معراج نبی ایک عظیم معجزہ

 واقعۂ معراجِ نبوی ﷺ اسلامی عقائد میں ایک مرکزی اور عظیم الشان معجزہ ہے۔ 


پیر 26 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 



اس واقعے سے متعلق ایک اہم فقہی و کلامی سوال یہ ہے کہ: کیا معراج کے وقت زمان و مکان کے عام قوانین معطل ہو گئے تھے؟ خصوصاً یہ کہ آیا وقت (Time) رک گیا تھا یا اس میں کوئی خاص الٰہی تصرف ہوا؟ زیرِ نظر مضمون میں اس سوال کا جائزہ فقہِ اسلامی، علمِ کلام اور نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے۔


وقت کی شرعی حیثیت (فقہی تناظر)


فقہاءِ اسلام کے نزدیک وقت بذاتِ خود کوئی مستقل وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ایک صفت اور نظام ہے، جس پر عبادات کے احکام مترتب ہوتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور عدّت جیسے تمام فقہی احکام وقت کے جاری رہنے پر مبنی ہیں۔


اگر وقت مکمل طور پر رک جائے تو شریعت کے احکام معطل ہو جائیں، جبکہ معراج کے واقعے میں ایسا کوئی اثر ثابت نہیں۔ اس سے فقہی طور پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معراج کے وقت زمین پر وقت جاری تھا، ورنہ احکامِ شرعیہ کے تسلسل میں خلل لازم آتا۔


کلامی اصول: اللہ خالقِ وقت ہے


علمِ کلام کے اصول کے مطابق:


اللہ تعالیٰ زمان و مکان کا خالق ہے


وہ وقت کا محتاج نہیں


مگر مخلوق وقت کے نظام میں مقید ہے


اہلِ سنت والجماعت کے متکلمین (امام اشعری، امام ماتریدی) کے نزدیک معجزہ کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ اپنی صفتِ حکمت کے خلاف کام کرے، بلکہ یہ کہ وہ معمول کے اسباب کے بغیر کام ظاہر فرمائے۔


لہٰذا وقت کا مکمل رک جانا ایک کائناتی تبدیلی (Cosmic Suspension) ہوتا، جس کا کوئی شرعی یا عقلی ثبوت موجود نہیں۔


قرآنی نصوص اور وقت


قرآنِ کریم معراج کو یوں بیان کرتا ہے:

 سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا

آیت میں "لیلًا" (رات کے ایک حصے میں) کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ معراج ایک محدود دنیوی وقت میں واقع ہوئی۔ یہ تعبیر اس نظریے کو رد کرتی ہے کہ وقت مکمل طور پر رک گیا تھا۔


مزید یہ کہ قرآن میں وقت کی نسبتی حیثیت کی مثالیں دی گئی ہیں، جیسے ایک دن کا ہزار یا پچاس ہزار سال کے برابر ہونا، جو وقت کے رکنے نہیں بلکہ مختلف نظاموں میں مختلف ادراک کو ظاہر کرتا ہے۔


احادیثِ صحیحہ کی کلامی دلالت۔

احادیث میں وارد ہے کہ:

نبی کریم ﷺ کے بستر کی گرمی باقی تھی


پانی کے برتن میں حرکت موجود ہونا۔

علمِ کلام کی اصطلاح میں یہ احادیث "حسی قرائن" ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ زمین کے نظام میں وقت جاری تھا۔ اگر وقت رکا ہوتا تو یہ آثار باقی نہ رہتے۔


معراج: وقت کا رکنا یا وقت کا سمٹنا؟


فقہی و کلامی تطبیق کے مطابق:

وقت کا رکنا: پوری کائنات کے لیے زمانے کا منجمد ہو جانا۔

وقت کا سمٹنا: کسی خاص ذات کے لیے کم وقت میں زیادہ مشاہدات کا ممکن ہونا


اہلِ سنت کے نزدیک معراج میں دوسرا تصور درست ہے۔ یہ تصرف ذاتِ نبوی ﷺ کے ساتھ خاص تھا، نہ کہ پوری کائنات کے ساتھ۔


فقہی نتائج

1.معراج سے شریعت کے وقتی احکام متاثر نہیں ہوئے


2.نمازوں کا فرض ہونا اسی دنیوی وقت میں واقع ہوا۔


3.وقت کے جاری رہنے کا تسلسل برقرار رہا۔ یہ تمام نکات اس بات کے فقہی شاہد ہیں کہ وقت نہ رکا اور نہ معطل ہوا۔


کلامی نتیجہ

علمِ کلام کی رو سے معراج

اللہ کی قدرتِ مطلقہ کا اظہار ہے مگر اس میں تضاد یا عبث نہیں


نہ ہی کائناتی نظام کو منجمد کرنا لازم 

حتمی فیصلہ (Conclusion)


فقہی اور کلامی دلائل کے مجموعی مطالعے سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ:

 معراجِ نبوی ﷺ کے وقت وقت نہیں رکا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے لیے وقت کو سمیٹ دیا۔


یہ موقف قرآن، حدیث، فقہ اور علمِ کلام — سب کے مطابق ہے اور اہلِ سنت والجماعت کا راجح اور معتمد مؤقف ہے۔


*اختتامی کلمات*

واقعۂ معراج کو سمجھنے میں افراط و تفریط سے بچنا ضروری ہے۔ نہ اسے محض سائنسی تجربہ سمجھا جائے اور نہ ہی ایسے تصورات گھڑے جائیں جو شریعت، عقل اور کلامی اصولوں سے متصادم ہوں۔ اعتدال ہی اہلِ سنت کا منہج ہے۔


واللہ اعلم بالصواب

تبصرے