عہد الست مقصد حیات
*انسان، عہدِ الست اور مقصدِ حیات*
جمعہ 30 جنوری 2026
ٹوکیو و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کسی اتفاق کے تحت نہیں کی، بلکہ ایک عظیم مقصد کے ساتھ فرمائی۔ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں پیدا فرمایا، اپنی روح میں سے پھونکی، اور پھر حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو ان ہی سے پیدا کیا۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی ابتدا عزت، قرب اور رحمت کے ماحول سے ہوئی۔
*عالمِ ارواح اور اللہ سے کیا گیا وعدہ*
زمین پر آنے سے پہلے تمام انسان عالمِ ارواح میں موجود تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں کو قوتِ گویائی عطا فرمائی اور ایک بنیادی سوال کیا:
﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾
“کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟”
سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا: ﴿قَالُوا بَلَىٰ﴾
“کیوں نہیں، آپ ہی ہمارے رب ہیں”(الاعراف: 172)
یہ عہد انسان کی فطرت میں محفوظ کر دیا گیا، اسی لیے ہر انسان کے دل میں حق کی ایک چنگاری موجود رہتی ہے۔
*زمین پر اللہ کی خلافت اور آزمائش*
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا۔ زمین دراصل دارالامتحان ہے، جہاں انسان کو اختیار دے کر آزمایا جانا تھا:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ﴾
“جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے”
(سورۃ الملک: 2)
اسی آزمائش میں انسان بھٹک نہ جائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل مبعوث فرمائے، تاکہ وہ انسان کو یاد دلائیں کہ
تمہارا رب صرف اللہ ہے،
اسی کی عبادت کرنی ہے،
اور اسی کے حکم پر چلنا ہے۔
*رسالتِ محمدی ﷺ اور مکمل ہدایت*
بالآخر اللہ تعالیٰ نے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا، اور آپ ﷺ پر قرآنِ مجید نازل کیا جو قیامت تک کے لیے مکمل ہدایت ہے۔
﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾
“یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے(البقرہ:2)
قرآن نے واضح کر دیا کہ نجات پانے والے کون ہیں: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾
“جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں(البقرہ: 3)
*حکم اللہ کا، طریقہ رسول ﷺ کا*
اسلام صرف نظریہ نہیں بلکہ عملی نظامِ زندگی ہے۔
حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے
طریقہ رسول اللہ ﷺ سکھاتے ہیں
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ﴾
“رسول تمہیں جو دے وہ لے لو”(سورۃ الحشر: 7)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں”
(صحیح بخاری)
*نماز: بندگی کی بنیاد*
نماز اسلام کا ستون ہے۔ جو شخص نماز کو چھوڑ دیتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کے حکم سے روگردانی کرتا ہے۔
“نماز دین کا ستون ہے”
(سنن بیہقی)
اور فرمایا:
“آدمی اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے”
(صحیح مسلم)
*انجامِ کار: جنت یا جہنم*
آخرکار ایک دن یہ امتحان ختم ہو جائے گا۔ قیامت کے دن یہی دیکھا جائے گا کہ:
کس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات مانی؟
اور کس نے غرور، خواہش یا غفلت کو اختیار کیا؟
فرمانِ الٰہی ہے:
﴿فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾
“جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی کامیاب ہے”
(سورۃ آل عمران: 185)
جنت مومن کا اصل ٹھکانہ ہے، اور جہنم نافرمانوں کے لیے انجام۔
خلاصۂ کلام
یہ دنیا مختصر ہے،
یہ زندگی امتحان ہے،
قرآن ہماری گائیڈ بک ہے،
رسول اللہ ﷺ ہمارے رہنما ہیں،
اور جنت ہمارا اصل گھر۔
کامیابی صرف اسی میں ہے کہ ہم:
اللہ کے احکامات پر عمل کریں
رسول ﷺ کے طریقے پر چلیں
گناہوں سے رک جائیں
اور توبہ و اصلاح کی راہ اختیار کریں
یہی اسلام ہے، یہی نجات ہے۔
الدعاَء
یا اللہ تعالیٰ ہمیں اس تحریر پر عمل کرنے والوں میں شامل فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے