غیر مسلمون کے خلاف جنگ

 کیا اسلام، اسلام قبول نہ کرنے والوں سے جنگ کا حکم دیتا ہے؟


بدھ 28 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ


آج کے عالمی بیانیے میں اسلام پر سب سے سنگین الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ وہ تلوار کے زور پر پھیلا اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے خلاف جنگ کو جائز قرار دیتا ہے۔ یہ دعویٰ نہ صرف تاریخی طور پر کمزور ہے بلکہ قرآنِ مجید، سنتِ نبوی ﷺ اور فقہِ اسلامی کے صریح اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو جذبات کے بجائے علم، دلیل اور نصوص کی روشنی میں سمجھا جائے۔


قرآنِ مجید اسلام کا بنیادی اصول ابتدا ہی میں واضح کر دیتا ہے:


﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾

(البقرہ: 256)

یعنی دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔


یہ آیت محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک قطعی شرعی اصول ہے۔ اگر اسلام قبول نہ کرنے پر جنگ فرض ہوتی تو اس آیت کا کوئی معنی باقی نہ رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت غیر منسوخ ہے۔


پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں قتال (جنگ) کا ذکر کیوں آیا؟ اس کا جواب خود قرآن دیتا ہے:


﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا﴾

(البقرہ: 190)

اس آیت میں جنگ کی اجازت ان لوگوں کے خلاف دی گئی ہے جو خود جنگ کریں۔ یہاں قتال کی علت کفر نہیں بلکہ جارحیت، ظلم اور حملہ ہے۔ ساتھ ہی “زیادتی نہ کرو” کہہ کر اسلام نے جنگ کو بھی اخلاقی حدود کا پابند بنا دیا۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس قرآنی اصول کی عملی تفسیر ہے۔ مکہ میں نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ نے تیرہ برس تک بدترین مظالم برداشت کیے، لیکن اس پورے دور میں قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر عدمِ اسلام ہی جنگ کی وجہ ہوتا تو مکہ میں ہی تلوار اٹھا لی جاتی۔ مدینہ کے دور میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں، ان کی بنیاد حملہ، سازش، عہد شکنی یا دفاع تھی، نہ کہ محض یہ کہ فریق مسلمان نہیں تھا۔


اسلام غیر مسلموں کے حقوق کے معاملے میں بھی نہایت واضح ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔” (صحیح بخاری)


یہ حدیث اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ پرامن غیر مسلم، خواہ وہ اسلام قبول نہ کرے، اسلامی معاشرے میں مکمل تحفظ کا حق رکھتا ہے۔


یہاں جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ جہاد کا مقصد ظلم کا خاتمہ، عدل کا قیام اور مظلوم کا دفاع ہے، جبکہ دہشت گردی کا مقصد خوف پھیلانا اور فساد برپا کرنا۔ قرآن صاف کہتا ہے:


﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ﴾

(القصص: 77)


فساد، چاہے کسی بھی نعرے کے ساتھ ہو، اسلام میں حرام ہے۔


فقہِ اسلامی بھی اسی موقف پر متفق ہے۔ ائمہ اربعہ کے نزدیک کفر بذاتِ خود قتال کی وجہ نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے مطابق اگر غیر مسلم محارب نہ ہو تو اس سے جنگ جائز نہیں۔ یہی موقف امت کے جمہور علماء کا ہے۔


خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کا پیغام تلوار نہیں بلکہ دعوت، عدل اور امن ہے۔ اسلام قبول نہ کرنے پر جنگ کا تصور قرآن، سنت اور فقہ—تینوں کے خلاف ہے۔ جنگ صرف اسی وقت جائز ہے جب ظلم ہو، حملہ ہو یا امن کو تباہ کیا جائے۔


آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود بھی دین کو جذباتی نعروں کے بجائے علمی اور اصولی بنیادوں پر سمجھیں اور دنیا کے سامنے اسلام کا اصل، متوازن اور عادلانہ چہرہ پیش کریں۔


وما علینا الا البلاغ المبین 


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے