کیا نبی کریم ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں؟
کیا نبی کریم ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں؟
ہفتہ 10 جنوری 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن و حدیث کی روشنی میں جامع تحقیقی مضمون
تمہید
نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اور آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر ہر مسلمان کے دل کی گہرائیوں میں رچی بسی ہے۔ اسی محبت کے جذبے کے تحت بعض اوقات ایسے عقائد یا تعبیرات زبان پر آ جاتی ہیں جن کی بنیاد مضبوط نصوصِ شرعیہ پر نہیں ہوتی۔ انہی میں سے ایک معروف تصور یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں اس تصور کا جائزہ قرآن مجید، احادیثِ نبویہ اور اہلِ علم کے اصولی منہج کی روشنی میں لیا جا رہا ہے، تاکہ محبتِ رسول ﷺ بھی محفوظ رہے اور عقیدۂ توحید بھی۔
تخلیقِ کائنات کا اصل مقصد: قرآنی بیان
قرآن مجید تخلیقِ کائنات کے مقصد کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(سورۃ الذاریات: 56)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی تخلیق کا مقصد اپنی عبادت کو قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی یہ تصریح موجود نہیں کہ کائنات یا انسان کو کسی مخلوق کی ذات کی خاطر پیدا کیا گیا ہو۔ لہٰذا قرآنی نصوص کے مطابق غایتِ تخلیق (Purpose of Creation) صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور معرفت ہے۔
نبی کریم ﷺ کا مقام: رحمت للعالمین
قرآن مجید نبی کریم ﷺ کے عظیم مقام کو یوں بیان کرتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
(سورۃ الأنبیاء: 107)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے۔ اس رحمت کا تعلق ہدایت، اخلاق، عدل، تزکیۂ نفس اور اللہ سے تعلق کے قیام سے ہے، نہ کہ اس بات سے کہ کائنات آپ ﷺ کی وجہ سے وجود میں آئی۔
مشہور روایت "لولاک لما خلقت الافلاک" کا تحقیقی جائزہ
اکثر اس عقیدے کے ثبوت میں ایک روایت پیش کی جاتی ہے:
لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ
"اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔"
حدیثی تحقیق
محدثینِ کرام کی اکثریت کے نزدیک:
یہ روایت سند کے اعتبار سے ثابت نہیں۔
امام ابن تیمیہؒ، امام ذہبیؒ، امام شوکانیؒ اور دیگر محققین نے اسے ضعیف یا موضوع قرار دیا ہے۔
اصولِ حدیث کے مطابق ایسی روایت کو عقیدے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، خصوصاً جب قرآن مجید کی صریح نصوص اس کی تائید نہ کر رہی ہوں۔
صحیح عقیدہ: سببِ تخلیق اور سببِ ہدایت میں فرق
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے:
سببِ تخلیق (Cause of Creation): صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ ہے۔
سببِ ہدایت (Means of Guidance): نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔
نبی کریم ﷺ کائنات کی تخلیق کا سبب نہیں، بلکہ تخلیق کے مقصد کی تکمیل کا سب سے کامل نمونہ ہیں۔ عبادت، اطاعت، اخلاق، صبر، عدل اور بندگی جس شکل میں آپ ﷺ کی سیرت میں جلوہ گر ہے، وہ انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
نبی ﷺ کی عبدیت: خود رسول ﷺ کی تعلیم
نبی کریم ﷺ نے خود اپنی حیثیت کو عبدیت کے دائرے میں رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ (صحیح بخاری)
یہ حدیث امت کو واضح ہدایت دیتی ہے کہ محبت اور تعظیم میں غلو سے بچا جائے اور نبی ﷺ کو وہی مقام دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے: یعنی عبد اور رسول۔
اہلِ سنت والجماعت کا متوازن موقف
اہلِ سنت والجماعت کا موقف نہ افراط پر مبنی ہے اور نہ تفریط پر:
نبی کریم ﷺ افضل المخلوقات ہیں۔ آپ ﷺ خاتم النبیین اور کامل ترین ہادی ہیں۔
آپ ﷺ کی بعثت کے ذریعے انسانیت کو اپنے مقصدِ تخلیق کا شعور ملا۔
لیکن:
نبی ﷺ کو سببِ تخلیقِ کائنات بالذات کہنا درست نہیں۔
ایسا کہنا عقیدۂ توحید کے منافی اور غلو کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
درست اور محتاط تعبیر
اہلِ علم نے اس موضوع پر ایک نہایت خوبصورت اور محفوظ تعبیر اختیار کی ہے:
"اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، اور اس عبادت و بندگی کا کامل ترین نمونہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔"
یہ تعبیر:
محبتِ رسول ﷺ کو برقرار رکھتی ہے اور عقیدۂ توحید کی حفاظت کرتی ہے۔ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے عظمتِ مصطفی ﷺ کو واضح کرتی ہے۔
نتیجہ
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے۔
نبی کریم ﷺ کائنات کی تخلیق کا سبب نہیں بلکہ ہدایتِ کائنات کا مرکز ہیں۔
آپ ﷺ کی سیرت دراصل اس مقصدِ تخلیق کی عملی تفسیر ہے۔
یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ وجہِ تخلیق نہیں، بلکہ وجہِ ہدایت اور کمالِ انسانیت ہیں۔ یہی موقف علمی، اعتقادی اور شرعی اعتبار سے محفوظ، متوازن اور درست ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Cell: 0092300860 4333
تبصرے