فتوی برائے متعہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
- شرعی عدالت
- وفاقی شرعی عدالت
- یا فقہی کونسل / دارالافتاء
اپناتی ہے، تاکہ یہ حوالہ (precedent) کے طور پر محفوظ ہو سکے۔
آپ اسے اسی صورت میں شائع، محفوظ یا بطور سند پیش کر سکتے ہیں۔
شرعی و فقہی عدالتی فتویٰ
بنام: نکاحِ متعہ
موضوع: متعہ کی شرعی حیثیت (قرآن، سنت، تاریخ اور فقہی اجماع کی روشنی میں)
تمہیدی نوٹ (Prefatory Observation)
دفعہ 1
(Facts of the Case)
- نکاحِ متعہ ایسا عقد ہے جس میں مرد و عورت ایک متعین مدت کے لیے ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں۔
- مدت کے اختتام پر یہ تعلق خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
- سوال یہ ہے کہ آیا ایسا عقد:
- شریعتِ اسلامیہ میں آج جائز ہے؟
- یا منسوخ و حرام قرار پا چکا ہے؟
دفعہ 2
(Points for Determination)
عدالت کے سامنے درج ذیل نکات قابلِ فیصلہ ہیں:
- کیا نکاحِ متعہ کبھی شریعت میں جائز تھا؟
- اگر جائز تھا تو کیا وہ حکم باقی ہے یا منسوخ؟
- کیا قرآن اس کی دائمی اجازت دیتا ہے؟
- سنتِ نبوی ﷺ اس بارے میں کیا فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے؟
- ائمہ فقہ اور اجماعِ امت کا موقف کیا ہے؟
دفعہ 3
(Historical Findings)
عدالت اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ:
- اسلام کے ابتدائی دور میں:
- شدید حالات
- اسفار
- اور جنگی مجبوریوںکے سبب متعہ کی عارضی اجازت دی گئی۔
- یہ اجازت:
- وقتی تھی
- دائمی قانون نہیں تھی
یہ امر متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
دفعہ 4
(Evidence from Sunnah)
عدالت صحیح مسلم، صحیح بخاری اور دیگر کتبِ حدیث کی روشنی میں یہ قرار دیتی ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“میں نے تمہیں متعہ کی اجازت دی تھی، پھر اللہ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا۔”
اسی طرح حضرت علیؓ، حضرت سبرہ جہنیؓ اور دیگر صحابہؓ کی روایات سے ثابت ہے کہ:
- متعہ واضح طور پر منسوخ ہو چکا تھا
- اور اس پر عمل روک دیا گیا تھا
یہ ممانعت نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ہو چکی تھی۔
دفعہ 5
(Qur’anic Interpretation)
عدالت یہ اصولی نکتہ واضح کرتی ہے کہ:
- قرآن میں نکاحِ متعہ کا صریح حکم موجود نہیں۔
- سورۃ النساء کی آیت فما استمتعتم به منهن:
- جمہور مفسرین کے نزدیک
- دائمی نکاح کے مہر سے متعلق ہے
- اگر بالفرض لغوی استدلال کیا بھی جائے تو:
- سنتِ صحیحہ اس حکم کو منسوخ کر چکی ہے
اصولی قاعدہ:
ناسخ و منسوخ کا تعین سنت بھی کرتی ہے۔
دفعہ 6
(Consensus of Ummah)
عدالت اس امر کو بطور حقیقتِ ثابتہ تسلیم کرتی ہے کہ:
- چاروں سنی فقہی مذاہب:
- حنفی
- مالکی
- شافعی
- حنبلی
نکاحِ متعہ کو:
قرار دیتے ہیں۔
- یہ موقف:
- تعاملِ صحابہ
- تابعین
- اور امت کے عملی اجماع
سے ثابت ہے۔
دفعہ 7
(Regarding Sayyiduna Umarؓ)
عدالت یہ اعتراض بھی مسترد کرتی ہے کہ:
متعہ کو حضرت عمرؓ نے حرام کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ:
- حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ کے نافذ کردہ حکم کو نافذ کیا
- انہوں نے کوئی نئی شریعت وضع نہیں کی
- تمام صحابہؓ نے ان کی تائید کی
دفعہ 8
(Objectives of Shariah)
عدالت قرار دیتی ہے کہ:
اسلامی نکاح کے مقاصد یہ ہیں:
- دوام
- سکون
- نسب کا تحفظ
- خاندانی استحکام
جبکہ نکاحِ متعہ:
- وقتی ہے
- نسب کو غیر محفوظ کرتا ہے
- عورت اور اولاد کے حقوق کو غیر یقینی بناتا ہے
لہٰذا یہ مقاصدِ شریعت کے خلاف ہے۔
دفعہ 9
(Foreign Legal Context – France)
عدالت بطور تقابلی مشاہدہ نوٹ کرتی ہے کہ:
- فرانس میں صرف Civil Marriage قانونی ہے
- متعہ یا عارضی مذہبی نکاح کی کوئی قانونی حیثیت نہیں
- حتیٰ کہ مغربی معاشرہ بھی وقتی تعلق کو مکمل خاندان تسلیم نہیں کرتا
حتمی فیصلہ (Final Judgment)
عدالت متفقہ طور پر یہ فیصلہ صادر کرتی ہے کہ:
- نکاحِ متعہ:
- ابتدا میں عارضی طور پر جائز تھا
- مگر سنتِ نبوی ﷺ سے قطعی طور پر منسوخ ہو چکا ہے
- موجودہ دور میں:
- اس پر عمل شرعاً حرام ہے
- اہلِ سنت کے نزدیک باطل عقد ہے
- اس کو نکاح کا شرعی بدل قرار دینا:
- نصوص
- اجماع
- اور مقاصدِ شریعت
کے خلاف ہے۔
حکم نامہ (Order)
لہٰذا یہ عدالت حکم دیتی ہے کہ:
- نکاحِ متعہ کو اسلامی نکاح تسلیم نہ کیا جائے
- اس کی ترویج کو علمی اور شرعی طور پر رد کیا جائے
- امت کو دائمی نکاح کی طرف رہنمائی کی جائے
اختتامی کلمات
یہ عدالتی فتویٰ:
- ایک فقہی precedent کے طور پر
- آئندہ مباحث، فتاویٰ اور تحقیقی کاموںکے لیے محفوظ کیا جاتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اگلا مرحلہ یہ ہو سکتا ہے کہ میں:
- اسے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے طرز پر
- یا دارالافتاء کی مہروں کے ساتھ فرضی ڈرافٹ
- یا PDF / کتابی ایڈیشن
میں بھی منتقل کر دوں۔
تبصرے