے کہ وہ خیر یا شر کا انتخاب کرے۔ 🌿 اگر خیر کی طرف جائیں: اللہ توفیق دے گا: عمل آسان، دل میں رغبت، استقامت نتیجہ: نیکی میں کامیابی اور قبول عمل 🌿 اگر شر کی طرف جائیں: اللہ رکاوٹ نہیں ڈالتا، انسان آزاد ہے نتیجہ: شر کا حساب خود انسان کے اعمال کے مطابق ✨ یاد رکھیں: اختیار انسان کا توفیق اللہ کی مدد اور برکت نیکی اور شر دونوں کے فیصلے آپ کے، مگر نیکی میں کامیابی اللہ کی توفیق سے “انسان آزاد ہے، نیکی میں کامیابی اللہ کی توفیق، شر میں اختیار انسان کا”

مسنون وقت افطار

 *روزہ افطار کرنے کا مسنون وقت* منگل 24 فروری 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا    حدیث کی روشنی میں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب رات اِدھر سے آئے، دن اُدھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افطار کر لے۔ (رواہ متفق علیہ) ایک اور روایت میں ہے: “لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔(بخاری، مسلم) محمدی طریقہ کیا تھا؟ سورج کے مکمل غروب ہوتے ہی افطار سرخی باقی ہو یا روشنی ہو، جیسے ہی سورج ڈوب جائے، افطار کر لیا جاتا تھا۔ افطار میں تاخیر نہیں مغرب کی اذان کے انتظار کی شرط نہیں تھی، اصل اعتبار سورج کے غروب کا تھا (البتہ آج کل اذان اسی وقت ہوتی ہے)۔  کھجور سے افطار: نبی کریم ﷺ تازہ کھجور سے افطار فرماتے، نہ ملتی تو خشک کھجور، ورنہ چند گھونٹ پانی۔(رواہ ابو داود) الدعاء  یا اللہ تعالی ہمیں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر عمل کرنے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

دعا صحت و عافیت

 *برادر مکرم جناب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب کے لئے خصوصی دعائے عافیت و شفائے کاملہ و عاجلہ* بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، محمد ﷺ، و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اے پروردگارِ دل و جاں! اے وہ کہ جس کے قبضۂ قدرت میں رگوں کی روانی اور دلوں کی دھڑکن ہے! تو ہی مُسبِّب الاسباب ہے اور تو ہی مُعطیِ صحت و عافیت ہے۔ بارِ الٰہا! میرے عزیز دوست ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب جسے تو نے علم کی رفعت، فکر کی وسعت اور قلم کی حرمت عطا فرمائی اپنی رحمتِ کاملہ اور عنایتِ شاملہ سے نواز دے۔ جس دل پر لمحۂ ابتلاء آیا، اسے اپنی قدرتِ کاملہ سے پھر تازگی، توانائی اور طمأنینت عطا فرما۔ اس کے اضطراب کو سکینت میں، اس کی کمزوری کو قوت میں، اور اس کے اندیشوں کو یقینِ محکم میں بدل دے۔ اے ربِّ کریم! اے رب العالمین اے رحمن و رحیم ان کی شریانوں میں عافیت کی لہریں جاری فرما، ان کے قلب کو استقامت، ان کے جسم کو نشاط، اور ان کی عمر کو برکتِ دوام عطا فرما۔ اس عارضۂ ناگہانی کو ان کے لیے رفعتِ درجات، تزکیۂ نفس اور تقرّبِ خاص کا وسیلہ بنا دے۔ اور ہم تیرے محبوب نبی ﷺ ...

