سلیکٹڈ آرٹیکلز

 [15/02, 12:04 pm] Nazir Malik: *ماہ ِرمضان کی فضیلت*


اتوار 15 فروری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


الحمدللہ: ماہ صیام کی آمد آمد ہے

اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید میں ماہ رمضان کی فضیلت میں یوں فرمایا۔

  

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(185)


*ترجمہ:*

رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے۔) تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمارہو یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے۔اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور ( یہ آسانیاں اس لئے ہیں ) تاکہ تم (روزوں کی) تعداد پوری کرلو اور تاکہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اورتاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔


ماه صیام نزول قرآن کا مہینه۔ الله تعالی کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینه۔ صبر اور فراخی رزق کا مہینه۔ جنت میں داخل ھونے اور جھنم سے نجات کا مہینه آپہنچا ھے


ماه صیام ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے، هر قسم کی عبادات کا اک عالمی موسم بہار ھے۔


اے لوگو! اپنا وقت ضائع مت کرو ماہ رمضان کی فضیلتوں سے فائدہ اٹھا لو شاید یہی آپ کی زندگی کا آخری رمضان ھو۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیئے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میں ﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔‘‘(رواہ نسائی اور ابن ابی شیبہ)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرا جمعہ پڑھنا اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے روزے رکھنا، ان کے درمیان واقع ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں، جب تک کہ انسان گناہ کبیرہ نہ کرے۔‘‘(رواہ مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ)


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو (زنجیروں میں) جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟‘‘

(رواہ ابن ابی شیبہ اور طبرانی)


حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منبر کے پاس آجاؤ، ہم آ گئے۔ جب ایک درجہ چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘ جب دوسرا چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘ اور جب تیسرا چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘۔ جب اترے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! ہم نے آج آپ سے ایک ایسی چیز سنی ہے جو پہلے نہیں سنا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور کہاجسے رمضان ملا لیکن اسے بخشا نہ گیا وہ بدقسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین۔ جب میں دوسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا: جس کے سامنے آپ کا نام لیا گیا اور اس نے درود نہ بھیجا وہ بھی بد قسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین۔ جب میں تیسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا: جس شخص کی زندگی میں اس کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک بوڑھا ہوگیا اور انہوں نے اس کی خدمت و اِطاعت کر کے اپنے آپ کو جنت میں داخل نہ کیا، وہ بھی بدقسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین۔‘‘(رواہ حاکم، ابن حبان، ابن خزیمہ، بیہقی اور ابن ابی شیبہ)


حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہو گیا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض کیا ہے اور راتوں کے قیام کو نفل۔ جو شخص اس میں قرب الٰہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے اسے دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ اور صبر کا ثواب جنت ہی ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کی افطاری کراتا ہے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نیز اسے اس (روزہ دار) کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک روزہ افطار کرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ثواب اللہ تعالیٰ ایک کھجور کھلانے یا پانی پلانے یا دودھ کا ایک گھونٹ پلا کر افطاری کرانے والے کو بھی دے دیتا ہے۔ اس مہینے کا ابتدائی حصہ رحمت ہے۔ درمیانہ حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے ملازم پر تخفیف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے۔ اس میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو۔ دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے ان میں سے ایک لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو۔ جو شخص روزہ دار کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔‘‘

(رواہ ابن خزیمہ اور بیہقی)


حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیں جو اس سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے۔ پہلا یہ ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو ﷲ تعالیٰ ان کی طرف نظرِ التفات فرماتا ہے اور جس پر اُس کی نظرِ رحمت پڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ دوسرا یہ ہے کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو ﷲ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ فرشتے ہر دن اور ہر رات ان کے لیے بخشش کی دعاء کرتے رہتے ہیں۔ چوتھا یہ ہے کہ ﷲ اپنی جنت کو حکم دیتا ہے کہ میرے بندوں کے لیے تیاری کرلے اور مزین ہو جا، تاکہ وہ دنیا کی تھکاوٹ سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں۔ پانچواں یہ ہے کہ جب (رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا یہ شبِ قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے؟‘‘ (رواہ بیہقی)


الدعاء

یا اللہ تعالی ہمیں رمضان کریم سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما، روزہ رکھنے میں ہمارے لۓ آسانیاں پیدا فرما، ہمیں نیک لوگوں کے زمرے میں شامل فرما۔ اے رب اس رمضان میں ہماری کوئی خطا معاف کۓ بغیر نہ چھوڑنا۔

آمین یا رحمن، اے رحیم، یا رب العالمین۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:19 pm] Nazir Malik: نماز میں رفع الیدین سنت مؤکدہ ہے اور منسوخ نہیں۔


ہفتہ 14 فروری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


سوال:

کیا نبی کریم کے زمانے میں منافقین نماز کے دوران اپنے بت بغلوں میں اور اپنے  ٹانگوں کے بیچ میں رکھ لیتے تھے اور جب آپ نے نماز میں نمازیوں کو ٹانگیں کھولنے اور رفع الیدین کرنے کا حکم دیا تو منافقین کے بت بغلوں سے گر جاتے تھے

اور بعد میں جب رفع الیدین کی ضرورت نہ رہی تو کیا آپ نے رفع الیدین کے حکم کو منسوخ کر دیا تھا؟

کتب احادیث، تاریخ اور آثار صحابہ سے ماخوذ تحقیقی مضمون:

مزید برآں یہ بھی واضع فرما دیں کہ کیا اب بھی رفع الیدین کیا جا سکتا ہے اور نماز میں پاوں کو کھولا جا سکتا ہے؟


محترم، آپ نے نماز میں “رفع الیدین” (ہاتھ اٹھانے) کے بارے میں بہت اہم سوال پوچھا خاص طور پر یہ منطق جو کچھ لوگ مشہور کرتے ہیں(جیسے کہ بتوں کی وجہ سے رفع الیدین شروع ہوا، پھر منسوخ ہوا) اس کا جواب بالکل تحقیق اور معتبر احادیث و آثار کی روشنی میں درج ذیل ہے👇


۱۔ کیا “منافقین بت اپنے بغلوں میں نماز میں لے آتے تھے اور اسی وجہ سے رفع الیدین شروع ہوا؟

👉 اس بارے میں کوئی صحیح یا مستند روایت قطعاً موجود نہیں ہے۔

یہ جو روایات گردش کرتی ہیں کہ “ابتداء میں لوگ بغلوں میں بت یا چیزیں چھپا کر نماز میں لاتے تھے، اس لئے رفع الیدین کیا گیا تاکہ وہ گر جائیں” 


🔹 اس کا کوئی سند شدہ بیان احادیث کی کتب میں موجود نہیں ہے۔


🔹 یہ صرف لوک کا قصہ یا افسانہ ہے اور اسے علماء نے رد فرمایا ہے۔ 

توحید ڈاٹ کام


➡️ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے دعویٰ کی کوئی سند نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی معتبر تاریخی حوالہ موجود ہے۔ � توحید ڈاٹ کام


۲۔ کیا رسول ﷺ نے رفع الیدین منسوخ کیا تھا؟


یہ موضوع علماء کے درمیان اختلافِ رائے کا باعث رہا ہے، لیکن یہاں دو اہم نکات ہیں:

✅ (أ) صحیح حدیث اور سلف کا عمل

صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز میں چند مخصوص مقامات پر اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے:


✔ جب نماز شروع ہوتی تھی (تکبیرِ تحریمہ)

✔ رکوع کے لئے جاتے ہوئے

✔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے

✔ (بعض روایات میں) تیسری رکعت میں کھڑے ہونے پر بھی �


اس روایت کے مطابق صحابہ کرام بھی رفع الیدین کرتے تھے۔

امام بخاری نے اس موضوع پر ایک الگ کتبہ (جُزْء فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ جس میں 120 جید احایث رفع الیدین کے حق میں لکھی ہیں) اور یہ بتاتے ہیں کہ صحابہ کا عمل اسی کے مطابق تھا۔ �


📌 امام نَوَوِي کے مطابق ایک صحابی الْحَسَن رضی اللہ عنہ نے کہا:

“صحابہ نے رفع الیدین کا عمل کیا ہے اور کسی ایک کا انکار ثابت نہیں ہے۔” �


✅ (ب) کچھ روایات اور اختلاف فقهاء

بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ صرف آغازِ نماز پر رفع الیدین کرتے تھے اور بار بار نہیں۔

احناف اور بعض تابعین اس کو دلیل بنا کر کہتے ہیں کہ شاید صرف ابتداء میں رفع الیدین رہ گیا تھا۔ �

islamicacademy.org +1

لیکن معتبر علماء (شافعی، حنبلی، بہت سے اہل حدیث) نے فرمایا:

✔ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رفع الیدین نماز کے چند مخصوص مقامات پر نبی ﷺ کا معمول تھا۔ �

✔ ان مسانید کو یکسر منسوخ ثابت کرنا صحیح نہیں۔ �

Islam-QA

📌 اسلام ویب (Dar al-Ifta) کے مطابق:

“نبی ﷺ نے کبھی رفع الیدین کو محبتاً ترک نہیں فرمایا، اور نہ ہی اسے منسوخ ثابت کرنے کی کوئی مستند دلیل ہے۔” �

Islamweb

۳۔کیا رفع الیدین منسوخ ہوا؟

🔹 اصل اور صحیح رائے یہ ہے کہ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا۔ بلکہ

✔ یہ سنت (مستحب) ہے جو مختلف مقامات پر کیا جاتا تھا۔ �

✔ جو روایتیں انکار کرتی ہیں، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، لیکن ان کو ضعیف یا متضاد قرار دیا گیا اور اصل حدیث فوقیت رکھتی ہے۔ �

Islam-QA

لہذا

➡️ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا

➡️ ایسا نہیں کہ کسی خبر سے ثابت ہو کہ نبی ﷺ نے اسے ترک فرمایا۔


۴۔ کیا آج بھی نماز میں رفع الیدین کیا جا سکتا ہے؟

ہاں۔۔ رفع الیدین کرنا واجب نہیں، مگر مستحب اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔

🔹 علمائے اہل حدیث اور شافعی، حنبلی فقہاء کے نزدیک:

✔ نماز میں مخصوص مقامات پر رفع الیدین کرنا سنت مؤکد ہے۔ �

Islam-QA

🔹 احناف کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ:

✔ ہاتھ اٹھانا صرف تکبیرِ تحریمہ (نماز کے آغاز میں) میں لازم ہے۔ �1wxx1

Islam-QA

دونوں میں اختلاف ہے، مگر ہر ایک کی نماز صحیح ہے اور رفع الیدین کرنا بحثِ خلاف سنت نہیں۔ �

Islam-QA

 ۵۔ خلاصہ (تحقیق شدہ)

سوال


جواب

کیا منافقین بغلوں میں بت لے آتے تھے؟

نہیں۔ یہ افسانہ ہے، کوئی سند نہیں۔ �

توحید ڈاٹ کام


9-کیا رفع الیدین منسوخ ہوا تھا؟

نہیں۔ منسوخ نہیں ہوا۔ �

Islam-QA

کیا نبی ﷺ نے اسے ترک فرمایا؟

کوئی صحیح دلیل نہیں۔ �

Islamweb

کیا امروز اٹھایا جا سکتا ہے؟

جی ہاں۔ مستحب ہے اور سنت ہے۔ �

Islam-QA

📌 نتیجہ

✨ رفع الیدین سنتِ نبوی ﷺ ہے جو مخصوص مقامات پر کیا جاتا ہے (شروع، رکوع، رکوع سے اٹھنے، بعض روایات میں تشہد کے بعد بھی)۔ �


✨ اس کے متعلق جو مبہم روایات ہیں ان کو پوری حدیث اور سلف کے عمل کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

✨ جو بات مشہور ہے کہ “ابتداء میں کیا جاتا تھا پھر منسوخ ہو گیا” — وہ مستند نہیں۔ 

لیکن نبی کریم کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اسے سو شہیدوں کا ثواب۔


رفع الیدین کے مقامات

اصلی حدیث میں جو مقامات آئے ہیں:


1.نماز کے آغاز میں (تکبیرِ تحریمہ)

2.رکوع کے لیے جاتے ہوئے

3.رکوع سے اٹھتے وقت 

یہ حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، اور یہی وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں علماء نے بحث کی ہے۔ 


 ۱۰۔ خلاصہ (قابلِ عام فہم)


*سوال جواب*

کیا رفع الیدین رسول ﷺ کی سنت ہے؟ جی ہاں، ثابت و مستند روایت سے ثابت ہے۔ 


کیا اسے منسوخ کیا گیا؟ نہیں، منسوخ نہیں ہوا۔ 


کیا نبی ﷺ نے ترک فرمایا؟ کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی۔ 


کیا آج بھی اٹھایا جا سکتا ہے؟ جی ہاں، سنتِ مؤکدہ ہے۔ 

کیا نماز بغیر اٹھائے بھی صحیح؟ ہاں، پر سنت کی ثواب کم ہو جائے گی۔ 


حوف آخر:

رفع الیدین ایک مضبوط سنتِ نبوی ﷺ ہے جو مؤکد اور فضیلت والی سنت ہے، اور اسے نماز میں اپنانا اپنے نماز کو نبی ﷺ کے طریقے کے قریب لانے کا بہترین طریقہ ہے۔ 


پاکستان میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفع الیدین کرنے کی سنت فوت ہوتی جا رہی ہے۔ اس سنت کو اپنے جذبہ ایمانی سے زندہ کیجئے اور  سو شہیدوں کا ثواب پائیں۔


اسلام میں سنت کو زندہ کرنا اور اس پر عمل کرنا بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:

“جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا، اسے سو شہیدوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔”

یہ حدیث بخاری و مسلم میں روایت ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنتوں کو اپنانا اور دوسروں تک پہنچانا نہ صرف فرد کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ امت میں دین کی بقا، روحانیت کی تجدید کا سبب بھی بنتا ہے۔


الدعاَء 

یا اللہ تعالی ہمیں تیرے احکام پر تیرے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: بغیر حساب جنت میں لیجانے والے وظائف


جمعرات 30 اکتوبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


بغیر حساب کے جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کی اصل پہچان یہ ہے کہ ان کا دل صرف اللہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔


ایک عملی روزانہ کا معمول (وظیفہ) ہے جو آپ کے دل میں توکل، اخلاص اور اللہ سے تعلق مضبوط کرے گا۔ اگر آپ اسے عادت بنا لیں تو ان شاء اللہ آپ ان خوش نصیبوں کے قریب ہو سکتے ہیں جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔


*روزانہ کا معمول برائے توکل و اخلاص*


1- صبح کے اذکار (نمازِ فجر کے بعد) آیت الکرسی (1 مرتبہ)


3' سورہ اخلاص، فلق، الناس تین مرتبہ)


یہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں (ہاتھ پر پھونک کر پورے جسم پر پھیر لیں)۔


"حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ" (7 مرتبہ)


2.نماز کے بعد کا ذکر

ہر نماز کے بعد:

33 بار سبحان اللہ

33 بار الحمدللہ

34 بار اللہ اکبر


آخر میں: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير


یہ ذکر انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے اور دل میں توکل مضبوط کرتا ہے۔


3- مشکل یا پریشانی کے وقت کی دعاء 


جب بھی کوئی مسئلہ، بیماری یا پریشانی ہو:

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" (کثرت سے پڑھیں)


یہ صحابہ کا ہتھیار تھا، اللہ پر مکمل بھروسے کی نشانی ہے۔


4- رات کو سونے سے پہلے

سورہ ملک (تلاوت کریں)

سورہ اخلاص، فلق، الناس (تین مرتبہ) آیت الکرسی


اپنے دل میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے سوئیں کہ میرا رب ہی محافظ ہے۔


5.عادتیں

$- روزانہ کم از کم ایک صدقہ (چاہے تھوڑا ہو) کریں۔


$- لوگوں سے بلا وجہ سوال نہ کریں۔

$-زیادہ تر دعائیں اپنے دل کی زبان میں اللہ سے براہِ راست کریں۔


*خلاصہ*

$- یہ معمول آپ کے دل کو:

شرک و اوہام سے پاک کرے گا،

$- توکل اور اخلاص کو مضبوط بنائے گا،

$- اور ان خوش نصیبوں کے قریب لے آئے گا جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔


الدعاء 

یا حئی یا قیوم برحمتک استغیث 

Please visit us at https://engineernazirmalik.blogspot.com 

Cell: 0092300860 4333

بغیر حساب جنت میں لیجانے والے وظائف

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: کمنٹس اون عمران خان پرفارمنس


یا عمران خان ہم نے تجھے ووٹ دیا اور کامیاب کیا مگر آپ کی پرفارمنس نے ہمیں پشیماں کیا کیونکہ تم حکومت کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے

کہیں توشہ خانہ لوٹا، کہیں عقیدہ مشرکانہ ظاہر کیا، کہیں بد اخلاق ثابت ہوئے اور کہیں بے اصول ثابت ہوئے مگر اب ہم بار بار تجھ سے امیدیں نہیں لگا سکتے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ مومن کو ایک سوراخ دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔

 اگر دوبارہ ڈسے گئے تو پھر ہم مومن ہی نہیں۔


برادرم اب ہم پر امید نہ رکھیں 


انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

ایک سینیئر  سٹیزن

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: خاندانی نظام اور سیڈا معاہدہ


مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سعودی وزیر خارجہ محترم عادل الجبیر نے ایک اعلامیے میں خاندانی نظام کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدہ سیڈا (CEDAW) کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں گھریلو تشدد کے خاتمے کے عنوان سے منظور کیا جانے والا قانون بھی سیڈا کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے جسے دینی حلقوں نے خلافِ شریعت قرار دے کر مسترد کیا ہے۔ اس تناظر میں مولانا حافظ فضل الہادی (نائب خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ) نے مذکورہ اعلامیہ کا ترجمہ کیا ہے جو پیشِ خدمت ہے۔

’’سعودی عرب نے (سیڈا) CEDAW سے متعلق اقوام متحدہ کی دستاویز کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا ہے۔ سعودی عرب اسلامی شریعت کی دفعات کو کافی سمجھتے ہوئے سیڈا کے عدمِ تعمیل کا اعلان کرتا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ عرب ممالک نے سیڈا سے اتفاق کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو سیڈا معاہدے سے لاعلم ہیں، اس کی وضاحت یہ ہے:

سیڈا کہتا ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اور قرآن کہتا ہے ’’وليس الذكر کالانثٰی‘‘ (اور مرد عورت کی طرح نہیں ہے۔)

سیڈا کا فیصلہ ہے کہ مرد کو تعدد ازدواج کی اجازت نہیں ہے۔ اور قرآن کا اعلان ہے ’’فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنٰی وثلاث ورباع‘‘ (تو پھر جتنی عورتوں سے چاہو نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار۔)

سیڈا کا یہ بھی فیصلہ ہے کہ بچوں کے نام ان کی ماؤں کے نام پر رکھے جائیں۔ اور قرآن کہتا ہے ’’ادعوھم لآباءھم‘‘ (تم ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو۔)

سیڈا کا یہ بھی کہنا ہے کہ عورت کی عدت نہیں۔ اور قرآن واضح کرتا ہے ’’والمطلقات يتربصن بانفسھن ثلاثة قروء‘‘ (طلاق شدہ عورتیں خود تین حیض آنے تک انتظار کرتی رہیں۔)

سیڈا کا یہ بھی فیصلہ ہے کہ مرد کو عورت پر سرپرستی حاصل نہیں ہے اور باپ کو اپنی بیٹیوں کی سرپرستی نہیں۔ اور قرآن کہتا ہے ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ (مرد عورتوں کے نگران ہیں۔)

سیڈا کا کہنا ہے کہ مرد اور عورت کی میراث ایک ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’للذكر مثل حظ الانثيين‘‘ (مرد کا دو عورتوں کے برابر حصہ ہوگا۔)

سیڈا کا کہنا ہے کہ ایک مرد اپنے جیسے مرد سے شادی کر سکتا ہے، ایک عورت اپنے جیسی عورت سے شادی کر سکتی ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’اتاتون الذكران من العالمين‘‘ (جہان کے سارے لوگوں میں سے تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو۔)

سیڈا خواتین کو اسقاطِ حمل کا حق دیتا ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’ولا تقتلوا اولادكم‘‘ (اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو)۔

سیڈا میاں بیوی دونوں کے لیے شادی سے باہر جنسی تعلقات کو جرم نہیں قرار دیتا۔ اور قرآن کہتا ہے ’’ولا تقربوا الزنا انہ كان فاحشۃ وساء سبيلا‘‘ (زنا کے قریب نہ جاؤ، کیونکہ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے)۔

سیڈا کا یہ بھی کہنا ہے کہ عورت جس سے چاہے پابند، جب چاہے جدا، اور جب چاہے دوبارہ جڑ جائے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’محصنات غير مسافحات ولا متخذات أخدان‘‘ (باقاعدہ شادی کرنے والیاں ہوں، نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں۔)

سیڈا کہتا ہے کہ شادی کی عمر اٹھارہ سال کے بعد ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’وابتلوا اليتامٰی حتٰی اذا بلغوا النكاح‘‘ (اور یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں)

جو شخص سیڈا (CEDAW) کے ساتھ کھڑا ہونا اور اس کا دفاع کرنا چاہتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ تعالٰی کا نافرمان ہے اور اس کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت کا انکار کرتا ہے۔ اس کی سرگرمی دراصل قدامت پسند معاشرے کو تحلیل کرنے کے لیے تندہی سے کام کرنا ہے اور اسے ہوس و بگاڑ کی طرف دھکیلنے کے لیے کام کرنا ہے۔‘‘

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: صدقہ دینے سے مال گھٹتا نہیں۔


پیر 17 نومبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


صدقہ دینے سے مال کھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے بڑھتا ہے بڑھتا ہے


یقینی طور پر، صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں ہوتی، بلکہ اللہ پاک اس میں برکت، رحمت اور اضافہ فرماتا ہے۔ یہ مال کی تعداد یا کیفیت کے لحاظ سے ہو سکتا ہے، جیسے رزق کے دروازے کھلنا یا مال میں برکت کا ہونا۔ یہ صرف زکوٰۃ جیسی فرض صدقات تک محدود نہیں، بلکہ مسکراہٹ بھی صدقہ ہے، اور صدقہ جاریہ (جیسے کنواں کھدوانا) میں بھی مرنے کے بعد ثواب ملتا ہے۔

 

صدقہ کی برکات

مال میں برکت: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالتا ہے۔

گناہوں کی معافی: صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔


مشکلات کا خاتمہ: صدقہ دینے سے مصیبتیں اور مشکلات دور ہوتی ہیں۔


اللہ کی رضا: صدقہ کرنے سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔


بڑھتا ہے: صدقہ دینے سے مال کی زیادتی ہوتی ہے، یہ زیادتی رزق میں اضافے یا مال میں برکت کے ذریعے ہوتی ہے۔ 


صدقہ کی اقسام:

فرض صدقہ: جیسے زکوٰۃ جو صاحبِ نصاب پر فرض ہے۔


نفلی صدقہ: کسی کی مدد کرنا، مسکرانا وغیرہ۔


صدقہ جاریہ: وہ نیک عمل جس کا اجر مرنے کے بعد بھی جاری رہے، جیسے مدرسہ بنانا، کنواں کھدوانا وغیرہ


عام روزمرہ کی زندگی میں یہ چالیس صدقے بغیر اضافی خرچ کرنے سے انسان اجر و ثواب کا مستحق ہو جاتا ہے۔

 

 1. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]


2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]


3. بہرے سے ذرا اونچی آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]


4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے، صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]


5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]


6. راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


7. مدد کے لیے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]


8. اپنے ڈول (برتن) سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]


9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]


10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]


17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]


18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]


19. کسی آدمی کو سواری پر بٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]


20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]


21. نماز کے لیے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]


22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]


23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]


24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]


25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]


26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]


27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]


28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]


29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434] 


30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434] 


31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]


32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]


33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لیے صدقہ ہے۔ [مسلم:  1553]


34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367] 


35. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]


36. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]


37. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]


38. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]


39. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]


40. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]


الدعاء 

یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کے عقائد کا قرآن، سنت اور ائمہ اہلِ سنت کی روشنی میں تقابلی جائزہ*


 ہفتہ 22 نومبر 2025

تحقیق و تحریر؛

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


(تفصیلی حوالہ جات کے ساتھ تحقیقی مقالہ)

مقدمہ

برصغیر کے نامور فقیہ و عالم مولانا احمد رضا خان بریلوی (م 1921ء) نے متعدد فقہی، کلامی اور روحانی موضوعات پر تصانیف چھوڑیں۔ ان کے ماننے والوں نے ’’اہلِ سنت بریلوی‘‘ کے نام سے ایک مکتب ترتیب دیا۔

ان کے بعض عقائد پر محدثین و فقہاء نے اتفاق کیا، اور بعض پر شدید اختلاف۔


ذیل میں قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ، اقوالِ ائمہ، اور احمد رضا خان کے اپنے متون کی روشنی میں تقابل پیش کیا جاتا ہے۔


1) عقیدۂ حاضر و ناظر (رسول ﷺ کا امت پر ادراک)


1.1 بریلوی مؤقف

رسول اللہ ﷺ اللہ کی عطا سے اپنی امت کے احوال پر نظر رکھتے ہیں اور دور و نزدیک صلاۃ و سلام کو سنتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 30، ص 516)


1.2 دلائلِ بریلوی

1) قرآن


> “عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ أَحَدًا ۝ إِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ”

(الجن 26–27)


استدلال:

اللہ تعالیٰ رسولوں کو غیب کا وہ حصہ دکھاتا ہے جو وہ چاہے، لہٰذا نبی ﷺ کو امت کی کچھ خبریں عطا ہو سکتی ہیں۔


2) حدیث

الف) درود پہنچایا جانا

 “إن لله ملائكةً سيّاحين يبلغوني عن أمتي السلام”

(نسائی، عمل الیوم واللیلہ، رقم 1286)


فرشتے سلام پہنچاتے ہیں → جو سماع اور ادراک پر دلیل ہے۔

ب) قبر میں ردّ سلام

“ما من أحدٍ يسلّم عليّ إلا ردّ الله عليّ روحي حتى أرد عليه السلام” (ابوداؤد، 2041)


3) احوالِ امت کا علم

صحیح بخاری میں نبی ﷺ نے فرمایا “عرضت عليّ الأمم”

(بخاری 5705)


امتوں کا حال دکھایا گیا یہ ’’عطائی‘‘ علمِ غیب کی دلیل ہے۔


1.3 مخالفین کا مؤقف


1) قرآن

 “قُلْ لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا”(الاعراف 188)


 “قُلْ لَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ”(الانعام 50)


یہ آیات مطلق غیب کی نفی کرتی ہیں۔


2) حدیث

“ولا أعلم ما يُفعل بي ولابكم” (بخاری 6605)


1.4 بریلوی جواب۔

وہ ’’غیبِ ذاتی‘‘ کی نفی اور ’’غیبِ عطائی‘‘ کے اثبات کے قائل ہیں۔

(فتاویٰ رضویہ، 30/516)


تمام انبیاء کو بعض غیبی علوم دیے گئے، لہٰذا نبی ﷺ کو وسیع غیبی علوم دیے گئے۔


1.5 علمی تجزیہ (ائمہ کی روشنی میں)


امام طبری

 “غیب اللہ کا خاصہ ہے اور رسل کو وہی بتاتا ہے جو چاہے(تفسیر طبری 23/95)


امام ابن کثیر

“نبی ﷺ کو بعض غیب بتائے گئے، مکمل غیب نہیں”

(تفسیر ابن کثیر 7/158)


امام نووی

“علمِ غیب صرف اللہ کے لیے، انبیاء کو ’’بعض‘‘ عطا ہوتا ہے”

(شرح مسلم، 2/177)


نتیجہ:

اگر عقیدہ ’’عطائی علم‘‘ کی حد میں ہو → اہلِ سنت کے مطابق

اگر اسے ’’کلی علم‘‘ یا ’’ہمہ وقت نگرانی‘‘ سمجھ لیا جائے → غلو و بدعت ہے


2) توسل و استمداد بالاولیاء

2.1 بریلوی مؤقف


نبی ﷺ اور اولیاء کا وسیلہ جائز ہے؛ براہِ راست ’’مدد‘‘ بھی ایک ’’مجازی‘‘ نسبت ہے۔

(حسام الحرمین ص 11)


2.2 دلائلِ بریلوی

1) قرآن

 “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ”(مائدہ 35)


2) حدیثِ نابینا (صحابی ضریر)

نبی ﷺ نے نابینا صحابی کو دعاء سکھائی:

“اللهم إني أسألك وأتوسل إليك بنبيك محمد…”(ترمذی 3578)

استدلال: نبی ﷺ کا وسیلہ مشروع ہے۔


3) آثارِ صحابہ

عمرؓ کا وسیلہ عباسؓ سے لینا: “اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا…”

(بخاری 1010)


2.3 مخالفین کا موقف


1) قرآن “ولا تدع من دون الله ما لا ينفعك ولا يضرّك”(یونس 106)


فوت شدگان کو پکارنا ’’دعاء غیر اللہ‘‘ ہے۔


2) ابن تیمیہ

“اموات سے مدد مانگنا بدعت و ممنوع ہے۔”(الرد علی البکری1/99)


3) امام ابن حجر

 “فوت شدہ کو پکارنا شرعاً محل نظر ہے۔”(فتح الباری 2/495)


2.4 بریلوی جواب

یہ ’’مدد‘‘ حقیقت میں اللہ سے ہوتی ہے، ’’یا غوث‘‘ مجاز ہے۔


صحابہ نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد عباسؓ کا وسیلہ لیا → وسیلہ مشروع ہے۔


2.5 علمی نتیجہ

✔ وسیلہ ’’بالذات اللہ‘‘ — متفقہ

✔ وسیلہ ’’بالأنبیاء زندہ‘‘ متفقہ

✔ وسیلہ ’’اموات سے دعاء طلب کرنا‘‘ — محل نزاع

✔ اموات سے براہِ راست ’’مدد‘‘ → اکابر اہلِ حدیث و احناف کے نزدیک ممنوع


3) نبی ﷺ نور ہیں یا بشر؟

3.1 بریلوی عقیدہ

رسول ﷺ ’’نور و بشر‘‘ دونوں ہیں؛ اصل نور، صورت بشر۔

(جاء الحق، ص 14)


3.2 بریلوی دلائل

1) قرآن

 “قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُوْرٌ وَّكِتَابٌ مُّبِيْنٌ”(مائدہ 15)

کثیر مفسرین نے نور سے ’’رسول‘‘ مراد لیا۔


2) احادیث

“أول ما خلق الله نوري” (موضوع ہے مگر بریلوی علماء اس سے استدلال نہیں کرتے)


صحیح حدیث: نبی ﷺ نے فرمایا:

“إنما أنا رحمة مهدأة”(حاکم)


3.3 مخالفین کا مؤقف

قرآن میں فرماتے ہیں: “قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ” (الکہف 110)


’’نور‘‘ سے مراد ہدایت ہے، جسمانی نور نہیں۔

(تفسیر طبری، ابن کثیر، قرطبی)


3.4 علمی نتیجہ

ائمہ کا اتفاق:

نبی ﷺ کامل بشر

’’نور‘‘ ہدایت کے معنی میں

حقیقی نورانی مخلوق (فرشتہ جیسی) کہنا درست نہیں


بریلوی تعبیر ’’روحانی نورانیت‘‘ تک محدود ہو تو اہلِ سنت میں داخل


4) میلاد النبی ﷺ

4.1 بریلوی مؤقف

میلاد جائز؛ اگر سیرت، ذکر، درود تک محدود رہیں۔(الاملاء، ص 23)


دلائل

حدیث

 نبی ﷺ پیر کا روزہ رکھتے تھے:

“ذلك يوم ولدت فيه”(مسلم1162 پاکستان میں خالص دین کی تبلیغ ممکن نہیں)


سلف سے آثار

امام ابن جوزی نے ’’مولد‘‘ پر کتاب لکھی (الوفا بأحوال المصطفی)


امام سیوطی نے میلاد کے جواز پر رسالہ لکھا (حسن المقصد)


مخالفت 

صحابہ نے میلاد نہیں منایا

امام شاطبی:

“نئ عبادت بدعت ہے

(الاعتصام 1/37)


علمی نتیجہ

میلاد کا ’’اصل‘‘ = سیرت بیان → جائز

موجودہ ’’رسومات‘‘ → بدعت


معتدل میلاد اہلِ سنت کے اصولوں میں قابل قبول


5) قبور، نذر، عرس اور تبرک

بریلوی مؤقف

قبر کی زیارت سنت

اولیاء سے تبرک جائز


نذر ’’باللہ‘‘ ہوتی ہے، ولی کے نام پر نہیں

عرس = ان کی تعلیمات کا ذکر


دلائل


1) قبر کی زیارت


> “كنت نهيتكم عن زيارة القبور ألا فزوروها”(مسلم 977)


2) تبرک

صحابہ نبی ﷺ کے بال، کپڑے، وضو کا پانی تبرکاً لیتے تھے

(بخاری 170، مسلم 2325)


مخالفت

1) نذر

ابن تیمیہ:

> “نذر لغیر اللہ حرام و شرک ہے”

(الفتاویٰ 31/316)


2) قبروں پر چراغاں / چادریں

احادیث میں سخت ممانعت(مسلم 969)


علمی نتیجہ

✔ قبور → زیارت سنت

✔ تبرک → جائز (اگر شرک نہ ہو)

✘ نذر غیر اللہ → ناجائز

✘ عرس کی رسومات → بدعت


کلّی خلاصہ

مسئلہ بریلوی مؤقف اہلِ سنت


 محققین کا نتیجہ

حاضر و ناظر عطائی علم اصولاً درست، غلو ناجائز

 توسل جائز، استمداد بھی مجازاً وسیلہ جائز، استمداد اموات جائز نہیں

نور و بشر نور و بشر بشر حقیقی، نور مجازی

میلاد جائز علمی مجلس جائز، رسومات بدعت

قبور، نذر تبرک جائز قبروں پر رسومات ناجائز


الدعاء 

یا اللہ تعالی مجھے دین کا صحیح عقیدے کی سمجھ عطا فرما اور شرک و بدعات اور خرافات سے محفوظ فرما۔

بے شک ہدایت تیری ہی طرف سے ہے مجھے کامل ہدایت عطا فرما۔


آمین یا رب العالمین 


احقر العباد

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Cell: 0092300860 4333 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: مومنین اور مومنات کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں جنت کے انعامات۔


ہفتہ 29 نومبر 2025

تحریر و تحقیق:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


ذیل میں حوروں، جنتی عورتوں اور جنت میں مرد و عورت کی عمروں کے متعلق ایک تفصیلی، مدلل اور مستند مضمون قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کیا جا رہا ہے۔ تمام دلائل صحیح احادیث اور معتبر تفاسیر سے لیے گئے ہیں۔


حوریں کون ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیقی و مدلل مضمون۔


جنت کی نعمتیں انسانی عقل و تخیل سے ماورا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کا جو نقشہ قرآن و حدیث میں بیان فرمایا ہے، اس میں حور العین کا بھی تذکرہ ہے، جو جنتی نعمتوں کا حصہ ہیں۔ اس مضمون میں یہ بیان کیا جائے گا:


**❖ حوریں کون ہیں؟


❖ انہیں کس سے بیاہا جائے گا؟

❖ کیا ان کی عمریں متعین ہیں؟

❖ جنتی مردوں اور عورتوں کی عمریں کیا ہوں گی؟

❖ کیا جنتی خواتین (دنیا کی عورتیں) حوروں سے افضل ہوں گی؟**


حصہ اوّل: حوریں کون ہیں؟


 قرآن مجید میں ذکر ہے اور

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


1- ﴿وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ﴾

“ہم انہیں بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا جوڑ دیں گے”

— سورہ دخان: 54


2- ﴿فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾

“وہ پاکیزہ عورتیں صرف اپنے شوہروں پر نگاہ رکھنے والی ہوں گی” سورہ الرحمن: 56


3- كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ

“گویا وہ موتیوں اور یاقوت کی مانند ہوں گی”

سورہ الرحمن: 58


 حور دراصل کیا ہیں؟

✔ خاص طور پر جنت کے لیے پیدا کی گئی پاکیزہ مخلوق

✔ نہ دنیا کی عورت ہیں نہ جنات میں سے

✔ بے عیب، پاک، ہمیشہ جوان

✔ نہ بیمار ہوتی ہیں نہ بڑھاپا آتا ہے

✔ حیض، نفاس، تھکن اور گندگی نہیں ہوتی


حصہ دوم: حوریں کس سے بیاہی جائیں گی؟


قرآن کی صریح دلیل

﴿وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ﴾

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنتی مردوں کو ہم حور عین سے نکاح دے دیں گے۔


*احادیث کے دلائل*


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

1- "مومن کو جنت میں دو بیویاں ملیں گی"

(صحیح بخاری و مسلم)


2- "ہر مومن کے لیے دو حوریں ہوں گی" سنن ترمذی


3 بعض کے لیے کم از کم 72 حوریں ہوں گی

( مسند احمد، سنن ابن ماجہ)


کیا دنیا کی بیویاں بھی شوہر کے ساتھ ہوں گی؟


✔ بالکل!

