معاویہ بن سفیان
⛔ سب سے پہلے جناب معاویہ کے متعلق اپنا عقیدہ بیان ہو جائے:
_بسم اللہ الرحمن الرحیم_
_______________________
آپ سابقون الاولون یا والذین اتبعوا ھم باحسان والے صحابہ میں سے نہیں ہیں بلکہ آپ ان طلقاء میں سے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔۔
آپ کو گالی گلوچ نہیں کی جائے گی کہ یہ کسی مسلمان کی بے ادبی ھے۔
امیرالمومنین مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کے بالمقابل آپ کا خروج بغاوت تھی اور آپ باغی گروہ کے سربراہ تھے۔
سیدنا علی حق پر اور سیاستِ علی ذندہ آباد۔
سیدنا علی کی خلافت حق تھی اور خلافتِ راشدہ تھی۔
جبکہ حضرت معاویہ کی حکومت سیدنا امام حسن کی دستبرداری کے باوجود ملوکیت تھی اور حضرت علی کے مقابل ناحق، غیر عادل اور ظلم تھی اور اس کا ثبوت جنابِ معاویہ کا اپنے بعد اپنے شرابی اور بدکار بیٹے کو ولی عہد نامزد کرنا ہے۔
جناب معاویہ کے متعلق زبان طعن سے خاموش رہے گی لیکن آپ کو مثالی شخصیت بنا کر پیش کرنا، آپ کے نام پر جلسے جلوس نکالنا، عظیم ظلم اور سیدنا علی علیہ السّلام کی شدید مخالفت ہو گی۔
عقیدہ کے بیان کے بعد آئیں ذرا حضرت معاویہ کے چاہنے والوں سے چند سوالات کر لیئے جائیں:
نبی کریم علیہ الصلوت والسلام کے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام میں سے آپ کو صرف معاویہ ہی کیوں پسند آئے ہیں؟
سیدنا علی، شہزادگانِ علی حضرات حسن و حسین اور سیدہ کائنات خاتونِ جنت علیہم السلام کی تطہیر کا اعلان تو اللہ نے خود فرمایا اور ان کے مثالی شخصیات ہونے اور سرچشمہءِ فیض میں کوئی شک باقی نہ رہا۔
کیا جناب معاویہ کے مثالی شخصیت ہونے پر بھی کوئی دلیل ہے کسی کے پاس؟
کیا جناب معاویہ کا گھرانہ مثالی تھا؟
کیا آپ کےماں باپ مثالی تھے؟
کیا آپ کی اپنی ذات مثالی تھی؟
کیا آپ کی اسلام کیلیئے قربانیاں مثالی تھیں؟
کیا آپ کی روحانیت بڑی اعلی اور مثالی تھی ؟
کیا آپ کا طرزِ انتخاب مثالی تھا؟
کیا آپ کا طرزِ حکمرانی مثالی تھا؟
کیا آپ کا مولا علی سے جنگ کرنا مثالی تھا کیا آپ کا مولا علی پر سب کرنا مثالی عمل تھا؟
کیا آپ کا طرزِ سیاست مثالی تھا؟
اگر یہ سب نہیں تھا تو فیضان کونسا جاری ھوا؟
جہالت کی بھی کوئی تو انتہا ہوتی ھے۔
یاد رکھیں سب صحابہؓ (تقریبا سوا لاکھ) کو چھوڑ کر صرف ایک کی شانیں بیان کرنے کا صاف مطلب سیدنا علیؑ کی وفاداری سے اعلانِ بغاوت اور اعلیٰ درجے کی جہالت ھے۔
کبھی بھی ایک آدمی سے محبت اور اسی کے مخالفین سے بھی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔
آج کی تاریخ میں بغضِ اہلِ بیت علیہم السلام کی اصل پہچان یہ ہے کہ اہلِ بیت کے مخالفین کے لیئے اپنے دل میں نرم رویہ رکھنا۔۔۔
ایسی رائے سے رجوع اور توبہ لازم ہے ورنہ اہلبیت کی محبت کا کم از کم نام لینا تو چھوڑ ہی دو۔
آخر میں فرمانِ نبویﷺ سن لیجیئے:
🔴 سیدنا عمرو بن شاس اسلمیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"جس نے علیؓ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔"
(السلسلہ احادیث صحیحہ البانی حدیث نمبر:3577)
🔴 سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے گھر والوں (اہلِ بیتؑ) کے لئے بہترین ہے۔"
(السلسلہ احادیث صحیحہ البانی حدیث نمبر:3489)
🔴 سیدنا ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو شخص بھی ہم اہل بیتؑ سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا ۔“
(السلسلہ احادیث صحیحہ البانی حدیث نمبر:3611)
🔴 رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیرِ خم نامی جگہ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں،
ایک: اللہ کی کتاب قرآن
اور
دوسرے: میر ے اہلِ بیت (علیہم السّلام)
میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں۔
(صحیح مسلم- 6225 --- 6228 ، ترمذی- 3788) احقر محمد شمس الرحمن مشھدی حسینی سجادہ نشین حسین آباد شریف سربراہ تحریک حسینیت ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان
تبصرے