فتوی جماعت ثانی

 شیخ ابن عثیمینؒ کا فتویٰ  برائے جماعت ثانی انہوں نے اپنی کتب و دروس (خصوصاً الشرح الممتع اور مجموع فتاویٰ و رسائل) میں فرمایا: 1️⃣ اصل حکم اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور جماعت ہو چکی ہو تو: ✔ وہ دوسروں کے ساتھ جماعت قائم کر سکتا ہے ✔ اس میں کوئی حرج نہیں ✔ بلکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے نسبتاً اکیلے پڑھنے کے 2️⃣ دلیل انہوں نے حدیث: > «ألا رجل يتصدق على هذا فيصلي معه» سے استدلال کیا، جس میں حضرت محمد ﷺ نے جماعت سے رہ جانے والے شخص کے لیے دوسرے کو اس کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔ شیخ کے نزدیک: یہ نصّ جواز پر دلالت کرتی ہے اس میں مسجد کی تخصیص نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جماعت منع نہیں خلاصۂ موقف 🔹 جماعتِ ثانیہ جائز ہے 🔹 حدیث سے اس کی دلیل موجود ہے 🔹 مگر اسے عادت یا اختلاف کا ذریعہ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

جماعت ثانی فتوی بن باز

 السوال: الشیخ عبدالعزیز بن باز کا فتوٰی جماعت ثانی کے بارے میں کیا ہے عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ (سابق مفتیِ عام سعودی عرب) کا فتویٰ جماعتِ ثانیہ کے بارے میں واضح اور معروف ہے۔ شیخ ابن بازؒ کا موقف شیخ ابن بازؒ کے نزدیک: ✔ اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور پہلی جماعت ہو چکی ہو ✔ تو وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ جماعت قائم کر سکتا ہے ✔ اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ وہ اسے جائز اور بعض حالات میں مستحب کے قریب قرار دیتے ہیں، کیونکہ: حدیث «ألا رجل يتصدق على هذا…» سے استدلال کیا جاتا ہے جماعت کی فضیلت عام ہے شریعت نے جماعت کی ترغیب دی ہے *ان کی دلیل کا خلاصہ* شیخ ابن بازؒ فرماتے ہیں کہ: 1- نبی کریم ﷺ نے جماعت سے محروم شخص کے لیے دوسرے کو ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔ 2.اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لیے جماعت قائم کرنا مشروع ہے۔ 3.اس میں کوئی بدعت نہیں، کیونکہ اس کی اصل سنت میں موجود ہے۔ نتیجہ شیخ ابن بازؒ کے نزدیک: 🔹 جماعتِ ثانیہ جائز ہے 🔹 حدیث سے اس کا استدلال صحیح ہے For more information Vist us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

روزے کے مسائل (میڈیکل)

 روزے کے مسائل (میڈیکل) مختصر جوابات جمعرات 19 فروری 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک  سرگودھا 1-خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ 2-خون لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ خون ملنے سے جسم کو طاقت ملتی ہے۔ 3- بلڈ سیمپل دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس سے کوئی طاقت نہیں ملتی۔ 4- طاقت والے انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس سے جسم کو تقویت ملتی ہے 5- طاقت والے انجیکشن سے بھی جسم کو خوراک ملتی ہے اسی لئے  روزہ ٹوٹ جاتا ہے 6- ڈرپ لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ یہ خوراک کا بدل ہے کیونکہ بغیر کھائے پیئے کئی کئی ہفتے ڈرپ پر مریض چلتا رہتا ہے اسے نہ پانی کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ خوراک کی۔ 7-انہیلر سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یہ سگرٹ پینے جیسا ہے اور دوسرے یہ کہ اس سے دوا گلے سے نیچے جاتی ہے جیسے سگریٹ کا دھواں۔ 8-کسی بھی بلڈ ٹسٹ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ 9-انیمیا سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ مقعد کے راستے کوئی شے داخل ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا بلکہ غسل بھی واجب ہو جاتا ہے جیسے طاقت کی دوا یا مقعد کے راستے سکس کروانا۔ 10- آکسیجن لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ یہ بھی ہوا کی ماند ہے  ہوا می...

سلیکٹڈ آرٹیکلز

 [15/02, 12:04 pm] Nazir Malik: *ماہ ِرمضان کی فضیلت* اتوار 15 فروری 2026 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا الحمدللہ: ماہ صیام کی آمد آمد ہے اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید میں ماہ رمضان کی فضیلت میں یوں فرمایا۔    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(185) *ترجمہ:* رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے۔) تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمارہو یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے۔اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور ( یہ آسانیاں اس لئے ہیں ) تاکہ تم (روزوں کی) تعداد پوری کرلو اور ت...