دنیا کی نیک بیویاں اپنے شوہروں کے ساتھ ہوں گی۔

قرآن مجید:

﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ﴾

“جنت میں داخل ہوں گے (مومن) اور ان کی نیک بیویاں بھی”سورہ رعد: 23


دنیا کی عورتیں حوروں سے بہتر ہوں گی۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"دنیا کی نیک عورتیں حوروں سے زیادہ حسین ہوں گی"

(حادی الارواح)


کیوں؟

✔ دنیا کی عورتوں نے ایمان، عبادت اور صبر کیا

✔ آزمائشوں سے گزریں

✔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“تم جو چاہو گے ملے گا، جو چاہو گے دیا جائے گا” سورہ فصلت: 31


حصہ سوم: کیا حوروں کی عمریں کٹی ہوئی ہوں گی؟


❌ نہیں!

حوریں پیدائشی طور پر جوان پیدا ہوں گی، بڑھاپا نہیں آئے گا، نہ وقت گزرنے سے عمر بڑھے گی۔


احادیث میں آیا ہے:

"حوریں ستر لباس پہنے ہوں گی مگر ان کا حسن ان کے لباس کے پار نظر آئے گا" (ترمذی)


لق و دھان پن، بڑھاپا، عمر رسیدگی — سب کا جنت میں وجود ہی نہیں۔


حصہ چہارم: جنتی مردوں کی عمر کتنی ہوگی؟


صحیح حدیث:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جنت میں داخل ہونے والوں کی عمریں 33 سال ہوں گی"

(مسند احمد، ترمذی، صحیح)


✔ نہ بڑھاپا

✔ نہ جوانی کا خاتمہ

✔ مکمل صحت

✔ سرخ و سفید رنگ

✔ دائمی جوانی


حصہ پنجم: جنتی عورتوں (دنیا کی خواتین) کی عمر کیا ہوگی؟


علماء کا اتفاق:

✔ دنیا کی نیک عورتیں بھی 33 سال کی عمر میں داخل ہوں گی۔


دلائل:

1- حدیث عام ہے کہ “جنتی سب لوگ آدم علیہ السلام کی صورت پر، 33 سال کے ہوں گے”


2- جنت میں سب نعمتیں کامل ہوں گی، اس لیے عورتیں بھی دائمی جوانی میں ہوں گی۔


حصہ ششم: کیا جنت میں نکاح دنیا جیسے ہوگا؟

بالکل نہیں۔


✔ بغیر کسی ذمہ داری

✔ نہ خرچ، نہ طلاق، نہ جھگڑا

✔ خالص محبت

✔ نہ نفرت، نہ حسد

✔ دلوں سے کینہ نکال دیا جائے گا (سورہ حجر: 47)


خلاصہ جامع

مسئلہ حکم / جواب

حوریں کون ہیں؟ جنت کے لیے خاص پیدا کی گئی پاک مخلوق

کس سے بیاہی جائیں گی؟ جنتی مردوں سے

جنتی مرد کی عمر؟ 33 سال

جنتی عورت کی عمر؟ 33 سال

کیا دنیا کی بیویاں بھی جنت میں شوہر کے ساتھ ہوں گی؟ ہاں، اگر نیک ہوں۔

کیا حوروں کی عمریں بڑھیں گی؟ نہیں، ہمیشہ جوان رہیں گی

کیا دنیا کی نیک عورتیں حوروں سے افضل ہوں گی؟ ہاں، حدیث و آثار کے مطابق


دعاء 

یا اللہ تعالی مجھے اور میری بیوی کو بغیر حساب کے جنت الفردوس میں جگہ دینا اور آپکی شایان شان نعمتیں عطا فرمانا۔


آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *شہادت حسین کا پیش منظر*


ہفتہ 29 نومبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ام سلمہ کے گھر پر تھے اور حضرت حسین آپ کے سینے پر کھیل رہے تھے کہ ام سلمہ حجرے میں آئیں تو دیکھا کہ آپ صلعم  کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہے ام سلمہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ رو رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ ابھی ابھی ایک ایک فرشتہ آیا تھا جو اب سے پہلے کبھی نہ آیا تھا اور حضرت حسین کی شہادت کی خبر دے گیا ہے  یہ بات کوئی عام بات نہیں کیونکہ کوئی خاص فرشتہ کسی کی شہادت کی خبر لایا تھا وہ خاص بات کیا تھی

حدیث اور تاریخ سے بحوالہ بتلائیں کہ یہ خبر حالات کو کس طرف موڑے جانے کی خبر دے  رہے تھے


یہ واقعہ صحیح اور ثابت شدہ روایتوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے، اور اس کے پیچھے جو ’’خاص بات‘‘ تھی—that is, why a special angel came only to inform about Sayyiduna Husayn’s martyrdom—اس کی وضاحت اہلِ حدیث، محدثین، اور مؤرخین نے بہت گہری اور سنگین معنوں کے ساتھ کی ہے۔


نیچے میں اس پورے واقعے کو اصل حوالوں، صحیح اسناد اور پھر اس کے پس منظر میں فرشتے کے خاص آنے کے معانی، اور تاریخ کس طرف مڑنے جا رہی تھی—سب کچھ مدلل طور پر بیان کر رہا ہوں۔


اول: حضرت اُمِّ سَلَمہؓ کی روایت — اصلی حوالہ


یہ حدیث متعدد کتب میں آئی ہے، مضبوط اسناد کے ساتھ:


1. مسند احمد بن حنبل


روایت:

> جَاءَ جِبْرِيلُ إلى النَّبِيِّ ﷺ وهو عند أم سَلَمَة، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا.

(مسند أحمد، رقم 648)


"جبرائیل آئے، جبکہ نبی ﷺ امّ سلمہ کے گھر میں تھے، اور کہا:

آپ کی امت اس بچے (حسین) کو قتل کرے گی۔"


پھر جبرائیل نے کربلا کی مٹی دے کر کہا:


> هذه تُربَتُهُ

"یہ اس کی شہادت کی مٹی ہے۔"


2. سنن الترمذی (کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین)


ترمذی کہتے ہیں:

> حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

(ترمذی 3775)


حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر تھی۔


3. مستدرک الحاکم (3/176)

> هذا حديث صحيح على شرط الشيخين

(حاکم)


حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح قرار دیا۔


 دوم: ’’ایک ایسا فرشتہ جو کبھی پہلے نہیں آیا تھا‘‘ کیوں؟


کئی روایات میں یہ الفاظ ہیں:

> أَتَانِي جِبْرِيلُ مَعَهُ مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلْ إِلَيَّ قَطُّ قَبْلَ هَذَا

(حلیۃ الاولیاء، طبقات ابن سعد، دلائل النبوۃ)

ترجمہ:

"جبرائیل میرے پاس آئے، اُن کے ساتھ ایک **ایسا فرشتہ تھا جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا۔"


خاص فرشتہ کیوں آیا؟ محدثین کی تشریح


یہاں وہ اصل راز ہے جس کی طرف آپ نے پوچھا:


1- یہ کوئی عام شہادت نہیں تھی بلکہ:


امتِ محمدیہ کے اندر پہلی بار ’’اہلِ بیت نبوت‘‘ کا قتل ہونے جا رہا تھا۔**


یہ امت کے مقدر میں سب سے بڑا فتنہ، سب سے بڑا بگاڑ، سب سے بڑی خانہ جنگی کا آغاز تھا۔


امام قرطبی لکھتے ہیں:

> قتل الحسین کان بداية الفتن العظام في الأمة

(تذکرة القرطبی)


"حسین کا قتل امت کے عظیم ترین فتنوں کا آغاز تھا۔"


2- اس شہادت نے امت کے سیاسی رخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا


علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں:

> لم تكن مصيبة أعظم على الإسلام بعد مقتل عثمان من مقتل الحسين

(البدایہ والنہایہ 8/217)


"حضرت عثمان کی شہادت کے بعد اسلام پر سب سے بڑی مصیبت حسین کی شہادت ہے۔"


یعنی:

✔ خلافت کا سیاسی رخ

✔ اموی حکومت کی سمت

✔ امت کی وحدت

✔ شام و عراق کی تقسیم

✔ اہلِ بیت اور حکومت کے درمیان خلیج


سب کچھ بدل جانا تھا۔


3- یہ شہادت معمولی جنگ نہیں تھی:


یہ باطل کے ہاتھوں حق کا قتل تھا**


نبی ﷺ نے فرمایا:

> حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ

(ترمذی صحیح)


یعنی اس شہادت میں خود نبی ﷺ کی نسبت مجروح ہونے جا رہی تھی۔


اس لیے:

❗ عام فرشتہ نہیں آیا

❗ ’’خاص‘‘ فرشتہ آیا

❗ اس لیے کہ دنیا کی تاریخ میں حق کے مرکز پر سب سے بڑا وار ہونے والا تھا۔


4- انبیاء کے بعد امت کا پہلا "فجائعی اخلاقی زوال"


ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:


> قتل الحسين كان علماً على فساد الظلمة من بني أمية

(فتح الباری 13/65)


"حسین کا قتل بنو امیہ کے ظالم طبقے کے گہرے اخلاقی زوال کی نشانی تھا۔"

یعنی:

یہ وہ لمحہ تھا جہاں امت کی ظاہری حکومت اسلامی نام کے باوجود ظلم میں ڈوبنے لگی۔


سوم: ’’یہ خبر حالات کو کس طرف موڑنے کی خبر تھی؟‘‘


محدثین، مورخین اور فقہا اس شہادت کے اثرات پر مکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ:


1- یہ امت کے سیاسی زوال کا آغاز تھا


اس کے بعد:

❌ خلافت، ملوکیت میں بدل گئی

❌ حکمران بدعت، ظلم اور جبر میں پڑ گئے

❌ امت کا شیرازہ کمزور ہوا


ابن خلدون کہتے ہیں:

> مقتل الحسين كان من أعظم الأسباب في اضطراب الدولة

(مقدمہ ابن خلدون)


2- امت کی وحدت پہلی بار ٹوٹ گئی


کربلا سے پہلے:

✔ جنگیں تھیں، اختلافات تھے

❌ مگر اہلِ بیت کا قتل نہیں ہوا تھا


کربلا کے بعد:

✔ دل پھٹ گئے

✔ خلافت کا تقدس مجروح ہوا

✔ امت کے باہمی اعتماد کو شدید دھچکا لگا


3- اہلِ بیت نسبت کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے نام پر فکری گروہ بنے


اس کے بعد:

✔ تشیع گہرا ہوا

✔ اہل سنت کے اندر "محبتِ اہل بیت" کے فلسفے مضبوط ہوئے

✔ امت میں ’’سیاسی تشیع‘‘ اور ’’روحانی تشیع‘‘ پیدا ہوا


یہ سب کربلا کے حادثے سے جڑا ہوا ہے۔


4- اُمّت کی اخلاقی بنیادوں میں پہلی بار بڑی دراڑ پڑی


اہل بیت کو قتل کرنا

…اور وہ بھی نبی ﷺ کے نواسے کو…

امت کی روحانی عزت میں پہلی بار زلزلہ تھا۔


امام ذہبی لکھتے ہیں:

> وَقَتْلُ الْحُسَيْنِ فَاجِعَةٌ لَا تُغْتَفَرُ

(تاریخ الاسلام 5/12)


چہارم: ’’فرشتہ خاص کیوں تھا؟‘‘ — خلاصہ


اس ’’خاص فرشتے‘‘ کے آنے کا مطلب یہ تھا کہ:

✔ یہ وہ حادثہ نہیں جو عام انسانوں کے ساتھ ہو


✔ یہ وہ شہادت نہیں جو عام شہدا پاتے ہیں


✔ یہ امت کے مستقبل پر عظیم آسمانی فیصلہ تھا


✔ اس شہادت کے نتیجے میں تاریخ ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی


✔ یہ وہ خون تھا جس سے حق و باطل کا معیار بدلنے والا تھا


✔ اس سے حکومت و خلافت کا رخ تبدیل ہونا تھا


✔ اس کے بعد امت کے اندر ٹوٹ پھوٹ اور بڑے فتنے اٹھنے تھے


اور سب سے بڑھ کر:

✔ یہ نبی ﷺ کے جگر کے ٹکڑے کی شہادت تھی

جس کا صدمہ آسمان تک محسوس ہونا تھا۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی امت محمدی بھٹک گئی ہے اس باقیات امت مسلمہ کو سیدھا راستہ دیکھا۔


آمین یا رب العالمین


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *قبلِ اسلام تعظیمی سجدہ جائز تھا مگر اسلام میں یہ شرک ہے اور قطعی حرام ہے*


اتوار 30 نومبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک  سرگودھا 


انسانی تاریخ میں سجدہ ہمیشہ سے تعظیم و عبادت کی علامت رہا ہے۔ اگرچہ قدیم شریعتوں میں’’تعظیمی سجدہ‘‘ کی بعض صورتیں جائز تھیں، لیکن شریعتِ محمدیہ ﷺ میں آنے کے بعد ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کیلئے مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔

اسلام نے سجدے کو محض اللہ کیلئے خاص کر دیا، خواہ وہ عبادت کا ہو یا تعظیم کا۔


1️⃣ قبلِ اسلام تعظیمی سجدے کی شرعی حیثیت۔


(الف) قرآن مجید سے واضح مثال:

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی ملتی ہے ان کے بھائی جب مصر میں اپنے بھائی یوسف علیہ سلام سے ملنے آئے تھے تو انھوں نے یوسف علیہ سلام کو سجدہ کیا تھا۔(سورہ یوسف)


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا 

 ’’اور (یوسف کے والد اور بھائی) ان کے سامنے سجدہ میں گر پڑے۔‘‘

(سورہ یوسف: 100)


مفسرین کی وضاحت:

امام قرطبی: یہ تعظیمی سجدہ تھا، عبادتی نہیں۔

امام فخرالدین رازی: یہ سجدہ بطور تحیتہ تھا، کیونکہ یہ شریعتِ یوسف میں جائز تھا۔


تفسیر ابن کثیر: اس وقت یہ عمل معمول تھا۔


نتیجہ: پرانے انبیاء کی شریعت میں تعظیمی سجدہ کبھی کبھی جائز تھا۔


2️⃣ اسلام میں سجدہ صرف اللہ کیلئے مخصوص۔


(الف) قرآن مجید کی قطعی ہدایت۔


 فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا 

(الجن: 18)


 وَاسْجُدُوا لِلَّهِ (فصلت: 37) ترجمہ: ’’سجدہ کرو تو صرف اللہ کو۔‘‘

قرآن نے سجدے کے حق کو اللہ تعالٰی کیلئے خاص کر دیا۔


3️⃣ نبی ﷺ نے تعظیمی سجدے کو بھی ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا۔

(حدیث 1) اگر اجازت ہوتی تو…

نبی ﷺ نے فرمایا:

"لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا"(سنن الترمذی: 115) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (مگر میں نے کسی کو حلال نہیں کیا)۔


واشگاف اعلان کہ تعظیمی سجدہ بھی اسلام میں جائز نہیں رہا۔


(حدیث 2) صحابہ نے سجدہ کرنا چاہا تو منع فرمایا

جب معاذ بن جبلؓ شام سے واپس آئے تو شام کے باشندوں کو اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے دیکھا۔

عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ہم بھی آپ کو سجدہ کریں؟‘‘

نبی ﷺ نے فرمایا "لَا تَفْعَلُوا"

 ’’ہرگز ایسا نہ کرو!‘‘

(سنن ابن ماجہ: 1853)


صاف واضح کہ تعظیم کے طور پر بھی سجدہ حرام ہے۔


(حدیث 3) قبروں کو سجدہ گاہ بنانا انتہائی گمراہی

نبی ﷺ نے فرمایا:

"إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ تَتَّخِذُوا قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ"

(صحیح مسلم: 529)


قبروں کے آس پاس سجدہ کرنا بھی گمراہی کہا گیا۔


4️⃣ فقہاءِ اسلام کا اجماع: تعظیمی سجدہ بھی حرام اور شرک کا ذریع(حنفی فقہ)

فتاویٰ عالمگیری:


"السجود لغیر اللہ حرام مطلقاً، وهو فعل المشركين"

(فتاویٰ عالمگیری 5/329) ’’اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا ہر حال میں حرام اور یہ مشرکوں کا عمل ہے۔‘‘


(شافعی فقہ)

امام نووی:

"لا يجوز السجود لغير الله، سواء كان تعظيماً أو عبادة"

(روضۃ الطالبین 10/264)


’’اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا نہ عبادت میں جائز ہے نہ تعظیم میں۔‘‘


(مالکی فقہ)

امام قرطبی:

"السجود لغير الله لا يكون إلا كفرًا"

(تفسیر قرطبی 1/294)

’’اللہ کے علاوہ سجدہ کفر کے سوا کچھ نہیں۔‘‘


(حنبلی فقہ)

ابن تیمیہ:

"السجود لغير الله شرك، ولو كان بقصد التعظيم"

(مجموع الفتاوی 4/361) ’’اللہ کے سوا سجدہ شرک ہے، چاہے تعظیم کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘


5️⃣ تعظیمی سجدے کے ختم ہونے کی وجوہات۔


1 — اسلام نے توحید کو انتہائی مضبوط بنایا۔


سجدہ عبادت کی معراج ہے، اسے کسی مخلوق کیلئے کھولنا شرک کا دروازہ ہے۔


2 — تعظیم کے قابل مخلوق بھی محدود ہے

کوئی نبی، ولی، فرشتہ یا بزرگ ذات سجدے کا حق نہیں رکھتی۔


3- روگی و قبری پوجا کا سدباب۔

اسلام نے ہر اس عمل کو روکا جو بت پرستی کا ذریعہ بن سکتا تھا۔


6️⃣ عصر حاضر کی غلط فہمی

کئی خطوں میں قبروں یا بزرگوں کے آستانوں پر جھک کر سجدہ کرنا یا ماتھا ٹیکنا شریعت میں:

❌ صریح حرام

❌ شرکِ اکبر کا راستہ

❌ نبی ﷺ کی تعلیمات کے خلاف


یا رہے کہ عمران خان نیازی دعوی کرتا تھا میں پاکستان کو ریاست مدینہ بناوں گا لیکن جب اپنی بیوی کے ساتھ بابا فرید رحمہ اللہ کے مزار زیارت کے لئے گئے تو دونوں میاں بیوی نے قبر پر سجدہ کیا۔ 

نوٹ: یہ ہیں ہمارے سیاسی رہنما۔ عوام جب سیاسی رہنما کو ایسا کرتا دیکھیں گے تو اپنے رہنماؤں کی تقلید کریں گے اور ملک میں شرک و بدعات کی یہ اہم وجہ ہے۔


حاصلِ بحث (نتیجہ)


✔ قبلِ اسلام بعض شریعتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا۔

✔ اسلام نے اس کی اجازت مکمل طور پر ختم کر دی۔

✔ نبی ﷺ نے تعظیمی سجدہ کرنے والوں کو سختی سے روکا۔

✔ ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ مکمل حرام ہے۔

✔ قبروں، مزارات یا بزرگوں کو سجدہ کرنا شرک کے برابر ہے۔


نوٹ؛

جب پاکستان بنا تو پنجاب بھر مین بڑے لوگوں کو فرشی سلام کرنے کا رواج تھا لیکن الحمدللہ اب پنجاب کے لوگ میں تعلیم آگئی اور اب رفتہ رفتہ یہ باطل رواج ختم ہو گیا۔


الدعاء 

یا ہمارے رب ہمیں شرک ظاہری و باطنی سے محفوظ فرما۔

آمین یا رب العالمین۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *تین مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہے*


جمعرات 04 دسمبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


 قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیقی جائزہ


سوال:

عوام میں مشہور ہے کہ تین مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی جائے تو پورے قرآن پاک پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔

کیا یہ بات قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح ہے؟

اور کیا یہ قرآن کی تلاوت کا مکمل بدل ہے؟


جواب (مختصر حکم)


✔ جی ہاں! صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سورۃ الاخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے، اور تین مرتبہ پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہو سکتا ہے۔

✔ لیکن یہ بات “ثواب” کے بارے میں ہے، “قرآن مکمل پڑھنے” کا بدل نہیں ہے۔


❌ تین بار سورۃ الاخلاص پڑھنے سے قرآن کی تلاوت کا عمل ادا نہیں ہو جاتا۔


دلائل قرآن و حدیث کے ساتھ


1.سورۃ الاخلاص کا مقام قرآن کی روشنی میں


اگرچہ قرآن میں براہِ راست یہ الفاظ نہیں کہ "سورہ اخلاص پورے قرآن کے برابر ہے"، لیکن قرآن میں اللہ کی وحدانیت کی عظمت اور اہمیت کو سب سے مرکزی مقام حاصل ہے۔


قرآن کا ایک بڑا حصہ توحید پر مشتمل ہے۔

اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے بھی سورۃ الاخلاص کو عظمت عطا فرمائی۔


2.صحیح احادیث میں واضح دلیل

حدیث 1 — صحیح بخاری


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"سورۃ قل ھو اللّٰہ احد قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔"

(صحیح بخاری: 6643)


حدیث 2 — صحیح مسلم

آپ ﷺ نے فرمایا:

"کیا تم میں سے کوئی شخص رات میں ایک تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے؟"

صحابہؓ نے کہا: کون پڑھ سکتا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

"قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔"

(صحیح مسلم: 811)


حدیث 3 — سنن نسائی

نبی ﷺ نے فرمایا:

“سورۃ الاخلاص ثلث القرآن ہے۔” (نسائی: 992)


✔ یہ تمام احادیث صحیح اور معتبر ہیں۔


3.تین مرتبہ پڑھنے کا نتیجہ


چونکہ:

1 مرتبہ = ایک تہائی

3 مرتبہ = تین تہائی = پورا قرآن


لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ

تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہو سکتا ہے۔


4.لیکن یہاں غلطی کہاں ہوتی ہے؟

اکثر عوام یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ:


❌ تین بار سورہ اخلاص پڑھ لی تو پورا قرآن پڑھ لیا.


❌ اب مکمل قرآن کی تلاوت کی ضرورت نہیں.


❌ یہ قرآن پڑھنے کا قائم مقام ہے


یہ سراسر غلط ہے۔


علماء اس غلط فہمی کی تین بڑی وجوہات بیان کرتے ہیں:


5.علماء کی وضاحت: “ثواب” اور “بدل” میں فرق


1️⃣ یہ صرف اجر و ثواب کی فضیلت ہے


“ثلث القرآن” کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں پورا قرآن موجود ہے،

بلکہ:


✔ یہ توحید کے مضمون کا خلاصہ ہے


✔ قرآن کا ثواب اللہ نے اس کو عطا فرمایا ہے


✔ لیکن قرآن کے حکم، معانی، قصے، شریعت اس میں موجود نہیں


2️⃣ قرآن کی مکمل تلاوت کا ثواب بہت عظیم ہے


پورے قرآن کی تلاوت کا:


✔ الگ ثواب

✔ الگ فضیلت

✔ الگ نور

✔ الگ اثر

✔ اور الگ برکت ہے


یہ کسی صورت سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھ کر حاصل نہیں ہو سکتا۔


3️⃣ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تمام ائمہ


کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ:


“تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر قرآن ختم سمجھ لیا جائے۔”


بلکہ وہ ہمیشہ:

✔ قرآن پڑھتے

✔ ختم کرتے

✔ تراویح میں مکمل قرآن سناتے

✔ قرآن کی تلاوت پر زور دیتے


اگر صرف سورہ اخلاص کافی ہوتی تو وہ ایسا نہ کرتے۔


نتیجہ (حتمی فتویٰ)


✔ سورۃ الاخلاص کا ایک مرتبہ پڑھنا ایک تہائی قرآن کے برابر ثواب رکھتا ہے — احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔


✔ تین مرتبہ پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہو سکتا ہے — یہ بات درست ہے۔


❌ لیکن یہ قرآن کی تلاوت کا بدل نہیں ہے۔


❌ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اس نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے۔


چند اہم فوائد۔

1.سورۃ الاخلاص کا عظیم ترین مضمون “توحید” ہے


2.اس میں اللہ کی صفات اور یکتائی بیان ہوئی


3.اس سورت سے محبت جنت میں لے جاتی ہے

(حدیث: ترمذی و نسائی)


 الدعاء 

یا اللہ تعالی قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے تو توفیق عطا فرما۔


آمین یا رب العالمین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: غصب کے احکام کا بیان


شیخ صالح الفوزان مفتی سعودیہ 


غصب کے احکام کا بیان !


کسی دوسرے کی ملکیت والی چيز کوغصب کرنے کا حکم کیا ہے ؟


الحمدللہ :


غصب کی لغوی تعریف :


کسی چيز کوظلم وزیادتی سے لینا ۔


فقھاء کی اصطلاح میں غصب کی تعریف :


کسی کے حق پر زبردستی اورناحق قبضہ کرنے کوغصب کہا جاتا ہے ۔


غصب کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے ۔


اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :


{ اورتم آپس میں اپنے مالوں کوباطل طریقوں سے نہ کھاؤ } ۔


اورغصب باطل طریقے سے مال کھانے سے بھی بڑا ظلم ہے ۔


اورپھر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے :


( یقینا تمہارے خون اورتہمارے مال ودولت اورتمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں ) ۔


اوردوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :


( کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت اوررضامندی کےبغیر حلال نہیں )


اورغصب کی گئي چيز یاتو جائداد ہوگی یا پھر منتقل ہونے والی چيز اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :


( جس کسی نے بھی ایک بالشت زمین ظلم زیادتی سے حاصل کی اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جاۓ گا ) ۔


غاصب پرضروری اورلازم ہے کہ وہ اللہ تعالی کےہاں توبہ کرے اور غصب کی ہوئ چیز کو اس کےمالک کوواپس لوٹاۓ اوراس سے معافی و درگزر طلب کرے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی کی طرف راہنمائ کی ہے ۔


فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :


( جس نے بھی اپنے کسی بھائ پر ظلم وزیادتی کی ہے اسے آج ہی اس کا کفارہ ادا کردے قبل اس کے کہ اس کے پاس درھم ودینا نہ ہوں ( یعنی قیامت کے دن ) اگر اس کی نیکیاں ہوں گی تووہ مظلوم کو دی جائيں گي اوراگرنیکیاں نہ ہوئيں تو مظلوم کے گناہ لے کے اس کے پر ڈال دیۓ جائيں گے اورپھر اسے جہنم میں ڈال دیا جاۓ گا ) او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔


اگر غصب کردہ چيز اس کے پاس موجود ہے تو وہ اسی طرح اس کومالک تک پہنچا دے اوراگر ضائع ہوچکی ہے تواس کا بدلہ دینا چاہیے ۔


امام مؤفق رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :


( علماء کرام کا اجماع ہے کہ اگر غصب شدہ چيز اپنی حالت میں موجود ہے اوراس میں کوئ تبدیلی نہیں ہوئ تواس کا واپس کرنا واجب ہے ) انتہی ۔


اوراسی طرح غصب شدہ چيز کی زیادتی بھی واپس کرنی لازم ہے چاہے وہ زیادہ شدہ اس کے ساتھ متصل ہویا منفصل ، اس لیے کہ وہ غصب شدہ چيز کی پیداوار ہے اوروہ بھی اصلی مالک کی ہوگي ۔


اوراگر غاصب نے غصب کردہ زمین میں کوئ عمارت تعمیر کرلی یا پھر اس میں کوئ چيز کاشت کرلی تومالک کے مطالبہ پر اس اکھیڑنا ضروری ہے ۔


اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :


( ظالم کے پیسنے کا کوئ حق نہیں ) سنن ترمذي وغیرہ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے ۔


اوراگر اس چيز کےمنھدم کرنے یا اکھيڑنے سے زمین کونقصان ہوتوغاصب پر اس نقصان کا بھی جرمانہ ہوگا اوراسی طرح اسے کاشت کے آثار بھی ختم کرنے لازم ہیں تا کہ زمین کے مالک کو زمین صحیح سالم واپس ہوسکے ۔


اوراسی طرح غاصب کے ذمہ غصب کےوقت سے لیکر مالک کوواپس کرنے تک کا کرایہ بھی ادا کرنا ہوگا یعنی اس کراۓ کی مثل ادا کرے گا ، اس لیے کہ اس نے زمین کےمالک کواس مدت میں نفع حاصل کرنے سے ناحق روک رکھا تھا ۔


اوراگر کسی نے چيز غصب کرکے روکے رکھی تو اس کی قیمت میں کمی واقع ہوگئي توصحیح یہ ہے کہ وہ اس نقص کا ذمہ دار ہوگا ۔


اوراگر غصب کردہ چيز کسی ایسی چیز میں مل گئي جس میں تمیيز کرنا ممکن ہو مثلا گندم جومیں مل جاۓ ، توغاصب اسے علیحدہ کرکے واپس کرنے گا ۔


اوراگر ایسی چيز میں مل جاۓ جس کی تمیز کرنی مشکل ہو مثلا گندم گندم میں ہی مل جاۓ توغاصب اسی طرح کی گندم اوراتنی غیرملاوٹ شدہ واپس کرے گا ۔


اوراگر وہ اسی طرح کی چيز میں یا پھر اس سے بھی بہتر اوراچھی قسم میں یا پھر کسی اورجنس میں مل جاۓ جس کی تمیز کرنا مشکل ہو تو اس ملی ہوئ کوفروخت کر کے دونوں کو ان کے حصوں کے مطابق قیمت ادا کردی جاۓ گی ۔


اوراگر اس صورت میں جس کی چيز غصب کی گئي ہواسےقیمت کم ملے توغاصب باقی نقصان کا ذمہ دار ہوگا ۔


اوراس باب میں یہ قول بھی ذکرکیا ہے :


اورغاصب کے ہاتھوں سے جس جس کے پاس بھی غصب کی ہوئ چيز جاۓ گی وہ سب ضامن ہوں گے ۔


اس کا معنی یہ ہے کہ جن کی طرف بھی غصب شدہ چیز منتقل ہوگي اگروہ ضائع ہوجاۓ تووہ سب اس کا نقصان پورا کریں گے ۔


اوریہ سب دس قسم کے ہاتھ شمار ہوتے ہیں :


خریدار اورجو اس کے معنی میں ہو ، اجرت پر حاصل کرنے والے کے ہاتھ ، بغیر عوض کے قبضہ کرنے والےکا ہاتھ مثلا چھین لینے والا ، مصلحت دافعہ کی بناپر قبضہ کرنے والا جیسا کہ وکیل ہے ، عاریتا لینے والا ، غصب کرنے والا ، مال میں تصرف کرنے والا ، مثلا مضاربت پرشراکت کرنے والا ، غصب شدہ عورت کی شادی کرنے والا ، بغیر فروخت کے عوض میں قبضہ کرنے والے کے ہاتھ ، غاصب کی نیابت کرتے ہوۓ غصب شدہ چيز کوضائع کرنے والا ۔


توان سب صورتوں میں جب دوسرے کوحقیقت حال کا علم ہوجاۓ کہ اسے دی جانے والی چيز غصب شدہ ہے تواس پراس چيز میں زيادتی کی بنا پر ضمان ہوگی اس لیے کہ اسے علم تھا کہ مالک کی جانب سے اس میں تصرف کی اجازت نہيں ہے ۔


اوراگر اسے حقیقت حال کا علم نہیں توپھر پہلے غاصب پر ہی ضمانت ہوگي اورنقصان وہی ادا کرے گا ۔


اوراگر کوئ ایسی چيز غصب کرلی جاۓ جوعادتا کرایہ پرلی جاتی ہے توغاصب مالک کواتنی مدت کا کرایہ بھی لازمی ادا کرے گا اس لیے کہ نفع بھی ایک قیمتی مال ہے لھذا اصلی چيز کی طرح منافع کی بھی ضمان ہوگی ۔


غاصب کے جتنے بھی حکمی تصرفات ہیں وہ سب کے سب باطل ہيں اس لیے کہ وہ سب مالک کی اجازت کے بغیر ہیں ۔


اور اگر کوئ چیز غصب کرلی اوراس کے مالک کا علم نہ رہا اوراسے واپس کرنا بھی ممکن نہ ہوسکے تو وہ حاکم کے سپرد کردی جاۓ جو اسے صحیح جگہ پراستعمال کرے گا اوریا پھر اس کے مالک کی جانب سے صدقہ کردی جاۓ اوراگر اسے صدقہ کیا جاۓ تو اس کا اجرو ثواب مالک کوہو گا نہ کہ غاصب کواورغاصب اس سے خلاصی حاصل کرلے گا ۔


غصب یہی نہیں کہ کسی چيز پرطاقت کے بل بوتے قبضہ کرلیا جاۓ بلکہ یہ بھی غصب میں ہی شامل ہے کہ کسی باطل طریقے اورجھوٹی اورفاجرہ قسم کے ذریعہ سے کسی چيز پر قبضہ کرلیا جاۓ ۔


اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :


{ اورایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھایا کرو ، اورنہ ہی حاکموں کو رشوت پہنچا کرکسی کا کچھ مال ظلم وستم سے اپنا کرلیا کرو ، حالانکہ تم جانتے ہو } البقرۃ ( 188 ) ۔


لھذا یہ معاملہ بہت ہی سخت ہے اورحساب وکتاب بھی بہت مشکل ہے توفکرکریں ۔


اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :


( جس نے بھی ایک بالشت زمین غصب کی تواسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جاۓ گا ) ۔


اورایک دوسری حديث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :


( میں نے جس کے لیے بھی اس کے بھائ کے حق میں سے فیصلہ کردیا تواسے وہ نہیں لینا چاہیے ، بلکہ میں تو اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ) ۔ .


دیکھیں : الملخص الفقھی تالیف : شیخ صالح الفوزان ص ( 130 ) ۔

غضب کے احکام کا بیان

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *کیا رسول اللہ ﷺ "تخلیقِ کائنات کی وجہ" ہیں؟*


ہفتہ 06 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 



کیا رسول اللہ ﷺ "تخلیقِ کائنات کی وجہ" ہیں؟


قرآن + صحیح حدیث + عقیدۂ صحابہ و سلف کے مطابق تحقیق


مختصر جواب (Summary)

قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں ایسا کوئی نص نہیں جس میں نبی کریم ﷺ کو "تخلیقِ کائنات کی وجہ" قرار دیا گیا ہو۔

یہ جملہ احادیثِ صحیحہ میں موجود نہیں، بلکہ بعد کے صوفیانہ لٹریچر میں ایک استعاراتی/ادبی جملہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔


صحابہ، تابعین، ائمہ اربعہ اور محدثین کا عقیدہ:


اللہ ہی خالق ہے، اللہ ہی فاعل حقیقی ہے، اور تخلیق کی واحد وجہ اللہ کی مشیت و حکمت ہے۔ کوئی مخلوق تخلیق کی علت نہیں۔


تاہم یہ بات درست ہے کہ رسول اللہ ﷺ اشرف المخلوقات ہیں، محبوبِ خدا ہیں، اور اللہ نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا لیکن یہ "تخلیقِ کائنات کی وجہ" ہونے سے مختلف ہے۔


مسئلے کے تین حصے ہیں:

(1) قرآن کیا کہتا ہے؟

قرآن مجید نے تخلیقِ کائنات کے بارے میں واضح اصول دیئے ہیں:


 1- اللہ تعالی نے کائنات اپنی مشیت اور اپنی حکمت سے پیدا کی۔


﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ (الدخان 38)


﴿اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾ (الزمر 62)


2.قرآن میں کہیں نہیں کہ "میں نے محمد کے لیے کائنات بنائی"

اللہ تعالیٰ نے کبھی نہیں فرمایا کہ:

❌ “لولا محمد لما خلقتُ الافلاک”

❌ “میں نے محمد کی خاطر کائنات پیدا کی”

❌ “اگر محمد نہ ہوتے تو میں دنیا نہ بناتا”


یہ نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔


3.رسول اللہ ﷺ کی فضیلت قرآن یوں بیان کرتا ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ (الأنبياء 107)

آپ ﷺ "رحمت للعالمین" ہیں 

مقصدِ رسالت ہیں،

مقصدِ تخلیق نہیں۔


(2) احادیثِ صحیحہ کیا کہتی ہیں؟


مشہور جملہ "لولاك لما خلقتُ الأفلاك"

(اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات نہ بناتا)

❌ یہ روایت "موضوع / من گھڑت" ہے۔

محدثین کا متفقہ فیصلہ:

ابن جوزی "موضوعات"

سیوطی "اللآلی المصنوعة" میں موضوع۔


ملا علی قاری "الموضوعات الكبرى"


ابن تیمیہ۔ سخت تردید

ابن قیم۔ "المنار المنيف" میں موضوع


شوکانی — "الفوائد المجموعة"


اس لیے اسے دلیل کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں۔


 تخلیق سے پہلے نورِ محمدی والی روایات؟


"اول ما خلق اللہ نوری" وغیرہ تمام روایات:

❌ یا تو ضعیف ہیں

❌ یا موضوع

❌ یا صوفیانہ متون میں بعد کی اضافات


صحیح حدیث صرف یہ ہے:

“اول ما خلق اللہ القلم”

(ترمذی 2155 — صحیح)


سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا۔

لہٰذا "سب سے پہلے نورِ محمدی بنا" والی بات صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔


(3) صحابہ، تابعین، سلف اور ائمہ کا عقیدہ


1.صحابہ کرام کا عقیدہ

کسی صحابی، جیسے:

سیدنا ابوبکر

سیدنا عمر

سیدنا عثمان

سیدنا علی

ابن عباس

ابن مسعود


نے کبھی یہ نہیں کہا کہ:

❌ "اللہ نے کائنات محمد ﷺ کے لیے بنائی"

❌ "آپ تخلیق کی وجہ ہیں"

بلکہ صحابہ نے ہمیشہ اللہ کو تخلیق کی واحد علت بتایا۔


 2. ائمہ اربعہ کا عقیدہ


امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ

"الفقہ الأكبر" میں واضح:

“اللہ ہر چیز کا خالق ہے بغیر کسی سبب کے، مخلوق تخلیق کی علت نہیں ہوتی”


امام مالک

"المدینہ میں جو بات صحابہ سے نہ ملے وہ بدعت ہے۔”

اگر صحابہ سے عقیدہ ثابت نہ ہو  مردود۔


امام شافعی

“جو چیز قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو۔ میں اس کا قائل نہیں ہو سکتا۔”


امام احمد بن حنبل

تمام موضوع روایات رد کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک بھی یہ عقیدہ نہ قرآن سے نہ سنت سے ثابت ہے۔


(4) صحیح عقیدہ کیا ہے؟


نمبر 1: نبی ﷺ اللہ کے محبوب ترین بندے ہیں


اس میں کوئی شک نہیں اللہ تعالی نے فرمایا:


﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾(الشرح 4)

نمبر 2: آپ ﷺ تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں

“سید ولد آدم ولا فخر”

(صحیح مسلم 2278)


نمبر 3: آپ ﷺ رحمت للعالمین ہیں(الأنبياء 107)


نمبر 4: مگر "تخلیقِ کائنات کی وجہ" نہیں


کیونکہ:

نہ قرآن میں

نہ صحیح حدیث میں

نہ صحابہ کا عقیدہ

نہ ائمہ سلف کا عقیدہ


تخلیق کی واحد علت:

اللَّهُ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ (ھود 107)


اللہ جیسا چاہے، جب چاہے، اپنی حکمت سے کرے

کسی مخلوق کی خاطر کائنات نہیں بناتا۔


نتیجہ (Final Conclusion)

✔ رسول اللہ ﷺ سب سے افضل انسان

✔ آپ ﷺ محبوب ترین ہستی

✔ آپ ﷺ رحمت للعالمین

✔ آپ ﷺ سببِ ہدایت، سببِ نجات، سببِ فلاح

✔ آپ ﷺ اشرف المخلوقات

لیکن…


❌ آپ ﷺ کو “تخلیقِ کائنات کی وجہ” قرار دینا


قرآن، احادیث صحیحہ، صحابہ، سلف اور فقہاء کے عقیدہ کے خلاف ہے۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی ہمیں صحیح العقیدہ بنا دے اور قرآن و سنت پر عمل عمل کرنےکی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *ایصال ثواب کے مروجہ طریقے اور ہم*


منگل 09 دسمبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


*ایصال ثواب کے مروجہ طریقے اور ہم*


[اگر یہ مضمون مکمل پڑھ لیا اور اس پر عمل کر لیا تو یقینا" آپ کی کایا پلٹ جائے گی۔ آمین]


عزیزان من!

ایصال ثواب کے مروجه جدید اور خود ساخته طریقے دین میں داخل ھوتے جا رھے ھیں لیکن

دین کی منشاء تو خرافات و بدعات کو جڑ سے اکھاڑنا تھا. یه صحیح ھے که ھم اپنے فوت شده پیاروں کو بخشوانه چاھتے ھیں اور ھم اپنے پیاروں کو قطعی عذاب میں مبتلاء دیکھنا نھیں چاھتے اس لۓ لواحقین کے دل میں خوف عذاب ڈال کر معاشرے کو پاک کرنا مقصود ھے. ایصال ثواب کے غلط تصور نے فوتگی والے گھر کاخرچه اتنا بڑھا دیا ھے که بابے کا جنازه کم سے کم ڈیڑھ دو لاکھ روپۓ میں اٹھتا ھے نبی کریم کی تعلیمات تو بڑی سادگی کا درس دیتی ھیں

مگر کیا کریں فوتگی پر کاروبار کرنے والے طرح طرح کے نت نۓ رواج اور ایصال ثواب کے جدید طریقے ایجاد کر رھے ھیں اور خرامه خرامه ھم مسنون اعمال سے دور نکلتے جا رھے ھیں کیونکہ جب ایک بدعت جنم لیتی ہے تو معاشرے سے ایک سنت فوت ہو جاتی ہے۔


 ھمارے معاشرے میں دو مواقع ایسے ھیں جو توحید اور سنتوں کا گلا گھونٹ دیتے ھیں ایک فوتگی اور دوسرے بیاه شادی اور دونوں میں ھم ھندوانی رسم و رواج کے زیر اثر نظر آتے ھیں اور دن به دن ھم اسلام سے دور نکلتے جا رھے ھیں اور اپنے نسلی اصل یعنی ھندوانی طرز زندگی اپناتے جا رھے ھیں اصل میں ھمارا کام تو انڈین ٹیلیویژن اور سٹلائٹ چینلز نے خراب کر دیا ھے ستم ظریفی یه ھے که اب تو ھمارے گھروں میں زبان بھی ھندی زده ھو کر رھ گئ ھے اور یه بتدریج ھم نے ایسا رنگ بدلا که اس کی ھمیں خبر بھی نه ھوئی.


اب ضرورت اس امر کی ھے که عوام الناس کو صحیح مدنی اسلام سے روشناس کرایا جاۓ اور ھندی اسلام کو خیرباد کہا جائے۔


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین اسلام مکہ معظمہ میں آیا تھا اور مدینہ میں پروان چڑھا تھا مگر ہمارے ہاں اسلام دیو بند، بریلی یا ندوی سے آیا تھا مجھے یہ کہنے میں قطعا" کوئی عار نہیں ہے کہ ہمارے آباو اجداد یا تو ہندو تھے یا پھر سکھ تھے مگر اتنا عرصہ گزر چکا لیکن ہمارے اندر کا ہندو یا سکھ ابھی مرا نہیں اسی لئے ہمارے اکثر رسم و رواج آج بھی ہندوانہ ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے بھی آج تک مسلمان ہونے کی کوشش ہی نہیں کی حق تو یہ تھا کہ آباو اجداد کو بھول کر ہم اسلام کی طرف آجائے لیکن ہم نے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش  ہی نہیں کی ہم اور ہمارے بچے اعلی تعلیم یافتہ تو ہو گئے ہیں جبکہ ہم نے سائنیس پڑھی، جغرافیہ پڑھا، حساب پڑھا اور نہ جانے کیا کیا پڑھا مگر نہیں پڑھا تو قرآن نہ پڑھا کم از کم ہمیں زندگی میں ایک بار قرآن مجید سمجھ کر پڑھا ہوتا تو ہمیں پتہ چلتا کہ یہ چھوٹی سی کتاب ہم سے کیا مانگتی ہے کیا کہنا چاہتی ہے مگر ہمارا دھیان ہی اس طرف کبھی نہ گیا لیکن اب وقت آگیا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اب قرآن مجید کو زندگی میں ایک بار اسے ترجمہ  سے پڑھیں تو کم از کم ہمیں معلوم ہو کہ ہمارا دین کیا ہے 1447 سال قبل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کیا تعلیمات ہمیں دے گئے تھے اور اور کیا ہماری ذمہ داری ہمیں سونپ گئے تھے ہمیں ذمہ داری دی گئی تھی کی اے ایمان والوں میرا  یہ پیغام آگے پہنچا دینا کیا ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی؟

 کل کو ہم میدان حشر میں اپنے آقا محمد مصطفی احمد مجتبے  سے کس منہ سے شفاعت کا سوال کریں گے اور نبی کریم نے اگر ایک سوال پوچھ لیا کہ اے اللہ کے بندے دنیا میں میری کون سی بات مانی تھی کہ میں آج تیری شفاعت کراوں؟

 کیا اپنی شکل میرے جیسی بنائی تھی؟

 کیا قرآن روزانہ پڑھا تھا؟

کیا نماز پڑھی تھی؟


 تو سوچو اپنے آقا کو کیا جواب دو گے کیا منہ دیکھاو گے اور یاد رہے قرآن  روزانہ پڑھنا ہم پر فرض کیا گیا ہے۔ 


ہم میں سے کچھ لوگوں نے قرآن حفظ تو کرلیا مگر سمجھا نہیں اور جب تک قرآن کو سمجھیں گے نہیں تو اس کی تعلیمات پر عمل کیسے کریں گے؟


 حق تلاوت۔

حق تلاوت یہ ہے کہ قرآن مجید کو پڑھا جائے، سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے وگرنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالی سے ہمارے خلاف استغاثہ کریں گے کہ یا اللہ میری قوم نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

 

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا  (سورہ فرقان آیت نمبر 30)


ہم میں سے پانچ سے دس فی صد لوگ نماز تو پڑھ رہے ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم نے اپنے رب سے کیا باتیں کیں ہیں اور اپنے لئے کیا مانگا ہے؟


آپ جمعہ کا ہر ہفتے خطبہ  بھی سن لیتے ہونگے مگر آپ نے کبھی زحمت ہی نہیں کی کہ کبھی اپنے امام سے اس کا مطلب معنی بھی پوچھ لوں؟

 

برادران اسلام۔ اے عقل و دانش والے لوگو کیا جواب بناو گے اب بھی وقت ہے قرآن کا حق تلاوت پہچانو!


نماز کو مضبوطی سے تھام لو وگرنہ کوئی ٹھکانا نہ پاو گے


الله کرے که ھم اپنی مذھبی اصلیت کی طرف لوٹ آئیں  اور نبی کریم کی سنتوں پر عمل اپنا شعار بنا لیں.


آنے والے رمضان میں قرآن گن کر نہ پڑھیں بلکہ ترجمے سے پڑھیں تاکہ بات سمجھ میں آئے اور ہم اپنی زندگیوں کو قرآن مجید کے مطابق ڈھال لیں۔ یہی ہماری کامیابی ہو گی۔ یا اللہ تعالی قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا دے۔


 آمین یا رب العالمین


احقر العباد

انجینئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *اسلام  واحد سچا دین ہے مگر اسے نہ ماننے والوں کی نفسیاتی، فکری اور روحانی وجوہات*


جمعرات 11 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا  

خادم القرآن و سنت


اسلام وہ واحد سچا دین ہے جو عقل، وحی، فطرت اور سچائی پر قائم ہے۔

یہ دین انسان کو انسانیت، عدل، امن اور خالقِ حقیقی کی بندگی سکھاتا ہے۔

اس کے باوجود دنیا میں اربوں لوگ ایسے ہیں جو اسلام کی سچائی کو جاننے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے۔ قرآنِ مجید نے ان کی انکاری کی وجوہات کو نہایت حکمت کے ساتھ بیان کیا ہے تاکہ انسان اپنی کمزوریوں کو پہچان سکے۔


1- دلوں پر مہر لگ جانا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 "خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ" آ(البقرہ: 7)


یعنی اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔

یہ مہر کسی جبر سے نہیں بلکہ حق کو بار بار ٹھکرانے کے نتیجے میں لگتی ہے۔

جب انسان مسلسل ضد اور گمراہی پر قائم رہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور وہ سچائی قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا۔


2- تکبر اور خود پسندی۔

قرآن نے فرعون اور ابلیس کی مثال دے کر بتایا کہ تکبر ہدایت کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ابلیس نے کہا:

 "أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ" (الاعراف: 12)

"میں اس سے بہتر ہوں۔"


یہی تکبر آج کے انسان میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کوئی اپنی عقل پر فخر کرتا ہے، کوئی اپنے علم یا حیثیت پر۔ جب دل میں "میں" کا زہر بھر جائے تو اس کے دل میں "اللہ" کی آواز دب جاتی ہے۔


3- مغربی مادیت اور عقل پرستی۔

جدید دنیا نے اللہ کی وحی کے بجائے عقل کو معیار بنا لیا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ خود کفیل ہے، اسے کسی خالق یا دین کی ضرورت نہیں۔

قرآن کہتا ہے:

"أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ" (الفرقان: 43)

"کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا؟"


یہی مادیت انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔

وہ چیزوں کو دیکھتا ہے مگر حقیقت نہیں سمجھ پاتا۔


4- دنیا کی محبت اور مفادات۔

اسلام کا قبول کرنا صرف عقیدہ نہیں بلکہ ایک انقلاب ہے۔

یہ دین ظلم، سود، فریب، شراب اور بے حیائی کے نظام کو توڑ دیتا ہے۔

لہٰذا وہ لوگ جو ان چیزوں میں مفاد و انکی محبت رکھتے ہیں، وہ اسلام سے ڈرتے ہیں۔


قرآن کہتا ہے:

"ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ" (النحل: 107)

"یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا۔"


یعنی دنیا کی وقتی آسائش نے انہیں دائمی کامیابی سے دور کر دیا۔


5- غلط فہمیاں اور پروپیگنڈہ۔

کئی لوگ اسلام کے خلاف نہیں، بلکہ اسلام کی غلط تشریح کے خلاف ہیں۔

انہیں وہ اسلام نہیں دکھایا گیا جو قرآن و سنت کا اصل چہرہ ہے۔

اسلام دشمن طاقتوں نے صدیوں سے اسلام کو شدت پسندی، جبر، اور دہشت کے ساتھ جوڑ دیا حالانکہ اسلام تو رحمت، عدل، اور انسانیت کا دین ہے۔ فرمان ربانی ہے

 "يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ" (النساء: 46)

"وہ باتوں کو ان کے اصل معنی سے پھیر دیتے ہیں۔"


6- شیطان کا فریب۔

شیطان انسان کو بہکاتا ہے کہ اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہاری آزادی ختم ہو جائے گی، لوگ تمہیں چھوڑ دیں گے، تمہاری زندگی مشکل ہو جائے گی۔ یہ وسوسہ انسان کے اندر خوف اور تردد پیدا کرتا ہے۔


قرآن مجید کہتا ہے:

"فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ" (الحجر: 39)

"میں زمین میں ان کے لیے (گناہوں کو) خوبصورت بنا دوں گا۔" یعنی شیطان باطل کو دلکش بنا کر دکھاتا ہے، تاکہ حق بھاری لگے۔


 7. روحانی خالی پن۔

آج کا انسان ترقی کے باوجود اندر سے خالی ہے۔ دل میں بے سکونی، بے اطمینانی، اور خوف ہے۔ یہ خلا صرف ایمان سے پُر ہو سکتا ہے۔

فرمان ربانی ہے

"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"(الرعد: 28)

"دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔"


جب انسان اپنی روح سے کٹ جائے تو وہ علم رکھ کر بھی اندھیرا محسوس کرتا ہے۔


 8- آزاد ارادہ اور آزمائش۔

اللہ نے ہر انسان کو اختیار دیا ہے۔ چاہے تو حق کو مان لے، چاہے انکار کرے۔ یہی آزادی آخرت میں حساب کا سبب بنے گی۔

قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ربانی ہے

"وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ" (البلد: 10)

"ہم نے اسے دونوں راستے (خیر و شر) دکھا دیئے۔"


اسلام قبول کرنا صرف علم نہیں بلکہ سچائی کے سامنے جھکنے کا حوصلہ مانگتا ہے۔


 حرف آخر:

اسلام کی سچائی واضح ہے،

انکار کی وجہ دلیل کی کمی نہیں بلکہ دل کی ضد، دنیا کی محبت، اور نفس کی غلامی ہے۔ اللہ تعالی چاہے تو ہدایت دیتا ہے، مگر وہی دل ہدایت پاتا ہے جو جھکنے کے لیے تیار ہو۔


تخلیص:

"اسلام عقل کو تسلیم کرتا ہے، مگر ایمان عقل سے بڑھ کر دل کا اقرار مانگتا ہے۔

سچائی وہی پہچانتا ہے جس کے اندر جھکنے کا حوصلہ ہو۔"


*الدعاء* 

یا اللہ تعالی تیرا ٹریلین ٹریلین بار شکر ہے، یہ تیرا ہم مسلمانوں پر احسان ہے کہ تو نے ہمیں دین اسلام دیا اور ہمیں مسلمان بنایا یعنی اپنے آخری نبی کی امت میں پیدا کیا اور ہم تجھ سے دست بدستہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام پر قائم رکھنا اور اسلام پر ہی مارنا۔


آمین یا رب العالمین


تحریر و تحقیق:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

خادم القرآن و سنت مصطفے۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: ایصالِ ثواب کا حقیقی تصور قرآن و سنت کی روشنی میں


جمعہ 12 دسمبر 2025

 تحریر: انجینئر نذیر ملک سرگودھا


*تمہید*

اسلام وہ کامل و جامع دین ہے جس نے انسان کی زندگی کے ہر مرحلے کے لیے راہِ ہدایت فراہم کی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کا اعلان یوں فرمایا:


> "اليوم أكملتُ لكم دينكم وأتممتُ عليكم نعمتي ورضيتُ لكم الإسلام ديناً"

(المائدہ: 3)


ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔


یہ آیت اس بات کا ابدی اعلان ہے کہ دین اب مکمل ہو چکا ہے۔

لہٰذا اب کوئی نیا طریقہ، رسم یا عبادت ایجاد کرنا نہ صرف غیر ضروری بلکہ ناقابلِ قبول ہے۔


ایصالِ ثواب کی بنیاد — فرمانِ نبوی ﷺ

"إذا مات ابنُ آدم انقطع عملُه إلا من ثلاث: صدقةٍ جارية، أو علمٍ يُنتفع به، أو ولدٍ صالحٍ يدعو له." (مسلم: 1631)

ترجمہ:

جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین کے:

(1) صدقہ جاریہ،

(2) وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، 

3-نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔


 اس حدیث سے اصولی رہنمائی:


1- موت کے بعد عمل کا سلسلہ رک جاتا ہے۔

میت خود کسی عمل سے ثواب نہیں کما سکتی۔


2- البتہ تین ذرائع سے ثواب جاری رہتا ہے:


صدقہ جاریہ جو اس نے اپنی زندگی میں کیا،


علمِ نافع جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں،


اور سب سے اہم: اولادِ صالح کی دعاء ۔


3. حدیث میں “اولادِ صالح” کا ذکر خاص طور پر ہے 

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایصالِ ثواب اولاد کے ذریعے ممکن ہے، عوام الناس کے ذریعے نہیں۔


*قرآن خوانی بطور ایصالِ ثواب — شرعی جائزہ*


ایصالِ ثواب کا اصل مفہوم نبی ﷺ نے واضح کر دیا،

لیکن قرآن خوانی کے ذریعے ثواب پہنچانے کا کوئی عمل یا حکم نہ قرآن میں موجود ہے، نہ سنت میں۔


نبی ﷺ نے کسی میت کے لیے قرآن نہیں پڑھا۔


صحابہ کرامؓ نے بھی نہ قبروں پر تلاوت کی، نہ مخصوص آیات یا سورتوں کو “ایصالِ ثواب” کا ذریعہ بنایا۔


تابعینؒ اور سلف صالحین کے ہاں بھی اس کا کوئی عملی ثبوت نہیں ملتا۔


لہٰذا یہ کہنا کہ “قرآن پڑھ کر ثواب میت کو پہنچتا ہے” شرعی طور پر غیر ثابت عمل ہے۔


*بدعتِ ایصال — عوامی رسموں کی حقیقت*


ہمارے معاشرے میں “ایصالِ ثواب” کے نام پر کئی غیر ثابت رسومات رائج ہو چکی ہیں:

تیجہ، چالیسواں، برسی، اجتماعی قرآن خوانی، فاتحہ خوانی کے کھانے وغیرہ۔

یہ سب ایسے اعمال ہیں جن کی کوئی بنیاد کتاب و سنت میں نہیں۔

یہ رسمیں وقت کے ساتھ دین کا حصہ سمجھ لی گئیں،

جبکہ حقیقت میں یہ سب بدعتِ اضافیہ ہیں — یعنی نیکی کی نیت سے کیا گیا غیر مسنون عمل۔


*اولادِ صالح — حقیقی ایصالِ ثواب کا ذریعہ*


نبی کریم ﷺ نے “اولادِ صالح” کی دعا کو میت کے لیے نفع رساں قرار دیا۔

یہی وہ تعلق ہے جو والدین کے لیے مرنے کے بعد بھی خیر کا سبب بنتا ہے۔


اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 "إنا نحن نحيي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم"(یس: 12)

ترجمہ: ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ان کے اعمال اور ان کے چھوڑے ہوئے اثرات لکھیں گے۔


یہ “آثار” ان نیک اثرات کو ظاہر کرتے ہیں جو میت نے اپنی زندگی میں چھوڑے 

اور اولاد کی نیکی، دعاء، صدقہ اور خدمت انہی آثار میں شامل ہیں۔


*اصولی خلاصہ:*


*نقطہ حکم شرعی*

دین مکمل ہے اضافہ یا تبدیلی حرام

ایصالِ ثواب کے ذرائع صدقہ جاریہ، علم نافع، اولاد صالح

قرآن خوانی بطور ایصال غیر ثابت، غیر مشروع

“امیدِ رحمت” کا جواز عبادت کے ثبوت کا متبادل نہیں

عوامی ایصال و رسوم بدعت و رسمِ جاہلیت

حقیقی ایصال اولاد صالح کی دعا و نیکی


*الدعاء*

> یا اللہ! ہمیں وہی دین ماننے اور اپنانے کی توفیق عطا فرما

جو تیرے محبوب ﷺ نے سکھایا۔

ہمیں بدعات و خرافات سے محفوظ رکھ،

ہماری اولاد کو صالح بنا کر ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنا دے،

اور امتِ مسلمہ کو کتاب و سنت کی روشنی میں ایک کر دے۔

آمین یا رب العالمین۔


📚 حوالہ جات

القرآن الکریم: سورۃ المائدہ 3، سورۃ یس 12

صحیح مسلم: حدیث 1631

مسند احمد: 3/55

الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیہ: 5/365


تحقیق و تحریر؛

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: تمباکو، سگریٹ، پان، نسوار اور حقہ کا قرآن و حدیث کی روشنی میں شرعی حکم


ہفتہ 13 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینئر نذیر ملک  سرگودھا


1- تمہید:

شریعتِ مطہرہ کا بنیادی اصول ہے کہ جو چیز انسان کے جسم، عقل، صحت یا معاشرے کے لئے نقصان دہ ہو، وہ ممنوع ہے۔

تمباکو نوشی، سگریٹ، حقہ، پان اور نسوار اگرچہ قرآن و حدیث کے زمانے میں موجود نہ تھے، مگر حرمت کے اصول موجود تھے جن پر قیاس کیا جاتا ہے۔

جب کوئی نئی چیز تین باتیں رکھتی ہو:

1. بدن کو نقصان دے

2. لت ڈالے (Addiction)

3. مال و وقت ضائع کرے

تو ایسی چیز حرام یا شدید مکروہِ تحریمی قرار پاتی ہے۔


2۔ تمباکو اور سگریٹ کا تاریخی پس منظر


تمباکو کی ایجاد 15ویں صدی کے بعد ہوئی۔

پہلے ہی صدی میں علماء نے لکھ دیا کہ:

✓ اس کی بدبو خبیث ہے

✓ یہ جسم کو گزند پہنچاتا ہے

✓ اور مال کا ضیاع ہے


اس لیے اسے حرام یا مکروہِ تحریمی قرار دیا گیا۔


3۔ قرآن مجید سے دلائل


(1) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو

﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ (النساء: 29)


سگریٹ، نسوار اور پان:


– پھیپھڑوں کا کینسر

– دل کی بیماریاں

– خون کی نالیوں کا بند ہونا

– دانت، ہاضمہ اور دماغ پر اثر


یہ سب ہلاکتِ نفس میں شامل ہیں۔


(2) فضول خرچی کی حرمت


 ﴿وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ (الاعراف: 31)


سگریٹ اور پان پر روزانہ، ماہانہ اور سالانہ ہزاروں روپے ضائع ہوتے ہیں۔

اسلام اسے گناہ قرار دیتا ہے۔


(3) خبیث چیزوں کی حرمت

 وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِث (اعراف: 157)


بدبو، گندگی، منہ کا کالا ہونا، تھوک پھینکنا، ماحول گندا کرنا۔ یہ سب خبیث کی علامات ہیں۔


