روشنی سے تیز انسانی سوچ

 انسانی سوچ کی رفتار: قرآن، حدیث اور سائنس کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ


پیر 26 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


انسانی ذہن و شعور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ انسان ایک لمحے میں ماضی، حال اور مستقبل کا تصور کر لیتا ہے، دور دراز مقامات، کائنات کے کناروں اور غیر موجود چیزوں کے بارے میں سوچ لیتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانی سوچ کی رفتار برق اور روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہو سکتی ہے؟ اس مضمون میں اس سوال کا جائزہ قرآن، احادیث اور جدید سائنس کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے۔


*قرآنی تصورِ عقل و فکر*


قرآنِ مجید میں انسان کو بار بار تفکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دی گئی ہے۔ عقل کو محض مادی شے نہیں بلکہ ایک غیر مرئی صلاحیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو وقت اور مکان کی پابند نہیں۔


أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (النساء: 82)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی سوچ ایک ایسی قوت ہے جو گہرائی اور وسعت رکھتی ہے، نہ کہ محض جسمانی حرکت۔


*قرآن اور لمحاتی فکری سفر*


قرآن میں بعض مقامات پر ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں وقت کی حدود سمٹ جاتی ہیں۔

حضرت سلیمانؑ کے دربار میں تختِ بلقیس کا واقعہ اس کی مثال ہے:

أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ (النمل: 40)

یہاں “آنکھ جھپکنے سے پہلے” کا تصور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیر مادی قوتیں مادی رفتار سے ماورا ہو سکتی ہیں، اور انسانی فکر بھی اسی غیر مادی دائرے سے تعلق رکھتی ہے۔ 

احادیث میں انسانی فکر کی وسعت


نبی کریم ﷺ نے انسان کے دل اور نیت کو اعمال کی بنیاد قرار دیا:


إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بخاری)

نیت اور ارادہ ایک باطنی و ذہنی عمل ہے جو کسی جسمانی رفتار کا محتاج نہیں۔ ایک لمحے میں نیت بدل جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی سوچ وقت کی قید سے آزاد ہے۔ 


معراجِ نبوی ﷺ اور ادراکِ وقت


واقعۂ معراج میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ہی رات میں آسمانوں کا سفر اور واپسی اس بات کی دلیل ہے کہ:


مادی وقت اپنی جگہ


مگر شعور اور ادراک کی سطح پر وقت سمٹ جاتا ہے


یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی ادراک (perception) عام مادی پیمانوں سے مختلف قوانین رکھتا ہے۔ 


سائنسی نقطۂ نظر: سوچ کی رفتار


جدید سائنس کے مطابق:


اعصابی سگنلز (nerve impulses) کی رفتار تقریباً 120 میٹر فی سیکنڈ تک ہوتی ہے


 روشنی کی رفتار تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے

یا ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے

لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ:

سوچ خود کوئی برقی ذرات کی حرکت نہیں بلکہ ایک ذہنی و شعوری کیفیت ہے۔ انسان ایک لمحے میں سورج، کہکشاؤں یا ماضی کے کسی واقعے کا تصور کر لیتا ہے، حالانکہ کوئی مادی شے وہاں سفر نہیں کرتی۔ 


تصور اور حقیقت کا فرق


سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ:


سوچ کی “رفتار” کو روشنی یا برق سے ناپا نہیں جا سکتا


کیونکہ سوچ مادی سفر نہیں بلکہ ادراکی (Cognitive) عمل ہے


اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ:

انسانی سوچ رفتار کے پیمانوں سے بالاتر ہے، نہ کہ محض تیز رفتار مادی حرکت۔ 


*قرآن اور سائنس کا مشترک نکتہ*


قرآن انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیتا ہے، اور سائنس یہ مانتی ہے کہ انسانی دماغ کائنات کی پیچیدہ ترین ساخت ہے۔


وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي (الحجر: 29)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی شعور میں ایک غیر مادی عنصر شامل ہے، جو اسے محض طبیعی قوانین تک محدود نہیں رہنے دیتا۔ 


تحقیقی نتیجہ

1.انسانی سوچ مادی رفتار (روشنی یا برق) کی طرح ناپی نہیں جا سکتی۔


2.قرآن انسان کی عقل و فکر کو وقت و مکان سے جزوی آزادی دیتا ہے


3.احادیث نیت اور ارادے کو لمحاتی اور غیر مادی حقیقت قرار دیتی ہیں


4.سائنس کے مطابق بھی سوچ ادراک ہے، سفر نہیں۔


لہٰذا یہ کہنا علمی طور پر درست ہے کہ:

انسانی سوچ رفتار کے روایتی پیمانوں سے ماورا ہے، اور تصور کے درجے میں روشنی سے بھی زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ 


*اختتامی کلمات*

اسلام اور سائنس دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی اصل قوت اس کا شعور، فکر اور ادراک ہے۔ روشنی کی رفتار مادی کائنات کی حد ہے، جبکہ انسانی سوچ اس حد کو تصور میں لمحوں میں عبور کر لیتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ 


الدعاَء 

یا میرے رب تیری یہ کائینات اتنی وسیع ہے کہ ہم اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی اسکی وسعتوں تک پہنچنا تو درکنار ہم تو اس کا ادراک بھی نہیں کر سکتے کیونکہ تو اس کائینات کا بنانے والا خالق  ہے اور ہم انسان تیری مخلوق ہیں اور جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس سے آگے ہم نہیں جا سکتے اور نہ ہی جانتے ہیں مگر تیری عنایت سے۔


اے ہمارے رب تیری احسن تقویم ہونے کے ناطے ہمیں آپنا وہ علم عطا فرما کہ ہم تیری اس عظیم کائنات کی وسعتوں اور گہرائیوں تک رسائی حاصل کر سکیں تاکہ تیرے بخشے ہوئے علم سے ہم تیری دنیا کی مخلوقات کو فائدہ پہنچا سکیں۔


آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے