فرقہ واریت سے کیسے نجات پائیں
تلاشِ دینِ حق مسلمان فرقہ واریت سے کیسے نجات پا سکتے ہیں؟
جمعہ 26 دسمبر 2025
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
تلاشِ دینِ حق مسلمان فرقہ واریت سے کیسے نجات پا سکتے ہیں؟
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا﴾ (آلِ عمران: 103)
یہ آیت امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک وعظ نہیں بلکہ دستورِ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نجات کو اجتماع کے ساتھ اور ہلاکت کو تفرقہ کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس کے باوجود آج امتِ مسلمہ فرقوں، مسالک، جماعتوں اور ذاتی وابستگیوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے: جب سب قرآن و حدیث ہی کا حوالہ دیتے ہیں تو پھر اختلاف دشمنی کیوں بن جاتا ہے؟
فرقہ واریت کی اصل وجہ
فرقہ واریت کی بنیادی وجہ قرآن و حدیث نہیں بلکہ:
اپنی رائے کو حقِ مطلق سمجھ لینا ہے
*مدِ مقابل کی رائے کو سننے سے انکار۔ اختلاف کو کفر و بدعت تک لے جانا دین کو انا اور گروہ بندی کا مسئلہ بنا لینا حالانکہ سلف صالحین کے ہاں اختلاف کے باوجود:
ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی جاتی تھی نیت پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔ دلیل کو دلیل سے پرکھا جاتا تھا
اختلاف: سنتِ صحابہ، تفرقہ: فتنہ
صحابہ کرامؓ کے مابین فقہی اختلافات موجود تھے:
رفع الیدین، آمین بالجہر،
قنوت، بعض فروعی مسائل
لیکن کسی صحابی نے دوسرے کو گمراہ، بدعتی یا کافر نہیں کہا۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
میری رائے درست ہے مگر خطا کا احتمال رکھتی ہے،
اور دوسرے کی رائے خطا ہے مگر درست ہونے کا امکان رکھتی ہے۔
یہی علمی دیانت ہے، اور یہی فرقہ واریت کا علاج۔
*دین حق کی تلاش کا درست منہج*
1️⃣ مدِ مقابل کو مسلمان سمجھنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو وہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹ آتا ہے” (بخاری)
جب تک قطعی دلیل نہ ہو، کسی مسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنا حرام ہے۔
2️⃣ دلیل کو قرآن و سنت پر پرکھنا۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ﴾
(النساء: 59)
یعنی: شخصیت نہیں،مسلک نہیں، اکثریت نہیں
بلکہ فیصلہ صرف قرآن و سنت کا ہے۔
3️⃣ حق واضح ہو جائے تو فوراً قبول کرنا۔
یہی تقویٰ ہے، یہی اخلاص ہے۔
حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے:
“حق کو پہچان لو، اہلِ حق خود پہچانے جائیں گے”
جو شخص دلیل واضح ہونے کے باوجود اپنی رائے پر اڑا رہے، وہ حق کا طالب نہیں بلکہ انا کا غلام ہے۔
4️⃣ اختلاف کو علمی رکھنا، جذباتی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے” (مسلم)
دینی بحث:
چیخ و پکار نہیں، تضحیک نہیں،تحقیر نہیں بلکہ حکمت، دلیل اور حسنِ اخلاق سے ہوتی ہے۔
5️⃣ اگر بات نہ بنے تو اہلِ علم کی طرف رجوع۔
قرآن کا واضح حکم ہے:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل: 43)
ہر شخص مجتہد نہیں ہوتا،
اور ہر مسئلہ واٹس ایپ یا یوٹیوب سے حل نہیں ہوتا۔
دینی بحث: ہار جیت نہیں،
*تلاشِ حق*
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ:
دینی بحث میں کوئی ہارتا نہیں، یا تو آپ سکھاتے ہیں
یا سیکھتے ہیں۔ اور یہی:
دعوت ہے، اصلاح ہے، رجوع الی الحق۔
*فرقہ واریت سے نجات کا عملی فارمولا*
قرآن و سنت کو اصل مانا جائے
مسلک کو ذریعہ سمجھا جائے، منزل نہیں۔ اختلاف کو رحمت، تفرقہ کو فتنہ سمجھا جائے۔
تکفیر و تفسیق سے زبان روکا جائے۔ نیت کو “غلبہ نہیں ہدایت بنایا جائے۔
یاد رہے کہ دینِ اسلام:
گروہوں کا دین نہیں
شخصیتوں کا دین نہیں
علاقائی یا نسلی دین نہیں
بلکہ: وحی کا دین ہے دلیل کا دین ہے عدل اور اخلاص کا دین ہے
اگر ہم واقعی دینِ حق کے متلاشی ہیں تو: ہمیں سب سے پہلے اپنے مسلکی تعصب کو قرآن و سنت کے تابع کرنا ہوگا، نہ کہ قرآن و سنت کو اپنے مسلک کے تابع۔
ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ ہم سب دین اسلام کے طالب علم ہیں اور اللہ تعالی اس کائینات کا رب ہے اور محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کے اخری نبی اور رسول ہیں۔
الدعا:
اللہ تعالیٰ ہمیں:
حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے
باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑنے
اور امت کو جوڑنے کا ذریعہ بننے
کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
احقر
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
خادمِ قرآن و سنت
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے