بسنت
*بسنت اور اسکی شرعی حیثیت*
جمعرات 29 جنوری 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
ہر سال موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے معاشرے میں بسنت کے نام پر ایک پرانا سوال پھر زندہ ہو جاتا ہے: کیا یہ صرف ایک بے ضرر ثقافتی تفریح ہے یا ایک ایسی رسم جو دین، عقل اور انسانی جان، تینوں سے متصادم ہے؟
یہ سوال جذبات سے نہیں بلکہ حقائق، تاریخ اور شریعت کی روشنی میں حل ہونا چاہیے۔
تاریخی حقیقت: بسنت کہاں سے آئی؟ بسنت کا تعلق اسلامی تہذیب سے نہیں بلکہ برصغیر کی قدیم ہندو روایت سے ہے۔ لفظ بسنت سنسکرت کے Vasant سے ماخوذ ہے، جو بہار کے موسم اور دیوی سرسوتی کی پوجا سے وابستہ رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رسم مذہب سے نکل کر تہذیبی لبادہ اوڑھتی چلی گئی، مگر اس کی اصل جڑ آج بھی غیر اسلامی ہے۔
اسلام تاریخ اور تہذیب کو نہیں مٹاتا، مگر غیر اسلامی مذہبی رسوم کو قبول بھی نہیں کرتا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
*قرآن و سنت کا اصولی موقف*
نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ دو تہوار منایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے دو بہتر دن عیدالفطر و عیدالاضحی عطا فرما دیے ہیں۔ اس اعلان کے بعد اسلام میں کسی تیسرے مذہبی یا موسمی تہوار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
قرآن کا اصول بالکل واضح ہے: نیکی وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے متعین کر دی ہو، نہ کہ وہ جو معاشرہ وقت کے ساتھ خود گھڑ لے۔
*آثارِ صحابہؓ: غیرتِ ایمانی کی روشن مثال*
یہ مسئلہ محض فقہاء کی رائے نہیں بلکہ صحابہ کرامؓ کے طرزِ عمل سے بھی ثابت ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ کا قول ہے:
"اللہ کے دشمنوں کے تہواروں سے بچو"
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے نوروز اور مہرجان جیسے موسمی تہواروں میں شرکت پر سخت تنبیہ فرمائی۔ یہ وہی نوروز ہیں جنہیں آج "ثقافت" کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہؓ کے نزدیک شناخت کا معیار لباس یا موسم نہیں بلکہ دین تھا۔
*بسنت اور موجودہ معاشرتی منظرنامہ*
اگر آج کی بسنت کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مزید تشویشناک ہو جاتی ہے:
پتنگ بازی کے نام پر جان لیوا کیمیکل ڈور درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع، بچوں اور موٹر سائیکل سواروں کی ہلاکت، بجلی کے نظام کو نقصان، فحاشی، بے پردگی اور اختلاط۔ یہ سب کچھ صرف تفریح نہیں بلکہ ایک اجتماعی خطرہ بن چکا ہے۔
*انسانی جان اور شریعت کی ذمہ داری*
قرآن کا واضح حکم ہے: "اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو"
اور نبی کریم ﷺ کا اصولی فرمان:
"نہ خود کو نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو"
ایسا عمل جس میں جان کا غالب خطرہ ہو، شریعت میں ناجائز بلکہ بعض صورتوں میں حرام کے درجے تک پہنچ جاتا ہے، چاہے نیت تفریح ہی کیوں نہ ہو۔
*بجٹ، معیشت اور قومی ترجیحات*
بسنت کے حامی اکثر دلیل دیتے ہیں کہ یہ تہوار معیشت کو فائدہ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:
کروڑوں روپے محض پتنگ، ڈور اور وقتی تفریح پر خرچ ہو جاتے ہیں اور یہی سرمایہ تعلیم، صحت اور غرباء کی مدد میں استعمال ہو سکتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے مال کے ضیاع سے منع فرمایا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو مہنگائی اور غربت کا شکار ہو، وہاں اس قسم کا اسراف دانشمندی نہیں، بے حسی ہے۔
بسنت، تہذیب یا خود فریبی؟
بسنت نہ تو اسلامی تہذیب کا حصہ ہے، نہ ہی اس کی موجودہ شکل بے ضرر ہے۔ یہ ایک ایسی رسم ہے جو:
&- دینی شناخت کو کمزور کرتی ہے
&- انسانی جان کو خطرے میں ڈالتی ہے
&- قومی وسائل ضائع کرتی ہے
بہار کی خوشی منانا جرم نہیں، مگر غیر اسلامی رسم اور خطرناک تفریح کو خوشی کا نام دینا خود فریبی ہے۔
ایک باایمان معاشرہ وہی ہے جو خوشی بھی شریعت، عقل اور ذمہ داری کے دائرے میں منائے۔
اگر ہم پاکستان میں شریعت نافذ نہیں کر سکتے تو کم از کم غیر اسلامی تہذیبوں کو پروان تو نہ چڑھائیں۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں اور ہماری حکومت وقت کو اسلامی سوچ عطا فرما۔
اور وطن عزیز میں اسلامی شریعت نافذالعمل فرمانے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے