بیت المقدس کے رخ پر قدیم مسجد

 *قبلہ اول بیت المقدس کے  رخ پر قدیم بارواڑا مسجد پر ایک تحقیقی جائزہ*


جمعہ 26 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


تعارف:

گھوگھا (بھاؤن گڑھ، ریاست گجرات، بھارت) میں واقع بارواڑا مسجد پر ایک مفصل تاریخی و تحقیقی جائزہ جس میں اس کے پس منظر، اہمیت، قبلہ رخ، اور ماہرین کی آراء شامل ہیں:


بارواڑا مسجد: ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ


قبلہ رخ اور اس کے تاریخی اہمیت:

بارواڑا مسجد کی سب سے اہم خصوصیت اس کا قبلہ رخ ہے۔

محراب کی سمت بیت المقدس (یروشلم) کی جانب ہے جو کہ روایتی قبلۂ اَوّل تھا، یعنی اسلام کے ابتدائی دور میں نمازوں کا رخ یہی تھا۔


اسلامی تاریخ کے مطابق:

 610–623 عیسوی تک مسلمانوں نے نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا کی۔ 623 عیسوی میں حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور قبلہ تبدیل ہو کر کعبہ (مکہ المعظمہ) مقرر ہوا۔ 

بارواڑا مسجد کے محراب کی سمت تقریباً یروشلم کی طرف 20° شمال کی جانب تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسے اسی ابتدائی اسلامی دور میں تعمیر کیا گیا ہوگا  یعنی قبل از وہ وقت جب قبلہ کعبہ کی طرف مقرر ہوا۔ 


عمارت کی ساخت و فنِ تعمیر

مسجد کی ساخت بہت سادہ ہے:

اندرونی حصہ میں چند ستون (pillars) کی مدد سے چھت رکھی گئی تھی۔

آثار سے پتہ چلتا ہے کہ چھت کا بیشتر حصہ وقت کے ساتھ منہدم ہو چکا ہے، اور صرف چند ستون اور محراب باقی ہیں۔

محراب کے اطراف پر قدیم عربی نقوش بھی پائے گئے ہیں، جنہیں کچھ ماہرین برصغیر کے سب سے قدیم عربی تحریروں میں شمار کرتے ہیں۔ 


*تاریخی حوالہ جات و ماہرین کی آراء*


کبھی کبھار بعض ماہرین تاریخی روایات کے تحت اسے ہندوستان/برصغیر کی سب سے قدیم مسجد بھی قرار دیتے ہیں. شاید چیرآمن مسجد Cheraman Juma, Kerala) سے بھی پرانی۔ 


تاریخی تحقیق کار پروفیسر مہبوب دیسائی جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ:

اگر مسجد کا قبلہ یروشلم کی طرف ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اسلام کے ابتدائی سالوں میں تعمیر کیا گیا تھا — یعنی جب قبلہ تبدیل نہیں ہوا تھا۔ 

یہ دلیل تاریخی واقعات، عرب تاجر برصغیر میں آمد، اور قبلہ کی تبدیلی کے وقت کو مدنظر رکھتی ہے۔ 


*عرب تجارتی رابطے اور خطِ تجارت*


گھوگھا اُس زمانے میں خلیجِ کھمبھات (Gulf of Khambhat) کا ایک اہم سمندری تجارتی مرکز تھا، جہاں سے عرب تاجر مشرقی افریقہ، فارس، اور یمن سے تجارتی رابطے قائم کرتے تھے۔ ایسے مستند تجارتی روابط کے باعث ابتدائی مسلمانوں کے یہاں آنے اور عبادت گاہ بنانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 


*موجودہ حالت اور تحفظ*

بدقسمتی سے بارواڑا مسجد آج انتہائی مخدوش اور خستہ حالت میں ہے۔

زیادہ تر چھت گر چکی ہے،

محراب ظاہرا" تو ہے مگر گلوبل تحفظ کے تحت نہیں آتی،

نہ ہی کسی سرکاری ادارے (جیسے کہ ASI) نے اسے باقاعدہ تحفظ فراہم کیا ہے۔

لوگ مقامی طور پر اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر مناسب تاریخی تحفظ کی کمی ہے۔ 

VIRASAT - E - HIND FOUNDATION


*تاریخی و تحقیقی اہمیت*

بارواڑا مسجد کی اہمیت چند اہم نکات میں سمٹی جا سکتی ہے:

قبلۂ اول (Qibla Awwal): مسجد کی سمت یروشلم کی طرف ہونے کی وجہ سے یہ ابتدائی اسلامی تاریخ کی علامت ہے۔ 


قدیم ترین عربی تحریر: محراب پر پائے جانے والے عربی نقوش برصغیر کے قدیم ترین اسلامی نقوش میں سے سمجھے جاتے ہیں۔


≈====================

*مسجد کے دروازے پر قرآنی تحریر کے نقوش جو ابھی باقی ہیں*


مسجد کے دروازے پر مندرجہ ذیل عبارات کنداں ہیں


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 اور 

کلمہ طیبہ 

اور 

 سورہ اخلاص 


ان تحاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسجد 610 سے 613 عیسوی یعنی سنہ 01 سے 03 سنہ نبوی میں بنائی گئ ہو گی


میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بر صغیر میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت ہند اور اسلامی آثار قدیمہ ہند نے اس تاریخی اثاثہ کو محفوظ کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔


اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان حکومت ہند   کو ایک یاد داشت بھجوائے تاکہ وہ اس تاریخی اسلامی عمارت کی صحیح  طریقے سے محفوظ کرنے اور نگاہ داشت فرمانے کی سعی کرے۔


درد مند اہل اقتدار سے امید واثق ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Cell 0092300860 4333 

≈====================


تجارتی روابط: عرب تاجر جو سمندر کے راستے جنوب و مشرق کے ساحلوں پر آتے تھے، انہوں نے یہاں اسلامی ثقافتی شناخت کے ابتدائی اثر چھوڑے۔


تاریخی تحقیق کی بحث: چونکہ قدیم ترین تاریخی دستاویزی شواہد کم ہیں، لہٰذا ماہرین تاریخ میں بحث جاری ہے کہ کیا یہ واقعی سب سے قدیم مسجد ہے یا نہیں لیکن اس کی قبلہ سمت اس کو یقینی طور پر ایک انوکھا تاریخی نشان بناتی ہے۔ 


نتیجہ

بارواڑا مسجد نہ صرف علاقے اور خطے کے قدیم اسلامی ورثے کا ایک اہم اثاثہ ہے بلکہ ابتدائی اسلامی قبلہ کی یادگار بھی ہے۔

اگرچہ اس کی صحیح تاریخی عمر کے بارے میں قطعی دستاویزات موجود نہیں، مگر اس کا قبلہ رخ یروشلم کی طرف اور عربی نقوش اسے اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور سے جوڑتے ہیں۔ 


یہ مسجد ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اسلامی ثقافت اور تجارت کس طرح 7ویں صدی میں برصغیر تک پھیلی، اور کس طرح یہاں کے ساحلی شہروں نے دنیا بھر کے ثقافتی تبادلوں میں کردار ادا کیا۔


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Cell: 0092300860 4333

تبصرے