4۔ احادیثِ مبارکہ سے دلائل


(1) نقصان دہ چیزیں حرام ہیں

نبی ﷺ نے فرمایا:

 "لا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ" (ابن ماجہ)


سگریٹ اور نسوار:

✓ پینے والے کو نقصان

✓ ساتھ بیٹھے والوں کو بھی نقصان (Passive Smoking)


یہ حدیث ان سب پر صریحاً لاگو ہوتی ہے۔


(2) فرشتوں کو بدبو سے تکلیف ہوتی ہے


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 "من أكل ثوماً أو بصلاً فلا يقربن مسجدنا" (مسلم)


جب پیاز کی بدبو سے مسجد میں آنے سے ممانعت ہے

تو سگریٹ اور پان کی بدبو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے۔


(3) جسم اللہ کی امانت ہے إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا"   (بخاری)


انسان کو اللہ کی عطا کردہ صحت کو ہلاک کرنے کا کوئی حق نہیں۔


5۔ فقہائے اربعہ کا فیصلہ

اگرچہ سگریٹ اور تمباکو نبی ﷺ کے زمانے میں نہ تھے،

لیکن اصولی حکم موجود ہے۔


تمام مکاتبِ فکر کے علماء کی متفقہ رائے:

✓ سگریٹ = حرام یا مکروہِ تحریمی۔

✓ نسوار = حرام (نشہ آور + شدید نقصان دہ)

✓ پان (اگر تمباکو شامل ہو) = حرام

✓ حقہ = حرام یا مکروہِ تحریمی


دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ۔

تقریباً ہر مکتب فکر کے جدید فتاویٰ اس کی حرمت پر ہیں۔


6۔ میڈیکل تحقیقات (عصر حاضر کی سائنسی دلیل)

جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ یہ چیزیں:

✓ پھیپھڑوں کا کینسر

✓ دل کے دورے

✓ فالج

✓ سانس کی شدید بیماریاں

✓ دانت، معدہ اور جگر کی بیماریاں

✓ خواتین اور بچوں کی صلاحیت میں کمی

✓ انسان کو premature aging


سب کچھ سگریٹ، نسوار، پان اور حقہ سے ہوتا ہے۔


یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ “ہلاکت” کا سبب ہیں۔


7۔ بدبو، فضول خرچی اور امانتِ بدن


✓ بدبو

مسجد، گھر، دفتر اور سوسائٹی میں تکلیف کا سبب۔


✓ فضول خرچی

سگریٹ پر عمر بھر میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔


✓ بدن کی امانت

اسلام جسم کو ضائع کرنے سے منع کرتا ہے۔


8۔ پان، نسوار اور حقہ کا جداگانہ حکم


(1) نسوار


– انتہائی نقصان دہ

– نشہ آور

– لعاب اور تھوک کا گندا استعمال یقینی طور پر حرام


(2) پان (تمباکو والا)


– سرطان کا سبب

– منہ کی بدبو

– تھوک پھینک کر گندگی

→ حرام


(3) حقہ

– سگریٹ سے زیادہ بدبودار

– دھواں مرتکز

→ حرام یا کم از کم مکروہِ تحریمی


9۔ سماجی و اخلاقی نقصان


– بچے متاثر ہوتے ہیں

– گھر کی عورتیں passive smoker بن جاتی ہیں

– معاشرے میں گندگی پھیلتی ہے

– غریب لوگ روٹی چھوڑ کر حقہ اور نسوار پر خرچ کرتے ہیں

– ایک بری لت پوری زندگی نہیں چھوڑتی۔


10۔ شرعی حکم (Final Verdict)


قرآن، سنت، فقہ اور سائنس کی روشنی میں:


✓ سگریٹ = حرام

✓ نسوار = حرام

✓ پان (تمباکو والا) = حرام

✓ حقہ = حرام یا مکروہِ تحریمی

✓ تمباکو = حرام


یہ سب چیزیں خبیث + مضر + ہلاکت خیز + فضول خرچی + بدبودار + لت پیدا کرنے والی ہیں۔

لہٰذا ان کا استعمال گناہ ہے۔


11۔ خاتمہ

اسلام کا مزاج صحت مند معاشرہ، پاک زندگی اور نفس کی حفاظت ہے۔


تمباکو نوشی نہ صرف اپنی صحت بلکہ بچوں، اہل خانہ اور پورے معاشرے کے لئے خطرہ ہے۔

اسے چھوڑنا نہ کہ صرف عبادت ہے بلکہ سنتِ نبوی ﷺ پر عمل بھی۔


12۔ حوالہ جات

قرآن مجید

صحیح بخاری

صحیح مسلم

سنن ابن ماجہ

سنن ترمذی

فتاویٰ علمائے دیوبند

فتاویٰ برّ صغیر

مجمع الفقہ الاسلامی

WHO Medical Reports on Tobacco

American Cancer Society Reports


الدعاء 

یا اللہ تعالی ہمیں ہر اس شے اور لت سے محفوظ فرما جو بنی نوح انسان کیلئے نقصان دہ ہوں اور تیرے ہاں گناہ کا باعث ہوں۔ 

ہر ذی شعور انسان کو اپنی صحت کا بہترین خیال رکھنا ضروری ہے ۔ وہ اشیاء جو مضر صحت ہوں ان سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے اور مسلمانوں کیلئے خصوصا" شرعی طور پر ممنوع و مکروہ و حرام اشیاء سے بچنے اور چھوڑنے کا حکم ہے۔


علماء اکرام سے گزارش ہے کہ ان اشیاء سے اصولی طور پر اتم پرہیز کریں کیونکہ عام شہری پر علماء معاشرے کے لئے مثالی کردار رکھتے ہیں۔


وما علینا الا البلاغ المبین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *پاکستان مین مذھبی اختلاف رائے علمی اختلاف نہ رہا بلکہ ایمان و کفر کی جنگ بن گیا ہے*


اتوار 13 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


فرقہ واریت: عقیدے کی خرابی یا فہمِ دین کا بحران؟


پاکستان آج جس فکری، دینی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ عقائد کی بگاڑ نہیں بلکہ عقائد کے فہم میں بگاڑ ہے۔ ہر فرقہ اپنے پاس موجود علم، تعبیر اور روایت کو مکمل حق سمجھ کر مطمئن ہے، اور دوسرے کو نہ صرف گمراہ بلکہ بعض اوقات کافر قرار دینے میں بھی تامل نہیں کرتا۔ یہ طرزِ فکر نہ قرآن کی تعلیم ہے اور نہ سنتِ رسول ﷺ کا مزاج۔


*دین، فرقہ نہیں تھا*

قرآن مجید نے دین کو ایک وحدت کے طور پر نازل کیا تھا، فرقوں کے مجموعے کے طور پر نہیں:

إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً

(الانبیاء: 92)


لیکن جب دین کو گروہی شناخت بنا دیا گیا تو قرآن پس منظر میں چلا گیا اور مسلک مرکز بن گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاف رائے علمی اختلاف نہ رہا بلکہ ایمان و کفر کی جنگ بن گیا۔


اختلاف رائے علمی اختلاف نہ رہا بلکہ ایمان و کفر کی جنگ بن گیا


*تکفیر: سب سے خطرناک ہتھیار*

اسلام میں کسی کو کافر قرار دینا معمولی بات نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا۔ اس کے باوجود آج کفر کے فتوے اتنی آسانی سے دیے جا رہے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی رائے ہو۔ حالانکہ قرآن واضح ہدایت دیتا ہے:

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا(النساء: 94)


یہ رویہ صرف دینی فساد نہیں بلکہ معاشرتی تباہی کا سبب بھی بن رہا ہے، جہاں الزام، مقدمات، قتل اور توہینِ مذہب کے نام پر جانیں لی جا رہی ہیں۔


*علم کی کمی نہیں، ادبِ علم کی کمی ہے*


اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ فرقہ واریت کی وجہ تعلیم کی کمی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ تعلیم کی کمی سے زیادہ ادبِ اختلاف کی کمی ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ صحابہؓ اور ائمہ کے درمیان اختلاف تھا، مگر:

نہ فتوے بازی

نہ گالم گلوچ

نہ قتل و غارت


آج اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں علم جہالت بن جاتا ہے۔


*علماء اور منبر کی ذمہ داری*

اسلام نے علماء کو اصلاح کا ذریعہ بنایا تھا، اشتعال کا نہیں:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ

(النحل: 125)


جب منبر سے نفرت، تکفیر اور اشتعال پھیلایا جائے تو عوام جذباتی ہو جاتی ہے اور پھر دین عقل کے بجائے ہجوم کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔


*قانون، ریاست اور مذہب*

اسلام میں سزا دینے، الزام ثابت کرنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار صرف ریاست کو ہے، افراد یا گروہوں کو نہیں۔ جب ہر شخص خود کو قاضی، مفتی اور جلاد سمجھنے لگے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے، ریاست نہیں۔


اصل علاج کیا ہے؟


اصل علاج کسی ایک فرقے کی بالادستی نہیں بلکہ:


1.قرآن کو مرکز بنانا، فرقے کو نہیں۔


2.سنتِ نبوی ﷺ کو اخلاق اور کردار میں زندہ کرنا۔


3.اختلاف کو کفر نہ بنانا


4.علم کے ساتھ حلم اور نرمی پیدا کرنا۔


5.سوشل میڈیا کو دعوت کا ذریعہ بنانا، جنگ کا نہیں


*نتیجہ*

جب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ حق صرف ہمارے پاس ہے اور باقی سب باطل ہیں، اس وقت تک نہ اتحاد ممکن ہے اور نہ اصلاح۔ قرآن نے ہمیں فرقہ نہیں، امت بنایا ہے۔ اور امت تب بنتی ہے جب اختلاف کے باوجود دل جڑے رہیں۔

 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا(آل عمران: 103)


🤲 دعا

اے اللہ!

ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق دے،

اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی ہمت عطا فرما،

اور ہمیں دین کے نام پر ایک دوسرے کا دشمن بننے سے محفوظ رکھ۔


آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *عقیقہ: ایک تحقیقی و فقہی مطالعہ*


منگل 16 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ ولادتِ اولاد پر شریعتِ اسلامیہ نے جس عمل کو مشروع قرار دیا ہے، ان میں عقیقہ ایک اہم سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ عقیقہ دراصل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے، بچے کے حق میں خیر و برکت کی دعاء اور معاشرتی خوشی کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ زیرِ نظر مقالہ میں عقیقہ کی حقیقت، اس کی شرعی حیثیت، فقہی مذاہب کے اقوال، دلائل اور متعلقہ مسائل کو تحقیقی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔


*عقیقہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف*


لغوی معنی۔

عربی زبان میں عقیقہ اس بال کو کہتے ہیں جو بچے کے سر پر ولادت کے وقت ہوتا ہے۔


*اصطلاحی تعریف*

شرعی اصطلاح میں عقیقہ اس جانور کو کہتے ہیں جو بچے کی ولادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ بچے کے بال منڈوانا اور نام رکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔


*عقیقہ کی مشروعیت*


قرآن مجید سے استدلال

اگرچہ قرآن مجید میں عقیقہ کا صریح حکم موجود نہیں، لیکن قرآن نے شکر، اطعام اور تقربِ الٰہی کے اعمال کو پسند فرمایا ہے:

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾

(الکوثر: 2)

یہ آیت عمومی طور پر قربانی اور تقربِ الٰہی کے اصول کو بیان کرتی ہے، جس میں عقیقہ بھی داخل ہے۔


عقیقہ کے دلائل (احادیث نبویہ ﷺ)


1.حضرت سلمان بن عامرؓ سے روایت ہے:

 «مَعَ الغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى»

(صحیح بخاری)

ترجمہ: بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے تکلیف دہ چیز دور کرو۔


2.حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:

 «عَنِ الغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الجَارِيَةِ شَاةٌ»(ترمذی)

ترجمہ: لڑکے کی طرف سے دو ہم وزن بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔


3.نبی کریم ﷺ کا اپنا عمل

نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کا عقیقہ فرمایا، جو اس عمل کی عملی سنت ہونے کی واضح دلیل ہے۔


*عقیقہ کی شرعی حیثیت*

جمہور فقہاء کے نزدیک عقیقہ سنتِ مؤکدہ ہے۔

بعض اہلِ علم نے اسے مستحب کہا ہے، لیکن اس کے مشروع اور مسنون ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔


*چاروں فقہی مذاہب کا تقابلی جائزہ*


*فقہِ حنفی*

*عقیقہ مستحب ہے*

لڑکے کے لیے دو اور لڑکی کے لیے ایک جانور افضل


اگر ایک جانور ہو تو بھی جائز۔

ترک کرنے پر کوئی گناہ نہیں


*فقہِ مالکی*

*عقیقہ سنت ہے*

ساتویں دن افضل، بعد میں بھی درست


والد پر استطاعت کے مطابق مشروع


*فقہِ شافعی*

*عقیقہ سنتِ مؤکدہ*


ساتویں دن نہ ہو تو چودھویں یا اکیسویں دن۔

بلوغت سے پہلے تک والد کی ذمہ داری۔


*فقہِ حنبلی*

*عقیقہ سنتِ مؤکدہ*


ساتواں دن مسنون

لڑکے کے لیے دو جانوروں کی تاکید زیادہ ہے


*عقیقہ کا وقت*

افضل اور مسنون: پیدائش کے ساتویں دن


اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو بعد میں کسی بھی دن۔

بعض فقہاء کے نزدیک بالغ ہونے کے بعد خود اپنا عقیقہ کرنا بھی جائز ہے


*عقیقہ کے جانور اور ان کے احکام*

وہی جانور جو قربانی میں جائز ہیں۔


بکری، بکرا

بھیڑ، دنبہ

گائے،اونٹ

جانور عیب سے پاک ہو۔

عمر وہی ہو جو قربانی کے لیے مقرر ہے


*ایک جانور میں کتنے بچوں کا عقیقہ*


بکری / بکرا: ایک بچے کا۔

گائے، اونٹ: سات بچوں تک

یہ حکم قیاساً قربانی کے حکم کے مطابق ہے۔


*عقیقہ کے گوشت کے مسائل*

خود کھانا جائز رشتہ داروں اور فقراء کو کھلانا مستحب


پکا کر تقسیم کرنا افضل

ہڈی توڑنے یا نہ توڑنے کی کوئی شرعی پابندی نہیں۔


*بال منڈوانا اور صدقہ*

ساتویں دن بچے کے بال منڈوانا سنت۔

بالوں کے وزن کے برابر چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کرنا مستحب ہے


اچھا اور بامعنی اسلامی نام رکھنا سنتِ نبوی ﷺ ہے


عقیقہ نہ کرنے کی صورت


عقیقہ واجب نہیں

ترک پر کوئی گناہ نہیں

بچے پر کوئی نحوست یا شرعی نقصان لازم نہیں آتا

استطاعت ہو تو کرنا باعثِ اجر و برکت ہے


عصرِ حاضر میں پائی جانے والی غلط فہمیاں


1.عقیقہ واجب سمجھنا (غلط)۔



2.عقیقہ نہ ہونے کو بچے کے لیے نقصان دہ سمجھنا (غلط)


3.ہڈی توڑنے کو منع سمجھنا (بے اصل)


نتائجِ تحقیق

عقیقہ سنتِ نبوی ﷺ اور مشروع عبادت ہے

اس کا مقصد شکرِ الٰہی، اعلانِ نعمت اور معاشرتی تعاون ہے۔

چاروں فقہی مذاہب اس کی مشروعیت پر متفق ہیں۔

اختلاف صرف جزوی اور فروعی مسائل میں ہے


خاتمہ

عقیقہ اسلام کی حسین اور بابرکت سنت ہے جو والدین کو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر شکر گزار بناتی ہے اور بچے کے حق میں خیر و برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے سنت کے مطابق اس عمل کو انجام دیں اور غیر شرعی رسومات سے اجتناب کریں۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی ہمیں دینی احکامات تیرے نبی کی سنت کے مطابق سر انجام دینے کی توفیق عطا فرما۔


آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *نکاح کو آسان بناؤ اور زنا کو مشکل کرو*


بدھ 17 دسمبر 2025

تحقیق و تحرہر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی فطرت کے تمام تقاضوں کو حکمت اور اعتدال کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ انسان کے اندر جنسی میلان ایک فطری جذبہ ہے، جسے اسلام نے دبانے کے بجائے نکاح کے پاکیزہ بندھن کے ذریعے جائز، باوقار اور محفوظ راستہ عطا فرمایا۔ لیکن جب معاشرے میں نکاح کو مشکل اور مہنگا بنا دیا جائے اور زنا کے اسباب عام ہو جائیں تو نتیجہ اخلاقی زوال، خاندانی انتشار اور روحانی تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام کا بنیادی اصول ہے:

"نکاح کو آسان بناؤ اور زنا کو مشکل کرو"۔


*اسلام میں نکاح کی اہمیت*


نکاح محض سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبادت اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 "اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے"

(بخاری، مسلم)


یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نکاح نہ صرف اخلاقی حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ زنا سے بچاؤ کی مضبوط دیوار بھی ہے۔


*نکاح کو مشکل بنانے کی موجودہ صورتیں*


آج کے معاشرے میں نکاح کو مختلف غیر شرعی اور غیر فطری پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے، مثلاً:


1- بھاری حقِ مہر اور جہیز۔


2- فضول رسومات اور اسراف۔


3- ذات، برادری اور معاشی معیار۔


4- غیر ضروری تعلیم یا عمر کی شرط۔


5- نکاح میں تاخیر کو فخر سمجھنا۔


یہ تمام رکاوٹیں شریعت کی روح کے خلاف ہیں اور نوجوانوں کو حرام کی طرف دھکیلنے کا سبب بنتی ہیں۔


*زنا کی تباہ کاریاں*


زنا کو اسلام نے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے کیونکہ اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔


قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾

(بنی اسرائیل: 32)


زنا کے نتیجے میں:

*خاندانی نظام تباہ ہوتا ہے

*نسب مشکوک ہو جاتے ہیں

*اخلاقی اقدار ختم ہو جاتی ہیں

*بیماریاں اور ذہنی انتشار پھیلتا ہے


اسلام نے زنا کو مشکل کیسے بنایا؟


اسلام نے صرف زنا سے منع نہیں کیا بلکہ اس کے تمام راستے بھی بند کیے:


*نگاہ نیچی رکھنے کا حکم

*پردے کا نظام

*خلوت سے ممانعت

*فحاشی کے فروغ پر پابندی

*غیر محرم سے غیر ضروری

*اختلاط کی ممانعت۔


یہ سب اقدامات زنا کو مشکل اور معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے ہیں۔


*نکاح کو آسان بنانے کی اسلامی تعلیمات*


نبی کریم ﷺ نے فرمایا

 "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو (بیہقی)


اسلام سادگی، سہولت اور آسانی کا دین ہے:


*کم مہر کی ترغیب۔

*ولی کی رضامندی کے ساتھ سادہ نکاح

*جہیز کی نفی

*فوری نکاح کی حوصلہ افزائی۔


ذمہ دار کون؟


نکاح کو مشکل بنانے اور زنا کے اسباب عام کرنے میں:

*والدین

*معاشرہ

*میڈیا

*خود نوجوان۔


*ہم سبھی کسی نہ کسی درجے میں ذمہ دار ہیں۔ اصلاح بھی سب کو مل کر کرنی ہوگی۔*


*عملی تجاویز*

1.سادہ نکاح کو فروغ دیا جائے۔

2.غیر ضروری رسومات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

3.مساجد میں نکاح کو ترغیب دیا جائے۔ 

4.والدین میں دینی شعور پیدا کرنا

5.میڈیا پر فحاشی کے خلاف آواز اٹھائی جائے

6.نوجوانوں میں تقویٰ اور خود احتسابی پیدا کی جائے


*حصول نتائج کیلئے*

اگر ہم واقعی میں ایک پاکیزہ، مضبوط اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کے اس سنہری اصول کو اپنانا ہوگا کہ نکاح کو آسان بنایا جائے اور زنا کے تمام راستوں کو مشکل اور بند کیا جائے۔ ورنہ اخلاقی بگاڑ، خاندانی انتشار اور اللہ کی ناراضی ہمارا مقدر بن جائے گی۔


اے عقل و دانش والے لوگو یاد رہے:

فرمان ربانی ہے

اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔

THERE IS NO PARTIALLY ISLAM.

 پکا مسلمان بننا ہے تو اللہ تعالٰی کے سب احکامات ماننے پڑیں گے اور اپنی عبادات اور افعال نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کی سنت کے مطابق کرنے ہونگے۔

یہ نہیں ہو سکتا ہے ہم اللہ تعالی کی آسان آسان باتیں یعنی اپنی پسند کی باتوں پر عمل کریں لیکن جہاں آپکی مرضی پر آنچ آنے لگے تو ان امور سے کنارہ کشی اختیار کر جائیں۔


اے لیبرل مسلمانو!

کان کھول کر سن لو۔

1- اسلام میں بارات کو کوئی تصور نہیں۔


2- اسلامی نکاح میں ذیل کی فضول رسومات کا کہیں ذکر نہیں۔


3- منگنی کی تقریب، تیل، مائیوں مہندی ابٹن، دلہے اور دلہن کی سلامی، دلہن کی منہ دیکھائی جیسی فضول اور غیر شرعی رسومات کا کوئی وجود نہیں۔ 

 

4- شادیوں میں نکاح کی روٹی لڑکی والوں کے طرف سے کھانے کا کوئی تصور نہیں۔


5- شادی میں بینڈ باجے، کنجر خانے ڈھول ڈھماکے  ہوائی فائرنگ کا کوئی تصور نہیں۔


6- گھوڑی بگھی، میوزک کنسرٹ اور مجرے اور مرد و زن کا اختلاط سب حرام حرام اور قطعی حرام۔


دلہن اور دلہے پر نوٹ نچھاور اور ڈالر برسانے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ دکھاوا ہے اور دین میں دکھاوا حرام ہے۔

 

*اختتامی دعاء*

اے اللہ! ہمیں تیرے احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمارے معاشرے کو فحاشی اور بے حیائی سے پاک فرما، اور نکاح کو ہمارے لیے آسان اور بابرکت بنا دے۔

 آمین یا رب العالمین 


وما علینا آلا البلاغ المبین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *توبہ: فقط ندامت نہیں، انقلابِ کردار کا نام ہے*


جمعہ 19 دسمبر 2025

انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

*آخرت کی کامیابی کا قرآنی معیار*


اسلام میں جزا و سزا کا آخروی نظام محض دعوؤں، زبانی تمناؤں اور وقتی جذبات پر قائم نہیں، بلکہ ایمانِ صادق، عملِ صالح، مجاہدۂ نفس اور خلوصِ نیت پر مبنی ہے۔ قرآنِ کریم بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ جنت محض خواہشات کا نام نہیں بلکہ ایک کڑی آزمائش کے بعد عطا ہونے والا انعام ہے:


﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ﴾


کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم یونہی جنت میں داخل کر دیے جاؤ گے، حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے تھے؟


یہ آیت واضح کرتی ہے کہ آخرت میں کامیابی ایک شعوری جدوجہد کا ثمر ہے، نہ کہ غفلت کے ساتھ جینے کا صلہ۔


گناہ پر اصرار اور آخرت کی سزا


عوام الناس میں ایک سنگین فکری لغزش یہ پیدا ہو چکی ہے کہ آدمی گناہ بھی کرتا رہے اور توبہ کے چند الفاظ دہرا کر خود کو نجات یافتہ سمجھ لے۔ حالانکہ قرآن مجید ایسے رویّے کو سخت وعید کے ساتھ رد کرتا ہے:


﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ﴾


ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں جو گناہ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہوتی ہے تو کہتا ہے: اب میں توبہ کرتا ہوں۔


احادیثِ نبویہ میں بھی گناہ پر ڈھٹائی کو دل کی سختی اور آخرت کی محرومی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے تو مٹ جاتا ہے، اور اگر گناہ بڑھاتا رہے تو دل سیاہ ہو جاتا ہے۔


یہ دل کی وہی کیفیت ہے جو آخرت میں اندھے پن اور خسارے کا باعث بنتی ہے۔


توبۂ نصوح: نجات کا واحد راستہ:

قرآنِ کریم نے جس توبہ کو قابلِ قبول قرار دیا ہے اسے توبۂ نصوح کہا گیا:


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾


اے ایمان والو! اللہ کی طرف سچی توبہ کرو۔


علمائے امت کے نزدیک توبۂ نصوح کے چار بنیادی ارکان ہیں:


1.ندامتِ قلبی: گناہ پر سچے دل سے شرمندگی، کیونکہ ندامت ہی توبہ کی جان ہے۔


2.ترکِ معصیت: فوراً گناہ کو چھوڑ دینا، اس پر قائم نہ رہنا۔


3.عزمِ صادق: آئندہ اس گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ۔


4.ادائے حقوق العباد: اگر کسی بندے کا حق مارا ہو تو اس کی تلافی۔


یہی وہ توبہ ہے جو آخرت میں عذاب کو رحمت سے بدل دیتی ہے۔


وعدہ شکنی اور آخرت کی دو عملی


اللہ تعالیٰ سے کیا گیا وعدہ معمولی نہیں۔ قرآن منافقین کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ﴾


وہ اللہ اور اہلِ ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے ہی آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔


جو شخص زبان سے توبہ کرے اور عمل سے گناہ پر قائم رہے، وہ آخرت میں دوہرے خسارے کا شکار ہو گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ نیکیوں کے پہاڑ لے کر آئیں گے مگر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے سبب ان کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی۔


تقدیر اور ذمہ داری کا توازن


تقدیر پر ایمان اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، مگر تقدیر کو گناہ کا بہانہ بنانا سخت گمراہی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا﴾


جو نیکی کرے گا وہ اپنے لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہو گا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے، اسی اختیار کی بنیاد پر آخرت میں حساب ہو گا۔ تقدیر کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ کوشش بندے کی ہو اور نتیجہ اللہ کے سپرد۔


گندی نالی کی مثال: تطہیرِ نفس کا قرآنی اصول


اگر کوئی قیمتی چیز گندی نالی میں پڑی رہے اور اس پر اوپر سے پانی بہایا جاتا رہے تو وہ کبھی پاک نہیں ہو سکتی، جب تک اسے نالی سے نکالا نہ جائے۔ یہی حال دل کا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:


﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾


یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے آلودہ رکھا۔


گناہ کو چھوڑے بغیر محض دعاؤں اور توبہ کے الفاظ سے دل پاک نہیں ہوتا۔ ترکِ معصیت ہی اصل تطہیر ہے۔


حاصلِ کلام: نجات کا جامع قرآنی نسخہ*


سچی توبہ آخرت میں نجات کی کنجی ہے، مگر یہ توبہ کردار کی تبدیلی کے بغیر معتبر نہیں۔ اللہ کی رحمت بے شک وسیع ہے، لیکن اس رحمت تک پہنچنے کا راستہ اخلاص، اطاعت اور مسلسل اصلاح سے ہو کر گزرتا ہے۔


آئیے! ہم گناہ پر اصرار چھوڑیں، توبہ کو کھیل نہ بنائیں، اور اپنے قول و عمل کو ایک ہی سمت میں لے آئیں، تاکہ آخرت میں ہم جزا کے مستحق ہوں، سزا کے نہیں۔


وما علینا إلا البلاغ المبین


حواشی و حوالہ جات (قرآن و حدیث)


1.سورۃ البقرۃ 2:214  جنت کے حصول سے قبل آزمائش کا قانون۔


2.سورۃ النساء 4:18 جان بوجھ کر گناہ پر قائم رہنے والوں کی توبہ کی عدمِ قبولیت۔


3.سورۃ التحریم 66:8  توبۂ نصوح کا قرآنی حکم۔


4.سورۃ الشمس 91:9–10 — تزکیۂ نفس میں کامیابی اور اس کے ترک میں ناکامی۔


5.سورۃ فصلت 41:46 — عمل اور اس کے انجام کی ذاتی ذمہ داری۔


6.سورۃ البقرۃ 2:286 انسان کی وسعتِ اختیار اور جواب دہی کا اصول۔


احادیثِ نبویہ ﷺ


7.الندم توبۃ — ندامت ہی توبہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد)


8.دل پر سیاہ نکتہ لگنے والی حدیث — (سنن ترمذی، کتاب التفسیر، سورۃ المطففین)


9.حقوق العباد کی ادائیگی اور مفلس کی حدیث — (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ)


10.اللہ کی رحمت اور سچی توبہ قبول ہونے کی حدیث — (صحیح بخاری، کتاب الدعوات)


احقر العباد:

انجینیئر نذیر ملک

سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: قرآن مجید میں کبیرہ گناہ جن پر حد لگتی ہے


 ہفتہ 20 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


قرآن مجید میں کچھ کبیرہ گناہوں کا ذکر ہے جن پر حدود (مقرر سزائیں) نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان گناہوں کی شدت اور نوعیت کی وجہ سے انہیں کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

قرآن مجید میں صراحتاً جن کبیرہ گناہوں کی سزائیں (حدود) بیان کی گئی ہیں وہ درج ذیل ہیں:


زنا (Adultery/Fornication): قرآن میں زنا کی سزا 100 کوڑے مقرر کی گئی ہے (سورۃ النور، آیت 2)۔


 شادی شدہ افراد کے لیے رجم (سنگسار) کی سزا احادیث سے ثابت ہے۔


تہمت (جھوٹی تہمت برائے زنا - Qazaf): پاک دامن عورتوں پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی سزا 80 کوڑے ہے (سورۃ النور، آیت 4)۔


چوری (Theft): چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے (سورۃ المائدہ، آیت 38)۔


راہزنی/فساد فی الارض (Highway Robbery/Mischief in the land): اس کی سزا حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، جیسے موت، سولی دینا، مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹنا، یا جلاوطنی (سورۃ المائدہ، آیت 33)۔ 


دیگر کبیرہ گناہ جن پر حدود کا نفاذ ہوتا ہے (سنت سے ثابت):


شراب نوشی (Drinking Alcohol): اگرچہ قرآن میں اس کی براہ راست حد بیان نہیں ہوئی، لیکن احادیث میں اس کی سزا 80 کوڑے مقرر ہے۔


ارتداد (Apostasy): اس کی سزا موت ہے، جو اسلامی فقہاء کے اجماع اور احادیث سے ثابت ہے۔

 

یہ بات اہم ہے کہ حدود کے نفاذ کے لیے شریعت میں بہت سخت شرائط اور ثبوت درکار ہوتے ہیں تاکہ بے گناہوں کو سزا سے بچایا جا سکے۔ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس گناہ پر دنیا میں حد مقرر ہو یا آخرت میں سخت وعید ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی  مجھے ہر قسم کی برائی سے محفوظ فرما اور جو کبیرہ و صغیرہ گناہ مجھ سے سرزد ہوگئے ہیں وہ مجھے معاف فرما دے۔  

یا غفور رحیم جو حقوق العباد مجھے سے جس کسی کے بھی غضب ہو گئے ہیں ان کی معافی کو تو ذمہ دار بن جا۔

آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: “انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے خود کوشش کی”

(النجم: 39)


اتوار 21 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


آج ہمارے معاشرے میں یہ تصور بہت عام ہو چکا ہے کہ

“اگر مرنے والے کے لیے کچھ پیسے خرچ کر دیے جائیں،

قرآن خوانی کرا دی جائے،

یا کسی بڑے عالم دین کو بلا کر  دعاء کروا دی جائے، تو میت کی بخشش ہو جاتی ہے۔”


یہ سوچ بظاہر ہمدردی پر مبنی لگتی ہے،

لیکن کیا واقعی یہ تصور قرآن و سنت سے ثابت ہے؟

یا یہ محض ایک رواجی تسلی ہے؟


*اصل اصول: نجات پیسے سے نہیں، اعمال سے ہے*


قرآنِ مجید ایک بنیادی اصول واضح کرتا ہے:

“انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے خود کوشش کی”

(النجم: 39)


اور یہ بھی فرمایا:

 “ہر جان اپنے کیئے کا خود ذمہ دار ہے” (المدثر: 38)


اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ:

کوئی شخص اپنے اعمال کے بغیر نجات نہیں پا سکتا۔

اور کوئی دوسرا محض مال دے کر اس کا حساب نہیں بدل سکتا۔


اسلام میں مغفرت خریدی نہیں جاتی، بلکہ اللہ کی رحمت اعمال صالح اور فضل سے ملتی ہے۔


 غلط فہمی کہاں سے پیدا ہوئی؟

ہمارے ہاں آہستہ آہستہ یہ تصور بن گیا کہ:

*اتنی رقم میں ختم دلوا دیں

*فلاں رقم میں قرآن خوانی۔*فلاں دن اتنا خرچیں “اب تو بخشش ہو جائے گی”

 قرآن مجید تو کہہ رہا ہے کہ اے عقل و دانش والو! میری آیات پر غور کرو۔


یہ سب باتیں:

*نہ قرآن سے ثابت ہیں

*نہ نبی کریم ﷺ سے

*نہ صحابہ کرامؓ کے عمل سے


یہ زیادہ تر:

 رسموں، سماجی دباؤ اور جذباتی تسلیوں کا نتیجہ ہیں

اور قرآن، حدیث اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا علم کے نہ ہونے کی وجہ ہیں۔

ہمارے ہاں دینی علوم خود سیکھنے کا رجحان مفقود ہوتا جا رہا ہے اور ہمارے ہاں بھی بس مذھبی طبقے پر انحصار ہے کہ مولانا صاحب کی خدمت کرتے جاو اور وہ آپ کے اور آپ کے کنبہ کے لئے قرآن پڑھ پڑھ کر آپ کو بخشتا رہے گا اور ایصال ثواب کرتا رہے گا اور آپ بس مزے کرتے ہیں عیاشی کرتے رہیں اس طریقہ سے آپ ایک بخشی ہوئی روح ہیں اور آپکی جنت پکی۔

 [لاحول ولا قوۃ الا باللہ]

 

یہ عقائد قرآن و سنت سے ماخوذ نہیں بلکہ علماء سو کی چالاکیاں ہیں اور مال بٹورنے کا بہانہ ہیں۔ کیونکہ عوام دور حاضر میں ہر مشکل کام کا شارٹ کٹ چاہتی پے اور یہی طبقہ علماء سو، پیروں، فقیروں کی خوراک ہے اور انھی کے ہاتھوں ان جہلاء ک عاقب لٹ رہی ہے۔ 


*ایک دلچسپ آفر*

*ایک حضرت مولانا صاحب نے ایک نایاب آفر متعارف فرمائی ہے کہ دو لاکھ سولہ ہزار روپے سالانہ ان کے اکاؤنٹ میں جمع کراتے جائیں آپ سال بھر نماز روزے کے فرائض سے بری الذمہ ہو جائیں*


لاحول ولا قوۃ الا باللہ 

حضرات قرآن تو اعلان فرماتا ہے کہ میری آیات کو کم قیمت پر مت بیچو! لیکن ان علماء سو نے عبادات بھی بیچ ڈالیں۔ 


سورۃ محمد — آیت 24

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا۔

ترجمہ:

کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟

یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں


✅ لیکن کیا مردے کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے؟


یہاں ایک بہت اہم توازن سمجھنا ضروری ہے۔


اسلام یہ نہیں کہتا کہ:

 “مرنے کے بعد کچھ بھی فائدہ نہیں”


بلکہ اسلام کہتا ہے:

“فائدہ صرف مشروع طریقے سے ہوگا”


*وہ کام جو واقعی میت کو فائدہ دیتے ہیں*


1️⃣ دعا اور استغفار

یہ سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ ہے۔


قرآن کہتا ہے

“اے اللہ! ہمیں اور ہمارے ایمان والے بھائیوں کو بخش دے” (الحشر: 10)


دعا میں:

*نہ پیسہ لگتا ہے

*نہ دکھاوا ہے

*مگر اثر بہت گہرا ہوتا ہے


2️⃣ صدقہ عن المیت


اگر کوئی:

پانی کا کنواں بنوا دے

کسی ضرورت مند کی مدد کردے۔

اور ثواب میت کو پہنچائے

تو یہ حدیث سے ثابت ہے۔

نبی ﷺ نے صدقہ کو جائز قرار دیا۔


3️⃣ میت کا قرض ادا کرنا۔

اگر مرنے والے پر قرض تھا:

تو اس کی ادائیگی

میت کے لیے بہت بڑی راحت ہے۔

یہ صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔


4️⃣ حج یا عمرہ بدل۔

اگر میت نے حج نہ کیا ہو:

تو اس کی طرف سے میت کے ترکہ سے کسی کو حج بدل کرانا۔ حدیث سے ثابت ہے


🚫 وہ کام جو فائدہ نہیں دیتے۔

ہمیں سچ بولنا ہوگا، چاہے وہ کڑوا ہو:


❌ پیسوں کے عوض قرآن پڑھوانا۔

❌ ختم کی “فیس” مقرر کرنا۔

❌ یہ کہنا: “اب تو بخشش پکی”

❌ رسمیں: تیجہ، دسواں، چالیسواں (لازم سمجھ کر)


ان سب پر:

*نہ نبی ﷺ کا عمل ہے

*نہ ہی صحابہؓ کا

*نہ کسی امام کا واضح حکم


اصل خرابی کہاں ہے؟


اصل خرابی یہ ہے کہ:

*ہم خود عمل نہیں کرنا چاہتے۔


*ذمہ داری پیسے پر ڈال دیتے ہیں۔

*اور دل کو جھوٹی تسلی دے لیتے ہیں


جبکہ دین ہمیں سکھاتا ہے:

*مال وسیلہ بن سکتا ہے،

متبادل نہیں۔


*ایک سادہ سی بات*

اگر واقعی ہم اپنے مرحومین سے محبت کرتے ہیں تو:


*ان کے لیے دعا کریں

*ان کے قرض اتاریں

*صدقہ کریں

*اور خود نیک بنیں۔


کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: “جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال رک جاتے ہیں،

سوائے تین چیزوں کے…”

1- صدقہ جاریہ

2- علم نافع

3- اولاد صالح( یہ بخشش کا زبردست ذریعہ ہے)


[*آخری پیغام*


یاد رکھیں:

بندے کی مغفرت کا فیصلہ

*نہ قاری کرتا ہے،

*نہ پیسہ نہ پیر فقیر

بلکہ صرف اور صرف اللہ کرتا ہے۔


آئیے:

*دنیا کی رسموں سے نکلیں۔

*اللہ کے حکم اور سنت رسول اللہ کی طرف لوٹیں۔

اور اپنے مرحومین کے لیے وہ کریں جو انکی ضرورت ہے۔

اور جو واقعی ان کے کام آئے۔


*اے مسلماں!

کر لے ذرا غور!۔

اپنی زندگی میں اعمال قرآن و سنت کے مطابق کریں۔ 

قرآن پڑھیں سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ ہمیں ایصال ثواب پر تکیہ نہ کرنا پڑے اور نہ ہی اپنے لواحقین کے ایصال ثواب پر انحصار کرنا پڑے۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی ہمیں:

*قرآن مجید کی صحیح سمجھ اور خلوص نیت سے عمل کی توفیق عطا فرما


*زندگی کے سنہرے اصول*


*قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ 

*توحید پر جمے رہیں اپنی فرض نمازیں روزے زکواۃ اور حج پورے کریں، نوافل و صدقات اور نیک مسنون اعمال کثرت سے جمع رکھیں۔ 

 نماز، روزہ اور دیگر نیک اعمال مسنون طریقے کے مطابق ادا کریں صلہ رحمی 

صدقہ جاریہ اور علم نافع کو اپنی زندگی کا اثاثہ بنائیں  اور اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں اولاد کو صالح بنائیں اور اللہ تعالی کی بخشش اور شفاعت رسول کی امید واثق رکھیں یہی آخروی کامیابی کا زینہ ہیں۔


جاگو مسلمانو جاگو!


دین اسلام پر خلوص نیت کے ساتھ عمل کریں اور فلاح دارین پائیں۔


یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث 


آمین یا رب العالمین۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: بہنو! اور بھائیو!

بھول میں نہ رہنا۔


پیر 22 دسمبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حرام کا مال جمع کیا (کمایا) پھر اس سے صدقہ کر دیا تو اس کو صدقہ کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ اس پر اِس (حرام مال کمانے) کا وبال ہوگا۔ 


حوالہ کیلئے دیکھیئے

(صحيح ابن حبان : 3216 ، 3367 ، صحيح الموارد : 665 ، 693 ، 

الترغيب والترهيب : 2/8 ، 3/18 ، ، 2/65 ،

صحيح الترغيب : 752 ، 880 ، ،1719)​


حرام کھانا :

اکثر افراد کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے مال کہاں سے کمایا ہے کن ذرائع سے حاصل کیا ہے بلکہ ان کی اصل خواہش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کیا جائے چاہے وہ مال چوری کا ہو' یا رشوت کا ہو یا کسی کا حق مار کر حاصل کیا گیا ہو یا سود سے حاصل ہو' یا یتیم کا مال ہو' یا زکوٰة کی رقم ہویا جھوٹ' فریب اور دھوکے سے حاصل کیا گیا ہو وغیرہ۔


حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:


(اِنَّہ لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْم نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ) (١٣)

'وہ جسم جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گا جو کہ حرام کمائی سے پروان چڑھا ہو ۔''

جس شخص کی کمائی حرام کی ہو اُس کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی :


رسول اللہ صلی اللہ ولیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام کے درمیان ایک ایسے شخص کا نقشہ کھینچا جو کہ لمبا سفر کر کے بیت اللہ کی زیارت کے لیے ⁴آیا۔ اس کے سر کے بال گرد و غبار سے اَٹے ہوئے تھے اور وہ آسمان کی طرف اٹھا اٹھا کر دعائیں کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا

 یَارَبِّ یَارَبِّ وَمَطْعَمُہ حَرَام وَمَشْرَبُہ حَرَام وَمَلْبَسُہ حَرَام وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ (١٤)


''اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے اس کا پینا حرام کاہے اس کا لباس حرام کا ہے اور حرام مال اس کی غذا ہے تو اس کی دعا کہاں سے قبول کی جائے!''


بیت اللہ جیسے بابرکت مقام میں اور حج جیسے عظیم موقع پر ایک شخص خانہ کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر ہی کیوں نہ دعا کرے اس کی دعا اُس وقت تک قبول نہ ہو گی جب تک کہ اس کا رزق حلال نہ ہو گا۔ آج کل ہماری دعائوں کے قبول نہ ہونے کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ رزقِ حلال کا نہ ہونا بھی ہے۔


الدعاَء 

یا اللہ تعالی میں تجھ سے رزق حلال کا سوال کرتا ہوں اور رزق حرام سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔


آمین یا رب العالمین۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *سورۃ البقرہ آیت 83 کی روشنی میں ایک تفصیلی اصلاحی مضمون، جو فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کو سامنے رکھ کر تحریر کیا گیا ہے۔*


منگل 23 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


امتِ مسلمہ آج جن فکری انتشار، اخلاقی زوال اور باہمی نفرتوں کا شکار ہے، ان سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دین کو جزوی سمجھ لیا گیا ہے۔ عبادات کو دین سمجھا جاتا ہے، مگر اخلاق، معاملات اور سماجی ذمہ داریوں کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔

سورۃ البقرہ کی آیت 83 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاشرت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔


عہدِ الٰہی: صرف بنی اسرائیل سے نہیں، بلکہ ہم سب مخاطب ہیں


اللہ تعالیٰ اس آیت میں بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کا ذکر فرماتے ہیں، مگر قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ سابقہ امتوں کے واقعات کے ذریعے امتِ محمدیہ ﷺ کو آئینہ دکھایا جاتا ہے۔


یہ عہد محض تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کو اپنا رب مانتا ہے۔ گویا اللہ ہم سے بھی سوال کر رہے ہیں:


*کیا تم نے توحید کو واقعی زندگی کا مرکز بنایا؟


*کیا تم نے والدین، رشتہ داروں اور کمزور طبقات کے حقوق ادا کیئے؟


کیا تمہاری نماز اور زکوٰۃ تمہارے اخلاق میں جھلکتی ہے؟


توحید: اصلاح کی اصل بنیاد ہے

آیت کا آغاز "لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ" سے ہوتا ہے۔

یہ اعلان ہمیں بتاتا ہے کہ:

جب تک اللہ واحد کو حاکمِ مطلق نہ مانا جائے اور خواہشات، گروہ، مسلک، شخصیت یا مفاد کی بندگی ختم نہ ہو۔ اس وقت تک حقیقی اصلاح ممکن نہیں۔


آج ہم زبان سے تو توحید کے قائل ہیں، مگر عملی زندگی میں:

 *مفاد کو حق پر ترجیح دیتے ہیں

*اپنے گروہ کو دین سے بڑا سمجھتے ہیں یہی وہ شرکِ خفی ہے جو معاشرتی فساد کو جنم دیتا ہے۔


*والدین اور خاندان:*

 اصلاح کا پہلا دائرہ*


اللہ تعالیٰ نے توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ:


 جو شخص اپنے گھر میں نافرمان اور بدخلق ہے، وہ معاشرے کا مصلح نہیں ہو سکتا۔


آج کا المیہ یہ ہے کہ:

بوڑھے والدین اولڈ ہاؤسز میں ہیں


*بہن بھائی وراثت پر دشمن بن جاتے ہیں


*صلہ رحمی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے


*جب گھر ٹوٹتا ہے تو معاشرہ خود بخود بکھر جاتا ہے۔



*یتیم اور مسکین: ایمان کا عملی امتحان*

اسلام نے دین داری کا معیار صرف نمازوں کی کثرت نہیں رکھا بلکہ کمزور طبقے کے ساتھ رویہ ایمان کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔


یتیم، مسکین اور محروم طبقہ کسی بھی معاشرے کا اخلاقی درجہ حرارت ہوتا ہے۔


اگر وہ محفوظ ہیں تو معاشرہ زندہ ہے اگر وہ نظر انداز ہیں تو سمجھ لیں کہ دین محض دعوٰی رہ گیا ہے


قولِ حسن: زبان کی اصلاح، معاشرے کی اصلاح

"وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا"

یہ ایک مختصر مگر نہایت جامع حکم ہے۔


آج ہم:

سچ بولنے کے نام پر بدتمیزی کرتے ہیں


دین کے نام پر گالیاں دیتے ہیں. مسلک کے دفاع میں کردار کشی کو جائز سمجھتے ہیں۔


حالانکہ قرآن مجید کہتا ہے:

لوگوں سے اچھی بات کہو

صرف مسلمانوں سے نہیں، سب انسانوں سے۔


یہی حکم اگر سوشل میڈیا پر نافذ ہو جائے تو آدھا فساد خود بخود ختم ہو جائے۔


*نماز اور زکوٰۃ: رسم یا اصلاح؟*


*نماز اور زکوٰۃ کا ذکر آخر میں آ کر ہمیں بتاتا ہے کہ:


عبادات کا مقصد صرف ثواب نہیں بلکہ کردار سازی ہے


اگر:

نماز ہمیں جھوٹ، ظلم اور تکبر سے نہ روکے زکوٰۃ ہمیں بخل اور خودغرضی سے نہ نکالے تو ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔


عہد شکنی: زوالِ امت کی اصل وجہ۔

آیت کا آخری حصہ نہایت دردناک ہے:

 "پھر تم میں سے اکثر نے منہ موڑ لیا"


یہ جملہ بنی اسرائیل ہی نہیں، ہم سب کے لیے انتباہ ہے۔ ہم نے بھی:


*دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا.

*عمل کے بجائے نعرے اختیار کر لیے.

*اصلاح کے بجائے تکفیر کو مشن بنا لیا.


*واپسی کا راستہ*

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ امت کی اصلاح کا راستہ:


*کسی نئے نعرے میں نہیں.

*کسی نئے فرقے میں نہیں.

بلکہ اسی پرانے، آزمودہ عہد کی طرف واپسی میں ہے:


✔ خالص توحید

✔ مضبوط خاندانی نظام

✔ کمزوروں کا تحفظ

✔ نرم اور مہذب زبان

✔ باعمل عبادات


اختتامی دعا:

اے اللہ! ہمیں دین کو سمجھنے، اپنانے اور پھیلانے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں عہد شکن نہیں، عہد نبھانے والا بنا۔


آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: فوت شدگان کے لئے قرآن پڑھنا( مروجہ قرآن خوانی)


بدھ 24 دسمبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

 

سوال : کیا میت کے لئے اس طرح قرآن پڑھنا کہ اس کے گھر میں قرآن کریم کے نسخے رکھ دیئے جائیں اور پھر اس کے پڑوسی اور دیگر مسلمان دوست احباب آئیں اور ان میں سے ہر ایک ایک پارہ تلاوت کرے اور تلاوت کر کے چلا جائے اور اسے اس کا کوئی معاوضہ بھی نہ دیا جائے اور پھر قرآت سے فراغت کے بعد میت کے لئے دعاء کی جائے اور قرآن پڑھنے کا ثواب اسے پہنچایا جائے تو کیا تلاوت اور دعاء میت تک پہنچتی ہے؟ اور اس کا ثواب پہنچتا ہے یا نہیں؟ امید ہے آپ جواب سے سرفراز فرما کر شکریہ کا موقعہ بخشیں گے؟

جو اس طرح کے عمل بے اصل (بے دلیل) ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اہم اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ قطعا ثابت نہیں کہ انہوں نے اس طرح مردوں کے لئے قرآن پڑھا ہو بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :

"جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے امر (دین) کے خلاف ہو تو وہ (عمل) مردود ہے ۔ "


اسی طرح حضرت عائشہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:


"جو شخص ہمارے اس دین (اسلام) میں کوئی ایسی چیز پیدا کرے جو اس میں سے نہ ہو تو وہ (چیز) مردود ہے ۔ "


حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر جمعہ کے خطبہ میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ :


حمدثنا کے بعد ! سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین طریقہ محمد صلئ اللہ علیہ والہ وسلم کا طریقہ ہے۔


سب سے بد ترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ "


صحیح سند کے ساتھ یہ الفاظ بھی ثابت ہیں کہ :


" ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی ۔ "


فوت شدگان کی طرف سے صدقہ کرنا اور ان کے لئے دعا کرنا ان کے لئے منفعت بخش ثابت ہوتا ہے اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ صدقہ اور دعاء کا ثواب انہیں ملتا ہے۔ وباللہ التوفق والله المستعان۔ 


الشیخ بن باز

سابقہ مفتی العام

مملکہ العریبیہ السعودیہ 


حوالہ: فتاوی الاسلامیہ

جلد اول صفحہ 138،139

کتاب العقائد

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: تلاشِ دینِ حق مسلمان فرقہ واریت سے کیسے نجات پا سکتے ہیں؟


 جمعہ 26 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


تلاشِ دینِ حق مسلمان فرقہ واریت سے کیسے نجات پا سکتے ہیں؟


﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا﴾ (آلِ عمران: 103)

یہ آیت امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک وعظ نہیں بلکہ دستورِ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نجات کو اجتماع کے ساتھ اور ہلاکت کو تفرقہ کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس کے باوجود آج امتِ مسلمہ فرقوں، مسالک، جماعتوں اور ذاتی وابستگیوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے: جب سب قرآن و حدیث ہی کا حوالہ دیتے ہیں تو پھر اختلاف دشمنی کیوں بن جاتا ہے؟

فرقہ واریت کی اصل وجہ

فرقہ واریت کی بنیادی وجہ قرآن و حدیث نہیں بلکہ:

اپنی رائے کو حقِ مطلق سمجھ لینا ہے

*مدِ مقابل کی رائے کو سننے سے انکار۔ اختلاف کو کفر و بدعت تک لے جانا دین کو انا اور گروہ بندی کا مسئلہ بنا لینا حالانکہ سلف صالحین کے ہاں اختلاف کے باوجود:

ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی جاتی تھی نیت پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔ دلیل کو دلیل سے پرکھا جاتا تھا


اختلاف: سنتِ صحابہ، تفرقہ: فتنہ

صحابہ کرامؓ کے مابین فقہی اختلافات موجود تھے:

رفع الیدین، آمین بالجہر،

قنوت،  بعض فروعی مسائل

لیکن کسی صحابی نے دوسرے کو گمراہ، بدعتی یا کافر نہیں کہا۔


امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

میری رائے درست ہے مگر خطا کا احتمال رکھتی ہے،

اور دوسرے کی رائے خطا ہے مگر درست ہونے کا امکان رکھتی ہے۔

یہی علمی دیانت ہے، اور یہی فرقہ واریت کا علاج۔


*دین حق کی تلاش کا درست منہج*

1️⃣ مدِ مقابل کو مسلمان سمجھنا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو وہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹ آتا ہے” (بخاری)

جب تک قطعی دلیل نہ ہو، کسی مسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنا حرام ہے۔


2️⃣ دلیل کو قرآن و سنت پر پرکھنا۔

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ﴾

(النساء: 59)

یعنی: شخصیت نہیں،مسلک نہیں، اکثریت نہیں

بلکہ فیصلہ صرف قرآن و سنت کا ہے۔


3️⃣ حق واضح ہو جائے تو فوراً قبول کرنا۔

یہی تقویٰ ہے، یہی اخلاص ہے۔

حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے:

“حق کو پہچان لو، اہلِ حق خود پہچانے جائیں گے”

جو شخص دلیل واضح ہونے کے باوجود اپنی رائے پر اڑا رہے، وہ حق کا طالب نہیں بلکہ انا کا غلام ہے۔


4️⃣ اختلاف کو علمی رکھنا، جذباتی نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے” (مسلم)


دینی بحث:

چیخ و پکار نہیں، تضحیک نہیں،تحقیر نہیں بلکہ حکمت، دلیل اور حسنِ اخلاق سے ہوتی ہے۔


5️⃣ اگر بات نہ بنے تو اہلِ علم کی طرف رجوع۔

قرآن کا واضح حکم ہے:

﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل: 43)

ہر شخص مجتہد نہیں ہوتا،

اور ہر مسئلہ واٹس ایپ یا یوٹیوب سے حل نہیں ہوتا۔

دینی بحث: ہار جیت نہیں،


 *تلاشِ حق*

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ:

دینی بحث میں کوئی ہارتا نہیں، یا تو آپ سکھاتے ہیں

یا سیکھتے ہیں۔ اور یہی:

دعوت ہے، اصلاح ہے، رجوع الی الحق۔


 *فرقہ واریت سے نجات کا عملی فارمولا*

 قرآن و سنت کو اصل مانا جائے

مسلک کو ذریعہ سمجھا جائے، منزل نہیں۔ اختلاف کو رحمت، تفرقہ کو فتنہ سمجھا جائے۔

تکفیر و تفسیق سے زبان روکا جائے۔ نیت کو “غلبہ نہیں ہدایت بنایا جائے۔


یاد رہے کہ دینِ اسلام:

گروہوں کا دین نہیں

شخصیتوں کا دین نہیں

علاقائی یا نسلی دین نہیں

بلکہ: وحی کا دین ہے دلیل کا دین ہے عدل اور اخلاص کا دین ہے

اگر ہم واقعی دینِ حق کے متلاشی ہیں تو: ہمیں سب سے پہلے اپنے مسلکی تعصب کو قرآن و سنت کے تابع کرنا ہوگا، نہ کہ قرآن و سنت کو اپنے مسلک کے تابع۔


ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ ہم سب دین اسلام کے طالب علم ہیں اور اللہ تعالی اس کائینات کا رب ہے اور محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اللہ تعالی کے اخری نبی اور رسول ہیں۔


الدعا:

اللہ تعالیٰ ہمیں:

حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے

باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑنے

اور امت کو جوڑنے کا ذریعہ بننے

کی توفیق عطا فرمائے۔


آمین یا رب العالمین


والسلام علیکم و رحمۃ اللہ

احقر العباد:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *قبلہ اول بیت المقدس کے  رخ پر قدیم بارواڑا مسجد پر ایک تحقیقی جائزہ*


جمعہ 26 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


تعارف:

گھوگھا (بھاؤن گڑھ، ریاست گجرات، بھارت) میں واقع بارواڑا مسجد پر ایک مفصل تاریخی و تحقیقی جائزہ جس میں اس کے پس منظر، اہمیت، قبلہ رخ، اور ماہرین کی آراء شامل ہیں:


بارواڑا مسجد: ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ


قبلہ رخ اور اس کے تاریخی اہمیت:

بارواڑا مسجد کی سب سے اہم خصوصیت اس کا قبلہ رخ ہے۔

محراب کی سمت بیت المقدس (یروشلم) کی جانب ہے جو کہ روایتی قبلۂ اَوّل تھا، یعنی اسلام کے ابتدائی دور میں نمازوں کا رخ یہی تھا۔


اسلامی تاریخ کے مطابق:

 610–623 عیسوی تک مسلمانوں نے نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا کی۔ 623 عیسوی میں حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور قبلہ تبدیل ہو کر کعبہ (مکہ المعظمہ) مقرر ہوا۔ 

بارواڑا مسجد کے محراب کی سمت تقریباً یروشلم کی طرف 20° شمال کی جانب تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسے اسی ابتدائی اسلامی دور میں تعمیر کیا گیا ہوگا  یعنی قبل از وہ وقت جب قبلہ کعبہ کی طرف مقرر ہوا۔ 


عمارت کی ساخت و فنِ تعمیر

مسجد کی ساخت بہت سادہ ہے:

اندرونی حصہ میں چند ستون (pillars) کی مدد سے چھت رکھی گئی تھی۔

آثار سے پتہ چلتا ہے کہ چھت کا بیشتر حصہ وقت کے ساتھ منہدم ہو چکا ہے، اور صرف چند ستون اور محراب باقی ہیں۔

محراب کے اطراف پر قدیم عربی نقوش بھی پائے گئے ہیں، جنہیں کچھ ماہرین برصغیر کے سب سے قدیم عربی تحریروں میں شمار کرتے ہیں۔ 


*تاریخی حوالہ جات و ماہرین کی آراء*


کبھی کبھار بعض ماہرین تاریخی روایات کے تحت اسے ہندوستان/برصغیر کی سب سے قدیم مسجد بھی قرار دیتے ہیں. شاید چیرآمن مسجد Cheraman Juma, Kerala) سے بھی پرانی۔ 


تاریخی تحقیق کار پروفیسر مہبوب دیسائی جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ:

اگر مسجد کا قبلہ یروشلم کی طرف ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اسلام کے ابتدائی سالوں میں تعمیر کیا گیا تھا — یعنی جب قبلہ تبدیل نہیں ہوا تھا۔ 

یہ دلیل تاریخی واقعات، عرب تاجر برصغیر میں آمد، اور قبلہ کی تبدیلی کے وقت کو مدنظر رکھتی ہے۔ 


*عرب تجارتی رابطے اور خطِ تجارت*


گھوگھا اُس زمانے میں خلیجِ کھمبھات (Gulf of Khambhat) کا ایک اہم سمندری تجارتی مرکز تھا، جہاں سے عرب تاجر مشرقی افریقہ، فارس، اور یمن سے تجارتی رابطے قائم کرتے تھے۔ ایسے مستند تجارتی روابط کے باعث ابتدائی مسلمانوں کے یہاں آنے اور عبادت گاہ بنانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 


*موجودہ حالت اور تحفظ*

بدقسمتی سے بارواڑا مسجد آج انتہائی مخدوش اور خستہ حالت میں ہے۔

زیادہ تر چھت گر چکی ہے،

محراب ظاہرا" تو ہے مگر گلوبل تحفظ کے تحت نہیں آتی،

نہ ہی کسی سرکاری ادارے (جیسے کہ ASI) نے اسے باقاعدہ تحفظ فراہم کیا ہے۔

لوگ مقامی طور پر اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر مناسب تاریخی تحفظ کی کمی ہے۔ 

VIRASAT - E - HIND FOUNDATION


*تاریخی و تحقیقی اہمیت*

بارواڑا مسجد کی اہمیت چند اہم نکات میں سمٹی جا سکتی ہے:

قبلۂ اول (Qibla Awwal): مسجد کی سمت یروشلم کی طرف ہونے کی وجہ سے یہ ابتدائی اسلامی تاریخ کی علامت ہے۔ 


قدیم ترین عربی تحریر: محراب پر پائے جانے والے عربی نقوش برصغیر کے قدیم ترین اسلامی نقوش میں سے سمجھے جاتے ہیں۔


≈====================

*مسجد کے دروازے پر قرآنی تحریر کے نقوش جو ابھی باقی ہیں*


مسجد کے دروازے پر مندرجہ ذیل عبارات کنداں ہیں


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 اور 

کلمہ طیبہ 

اور 

 سورہ اخلاص 


ان تحاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسجد 610 سے 613 عیسوی یعنی سنہ 01 سے 03 سنہ نبوی میں بنائی گئ ہو گی


میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بر صغیر میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت ہند اور اسلامی آثار قدیمہ ہند نے اس تاریخی اثاثہ کو محفوظ کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔


اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان حکومت ہند   کو ایک یاد داشت بھجوائے تاکہ وہ اس تاریخی اسلامی عمارت کی صحیح  طریقے سے محفوظ کرنے اور نگاہ داشت فرمانے کی سعی کرے۔


درد مند اہل اقتدار سے امید واثق ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Cell 0092300860 4333 

≈====================


تجارتی روابط: عرب تاجر جو سمندر کے راستے جنوب و مشرق کے ساحلوں پر آتے تھے، انہوں نے یہاں اسلامی ثقافتی شناخت کے ابتدائی اثر چھوڑے۔


تاریخی تحقیق کی بحث: چونکہ قدیم ترین تاریخی دستاویزی شواہد کم ہیں، لہٰذا ماہرین تاریخ میں بحث جاری ہے کہ کیا یہ واقعی سب سے قدیم مسجد ہے یا نہیں لیکن اس کی قبلہ سمت اس کو یقینی طور پر ایک انوکھا تاریخی نشان بناتی ہے۔ 


نتیجہ

بارواڑا مسجد نہ صرف علاقے اور خطے کے قدیم اسلامی ورثے کا ایک اہم اثاثہ ہے بلکہ ابتدائی اسلامی قبلہ کی یادگار بھی ہے۔

اگرچہ اس کی صحیح تاریخی عمر کے بارے میں قطعی دستاویزات موجود نہیں، مگر اس کا قبلہ رخ یروشلم کی طرف اور عربی نقوش اسے اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور سے جوڑتے ہیں۔ 


یہ مسجد ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اسلامی ثقافت اور تجارت کس طرح 7ویں صدی میں برصغیر تک پھیلی، اور کس طرح یہاں کے ساحلی شہروں نے دنیا بھر کے ثقافتی تبادلوں میں کردار ادا کیا۔


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Cell: 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *قرآن اور احادث نبوی کی روشنی میں نماز کی اہمیت*


ہفتہ 27 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


نماز کی اہمیت پر اصلاحی، وعظی اور فکری مضمون جس میں حدیثِ نبوی ﷺ، قرآنِ مجید بالخصوص سورۃ البقرہ آیات 2 تا 5، نماز کی مرکزی حیثیت، اور کفر و ایمان کے امتیاز کو واضح کیا گیا ہے نماز: ایمان و کفر کے درمیان حدِ فاصل۔


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

امتِ محمدیہ اس وقت جن فکری، اخلاقی اور عملی زوالات سے گزر رہی ہے، ان میں سب سے نمایاں اور خطرناک زوال نماز سے غفلت ہے۔ نماز وہ عبادت ہے جو بندے کو رب سے جوڑتی ہے، روح کو زندگی عطا کرتی ہے، اور ایمان کی حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے۔ افسوس کہ آج نماز کو محض ایک رسمی عمل یا ثانوی فریضہ سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کی حیثیت ایمان کی بنیاد کے طور پر بیان کی گئی ہے۔


*وہ عبرتناک حدیث اور ہماری ذمہ داری*


احادیث میں ایک مضمون کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ ایک عورت نماز نہ پڑھنے کے سبب خود تو جہنم میں جائے گی ہی، ساتھ ہی اپنے خاندان یا زیرِ اثر افراد کو بھی جہنم کی طرف لے جانے کا سبب بنے گی۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب ایک فرد، خاص طور پر ماں، بہن یا گھر کی ذمہ دار عورت نماز جیسی بنیادی عبادت کو ترک کرتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری نسل، گھر اور ماحول پر پڑتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں یہ جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ:

کیا ہم نماز کے معاملے میں خود سنجیدہ ہیں؟

کیا ہم اپنی اولاد اور اہلِ خانہ کو نماز کا پابند بنا رہے ہیں؟

یا ہماری غفلت آنے والی نسلوں کے لیے ہلاکت کا سبب بن رہی ہے؟


قرآن مجید: ہدایت صرف متقین کے لیے-

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے آغاز ہی میں واضح فرما دیا:

ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ

یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقین کے لیے(البقرہ آیت۔2)


یہاں ایک بنیادی نکتہ واضح کیا گیا ہے:

قرآن ہر ایک کے لیے نافع نہیں، بلکہ ہدایت انہی کے لیے ہے جو تقویٰ کی صفات رکھتے ہوں۔


متقی کی صفات (سورۃ البقرہ: 2 تا 5)

اللہ تعالیٰ نے متقی لوگوں کی چند نمایاں خوبیاں خود بیان فرما دی ہیں:


1️⃣ غیب پر ایمان

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ

وہ اللہ، فرشتوں، تقدیر، وحی اور آخرت پر بلا دیکھے ایمان رکھتے ہیں۔


2️⃣ نماز قائم کرنا

وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ

یہ صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ:

وقت کی پابندی خشوع و خضوع اور تسلسل شعور کے ساتھ نماز ادا کرنا ہے۔


یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ غیب پر ایمان کے فوراً بعد نماز کا ذکر آیا، جو اس کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔


3️⃣ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا

وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

متقی وہ ہیں جو مال کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتے ہیں۔


4️⃣ قرآن اور پچھلی کتابوں پر ایمان

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ

وہ تمام آسمانی ہدایتوں پر ایمان رکھتے ہیں، فرقہ واریت اور تعصب سے پاک۔


5️⃣ آخرت پر یقین

وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

یہ یقین ہی انسان کو گناہ سے روکتا اور نیکی پر آمادہ کرتا ہے۔


نتیجہ:

أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔


نماز: بندگی اور کفر و شرک کے درمیان فرق۔


نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا:

بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ

آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز ہے(مسلم)


ایک اور حدیث میں فرمایا:

العَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ

ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے، جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے کفر کیا (ترمذی)


ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:

نماز محض ایک عبادت نہیں

بلکہ ایمان کی شناخت ہے

اور اس کا ترک انتہائی خطرناک انجام رکھتا ہے


فرمان نبوی یہ بھی ہے کہ نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو یعنی نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کےطریقے کے مطابق۔


*اصلاحی پیغام*

آج امت کو کسی نئے فلسفے یا تحریک کی نہیں بلکہ نماز کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ اگر:

گھروں میں نماز قائم ہو جائے

مائیں نماز کی پابند بن جائیں

*باپ اذان پر مسجد کا رخ کریں۔ اولاد کو سجدے سے جوڑا جائے۔

تو: اخلاق خود سنور جائیں

 معاشرہ خود پاکیزہ ہو جائے

فرقہ واریت خود دم توڑ دے۔


اختتامی دعاء 

اے اللہ!

ہمیں نماز کو ضائع کرنے والوں میں شامل نہ فرما،

ہمیں، ہماری اولاد اور پوری امتِ محمدیہ کو نماز قائم کرنے والوں میں شامل فرما،

اور ہمیں ان متقین میں جگہ عطا فرما۔

جن کے لیے قرآن سراسر ہدایت اور فلاح ہے۔


مسلمان ماوں، بہنوں، بہو بیٹیوں کے لئے خصوصی گزارش:

خواتین پابندی سے نماز پڑھیں قبل اس کے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے۔


انتباہ:

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں دس فی صد سے زیادہ آبادی نمازی و روزہ رکھنے والی نہیں ہے۔ کیا یہ ملک کلمے کے نام پر اسی لئے لیا تھا؟


اے ایمان والو اپنا اپنا احتساب کریں اور نماز روزہ قائم فرمائیں۔ 

اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


وما علینا الا البلاغ المبین 

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *اے ایمان والو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاو(القرآن)*


اتوار 28 دسمبر 2025

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


وطن عزیز میں مسلمان کی تعداد تو ماشاءاللہ بہت ہے مگر معیاری مسلمان نہیں کیونکہ لوگ فرقوں میں بٹ ہوئے ہین بلکہ فرقہ در فرقہ ہوگئے ہیں ہمارے علماء فرقوں کی تبلیغ کر رہے ہیں لیکن مکمل اسلام کی تبلیغ نہیں ہو رہی نتیجہ بڑا منطقی سامنے آ رہا ہے کہ "ہر فرقہ اسی میں خوش ہے جو اسکے پاس ہے(القرآن)"


آئمہ اکرام اپنی اپنی مساجد میں وہی دین سیکھا رہے ہیں جو ان کا مکتب فکر ہے مگر یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ اصل دین کیا ہے اور نہ ہی دین حق کی تلاش ہو رہی بس اپنے شب و روز اپنی روٹین کی عبادات اور معاملات میں بسر ہو رہے اس پر ہم غور ہی نہیں کر رہے کہ کیا جو اعمال ہم نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں وہ کتاب اللہ اور احادیث نبوی یعنی سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے مطابق بھی ہیں یا نہیں اور کبھی اپنے اعمال صالح کو کتاب اللہ اور احادیث نبوی یعنی سنت رسول سے ان کا موازنہ کر کے اپنی خامیوں کی تصحیح نہیں کرتے اگر کوئی کسی بھی بدعت میں الجھ گیا تو وہ اسے ہی نیکی سمجھ کر کئے جا رہا ہے اور اس طرح وہ ساری عمر بدعات کو نیکی سمجھ کر کئے جا رہا ہے اور ایسا شخص اپنی بدعات کو کیوں چھوڑے گا جبکہ وہ اسے نیکی سمجھ کر کئے جا رہا ہے اس طرح جہالت میں عمر بیت جاتی ہے اور اللہ تعالی کے ہاں انھی غیر مسنون اعمال کا دفتر لیکر پہنچ جائے گا پھر اگر اس امتحان میں فیل ہو گیا پھر پشیمان ہو گا اور یقینا" سوچے گا کہ کاش میں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جاؤں اور میں اپنے اعمال سنت نبوی کے مطابق درست کر کے لاوں مگر اس وقت وہاں سے واپسی کی کوئی سبیل نہ پائے گا (القران) اپنے کردہ اعمال کو پرکھنے کا تو اب اس دنیا میں وقت ہے اور اب اس دنیا میں اپنے فرقے کے ساتھ غلطاں ہے اپنے پیشواؤں کو اس نے حرف آخر سمجھ رکھا ہے اور یہی سب سے بڑی بھول ہو رہی ہے اور اکثر مذھبی پیشوا دوسرے فرقوں میں کیڑے نکالنے میں اور ان کو کافر گرداننے میں لگے پڑے ہیں جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہر کوئی اپنے دائرے میں گھوم رہا ہے جیسے کہ کولہو کا بیل اور اندھی تقلید نے ساری سمجھ بوجھ مفلوج کر دی ہے یہ بھی درست ہے کہ ہر شخص  کتاب اللہ اور احادیث نبوی سے مستفید بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ اتنی تعلیم نہیں ہے لیکن اللہ نے عقل تو دی ہے کیوں نہ علماء حق سے دین سیکھ لیا اورحکم باری تعالی بھی یہی ہے کہ اگر نہیں معلوم تو اہل علم سے پوچھ لیا کریں (القران)۔


میری سمجھ میں تو یہ ایا ہے کہ کہ یہ ذمہ داری ہمارے علماء اور حکومت وقت کی بھی ہے کہ لوگوں کو دین سیکھنے کے مواقع فراہم کریں مستند علماء کی مالی اعانت کریں اور عوام الناس میں دین حق سیکھنے کا شعور اجاگر کریں۔ پاکستان میں تعلیم بالغاں کا ماڈل بہترین تھا یہ حکومت وقت پھر اسے شروع کرے اور یہ ٹاسک علماء اکرام اور والنٹیرز کے حوالے کریں۔


علما اکرام سے گزارش ہے کہ دین حق بیان کریں اور اپنے آپ کو بھی عقل کل نہ سمجھیں اپنے عقائد کو درست کر لیں کیونکہ عوام الناس آپ کی تقلید کرتے ہیں اس لئے اپنے باطل عقائد کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ù مطابق پرکھیں اور دین حق سے رجوع کر لیں وگرنہ آپ اپنا بوجھ بھی آٹھائیں گے اور ان مقلدین کا بوجھ بھی آپ کو اٹھانا پڑے گا کیوں کہ یہ آپ کے پیرو کار جب پھنسیں گے تو یہ کہہ دیں گے کہ فلاں شخص نے مجھے اس عمل پر لگایا تھا اور میرے سوال کرنے پر بھی اس نے میری تصحیح تک نہ کی تھی اور اللہ تعالی کے حضور آپ بھی پکڑے جائیں گے۔ 

اور وہاں کوئی تاویل کام نہ آئے گی۔


یاد رہے کہ نبی کریم دین اسلام مکمل ہمیں دے گئے ہیں اس میں اب کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی وہی دین حق ہےجو قرآن ہے اور آحایث اور آثار صحابہ میں مرقوم ہے

اس دین حق کو بیان کرنے سے اگر کچھ مانع ہے یعنی اس سے آپکے عقیدے کو کوئی ذق پہنچتی ہے تو اپنا عقیدہ بھی آپ اس کے مطابق درست کر لیں حق کبھی بھی کسی بھی عمر میں قبول کیا جا سکتا ہے اسی کا نام رجوع الی اللہ ہے


الدعاء 

اے ہمارے رب ہم خطا کار ہیں ہم بھولے بھٹکے ہیں تو ہماری اتجاہ درست فرما دے اور ہمیں دین حق بیان کرنے والا بنا دے چاہے کسی کو برا لگے تو ہمارے دل کو حق کہنے اور لکھنے اور زبان کو کو سچ بیان کرنے کی ہمت عطا فرما۔


آمین یا رب العالمین 

احقر الناس

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

 Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *مقبولیت الدعاء کا مجرب نسخہ اسم اعظم کے وسیلے سے دعاء قبول ہوتی ہے*


پیر 29 دسمبر 2025

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللّٰهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد


اردو ترجمہ:

اے اللہ! میں تجھ سے اس بنا پر سوال کرتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ تو نے کسی کو جنا اور نہ تو جنا گیا، اور نہ ہی کوئی تیرے برابر ہے۔


یہ دعا اسمِ اعظم کے ساتھ مانگی جانے والی دعاوں میں شمار ہوتی ہے، اور حدیث میں اس کے قبول ہونے کی بشارت بھی آئی ہے۔


ذیل میں میں اس دعاء کی حدیث کا حوالہ، شانِ نزول، فضیلت، عقیدۂ توحید سے تعلق اور دعاء کے آداب۔


 دعا کا مکمل متن

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللّٰهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ


حدیث کا حوالہ

یہ دعا صحیح احادیث میں منقول ہے:


حضرت بریدہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا تو فرمایا:


"لقد سأل الله باسمه الأعظم، الذي إذا سُئل به أعطى، وإذا دُعي به أجاب"


"اس شخص نے اللہ سے اس کے اسمِ اعظم کے ذریعے دعاء کی ہے، جس کے ذریعے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے، اور جس کے ذریعے پکارا جائے تو قبول کرتا ہے۔"


حوالہ:

سنن ابوداؤد (1493)

جامع ترمذی (3475)

مسند احمد


 اسمِ اعظم سے دعاء۔

علمائے امت کے نزدیک اسمِ اعظم وہ نام ہے جس میں:

اللہ کی کامل توحید

اس کی یگانگت اس کی بے نیازی اس کی بے مثال ذات

سب جمع ہو جائیں، اور یہ دعا انہی صفات پر مشتمل ہے۔


دعا کے الفاظ کی تشریح


1️⃣ اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔


➡ دعا کا آغاز براہِ راست اللہ کو پکارنے سے عاجزی و نیاز مندی کا اظہار۔


2️⃣ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللّٰهُ

اس بنا پر کہ تو ہی اللہ ہے


➡ اللہ کی الوہیت کااعتراف


3️⃣ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ

تیرے سوا کوئی معبود نہیں

 

➡ خالص توحید


4️⃣ الْأَحَدُ تو ایک ہے


➡ ذات، صفات اور عبادت میں یکتا


5️⃣ الصَّمَدُ

سب تجھ کے محتاج، تو کسی کا محتاج نہیں


➡ کمالِ غنا اور قدرت


6️⃣ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ

نہ تو نے کسی کو جنا، نہ تو جنا گیا


➡ ہر قسم کے جسمانی، نسلی یا خاندانی تصور کی نفی


7️⃣ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ

اور نہ کوئی تیرے برابر ہے


➡ اللہ کی بے مثالی اور عظمتِ مطلق


*فضیلت اور اثرات*


✔ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے


✔ ایمان کی تجدید


✔ توحید کی مضبوطی


✔ قلبی سکون


✔ مشکلات میں خاص اثر


✔ گناہوں سے بچاؤ اور اللہ کی قربت


*دعاء مانگنے کا بہترین طریقہ*

اس دعاء کو یوں پڑھنا افضل ہے:

درودِ ابراہیمی سے آغاز

یہ دعا پڑھیں

پھر اپنی حاجت اللہ کے سامنے رکھیں

آخر میں دوبارہ درود شریف


*خصوصاً:

*تہجد کے وقت

*سجدے میں

*فرض نماز کے بعد

*جمعہ کے دن


*عقیدے کا خلاصہ*

یہ دعا دراصل سورۃ الاخلاص کا عملی اعلان ہے اور بندے کو یاد دلاتی ہے کہ:

نجات، قبولیت اور کامیابی

صرف خالص توحید میں ہے۔


*الدعاء*

اللہ ہم سب کو اخلاص کے ساتھ دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔


آمین یا رب العالمین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *صبح و شام کے مسنون اذکار*


منگل 30 دسمبر 2025

تحریر و ترتیب:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


یہ فہرست اہلِ علم کے نزدیک متفق علیہ اور معمول بہا اذکار پر مشتمل ہے۔


صبح و شام کے مسنون اذکار

(عربی + اردو ترجمہ + حوالہ)


1️⃣ توحید کا کلمہ

عربی:


لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ،

وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔


اردو ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

حوالہ:

صحیح مسلم (2691)


2️⃣ اخلاص کے ساتھ حفاظت کی دعا


عربی:

اللّٰهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا،

وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ،

وَإِلَيْكَ النُّشُورُ۔ (صبح)


اردو ترجمہ:

اے اللہ! ہم نے تیری ہی مدد سے صبح کی، تیری ہی مدد سے شام کرتے ہیں، تیرے ہی حکم سے جیتے اور مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔


حوالہ:

سنن ابوداؤد (5068)

(شام میں النشور کی جگہ المصير پڑھا جائے)


3️⃣ کامل عافیت کی جامع دعا

عربی:

اللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي،

اللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي،

اللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي،

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ۔


اردو ترجمہ:

اے اللہ! مجھے میرے جسم میں عافیت عطا فرما،

میرے کانوں میں عافیت دے،

میری آنکھوں میں عافیت دے،

تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

حوالہ:

سنن ابوداؤد (5090)


4️⃣ ہر شر سے پناہ کی دعا


عربی:

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔


اردو ترجمہ:

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر اور فقر سے، اور قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔


حوالہ:

سنن ابوداؤد (5090)


5️⃣ شیطان اور آفات سے حفاظت


عربی:

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ،

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔


اردو ترجمہ:

میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے ہر اس چیز کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا کی۔

حوالہ:

صحیح مسلم (2708)


6️⃣ رزق، علم اور قبول عمل کی دعا

عربی:

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا،

وَرِزْقًا طَيِّبًا،

وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔ (خصوصاً صبح)


اردو ترجمہ:

اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔

حوالہ:

سنن ابن ماجہ (925)


7️⃣ تین عظیم سورتیں (۳،۳ مرتبہ)


عربی:

سورۃ الاخلاص

سورۃ الفلق

سورۃ الناس

اردو ترجمہ (خلاصہ):

اللہ کی توحید، ہر شر سے پناہ، اور شیطانی وسوسوں سے حفاظت۔

حوالہ:

سنن ترمذی (3575)


8️⃣ ایمان کی تجدید


عربی:

رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا،

وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا،

وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيًّا۔


اردو ترجمہ:

میں اللہ کو رب مان کر راضی ہوں، اسلام کو دین مان کر، اور محمد ﷺ کو نبی مان کر۔

حوالہ:

سنن ابوداؤد (5072)


9️⃣ دنیا و آخرت کی جامع دعا

عربی:

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً،

وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً،

وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

اردو ترجمہ:

اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے، آخرت میں بھی بھلائی دے، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔


حوالہ:

سورۃ البقرہ: 201

اہم ہدایات

صبح کے اذکار: فجر کے بعد سورج نکلنے تک

شام کے اذکار: عصر یا مغرب کے بعد

اخلاص، توجہ اور یقین کے ساتھ پڑھیں

مقدار سے زیادہ دل کی حاضری اہم ہے


اصلاحی خلاصہ

صبح و شام کے اذکار:

ایمان کی حفاظت

شیطان سے بچاؤ

دل کا سکون

دن اور رات کی برکت

کا الٰہی حصار ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان اذکار کو باقاعدگی سے پڑھنے اور ان کے اثرات پانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین 🤲


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *لوگو! اپنے رخ سیدھے کرلو وگرنہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ تمہاری جگہ پر دوسرے لوگ لے آئے ( القرآن)*


جمعرات 01 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


یہ چیز روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عصر حاضر میں انسانیت مفقود ہوتی جا رہی ہے انسانوں میں حیوانیت بڑھتی جا رہی ہے اخلاقی قدریں گرتی ہوئی نہیں بلکہ یکسر بدل رہی ہیں۔ چاہے بات دین کی کریں۔ مذہب کی کریں یا خالص دنیا کی کریں محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے قبلے یکسر فرداً فرداً مختلف نظر آتے ہیں اور ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جس مقام پر ﷲ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئیں۔ کیونکہ ہم سدھرنے کی حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔


حقیقت حال یہ ہے کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے کہ ہم اپنے رخ سیدھے کر لیں مثال واضح ہے کہ اگر ہم سرگودھا سے لاہور جانا چاہیں تو ہمیں اپنا رخ لاہور کی طرف کر کے سفر پر روانہ ہونا پڑے گا لیکن حقیقتاً ہمارا رخ میانوالی کی طرف ہے اور اس رخ پر چاہے ہم ساری عمر ہی کیوں نہ چلتے رہیں ہم قطعاً لاہور نہیں پہنچ پائیں گے۔ تاوقتیکہ ہم اپنا رخ لاہور کی طرف تبدیل  کریں یا کوئی رہبر ہمیں بتلا دے کہ میاں لاہور کا راستہ اس طرف ہے آپ کہاں بھٹک رہے ہیں یہ روش ہماری دینی اوردنیاوی معاملات میں ایک جیسی ہے۔


آج کل ہم اصو ل پر نہیں چل رہے بلکہ ہرکام میں شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں جس سے وقتی کامیابی تو ہو سکتی ہے مگر مستقل فلاح نہ پا سکیں گے۔ ذرا غور کیجیے کہ والدین اولاد کے حصول کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتے اور جب اولاد ہو جاتی ہے تو ہم اسے ہر ممکن بہترین ماحول دینے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جب بچہ ذرا بڑا ہوتا ہے تو اسے بہترین سکول میں داخل کرواتے ہیں اسے اچھی پرائیویٹ یونیرسٹیوں میں داخل کرواتے ہیں تا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اچھا شہری بن سکے اور والدین کا سہارا بن جائے۔


جب یہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے اپنا جاب تلاش کرتا ہے جو کہ پاکستان میں آجکل خاصا مشکل مرحلہ ہے اور جاب ملتے ہی اس نوجوان کی شادی کی کوشش میں لگ جاتے ہیں مگر بھرے بازار میں ایک موبائل چھیننے والا اس سے موبائل چھیننا چاہتا ہے مگر نوجوان اپنے مال کی حفاظت میں مذاحمت کرتا ہے اور موبائل چھیننے والا موبائل کو اپنا حق سمجھتے ہوئے اس نو جوان کو گولی مار دیتا ہے اور موبائل لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ اس پورے واقعہ کا کوئی کیس یا FIR درج نہیں ہوتی اور نو جوان کے والدین رو پیٹ کر بیٹھ جاتے ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے اپنا مقدر سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔


اہل علم و دانش اس پر غور کریں حکومت اس بے راہ روی کا سد باب کرے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ زمین پر امن ہو اگر امن ہو گا تو رزق بھی میسر آئے گا ، خوشحالی بھی آئے گی ۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے جو دعاء مانگی تھی کہ اے اللہ اس شہر (مکہ) کو امن کا شہر بنا اورپھر کہا کہ اس شہر کے نیک باسیوں کو ثمرات کا رزق دیجئے تو ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس شہر مکہ کو امن کا شہر بنایا لیکن رزق تو کسی قدر میں ان کو بھی دوں گا جو مجھے نہیں مانتے لیکن پھر انہیں میرے پاس ہی لوٹنا ہے۔ ﷲ تعالی ٰکا وعدہ سچا ہے اور آج بھی شہر مکہ میں امن ہے اور ثمرات کا رزق ہی نہیں بلکہ ورلڈ کلاس رزق وہاں میسر ہے۔


لیکن ہمارے وطن عزیز جیسی کیفیت وہاں نہیں ہے کیونکہ وہاں تو ﷲ کا قانون نافذ ہے چوروں کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے زانی اور ڈاکو و رہزن  مجرم کی گردن سر سے جدا کر دی جاتی ہے اور اسی وجہ سے وہاں پر امن ہے غالباً ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو ﷲ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کیا اس کو ایک سلطان نافذ کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ عادل سلطان پر ﷲ تعالیٰ کا سایہ ہوتا ہے۔ اہل عقل و دانش والو غور کریں کہ ہم کون ہیں ہماری اخلاقی قدریں کیا تھیں اور اب ہم کہاں جا رہے ہیں۔


دوستو! ایک وقت تھا کہ ہماری خواتین شٹل کاک برقعہ اوڑھتی تھیں پھر اس کی جگہ فینسی برقعے نے لے لی تو بڑا والیلا کیا گیا اوررفتہ رفتہ فینسی برقعہ اتر گیا اور اس کی جگہ چادر نے لے لی اور ایک وقت آیا کہ چادر بھی اتر گئی اور فقط ایک ہلکا سا دوپٹہ رہ گیا۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دوپٹہ گلے سے بھی نکل گیا ہے اس طرح یہ کہ سلیو لیس (بے بازو) لمبی قمیض جس کے چاک ایک ایک گز پھٹے ہوئے اور چلتے ہوئے کوہلے، ننگے دعوت گناہ نہ سہی بے حیائی ضرور پھیلا رہے ہیں اور اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ شلوار تو اتر ہی گئی اور اس کی جگہ سکن ٹائٹ نے لے لی ۔آج کل بازاروں میں عورتیں کم اور بے حیائی کا سائین بورڈ زیادہ نظر آتی ہیں۔


کہاں ہیں ان بچیوں کے والدین ، بھائی یا شوہر اور ان کی غیرت کہاں ہے ۔مزید کتنا اپنی عزتوں کو ننگا کرنا ہے ﷲ سے ڈرو اور عقل کے نا خن لو اور اپنے عقیدوں کو سدھارو اپنے رخ سیدھے اس اپنے رب کی طرف کرلو اگر فلاح چاہتے ہو وگرنا وہ قادر ہے کہ تمہاری جگہ دوسری قوم کولے آئے" نظیر اکبر الٰہ آبادی نے کیا خوب کہا تھا: 


کل شب نظر آئیں جو بے پردہ چند بیبیاں 


اکبر غیرت غم سے ؐکڑھ گیا۔ 


پوچھا جو آ پ کا پردہ کہاں گیا


ہنس کے بولی کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا


ائے اہل دانش ۔علم والو۔ اہل حل و عقد ائے ممبر و محراب کے مالکو! کیوں نہیں اپنا کردار ادا کرتے یقیناً تم بھی برا کرتے ہو اور اس بے راہ روی کے ذمہ دار ہو کیونکہ تم نبوت کے وارث ہو قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: 

" ۔۔۔۔۔جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ حیوان بلکہ حیوانوں سے بھی بد تر ہیں۔۔۔۔۔۔" (سورۃ انعام)


معززین خواتین میک اپ کرنا آپ کا حق ہے لیکن اپنے شوہر کے لئے ۔ آپ کا نان ونفقہ واخراجات توشوہر برداشت کرے لیکن آپ کے حسن سے دوسرے محظوظ کیوں ہوں؟۔ معزز خواتین پردہ کریں۔ قبل اس کے کہ آپ پردہ میں چلی جائیں۔آئیں اس بے حیائی کی رفتہ یلغار کو روکیں اور اپنے اپنے گھروں کا محاسبہ کریں۔اپنے محلوں میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو قرآن و سنت کا پیغام دیں اور حکومت وقت ایسے قوانین وضح کریں ۔جس سے آنے والے زمانے کے برے اثرات پر قابو پایا جا سکے اور اس کا بہترین حل قرآن و سنت کا نفاذ ہے دیر کیسی آیئے اللہ تعالی  کی رسی کو مضبوطی تھامیں اور اللہ تعالی کے احکامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقے پر عمل کریں اور 2026 کو اپنی تبدیلی کا سال بنائیں۔


آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik. com

Cell:00923008604333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *تقدیر، اخلاق اور انسانی ذمہ داری*


ہفتہ 03 جنوری 2026

تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


اے انسان!

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ تیری تقدیر کاتبِ تقدیر نے لکھ دی ہے۔ زندگی، موت، رزق اور آزمائشیں تیرے رب کے اختیار میں ہیں۔

لیکن یہ بھی ایک اٹل سچ ہے کہ تیرا اخلاق، تیرا کردار اور تیری کوشش تیرے اپنے اختیار میں ہیں۔

قرآنِ مجید انسان کو بے اختیار مخلوق نہیں بلکہ ذمہ دار ہستی قرار دیتا ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لقد خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ (سورۃ التین: 4)

ترجمہ:

“بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔”


یہ بہترین ساخت عقل، شعور، ارادہ اور اخلاقی انتخاب کی صلاحیت کا نام ہے۔

تقدیر اور اختیار کا توازن

بعض لوگ اپنی ناکامیوں اور بداعمالیوں کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، حالانکہ قرآن صاف اعلان کرتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾ (سورۃ الرعد: 11)

یعنی انسان کی سوچ، جستجو اور کوشش اس کی تقدیر کے ظاہری رخ کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:


عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری نہ ناری


یعنی انسان نہ پیدائشی طور پر فرشتہ ہے، نہ شیطان

وہ اپنے اعمال سے خود کو جنتی یا جہنمی بناتا ہے۔


اخلاق: اصل کامیابی کا پیمانہ۔


اسلام میں کامیابی کا معیار مال و منصب نہیں بلکہ حسنِ اخلاق ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔”(صحیح بخاری)

اور ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:

“قیامت کے دن مومن کے میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی عمل نہ ہو گا۔” (سنن ترمذی)


یہی وجہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے—

نہ جسم کے ساتھ، نہ نام کے ساتھ، بلکہ کردار کی خوشبو کے ساتھ۔

مرنے کے بعد یاد کیسے رکھا جاتا ہے؟

یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ

مرنے کے بعد سبھی کو یاد کیا جاتا ہے،

مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ:

کسی کو دعاؤں میں یاد کیا جاتا ہے

اور کسی کو شکایتوں میں

کسی کے جانے پر خلا محسوس ہوتا ہے

اور کسی کے جانے پر بوجھ اترنے کا احساس۔

یہ فرق تقدیر نہیں بناتی،

یہ فرق انسان کے معاملات، اخلاق اور رویے بناتے ہیں۔


*دائمی زندگی کا راستہ*


اے مخاطب!

اگر تُو چاہتا ہے کہ تُو بھی ان لاکھوں لوگوں کی طرح

آئے اور گمنامی میں چلا جائے

تو جمود، خود غرضی اور بے عملی کو اپنا شعار بنا لے۔

لیکن اگر تُو چاہتا ہے کہ تیرا ذکر تیرے بعد بھی باقی رہے

تو اپنی ذات کو مٹا کر خلقِ خدا کے لیے جینا سیکھ۔

علامہ اقبال اسی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:


مٹا دے اپنی ہستی کو اگر مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے


نتیجہ اور پیغام

یاد رکھو!

جو کچھ تیرے رب کی طرف سے ہے

اس پر تجھ سے سوال نہ ہو گا،

لیکن جو تجھے اختیار دیا گیا ہے۔ نیت، اخلاق، کردار اور عمل۔

اسی پر تیرا محاسبہ ہو گا۔

پس کوشش کر کہ:

تُو جینے میں بھی مثال بنے

اور مرنے کے بعد بھی اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے

اگر تُو اس میں کامیاب ہو گیا

تو یقیناً تُو نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا۔


ایک ناصح

انجینیئر نذیر ملک

سرگودھا

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *حرام کی کمائی سے حج و عمرہ کی ادائیگی ایک شرعی مغالطہ*


 اتوار 04 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


حرام کمائی، جھوٹی دینداری اور معاشرتی تباہی، قرآن و حدیث کی روشنی میں تنبیہ۔


وطنِ عزیز میں ایک خطرناک سوچ رفتہ رفتہ عام ہوتی جا رہی ہے۔ کہ “مال جمع کرو چاہے رشوت لو، چوری کرو، ڈاکہ ڈالو، جھوٹ بولو، جھوٹی گواہی دو،

لوگوں کا حق غصب کرو،

اور حج یا عمرہ کر کے پاک صاف ہو جاؤ۔”

یہ سوچ صرف ایک غلط فہمی نہیں، بلکہ دین کے بنیادی تصورات کو مسخ کرنے والی گمراہی ہے۔


*حرام کمائی اور عبادت: ایک بنیادی اصول*


قرآنِ مجید واضح اور دو ٹوک اعلان کرتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا﴾

(سورۃ البقرہ: 168)


“اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ ہے وہی کھاؤ۔”

نبی کریم ﷺ نے اس اصول کو اور زیادہ واضح فرمایا:

“اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔”( مسلم)

پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو دعاء مانگ رہا ہے،

حج و عمرہ بھی کرتا ہے، مگر:

“اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، تو اس کی دعاء کیسے قبول ہو سکتی ہے؟”(صحیح مسلم)

یہ خطرناک غلط فہمی کہاں سے آئی؟

لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ

حج یا عمرہ گناہوں کو ایسے دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کو۔

یہ بات اصولی طور پر درست ہے،

مگر صرف ان گناہوں کے لیے جو حقوقُ اللہ سے متعلق ہوں

اور وہ بھی سچی توبہ کے ساتھ لیکن جہاں حقوقُ العباد کا معاملہ ہو وہاں نہ حج معاف کرتا ہے،

نہ عمرہ،

نہ صدقہ،

نہ نماز۔

نبی ﷺ نے صاف فرما دیا:

“جس نے کسی کا حق مارا ہو

تو قیامت سے پہلے اس سے معافی حاصل کر لے، ورنہ قیامت کے دن اس کے نیک اعمال لے لئے جائیں گے۔”

(صحیح بخاری)


اب سوال یہ ہے:

اگر حرام مال سے حج کیا گیا، تو اس حج کا ثواب کس کو ملے گا؟

حج کرنے والے کو؟

یا اس مظلوم کو جس کا مال غصب ہوا؟

یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب سوچ کر ہی لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔


*معاشرتی بے راہ روی: سب شامل، سب ذمہ دار*


افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ

اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں:

رشوت خور کلرک مافیہ،

حرام خور پٹواری،

پولیس اور محکمہ مال کے اہلکار، حتاکہ محکمہ تعلیم کے آفیسرز اور اسکولوں کے کلرک تک فرعون بنے بیٹھے ہیں۔

قوم کے مسیحا، ڈاکٹرز مریضوں کی گردنیں کاٹنے  اور خطرناک بیماری ظاہر کرکے انسانی اعضاء  بیچنے والے ڈاکٹر۔

کنجریاں، فلمی اداکار، اداکارائیں دوا ساز و ذخیرہ اندوز، جعل ساز، ٹھگ

سب کا ایک ہی نعرہ ہے:

“پہلے مال، بعد میں حج اور

یہ سوچ پورے معاشرے کو

اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر چکی ہے۔


اقبال کی گونجتی ہوئی صدا

علامہ اقبال نے اس خود فریبی کو بہت پہلے بے نقاب کر دیا تھا:


عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری نہ ناری


یعنی انسان اپنے اعمال سے خود فیصلہ کرتا ہے

کہ وہ جنت کا مستحق ہے یا جہنم کا۔


انجام: جس سے قرآن نے ڈرایا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾(سورۃ البقرہ: 188)


اور ایک اور جگہ فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا﴾(النساء: 10)

یہ صرف یتیموں تک محدود نہیں، بلکہ ہر غصب شدہ مال اسی انجام کی طرف لے جاتا ہے۔


*آخری پیغام اور تنبیہ*

اگر معاشرہ اس غلط فہمی سے نہ نکلا تو یقین جانیے:

نہ مسجدیں ہمیں بچا سکیں گی، نہ عمرے اور نہ حج

کیونکہ جہنم اعمال سے بھری جائے گی، دعوؤں سے نہیں۔

اے سیانے لوگو اب بھی وقت ہے:

کس کو دھوکہ دے رہے ہو اس اللہ تعالٰی کو جو دلوں کے بھید تک جانتا ہے یا اپنے اپ کو کیا تم نہیں جانتے کہ کھلی آنکھوں ظلم کر رہے ہو؟


کیا تمہیں یاد نہیں رہتا کہ سال میں ایک یا دو بار اللہ کی گرفت میں آجائے ہو پھر معافیاں بھی مانگتے ہو۔

اس وقت کو غنیمت جانو!

 حرام سے پکی توبہ کیجیئے جیسے نصوح نے کی تھی اور

لوگوں کے حقوق واپس کیجیے۔

عبادت کو حلال رزق سے جوڑیے

ورنہ وہ دن دور نہیں جب

پچھتاوا ہو گا، مگر واپسی ممکن نہ ہو گی۔


نہ دیکھ دیر گیری اس کی کہ سخت ہے گرفت اسکی۔


وما علینا الا البلاغ المبین۔


ایک ناصح

انجینیئر نذیر ملک

سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: جب آپ کی نظر کسی عورت پر پڑ جائے اور دل میں رغبت پیدا ہو۔


پیر 05 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


تمہید

اسلام ایک فطری دین ہے۔ یہ انسان کی جبلّی خواہشات کا انکار نہیں کرتا بلکہ ان کی درست سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس سلسلے میں کامل نمونہ ہے، جہاں انسانی فطرت، اخلاقی پاکیزگی اور عملی حکمت تینوں یکجا نظر آتی ہیں۔


حدیث کا خلاصہ

نبی کریم ﷺ کی نظر ایک مرتبہ ایک عورت پر پڑ گئی۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا تھا، مگر آپ ﷺ نے اسی لمحے نفس کی اصلاح فرمائی۔ آپ ﷺ وہیں سے واپس ہوئے اور اپنی زوجہ محترمہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، اپنی فطری ضرورت کو حلال دائرے میں پورا فرمایا اور پھر امت کو یہ عظیم اصول عطا فرمایا:

"جب تم میں سے کسی کی نظر کسی عورت پر پڑ جائے اور دل میں رغبت پیدا ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے، کیونکہ اس عورت کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس عورت کے پاس تھا۔"

(مفہومِ حدیث)


یہ حدیث کیوں اہم ہے؟

یہ حدیث تین بڑے فتنوں کا علاج پیش کرتی ہے:


*نظر کی لغزش

دل کی بے قابو خواہش

حرام کی طرف قدم بڑھنے کا خطرہ*


رسول اللہ ﷺ نے نہ تو خواہش کو دبایا اور نہ ہی اس کے پیچھے چلنے کی اجازت دی، بلکہ فوری عملی حل بتایا۔


*نوجوانوں کے لیے رہنمائی*

آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں جی رہا ہے جہاں:

فحاشی عام ہے موبائل اور اسکرین ہر وقت سامنے ہے

نگاہوں کی حفاظت مشکل ہو چکی ہے ایسے میں یہ حدیث نوجوانوں کے لیے ڈانٹ نہیں بلکہ حل پیش کرتی ہے۔


1.خواہش آنا گناہ نہیں، اس پر عمل گناہ ہے

اسلام یہ نہیں کہتا کہ آپ کو خواہش ہی نہ آئے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ:

خواہش آئے تو اس کا رخ حلال کی طرف موڑ دو۔

2.فوری اقدام: تاخیر خطرناک ہے

نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ذکر کرو، یا ٹال دو، بلکہ فرمایا:

اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔

یعنی: خواہش کو دبانا نہیں

بلکہ اسے پاک راستہ دینا


3.نکاح کی اہمیت

یہ حدیث بالواسطہ طور پر نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ:

نکاح صرف معاشرتی رسم نہیں بلکہ نفس کی حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے

اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:

"اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔"


*غیر شادی شدہ نوجوان کیا کریں؟*

اگر کوئی نوجوان ابھی نکاح کے قابل نہیں تو اسلام اسے بھی تنہا نہیں چھوڑتا:


نگاہ کی حفاظت

روزے (جیسا کہ حدیث میں آیا)

مصروفیتِ صالحہ

تنہائی اور فحش مواد سے اجتناب۔ عورت کے بارے میں ایک اہم اصلاح۔

نبی ﷺ کا یہ فرمان:

"اس عورت کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس عورت کے پاس تھا"

یہ عورت کو جنسِ تجارت نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر دیکھنے کی تربیت ہے، تاکہ مرد صرف ظاہری کشش کا اسیر نہ بنے بلکہ حلال رشتے کی قدر سمجھے۔


نتیجہ: نبوی طریقہ = پاکیزہ معاشرہ


اگر آج:

نوجوان اس حدیث کو سمجھ لیں۔ والدین نکاح کو آسان بنا دیں۔ معاشرہ خواہش کو جرم نہیں بلکہ امانت سمجھےتو:


*زنا کے دروازے بند ہو سکتے ہیں


*دل پاک رہ سکتے ہیں

*معاشرہ اخلاقی بگاڑ سے محفوظ ہو سکتا ہے

رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم واقعی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔


الدعاء:

میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک

جو راہ ہو اس راہ پر چلانا مجھ کو۔


یا اللہ تعالی نظر کی خیانت سے بچا اور نیک بنا۔

لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔


آمین یا رب العالمین


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *قرآن اور تقدیر — علمِ الٰہی اور انسانی اختیار کا توازن*


منگل 06 جنوری 2025

تحقیق و تحریر

انجینئر نذیر ملک سرگودھا


تقدیر (Destiny) انسان کی زندگی کا سب سے گہرا اور حساس سوال ہے۔

یہی وہ موضوع ہے جس پر تاریخ کے ہر دور میں عقل حیران اور دل مطمئن رہا ہے۔

کسی نے اسے جبریت (Predestination) سمجھا،

کسی نے آزادیِ ارادہ (Free Will) کا نعرہ لگایا —

مگر قرآن نے اس بحث کو نہایت توازن اور حکمت سے واضح کیا ہے۔


اسلام میں تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مجبور محض ہے،

بلکہ یہ علمِ الٰہی کا مکمل احاطہ ہے —

کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے، مگر مجبور نہیں کرتا۔


علمِ الٰہی — زمان و مکان سے ماورا


قرآن کہتا ہے:

“وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ”(الأنعام: 59)

“غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”


یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ

اللہ تعالیٰ کے لیے وقت ایک ساتھ موجود ہے۔

اس کے علم میں ماضی، حال، مستقبل تینوں ایک ہی لمحے میں منکشف ہیں۔

وہ جانتا ہے کہ بندہ کیا کرے گا، مگر بندے کے اختیار کو سلب نہیں کرتا۔


جیسے استاد امتحان سے پہلے جانتا ہے

کہ اس کا کون سا شاگرد کامیاب ہوگا،

مگر علم رکھنے سے وہ شاگرد کو مجبور نہیں کرتا۔


⚖️ اختیار اور تقدیر، قرآن کی متوازن تعبیر


قرآن نے انسان کو

نہ تو مکمل طور پر مجبور قرار دیا

اور نہ بالکل آزاد۔

 “إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا” (الدہر: 3)

“ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا، اب چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا۔”


یہی آیت انسانی اختیار (Free Will) کا سب سے واضح اعلان ہے۔

انسان کے سامنے دو راستے ہیں 

اللہ تعالیٰ نے عقل، وحی اور ضمیر کی رہنمائی دے دی،

فیصلہ بندے کے اپنے ہاتھ میں ہے۔


*اعمال کا حساب — تقدیر کے باوجود*


قرآن میں بارہا “حساب و کتاب” کا ذکر آیا ہے۔

اگر انسان مجبور ہوتا تو پھر قیامت کے دن حساب کا کیا معنی

 “فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ” (الزلزال: 7-8)


یعنی انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔

اللہ نے راستہ دکھایا، مگر چلنا انسان نے ہے۔


*تقدیر کی اقسام — علمائے امت کے نزدیک*


علمائے اہلِ سنت کے نزدیک تقدیر چار پہلو رکھتی ہے:


1 علم (علمِ الٰہی):

اللہ ہر چیز کو پہلے سے جانتا ہے۔


2.  کتابت (نوشت):

ہر چیز “لوحِ محفوظ” میں درج ہے۔


3 مشیت (ارادہ):

جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کی اجازت سے ہوتا ہے۔


4 خلق (تخلیق):

اللہ ہی خالقِ اعمال ہے، مگر بندہ فاعلِ مختار۔


یہی وہ ترتیب ہے جس سے اسلام جبریت اور آزاد خیالی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔


مثال: بیج اور زمین


انسان کا اختیار ایسا ہے جیسے کسان کا۔

وہ زمین میں بیج بوتا ہے، پانی دیتا ہے، مگر

بارش، ہوا اور نشوونما اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔

اگر کسان سستی کرے، تو فصل نہیں اگتی۔

اگر محنت کرے، تو اللہ اس کے اسباب میں برکت دیتا ہے۔

اسی طرح اعمال انسان کے اختیار میں ہیں، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں۔


سائنسی زاویہ — Determinism vs Quantum Freedom

جدید سائنس میں بھی “جبریت” اور “آزادی” کی بحث موجود ہے۔

کلاسیکل فزکس (نیوٹن) میں کائنات ایک گھڑی کی طرح چلتی تھی —

یعنی سب کچھ پہلے سے طے ہے۔

مگر کوانٹم فزکس (Quantum Mechanics) نے دکھایا کہ ذرات کے رویے میں “غیر متوقع آزادی” موجود ہے۔


یہی نظریہ قرآن کے تصورِ تقدیر سے ہم آہنگ ہے 

کہ نظامِ کائنات منظم بھی ہے، مگر انسان کے لیے انتخاب کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔


*انبیاء اور تقدیر پر ایمان*


قرآن میں تمام انبیاء نے تقدیر کو مانا مگر کبھی اسے عذر نہیں بنایا۔


حضرت نوحؑ نے طوفان میں کشتی بنائی یہ اختیار تھا۔

حضرت ابراہیمؑ نے آگ میں کودنے سے انکار نہیں کیا یہ تسلیم تھا۔

اور رسولِ اکرم ﷺ نے ہجرت فرمائی یہ تقدیر کے ساتھ عمل کا امتزاج تھا۔


 “تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَوَكِّلِينَ”(الأنفال: 49)


توکل کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا جائے،

بلکہ یہ کہ فیصلہ اللہ کے سپرد کر کے اپنی پوری حتمی کوشش کی جائے۔


توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا


پھر اس کی تیزی کو مقدر کے حوالہ کر


نتیجہ

تقدیر، علمِ الٰہی کا نام ہے  جبر کا نہیں۔

اللہ جانتا ہے، مگر بندے کا اختیار باقی ہے۔


عمل کے بغیر ایمان ادھورا ہے،

اور عمل کے بغیر تقدیر کا سہارا خود فریب۔


بندے کو چاہئے کہ عمل میں رسول ﷺ کو نمونہ بنائے،

اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔

 “وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ”(الانسان: 30)


یعنی تم کچھ نہیں چاہتے مگر وہی جو اللہ چاہے —

اور یہی اسلام کا سب سے بلند فلسفہ ہے:

رضائے الٰہی پر راضی ہونا۔


الدعاء 

یا میرے رب میری عقل و فہم  اور ایمان کی حفاظت فرما۔

آمین یا رب العالمین


انجینئر نذیر ملک

سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

قرآن اور تقدیر

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *طلاق دینے کا شرعی طریقہ*


بدھ 07 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


طلاق نہایت سنجیدہ اور ناپسندیدہ مگر بعض حالات میں جائز عمل ہے۔ شریعتِ اسلام نے اس کے لیے واضح، منظم اور حکیمانہ طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ ظلم، جلد بازی اور خاندان کی تباہی سے بچا جا سکے۔ ذیل میں طلاق دینے کا شرعی طریقہ 

مرحلہ وار بیان کیا جا رہا ہے:


1️⃣ طلاق کی نیت اور آخری حل ہونا۔


قرآن کے مطابق طلاق آخری حل ہے، اس سے پہلے:

*نصیحت

*وقتی علیحدگی

*خاندان کے ثالث آزمانا ضروری ہے(سورۃ النساء: 35)


2️⃣ طلاق دینے کا مسنون (شرعی و سنت کے مطابق) طریقہ

✅ طریقۂ احسن (سب سے بہتر)

*شوہر ایک طلاق دے

*یہ طلاق اس وقت دی جائے:

جب بیوی حیض میں نہ ہو

*اور اس طہر میں جماع نہ ہوا ہو۔

*اس کے بعد شوہر عدّت تک انتظار کرے۔


عدّت کے دوران:

*رجوع (واپس لینا) جائز ہے

*یا عدّت مکمل ہونے پر نکاح خود ختم ہو جائے گا۔

(سورۃ البقرہ: 229)


✅ طریقۂ حسن

*شوہر تین طہروں میں:

*ہر طہر میں ایک ایک طلاق دے۔

*عدّت کے دوران رجوع کی گنجائش باقی رہتی ہے

*تیسری طلاق کے بعد رجوع ممکن نہیں۔


3️⃣ ناجائز اور گناہ والا طریقہ (بدعت)

❌ ایک ہی وقت میں تین طلاق دینا

❌ حیض کی حالت میں طلاق دینا

❌ غصے میں، جلد بازی میں طلاق دینا

یہ طریقہ حرام اور گناہ ہے، اگرچہ اکثر فقہاء کے نزدیک واقع ہو جاتی ہے۔

*سورۃ الطلاق: 1


4️⃣ عدّت کے احکام

*عدّت: تین حیض


*اس دوران:

✅ بیوی شوہر کے گھر میں رہے گی۔

✅  نان و نفقہ شوہر کے ذمے ہوگا

✅ شوہر کو رجوع کا حق حاصل رہتا ہے


5️⃣ رجوع کا طریقہ

عدّت کے اندر:

✅ زبانی کہنا: "میں نے رجوع کر لیا"

✅ یا ازدواجی تعلق قائم کرنا

✅ رجوع کے لیے نیا نکاح ضروری نہیں۔


6️⃣ ایک ساتھ تین طلاق کا حکم۔

 *رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں طلاق نافذ نہیں ہوتی تھی۔


*خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں بھی طلاق نافذ نہیں ہوتی تھی۔


*خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلے دو سال میں میں بھی طلاق نافذ نہیں ہوتی تھی۔

*دو سال بعد حضرت عمر نے تین طلاق کو یہ کہہ کر نافذ کر دیا تھا کہ لوگ اب تعدی سے کام لینے لگے ہیں۔


***بعض اہلِ علم کے نزدیک تین طلاق نافذ  ہو جاتی ہیں مگر سنت رسول اللہ سے ثابت نہیں۔


7️⃣ عورت کا حق: خلع

اگر عورت علیحدگی چاہے تو:

خلع لے سکتی ہے

*مہر واپس کر کے نکاح ختم کروا سکتی ہے(البقرہ: 229)


**عدالت فیصلہ دی سکتی ہے خلع کی صورت میں حق مہر عورت کو اور جہیز مرد کو واپس کرنا ہو گا۔


***خلع کی عدت ایک طہر ہے لیکن طلاق کی عدت تین طہور ہے.


*خلاصہ کلام*

✔️ سنت طریقہ: ایک طلاق، طہر میں، عدّت تین طہور کا انتظار

❌ بدعت: ایک ساتھ تین طلاق، حیض میں طلاق

⚠️ طلاق آخری حل ہے، کھیل نہیں.


نوٹ:

تین طلاق کے نافذ ہونے پر اس مرد سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ یہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کر لے اور وہاں سے بھی اسے طلاق ہو جائے۔


*الدعاء*

یا اللہ تعالی ہر مرد و زن کو معاہدہ نکاح نبھانے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ تعالی سب کی عزتیں محفوظ فرما۔


آمین یا رب العالمین


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نماز تہجد کا طریقہ*


جمعرات 08 جنوری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


مسئلہ نمبر 227

*آنحضرت صلی ﷲ علیہ والہ وسلم کی نماز تہجد*


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل تہجد کی نماز ہے(رواہ مسلم)


مسئلہ نمبر 228


*اہتمام تہجد*

جسنے نماز تہجد پڑھنی ہو وہ عشاء کی نماز میں وتر نہ پڑھے  یعنی چھوڑ دے اور صبح تہجد کے وقت یعنی آذان فجر سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے اٹھے اور وضو بنا کر نماز تہجد ادا کرے اور عشاء کے چھوڑے ہوئے وتر تہجد کی نماز کے آخر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم نے فرمایا کہ وتروں کو رات کی آخری نماز بناو۔

 

مسئلہ نمبر 229


*نماز تہجد کی رکعتیں*

حضرت عبداللہ بن ابوقیس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کی نماز کتنی پڑھتے؟


حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا


" کبھی چار نفل اور تین وتر (کل سات رکعت) کبھی چھ نفل اور تین وتر(کل نو رکعت)کبھی آٹھ نفل اور تین وتر(کل گیارہ رکعت) کبھی دس نفل اور تین وتر(کل تیرہ رکعت) ادا فرماتے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رات کی نماز سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی (رواہ ابوداؤد)


مسئلہ نمبر 230

*آنحضرت صلی ﷲ علیہ والہ وسلم کی نماز تہجد کا طریقہ۔*


نبی کریم ﷺ تہجد کی نماز سفر و حضر کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے ۔ جب کبھی آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا یا کوئی تکلیف ہو جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔


مسئلہ نمبر 231

*چونکہ رات میں آپ اکثر گیارہ رکعت نماز تہجد پڑھتے تھے اور اگر کسی بھی وجہ سے آپ نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو ایک رکعت کے اضافے کے ساتھ بارہ رکعت نماز دن میں نماز ظہر سے پہلے ادا فرما لیا کرتے تھے کیونکہ دن میں وتر نماز نہیں ہوتی۔*


مسئلہ نمبر 232

*ہم نے شیخ السلام ابن تیمیہ ؒ کو اس دلیل کے متعلق فرماتے سنا کہ وتر اپنے محل سے قضاء ہوجانے کے بعد قضاء نہیں ہوتی جس طرح تحیۃ المسجد ، نماز کسوف اور نماز استسقاء وغیرہ ، کیوں کہ اس سے مقصود یہ ہے کہ رات کی آخری نماز وتر ہے۔آپ ﷺ نماز تہجد میں گیارہ یا تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔گیارہ رکعتوں پر اتفاق ہے اور آخری دو رکعتوں پر اختلاف ہے کہ وہ فجر کی سنتیں تھیں یا کوئی اور نماز تھی، اس طرح جب فرائض اور ان سنن موکدہ کو جمع کیا جائے، جب آپ مواظبت کرتے تھے تو مجموعی طور پر چالیس رکعتیں ہوتی ہیں، اس کے علاوہ کوئی نماز پڑھی تو پابندی سے نہیں پڑھی۔


سوال نمبر 233

*ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ تا حیات اس طرح معمول رکھے اس لئے کہ جو شخص دن اور رات میں چالیس مرتبہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو ظاہر بات ہے کہ کس قدر جلد سن لی جاےئے گی۔*


مسئلہ نمبر 234

*نبی کریم ﷺ جب رات کے وقت جاگتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔*


*(لا الہ الا انت سبحانک الھم استغفرک لذنبی، وأسالک رحمتک الھم زدنی علما ولا تزغ قلبی بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب)*


ترجمہ: تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، اے ﷲ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، اور تجھ سے تیری رحمت طلب کرتا ہوں ، اے ﷲ میرے علم میں اضافہ فرما اور ہدایت کی بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر، مجھ کو اپنی رحمت سے نواز، تو بہت نوازنے والا ہے۔


مسئلہ نمبر 235

*جب آپ ﷺ سو کر اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:*


(الحمد ﷲ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور)


تمام تعریفیں اس ﷲ کے لیے ہیں ، جس نے ہم کو موت (نیند) کے بعد زندگی عطاء کی اور اسی کے پاس جمع ہونا ہے۔


مسئلہ نمبر 236

*پھر اس کے بعد آپ ﷺ مسواک فرماتے ۔ بسا اوقات سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرماتے*


(ان فی خلق المسٰوٰتِ والارض) سے آخر سورۃ تک تلاوت فرماتے تھے ، پھر وضو کرتے اور مختصر دو رکعتیں پڑھتے،

*تحتہ الوضو*


مسئلہ نمبر 237

*حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے اسے پڑھنے کا حکم معلوم ہوتا ہے۔جب رات آدھی گذر جاتی اس سے قبل یا اس کے بعد آپ اٹھنتے اور اکثر اوقات اس وقت اٹھتے جب آواز دینے والے یعنی مرغ کی آواز سنتے اور اور وہ اکثر نصف ثانی (رات کے آخری نصف) میں آواز لگاتا تو آپ اپنا ورد کئی حصوں میں کر دیتے اور کبھی مسلسل جاری رکھتے اور یہی زیادہ تر ہوتا، کئی حصوں میں ادا کرنے کی صورت حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی کہ دو رکعتیں نماز ادا کر کے آپ ﷺ سو جاتے تھے، اس طرح تین مرتبہ میں چھ رکعتیں ادا فرماتے تھے اور ہر مرتبہ اٹھ کر مسواک اور وضو کرتے، پھر تین رکعت وتر ادا کرتے*


مسئلہ نمبر 238

*نماز وتر*

*آپ ﷺ وتر کئی طرح پڑھتے تھے ایک کیفیت کا ذکر ابھی ہوا،*


مسئلہ نمبر 239

*دوسری صورت یہ ہے کہ آپ آٹھ رکعتیں اس طرح پڑھتے تھے کہ ہر دو رکعت بعد سلام پھیرتے تھے ، پھر مسلسل پانچ رکعتیں بطور وتر پڑھتے*

صرف آخر میں تشہد کے لئے بیٹھتے تھے۔


مسئلہ نمبر 240

*تیسری صورت: نو رکعت اس طرح پڑھتے تھے کہ آٹھ رکعت مسلسل پڑھتے اور صرف آٹھویں رکعت کے آخر میں بیٹھتے اور ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے، دعاء مانگتے اور پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے ، پھر نویں رکعت میں تشہد پڑھتے اور سلام پھیر دیتے، سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔*


مسئلہ نمبر 241

*پانچویں صورت: دو دو رکعتیں پڑھ کر آخر میں تین رکعت وتر پڑھ لیتے ، جس میں قعد یا تشہد کا فاصلہ نہ ہوتا ۔ اس کو امام احمد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان وقفہ نہیں کرتے تھے، تاہم یہ روایت محل نظر ہے۔ کیونکہ صحیح ابن حبان میں ابو ہریرہؓ سے مرفوع روایت ہے کہ " تین رکعت وتر نہ پڑھو، پانچ یا سات پڑھو، 


مسئلہ نمبر 242

*وتر کو مغرب کی نماز کے مشابہ نہ بناؤ ۔*


امام دار قطنی کہتے ہیں کہ اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں۔حرب کہتے ہیں کہ امام احمد سے وتر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا " دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے۔" اگر سلام نہ پھیر سکا تو میرا خیال ہے کہ کوئی نقصان دہ بات نہیں ہے لیکن سلام پھیرنا نبی اکرم ﷺ سے زیادہ مستند طریقے سے ثابت ہے۔ 


مسئلہ نمبر 243

*ایک رکعت وتر*

ابو طالب کی روایت میں ایک قول مذکور ہے کہ زیادہ قویٰ روایت ایک رکعت والی ہے اور میں اسی کا قائل ہوں۔


مسئلہ نمبر 244

چھٹی صورت:جیسا کہ امام نسائی ؒ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رمضان میں رسول ﷲ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو رکوع میں قیام کے بعد بقدر یہ دعاء پڑھی(سبحان ربی العظیم) اسی حدیث میں ہے کہ آپ نے ابھی چار رکعتیں پڑھی تھیں کہ حضرت بلال صبح کی نماز کے لئے آپ کو بلانے آ گئے۔


مسئلہ نمبر 245

*آپ نے رات کی ابتدائی، درمیانی اور آخری حصہ میں وتر پڑھے، ایک رات قیام میں صبح تک صرف ایک آیت ہی پڑھتے رہے، اور وہ یہ تھی:*


(ان تعذبھم فانہم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم) (المائدہ: 118)


ترجمہ: اگر تو ان کو عذاب دیگا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دیگا تو غالب حکمت والا ہے۔


مسئلہ نمبر 246


*وتروں کو رات کی آخری نماز بناو*

رات میں آپکی نماز تین طرح کی ہوتی تھی،


 ایک یہ کہ آپ زیادہ تر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تھے، دوسرے بیٹھ کر نماز پڑھتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، تیسرے یہ کہ آپ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تھوڑی سے قرأت باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع فرماتے۔ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ وتر کے بعد کبھی دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اور کبھی بیٹھ کر ہی قرأت کرتے اور رکوع کے وقت کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے۔ اس حدیث میں بہت لوگوں کا اشکال ہوا اور انہوں نے آنحضور ﷺ سے اس ارشاد کو کہ "رات کی آخری نماز وتر بناؤ" کا معارض سمجھ لیا۔امام احمد فرماتے ہیں کہ میں ان دو رکعتوں کو نہ پڑھتا ھوں اور نہ کسی کو پڑھنے سے منع کرتا ہوں۔ امام مالک نے تو ان دونوں رکعتوں کا انکار کیا ہے۔ لیکن صحیح صورت یہ ہے کہ نماز وتر مستقل عبادت ہے اور وتر کے بعد دو رکعتیں مغرب کی سنتوں کی طرح ہیں۔اس طرح مذکورہ دونوں رکعتیں وتر کی تکمیل کا درجہ رکھتی ہیں مگر کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتیں۔


مسئلہ نمبر 247

*وتر میں نبی اکرم ﷺ سے قنوت ثابت نہیں۔*


 صرف ابن ماجہ کی ایک حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ امام احمد کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں حضور ﷺ سے کچھ ثابت نہیں لیکن حضرت عمر ؓ پورے سال دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔اصحاب سنن نے قنوت پڑھنے کا سلسلہ میں حضرت حسن بن علیؓ کی حدیث کو روایت کیا ہے۔امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور کہا کہ ہم اس کو ابوالحوراء السعدی کے طریقے سے جانتے ہیں۔


مسئلہ نمبر 248

نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنا حضرت عمرؓ، حضرت ابی ابن کعب اور حضرت ابن مسعودؓ سے ثابت ہے۔ امام ابو داؤد اور امام نسائی نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ


مسئلہ نمبر 249

*رسول ﷲ ﷺ وتر میں سورۃ اعلیٰ، سورۃ الکافرون اور سورۃ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔


مسئلہ نمبر 250

وتروں میں سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ *(سبحان الملک القدوس)* کہا کرتے تھے۔


نبی اکرم ﷺ سورت ترتیل سے پڑھتے تھے، خواہ وہ بڑی سے بڑی کیوں نہ ہو۔ قرآن کریم پڑھنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ غور و فکر و تدبر سے کام لیا جائے۔ اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تلاوت اس کے مفہوم و معانی کے سمجھنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قرآن کریم عمل کے لئے نازل کیا گیا ہے اس لئے اس کی تلاوت کو عمل سمجھو۔ حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو جمرہ نے بتایا کہ میں نے ابن عباسؓ سے عرض کیا کہ میں جلدی پڑھنے کا عادی ہوں اور بسا اوقات ایک رات میں ایک یا دو قرآن ختم کرتا ہوں ۔ ابن عباسؓ نے فرمایا " مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ایک سورۃ پڑھوں بجائے اس کے کہ جو تم کرتے ہو۔ اگر تم کو تیز ہی پڑھنا ہے تو اس طرح پڑھو کہ کان سن سکیں اور دل یاد کر سکے۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے حضرت ابن مسعود کے سامنے تلاوت فرمائی تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، ترتیل سے پڑھو کیونکہ یہ قرآن مجید کی زینت ہے۔


نیز حضرت عبد ﷲ بن مسعود فرماتے ہیں کہ قرآن کو شعر کی طرح نہ گا کر پڑھو اور نہ فضول کلام کی طرح پڑھو بلکہ اس کو پڑھتے وقت اس کے عجائب پر ٹھہرو اور اس کے ذریعے دلوں کو حرکت دو اور دھیان محض سورۃ کو ختم کر دینے پر نہ لگا ہوا ہو۔مزید فرماتے ہیں "جب تک سنو کہ ﷲ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے" (یا ایھا الذین امنو) (ائے ایمان والو!) تو تم سراپا گوش ہو جاؤ یا تو تمہیں نیکی کا حکم دیا جائے گا یا برائی سے منع کیا جائے گا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی میں اس وقت " سورۃ ہود" پڑھا رہا تھا۔ وہ کہنے لگی ، اے عبد الرحمن تو اس طرح سورۃ پڑھ رہا ہے ، بخدا میں اسے چھ مہینوں سے پڑھ رہی ہوں لیکن ابھی تک اسے ختم نہیں کر سکی ہوں۔رسول ﷲ ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی آہستہ سے تلاوت فرماتے تو کبھی بہ آواز بلند ، دونوں طرح قرأت فرماتے تھے اور قیام کبھی مختصر کرتے اور کبھی طو یل، نفل نمازیں حالت سفر میں دن ھو یا رات سواری پر پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ جس طرف ہو، رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرتے تھے اور سجدہ رکوع سے زیادہ جھک کر کرتے تھے۔


مسئلہ نمبر 251

*وتروں کے بعد دو نوافل آپ بیٹھ کر پڑھتے تھے*


اس کے علاوہ دن میں کوئی بھی نفل نماز آپ بیٹھ کر نہیں پڑھتے تھے


*الدعاء*

اے میرے رب کریم! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے۔


اے ﷲ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت طلب کرتا ہوں۔

اے ﷲ میرے علم میں اضافہ فرما اور ہدایت کے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر، مجھے اپنی رحمت سے نواز، تو بہت نوازنے والا ہے۔


*یا اللہ تعالی ہمیں نماز تہجد قائم کرنے کی توفیق عطا فرما*


آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik.com

Cell:00923008604333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *نماز میں ممنوع امور*


جمعہ 09 جنوری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


*تکبیر تحریمہ کیا ہے*

نماز  میں داخل ہونے کے لئے پہلی تکبیر *اللہ اکبر* کہنا تکبیر تحریمہ کہلاتی ہے اس کے بعد ہر وہ جائز کام جو نماز کی حالت سے پہلے کرنا جائز تھا دوران نماز سرانجام دینا حرام ہو جاتا ہے۔ مثلا" کھانا پینا، چلنا پھرنا، بات چیت کرنا اور دیگر عام حالات میں جائز امور انجام دینا۔

 اسی لئے کہی گئی اس تکبیر *الله اكبر* کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔


*نماز میں ممنوع امور*


مسئله نمبر 452

*نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا منع ہے۔*


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔


مسئلہ نمبر 453

*نماز میں انگلیاں چٹخانا یا انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا منع ہے۔*


حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کر کے مسجد کی طرف جائے، تو راستے میں انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر نہ چلے کیونکہ وہ حالت نماز میں ہوتا ہے۔“ اسے احمد، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔


مسئلہ نمبر 454

*نماز میں جمائی لینے سے حتی الوسع پرہیز کرنے کا حکم ہے۔*


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اسے حتی المقدور روکے کیونکہ اس وقت شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔


مسئلہ نمبر 455 

*نماز میں نگا ہیں آسمان کی طرف اٹھانا منع ہے۔*


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ  نےفرمایا لوگوں کو حالت نماز میں دعا ما نگتے ہوئے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جانا چاہئے 

ورنہ ان کی نگا ہیں اچک لی جائیں گی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔


مسئلہ نمبر 456

*نماز میں منہ ڈھانپنا منع ہے*


مسئلہ نمبر 457 

*نماز میں کپڑا دونوں کندھوں پر اس طرح لٹکانا کہ اس کے دونوں سرے سیدھے زمین کی طرف ہوں "سدل " کہلاتا ہے جو کہ منع ہے۔*


مسئلہ نمبر 458

*دوران نماز میں کپڑے سمیٹنا یا بال درست کرنا نیز بلا عذر کوئی بھی حرکت کرنا منع ہے۔*


مسئلہ نمبر 459

*سجدہ کی جگہ سے بار بار کنکریاں ہٹانا منع ہے۔*


مسئلہ نمبر 460 

*نماز میں ادھر ادھر دیکھنا منع ہے۔*


حضرت ابوذر  رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی نماز میں برابر متوجہ رہتا ہے جب تک بندہ ادھر ادھر نہ دیکھے جب بندہ توجہ ہٹالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹا لیتا ہے۔ اسے احمد ، ابوداؤد، نسائی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے


*الدعاء*

یا اللہ تعالی  سب مسلمانوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کی طرح نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرماء 


یا اللہ تعالی  سب بے نمازیوں کو 5 وقت کا نمازی بنا دے۔


آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

نماز میں ممنوع امور

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: درست اسلامی عقیدہ


کلمہ شہادت (شہادتین) کا مطلب ہے یہ گواہی دینا کہ "اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں" (أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله)، جس میں دل سے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کے رسول ہونے کا اقرار کیا جاتا ہے اور یہی کلمہ اسلام میں داخلے کی بنیاد ہے. 

کلمہ شہادت کے الفاظ:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں).

وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں). 

مفہوم:

لا إله إلا الله: اس کا مطلب ہے کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہے، اس کے سوا کوئی نہیں، اور ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے ہے.

محمد رسول الله: اس کا مطلب ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا ضروری ہے. 

اہمیت:

یہ کلمہ اسلام کا بنیادی رکن ہے اور اس کا پڑھنا اللہ کی توحید اور رسالت پر ایمان لانے کا اعلان ہے.

سچے دل سے اس کلمے کا اقرار کرنے والا شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *قبروں پر قرآن خوانی قرآن و سنت کی روشنی میں*


جمعرات 15 جنوری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، محمدٍ وعلٰی آلہ وصحبہ أجمعین۔

اما بعد!


انسان جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اہل ایمان کا دل چاہتا ہے کہ اس کے لیے دعا کرے، قرآن پڑھے، اور نیکیوں کا ثواب پہنچائے۔

یہ نیک جذبہ لائقِ تحسین ہے، مگر ہر نیکی اس وقت قبول ہوتی ہے جب وہ شریعت کے مطابق ہو۔

اسی اصول پر ہم دیکھتے ہیں کہ کیا قبروں پر قرآن پڑھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔


 1- نبی کریم ﷺ کا عمل

نبی ﷺ جب قبروں پر تشریف لے جاتے تو صرف سلام اور دعاء فرماتے، تلاوت نہیں کرتے تھے۔

جیسا کہ حدیث میں ہے:

السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ... نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ العَافِيَةَ

(صحیح مسلم، حدیث: 975)


اس دعاء میں نہ تلاوت کا ذکر ہے، نہ اس کی تلقین۔

اگر قرآن پڑھنا مشروع عمل ہوتا تو نبی ﷺ ضرور اس کی ہدایت فرماتے۔


 2- قرآن و سنت میں ایصالِ ثواب کا مفہوم۔


آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے سب اعمال رک جاتے ہیں مگر تین اعمال جاری رہتے ہیں


1- صدقہ جاریہ ( اپنی زندگی میں)

2- علم نافع (اپنی زندگی میں)

 3-اولاد صالح

دراصل یہ وہ مضبوط شق ہے  

جس کے تحت ایصال ثواب اولاد کی طرف سے والدین کو پہنچتا ہے۔جیسے دعاء، صدقہ، خیرات، روزہ یا حج وغیرہ۔


البتہ قرآن کی تلاوت کے ثواب کو میت کو پہنچانے کا کوئی صریح ثبوت نبی ﷺ یا صحابہؓ سے نہیں ملتا۔


❌ 4. بدعت اور غلو کا پہلو


اگر کوئی شخص قبروں پر قرآن خوانی کو جنازے کے بعد لازم سمجھ لے، مخصوص دنوں میں لازمی رسم بنا دے،


یا اسے شرعی عبادت قرار دے، تو یہ بدعت کہلائے گی، کیونکہ عبادات میں اضافہ جائز نہیں۔


قرآن کہتا ہے:

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ

(الشوریٰ: 21)

"کیا ان کے شریک ہیں جنہوں ے  دین میں وہ باتیں مقرر کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟"


 5- زیارتِ قبور کا مسنون طریقہ


قبر پر جانے کا اصل مقصد تلاوت نہیں بلکہ عبرت، دعاء اور یادِ آخرت ہے۔


نبی ﷺ نے فرمایا

 زُورُوا القُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الآخِرَة(ابن ماجہ: 1569)

"قبروں کی زیارت کرو، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔"


لہٰذا جب آپ قبر پر جائیں تو یہ دعا پڑھیں:

السلام علیکم یا أهل القبور، یغفر الله لنا و لکم، أنتم سلفنا ونحن بالأثر(ترمذی: 1053)


قبروں پر قرآن خوانی نبی ﷺ یا صحابہؓ سے ثابت نہیں۔


قبر پر قرآن خوانی کو رسم یا لازم عمل سمجھنا بدعت ہے۔


اصل سنت یہ ہے کہ قبر پر دعا، سلام اور عبرت کے ساتھ زیارت کی جائے۔


*الدعاء*

اے اللہ! ہمیں دین کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔

اے اللہ! ہمارے مرحومین پر رحم فرما، ان کی مغفرت فرما، اور ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔

آمین یا رب العالمین۔

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: بسم اللہ الرحمن الرحیم

واقعۂ اسراء و معراج: سیاق و سباق کے ساتھ ایک جامع تحقیقی جائزہ


جمعرات 15 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


تمہید:

اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو جو عظیم معجزات عطا فرمائے، ان میں واقعۂ اسراء و معراج کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف نبوتِ محمدی ﷺ کی صداقت کی روشن دلیل ہے بلکہ ایمان بالغیب، قدرتِ الٰہی، اور بندۂ مؤمن کے رب سے تعلق کی اعلیٰ ترین مثال بھی ہے۔ قرآنِ مجید نے اس واقعہ کو اجمالاً اور احادیثِ صحیحہ نے تفصیلاً بیان کیا ہے، جس سے اس کی قطعیت اور حقانیت واضح ہوتی ہے۔


واقعۂ معراج کا تاریخی و دعوتی پس منظر:


واقعۂ معراج ایسے وقت میں پیش آیا جب نبی کریم ﷺ اپنی دعوت کے اعتبار سے نہایت کٹھن مرحلے سے گزر رہے تھے۔


حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابو طالبؓ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مکہ میں مخالفت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی

طائف کا سفر ظاہری اعتبار سے ناکام رہا۔


ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو آسمانی تسلی، اعزاز اور تقویت عطا فرمائی، تاکہ آپ ﷺ کے دل کو سکون اور دعوت کو نیا ولولہ عطا ہو۔


*قرآنِ مجید میں واقعۂ اسراء*


واقعۂ اسراء (مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر) کا ذکر اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ فرمایا:

 سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى (الإسراء: 1)


اس آیت میں چند نہایت اہم نکات قابلِ غور ہیں:


1."سبحان" کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ انسانی عقل سے ماورا، مگر اللہ کی قدرت کے عین مطابق ہے


2."عبدہ" کا لفظ واضح کرتا ہے کہ یہ سفر جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوا


3."لیلًا" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ پورا سفر ایک ہی رات میں مکمل ہوا


*معراج کا ذکر قرآن میں*


اگرچہ معراج (آسمانوں کی طرف عروج) کا ذکر براہِ راست سورۃ الإسراء میں نہیں، لیکن سورۃ النجم میں اس کی واضح طرف اشارہ موجود ہے:

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ … لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ

(سورۃ النجم: 8–18)


اکابر مفسرین (امام ابن کثیر، امام قرطبی، امام رازی) کے نزدیک یہ آیات سدرۃ المنتہیٰ اور آسمانی مشاہدات کی صریح دلیل ہیں۔


احادیثِ صحیحہ میں واقعۂ معراج


واقعۂ معراج کا بیان احادیثِ صحیحہ میں نہایت تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اور یہ واقعہ متواتر المعنیٰ ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت انسؓ، حضرت ابوذرؓ اور حضرت مالک بن صعصعہؓ سے مروی روایات میں درج ذیل امور ثابت ہیں:


براق پر سوار ہو کر بیت المقدس تک جانا:


مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء کرامؑ کی امامت:


حضرت جبرئیلؑ کے ساتھ ساتوں آسمانوں پر عروج:


مختلف انبیاءؑ سے ملاقات:


سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ:


اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کی فرضیت:


یہ تمام تفصیلات اس بات کو قطعی بنا دیتی ہیں کہ معراج ایک حقیقی اور بیداری کا واقعہ تھا۔


کیا معراج جسمانی تھی یا روحانی؟

اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ اور جمہوری موقف یہ ہے کہ معراج جسم اور روح دونوں کے ساتھ بیداری میں ہوئی۔


اس موقف کے دلائل یہ ہیں:


1.قرآن میں "عبدہ" کا استعمال۔


2.کفارِ مکہ کا انکار اور مذاق اڑانا (خواب پر اعتراض نہیں کیا جاتا)۔


3.بیت المقدس کی علامات کا بیان۔


4.براق اور آسمانی سفر کی تفصیلات۔


امام نووی، حافظ ابن حجر اور امام قرطبی سب اسی موقف کو راجح قرار دیتے ہیں۔


*معراج کی تاریخ: ایک تحقیقی جائزہ*


معراج کی تاریخ کے بارے میں کوئی قطعی اور متفق علیہ دن ثابت نہیں۔

27 رجب کا قول عوام میں مشہور ہے، مگر:


اس کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں بلکہ یہ محض ضعیف تاریخی روایات پر مبنی ہے


دیگر اقوال میں 17 ربیع الاول، 12 ربیع الاول اور رمضان کا ذکر ملتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخ کا اختلاف بذاتِ خود تخصیص کی نفی ہے۔


معراج اور فرضیتِ نماز:

معراج کا سب سے عظیم تحفہ پانچ وقت کی نماز ہے، جو بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی۔ ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں، جو تخفیف کے بعد پانچ رہ گئیں، مگر اجر پچاس کا برقرار رکھا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ نماز کو:

 "مؤمن کی معراج" کہا گیا ہے، یعنی بندہ نماز کے ذریعے روحانی طور پر اپنے رب کے قریب ہوتا ہے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ امت محمد کے اکثر مسلمان نماز نہیں پڑھتے ایسے لوگ پاکستانی شناختی کارڈ میں تو مسلمان ہیں مگر اللہ تعالی کا قرآن مجید انھیں متقی نہیں مانتا اور نہ ہی بے نمازیوں کی ھدایت کی ذمہ داری لیتا ہے۔(سورہ بقرہ آیت 2 تا 5)


معراج کے نام پر رائج غیر ثابت اعمال:

بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ کچھ ایسے اعمال معراج سے منسوب کر دیے گئے جو شریعت سے ثابت نہیں، مثلاً:

27 رجب کی رات کی مخصوص عبادات

خاص نمازیں اور دعائیں

چراغاں اور جشن

27 رجب کا خصوصی روزہ

یہ تمام امور نہ نبی ﷺ سے ثابت ہیں، نہ صحابہؓ سے، لہٰذا شرعی معیار پر بدعت کے زمرے میں آتے ہیں۔


*واقعۂ معراج کے عظیم اسباق*


1.اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ


2.نبی کریم ﷺ کا بلند مقام


3.نماز کی مرکزیت و فرضیت


4.انبیاء کرامؑ کی وحدتِ دعوت


5.ایمان بالغیب کی عملی مثال۔۔


خاتمہ

واقعۂ اسراء و معراج اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کا انکار کفر کے قریب ہے، مگر اس واقعہ سے غلو اور بدعات منسوب کرنا بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ اس واقعہ کا اصل پیغام ایمان، اطاعت، نماز اور سنت کی پیروی ہے، نہ کہ تاریخوں اور رسموں کی ایجاد۔


اللہ تعالیٰ ہمیں واقعۂ معراج کے صحیح مفہوم کو سمجھنے اور اس کے عملی پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


وما علینا إلا البلاغ المبین 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Cell: 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *جنت کی گارنٹی*


بدھ 21 جنوری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


عن سهل بن سعد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" من يضمن لي ما بين لحييه، وما بين رجليه اضمن له الجنة".

(صحيح البخاري حدیث: 

نمبر 6474)

ترجمہ:

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔“ 


*حاشیہ حدیث*

1- انسانی اعضاء میں زبان کے علاوہ جس عضو کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے وہ انسان کی شرمگاہ ہے، اس لیے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اعضاء کی ضمانت بیان فرمائی ہے کہ جو بندہ اس کا ذمہ لے لے کہ وہ اپنی زبان کی بھی حفاظت کرے گا اور شہوت نفس کو بھی لگام دے گا میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔


2- یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے ارشادات کے مخاطب وہ اہل ایمان ہیں جو ایمان کے بنیادی مطالبات کو ادا کرتے ہیں، ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

*اپنی زبان پر قابو رکھو*

(مسند أحمد: 259/5)

حوالہ: هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6474.


*الدعاء*

اے ایمان والو! 

اللہ تعالٰی کے نبی کریم نے امتیوں کے لئے جنت کے حصول میں بہت آسانیاں پیدا کر دیں ہیں اور ہمیں نبی کریم کی اس گارنٹی سے فائدہ اٹھانے والا بننے کی ضرورت ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالی تو ہمیں بخشنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں مگر یہ ہم ہی کمزور واقع ہو ئے ہیں کہ  ہم اس رحمت بھری اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے یہ ہماری کمبختی نہیں تو اور کیا ہے؟


آپ سب حضرات سے گزارش ہے کہ ان دونوں اعضاء کی حفاظت فرمائیں اور جنت کے حقدار بن جائیں۔


یا حئی یا قیوم برحمتک استغیث۔


آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *خطبہ جمعہ کا اردو ترجمہ*


جمعہ 23 جنوری 2026

کاوش:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 



السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 


الحمدللہ ہم شکر گزار ہیں اپنے رب کے, جس نے ہمیں یہ جسم و جان عطا فرمائی اور دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائیں اور سب سے بڑھ کر یہ زندگی بخشی اور ہم اس اپنے خالق و رب کو کیوں سجدہ نہ کریں جبکہ اس نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا اسی لئے ہم نماز پنجگانہ ادا کرتے ہیں اور یوم جمعہ کو خصوصا" جامع مسجد جا کر ہفتہ وار نماز جمعہ ادا کرنے سے قبل خطبہ جمعہ احترام سے سنتے ہیں لیکن یہ خطبہ چونکہ خطیب صاحب عربی زبان میں پڑھتے ہیں اور ہماری زبان عربی نہیں ہے اس لئے ہم میں سے اکثر لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں پڑتا کہ امام صاحب نے خطبہ جمعہ میں کیا فرمایا ہے اور ہمیں اللہ تعالی کے کیا احکامات بیان کئے ہیں اور کن کن عوامل کو اللہ تعالٰی نے ہمیں کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب ہمیں یہی معلوم نہ ہو گا کہ ہمارے ذمہ کیا احکامات ہیں؟

تو ہم بس خطبہ سن لیتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔ میں بھی آپ میں سے ہی ہوں اور اس حقیقت کا آشکار میں بھی ہوں اور اس تدریس کی غرض سے آج یوم جمعہ کو خطبہ جمعہ کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے امید واثق ہے کہ خطبہ جمعہ کا اردو ترجمہ پڑھ کر آپ کو وہ پیغام مل جائے گا جو ہر جمعہ کو آپ سنتے ہیں مگر سمجھتے نہ تھے۔


اللہ تعالٰی  سے دعاء ہے کہ ہمیں ان احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالی  کے سبھی احکامات پر نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


آمین یا رب العالمین 


یہ حاضر ہے خطبہ جمعہ کا اردو ترجمہ:


*خطبہ حصہ اول*


 سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں برتر ذات۔ عظیم صفات والا۔ بلند حالت۔ بڑی شان والا۔ بزرگ مرتبت۔ بلند ذکر۔ واجب الاطاعت۔ روشن دلیل والا بڑی شان والا۔ بڑے نام کثیر علم وسیع علم۔ بہت عطا کرنے والا۔ دعا قبول کرنے والا۔ عام احسان کرنے والا۔ جلدی حساب کرنے والا۔ سخت سزا دردناک عذاب دینے والا ۔غالب بادشاہ۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے۔ پیدا کرنے والا اور حکم کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سردار اور آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں جو بھیجے گئے ہیں سیاہ اور سرخ کی طرف۔ جو تعریف کیے گئے ہیں شرح صدر کے ساتھ اور بلندی کے ساتھ اور اے اللہ تو رحمت بھیج ان پر اور ان کی آل پر اور ان کے اصحاب پر اور جو اہل عرب کے خلاصہ ہیں اور انبیاء کے بعد تمام خلائق سے بہتر ہیں۔ اما بعد پس اے لوگو! اللہ کو ایک مانو, بے شک اللہ کو ایک ماننا تمام اطاعت میں بلند ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کا خوف تمام نیکیوں کی اصل ہے اور سنت کو لازم پکڑو بے شک سنت اللہ کی اطاعت کا راستہ دکھاتی ہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے دانائی اور ہدایت پا لی۔ اور بچو تم بدعت سے اس لیے کہ بدعت نافرمانی کی طرف لے جاتی ہے اور جس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی پس وہ گمراہ ہوا اور بھٹک گیا اور تم سچائی کو لازم پکڑ لو بے شک سچ نجات دلاتا ہے اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے اور تم احسان کو لازم پکڑو بے شک اللہ تعالی احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہونا بے شک وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور دنیا سے محبت نہ کرو ورنہ نقصان اٹھانے والے ہو جاؤ گے۔ خبردار کوئی جاندار نہیں مر سکتا جب تک اپنا رزق پورا نہ کر لے ۔پس اللہ سے ڈرو اور اختصار اختیار کرو طلب معاش میں اور اس پر توکل کرو بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور اس کو پکارو بے شک تمہارا رب پکارنے والوں کی دعا کو قبول کرنے والا ہے۔ اور اس سے مغفرت طلب کرو  وہ مال و اولاد سے تمہاری مدد کرے گا۔ میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ بے شک جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔ اللہ برکت دے ہمارے لیے اور تمہارے لیے قرآن عظیم میں اور نفع دے۔ ہمیں اور تمہیں اپنی ذات اور حکمت والے ذکر سے, میں بخشش مانگتا ہوں اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔ پس تم بھی اس سے بخشش مانگو وہی بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ 



*خطبہ حصہ ثانی*


 سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے۔ جس کو اللہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے  والا نہیں۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے بے شک اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں نبی پر۔ اے ایمان والو! تم بھی درود بھیجا کرو اور خوب سلام۔ اے اللہ رحمت نازل فرما اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور رحمت نازل فرما مومن مرد اور مومن عورتوں اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں پر اور برکت نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ازواج اور ان کی اولاد پر۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور ان میں اللہ کے معاملے میں سب سادہ سخت عمر ہیں اور زیادہ حیا کرنے والے عثمان اور بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں اور حضرت فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور حمزہ اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں راضی ہوا اللہ تعالی ان سب سے۔ اے اللہ بخشش فرما عباس اور ان کی اولاد کی ظاہری اور باطنی بھی۔ جو نہ چھوڑے کوئی گناہ اللہ سے ڈرو۔ اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے حق میں ان کو میرے بعد ملامت کا نشانہ مت بنانا ۔پس جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو وہ میرے سے بغض رکھنے کی وجہ سے رکھا ۔اور میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں اور پھر وہ جو ان سے ملے۔ پھر وہ جو ان سے ملے ۔ بے شک اللہ حکم دیتا ہے انصاف اور احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا اور منع کرتا ہے کھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے۔ اللہ تم کو اس لیے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو تم مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا اور میری شکر گزاری کرو اور میری ناشکری مت کرو۔


وسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ

 

الدعاء 

اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


آمین یا رب العالمین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: انسانی سوچ کی رفتار: قرآن، حدیث اور سائنس کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ


پیر 26 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


انسانی ذہن و شعور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ انسان ایک لمحے میں ماضی، حال اور مستقبل کا تصور کر لیتا ہے، دور دراز مقامات، کائنات کے کناروں اور غیر موجود چیزوں کے بارے میں سوچ لیتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانی سوچ کی رفتار برق اور روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہو سکتی ہے؟ اس مضمون میں اس سوال کا جائزہ قرآن، احادیث اور جدید سائنس کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے۔


*قرآنی تصورِ عقل و فکر*


قرآنِ مجید میں انسان کو بار بار تفکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دی گئی ہے۔ عقل کو محض مادی شے نہیں بلکہ ایک غیر مرئی صلاحیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو وقت اور مکان کی پابند نہیں۔


أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (النساء: 82)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی سوچ ایک ایسی قوت ہے جو گہرائی اور وسعت رکھتی ہے، نہ کہ محض جسمانی حرکت۔


*قرآن اور لمحاتی فکری سفر*


قرآن میں بعض مقامات پر ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں وقت کی حدود سمٹ جاتی ہیں۔

حضرت سلیمانؑ کے دربار میں تختِ بلقیس کا واقعہ اس کی مثال ہے:

أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ (النمل: 40)

یہاں “آنکھ جھپکنے سے پہلے” کا تصور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیر مادی قوتیں مادی رفتار سے ماورا ہو سکتی ہیں، اور انسانی فکر بھی اسی غیر مادی دائرے سے تعلق رکھتی ہے۔ 

احادیث میں انسانی فکر کی وسعت


نبی کریم ﷺ نے انسان کے دل اور نیت کو اعمال کی بنیاد قرار دیا:


إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بخاری)

نیت اور ارادہ ایک باطنی و ذہنی عمل ہے جو کسی جسمانی رفتار کا محتاج نہیں۔ ایک لمحے میں نیت بدل جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی سوچ وقت کی قید سے آزاد ہے۔ 


معراجِ نبوی ﷺ اور ادراکِ وقت


واقعۂ معراج میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ہی رات میں آسمانوں کا سفر اور واپسی اس بات کی دلیل ہے کہ:


مادی وقت اپنی جگہ


مگر شعور اور ادراک کی سطح پر وقت سمٹ جاتا ہے


یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی ادراک (perception) عام مادی پیمانوں سے مختلف قوانین رکھتا ہے۔ 


سائنسی نقطۂ نظر: سوچ کی رفتار


جدید سائنس کے مطابق:


اعصابی سگنلز (nerve impulses) کی رفتار تقریباً 120 میٹر فی سیکنڈ تک ہوتی ہے


 روشنی کی رفتار تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے

یا ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے

لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ:

سوچ خود کوئی برقی ذرات کی حرکت نہیں بلکہ ایک ذہنی و شعوری کیفیت ہے۔ انسان ایک لمحے میں سورج، کہکشاؤں یا ماضی کے کسی واقعے کا تصور کر لیتا ہے، حالانکہ کوئی مادی شے وہاں سفر نہیں کرتی۔ 


تصور اور حقیقت کا فرق


سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ:


سوچ کی “رفتار” کو روشنی یا برق سے ناپا نہیں جا سکتا


کیونکہ سوچ مادی سفر نہیں بلکہ ادراکی (Cognitive) عمل ہے


اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ:

انسانی سوچ رفتار کے پیمانوں سے بالاتر ہے، نہ کہ محض تیز رفتار مادی حرکت۔ 


*قرآن اور سائنس کا مشترک نکتہ*


قرآن انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیتا ہے، اور سائنس یہ مانتی ہے کہ انسانی دماغ کائنات کی پیچیدہ ترین ساخت ہے۔


وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي (الحجر: 29)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی شعور میں ایک غیر مادی عنصر شامل ہے، جو اسے محض طبیعی قوانین تک محدود نہیں رہنے دیتا۔ 


تحقیقی نتیجہ

1.انسانی سوچ مادی رفتار (روشنی یا برق) کی طرح ناپی نہیں جا سکتی۔


2.قرآن انسان کی عقل و فکر کو وقت و مکان سے جزوی آزادی دیتا ہے


3.احادیث نیت اور ارادے کو لمحاتی اور غیر مادی حقیقت قرار دیتی ہیں


4.سائنس کے مطابق بھی سوچ ادراک ہے، سفر نہیں۔


لہٰذا یہ کہنا علمی طور پر درست ہے کہ:

انسانی سوچ رفتار کے روایتی پیمانوں سے ماورا ہے، اور تصور کے درجے میں روشنی سے بھی زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ 


*اختتامی کلمات*

اسلام اور سائنس دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی اصل قوت اس کا شعور، فکر اور ادراک ہے۔ روشنی کی رفتار مادی کائنات کی حد ہے، جبکہ انسانی سوچ اس حد کو تصور میں لمحوں میں عبور کر لیتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ 


الدعاَء 

یا میرے رب تیری یہ کائینات اتنی وسیع ہے کہ ہم اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی اسکی وسعتوں تک پہنچنا تو درکنار ہم تو اس کا ادراک بھی نہیں کر سکتے کیونکہ تو اس کائینات کا بنانے والا خالق  ہے اور ہم انسان تیری مخلوق ہیں اور جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس سے آگے ہم نہیں جا سکتے اور نہ ہی جانتے ہیں مگر تیری عنایت سے۔


اے ہمارے رب تیری احسن تقویم ہونے کے ناطے ہمیں آپنا وہ علم عطا فرما کہ ہم تیری اس عظیم کائنات کی وسعتوں اور گہرائیوں تک رسائی حاصل کر سکیں تاکہ تیرے بخشے ہوئے علم سے ہم تیری دنیا کی مخلوقات کو فائدہ پہنچا سکیں۔


آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: بیٹییوں کی  شادی پر جہیز، تحفے تحائف دینا، قرآن و سنت کی روشنی میں ایک فکری و معاشرتی، تحقیقی جائزہ۔


بدھ 28 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


برصغیر پاک و ہند کی معاشرت میں بیٹی کی شادی ایک جذباتی، سماجی اور دینی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ والدین برسوں اپنی بیٹی کے لیے خواب بنتے ہیں کہ جب وہ رخصت ہو تو اس کے پاس اتنا سامان ضرور ہو کہ نئے گھر میں کسی قسم کی تنگی یا محتاجی محسوس نہ کرے۔ اسی نیت سے بیٹی کو شادی کے موقع پر تحائف دیے جاتے ہیں، جنہیں عرفِ عام میں ’’جہیز‘‘ کہا جاتا ہے۔


یہاں ایک نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے:

کیا والدین کو بیٹی کو دیے گئے ان تحائف اور سامان پر اجر ملے گا؟

خصوصاً جب وہ بعد میں اسے وراثت میں اس کا پورا شرعی حق بھی ادا کریں۔ 


اسلام اس سوال کا جواب نہایت متوازن، منصفانہ اور فطری انداز میں دیتا ہے۔


سب سے پہلے یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام اعمال کو ظاہری شکل سے نہیں بلکہ نیت سے پرکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اصولی فرمان ہے:

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔

اگر والدین بیٹی کو یہ سامان اس نیت سے دیتے ہیں کہ اس کا گھر آباد ہو، وہ عزت اور سہولت کے ساتھ زندگی شروع کرے اور کسی پر بوجھ نہ بنے، تو یہ نیت بذاتِ خود عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔


دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلام میں اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب انسان اپنے گھر والوں پر حلال مال خرچ کرتا ہے اور اس پر اجر کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ بیٹی تو ویسے بھی والدین کے دل کا ٹکڑا اور سب سے قریبی رشتہ ہے، اس پر خرچ کرنا کیسے اجر سے خالی ہو سکتا ہے؟


پھر قرآن مجید صلہ رحمی کو مستقل نیکی قرار دیتا ہے۔ والدین کی طرف سے بیٹی کی شادی میں مالی تعاون، سامان دینا اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا، صلہ رحمی کی اعلیٰ صورت ہے۔ صلہ رحمی کے بارے میں قرآن و حدیث میں اجر کے جو وعدے آئے ہیں، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔


البتہ اسلام یہاں ایک نہایت اہم حد بھی قائم کرتا ہے، جسے نظرانداز کرنا سنگین غلطی ہو گی۔


اسلام میں جہیز کوئی فرض، شرط یا نکاح کا لازمی حصہ نہیں۔ نہ لڑکے والوں کو مطالبے کا حق ہے، نہ معاشرے کو دباؤ ڈالنے کا۔ اگر جہیز دکھاوے، مقابلہ بازی، یا اس بنیاد پر دیا جائے کہ بعد میں بیٹی کو وراثت سے محروم کر دیا جائے، تو یہی عمل نیکی کے بجائے ظلم بن جاتا ہے۔


اسلامی فقہ کا واضح اصول ہے کہ جہیز وراثت کا بدل نہیں۔

بیٹی کو اگر شادی پر کچھ دیا گیا ہو تب بھی وہ باپ کی جائیداد میں اپنے مقررہ حصے کی مکمل حق دار ہے۔ وراثت دینا فرض ہے، جبکہ تحفہ اور جہیز ایک اضافی حسنِ سلوک ہے۔ فرض کو کسی نفل کے بدلے ختم نہیں کیا جا سکتا۔


یہ بھی یاد رہے کہ نیکی کا اجر اس وقت گناہ میں بدل جاتا ہے جب اس کے ساتھ جبر، فخر، قرض کا بوجھ، یا کسی کی حق تلفی شامل ہو جائے۔ آج ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ جہیز دینا نہیں بلکہ جہیز کو معیارِ عزت بنا لینا ہے۔


خلاصہ یہ ہے کہ: اگر والدین اپنی استطاعت کے مطابق، خوش دلی سے، بلا مطالبہ، بلا نمائش، بیٹی کو شادی کے موقع پر سامان یا تحائف دیتے ہیں، اور ساتھ ہی اسے وراثت میں اس کا پورا حق بھی دیتے ہیں، تو یہ عمل:


صدقہ ہے۔ صلہ رحمی ہے اور ان شاء اللہ اجرِ عظیم کا باعث ہے


اسلام توازن کا دین ہے؛ نہ وہ بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کرنے کا حکم دیتا ہے، نہ اسے بوجھ کا ذریعہ بننے دیتا ہے۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رسم اور دین کے فرق کو سمجھیں، اور نیکی کو ظلم میں بدلنے سے بچیں۔


الدعاَء 

یا اللہ تعالی سب کی بیٹیوں کو بسنا نصیب فرما، اچھے نصیب, دین دنیا کی بھلائیاں اور صالح اولاد کی دولت سے نواز اور اپنی طرف سے بے پناہ رحمتیں اور برکتیں عطا فرما۔


یا رب! لوڑ دی تھوڑ نہ دیویں۔


آمین یا رب العالمین


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *انسان، عہدِ الست اور مقصدِ حیات*


جمعہ 30 جنوری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کسی اتفاق کے تحت نہیں کی، بلکہ ایک عظیم مقصد کے ساتھ فرمائی۔ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں پیدا فرمایا، اپنی روح میں سے پھونکی، اور پھر حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو ان ہی سے پیدا کیا۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی ابتدا عزت، قرب اور رحمت کے ماحول سے ہوئی۔


*عالمِ ارواح اور اللہ سے کیا گیا وعدہ*


زمین پر آنے سے پہلے تمام انسان عالمِ ارواح میں موجود تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں کو قوتِ گویائی عطا فرمائی اور ایک بنیادی سوال کیا:


 ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾

“کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟”

سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا: ﴿قَالُوا بَلَىٰ﴾

“کیوں نہیں، آپ ہی ہمارے رب ہیں”(الاعراف: 172)


یہ عہد انسان کی فطرت میں محفوظ کر دیا گیا، اسی لیے ہر انسان کے دل میں حق کی ایک چنگاری موجود رہتی ہے۔


*زمین پر اللہ کی خلافت اور آزمائش*


پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا۔ زمین دراصل دارالامتحان ہے، جہاں انسان کو اختیار دے کر آزمایا جانا تھا:


 ﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ﴾

“جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے”

(سورۃ الملک: 2)


اسی آزمائش میں انسان بھٹک نہ جائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل مبعوث فرمائے، تاکہ وہ انسان کو یاد دلائیں کہ

تمہارا رب صرف اللہ ہے،

اسی کی عبادت کرنی ہے،

اور اسی کے حکم پر چلنا ہے۔


*رسالتِ محمدی ﷺ اور مکمل ہدایت*


بالآخر اللہ تعالیٰ نے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا، اور آپ ﷺ پر قرآنِ مجید نازل کیا جو قیامت تک کے لیے مکمل ہدایت ہے۔

﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾

“یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے(البقرہ:2)


قرآن نے واضح کر دیا کہ نجات پانے والے کون ہیں: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾

“جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں(البقرہ: 3)


*حکم اللہ کا، طریقہ رسول ﷺ کا*

اسلام صرف نظریہ نہیں بلکہ عملی نظامِ زندگی ہے۔


حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے

طریقہ رسول اللہ ﷺ سکھاتے ہیں

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ﴾

“رسول تمہیں جو دے وہ لے لو”(سورۃ الحشر: 7)


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں”

(صحیح بخاری)


*نماز: بندگی کی بنیاد*


نماز اسلام کا ستون ہے۔ جو شخص نماز کو چھوڑ دیتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کے حکم سے روگردانی کرتا ہے۔

“نماز دین کا ستون ہے”

(سنن بیہقی)


اور فرمایا:

“آدمی اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے”

(صحیح مسلم)


*انجامِ کار: جنت یا جہنم*


آخرکار ایک دن یہ امتحان ختم ہو جائے گا۔ قیامت کے دن یہی دیکھا جائے گا کہ:


کس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات مانی؟


اور کس نے غرور، خواہش یا غفلت کو اختیار کیا؟


فرمانِ الٰہی ہے:

 ﴿فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾

“جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی کامیاب ہے”

(سورۃ آل عمران: 185)


جنت مومن کا اصل ٹھکانہ ہے، اور جہنم نافرمانوں کے لیے انجام۔


خلاصۂ کلام

یہ دنیا مختصر ہے،

یہ زندگی امتحان ہے،

قرآن ہماری گائیڈ بک ہے،

رسول اللہ ﷺ ہمارے رہنما ہیں،

اور جنت ہمارا اصل گھر۔

کامیابی صرف اسی میں ہے کہ ہم:


اللہ کے احکامات پر عمل کریں


رسول ﷺ کے طریقے پر چلیں

گناہوں سے رک جائیں

اور توبہ و اصلاح کی راہ اختیار کریں

 یہی اسلام ہے، یہی نجات ہے۔


الدعاَء 


یا اللہ تعالیٰ ہمیں اس تحریر پر عمل کرنے والوں میں شامل فرمائے۔


آمین یا رب العالمین


والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *شب برات کی شرعی حیثیت*


اتوار یکم فروری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


*شعبان کی پندرھویں رات عبادت کی خاص رات نہیں ہے*


سوال

میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ پندرہ شعبان کا روزہ دوسری بدعات میں سے ایک بدعت ہے جبکہ ایک دوسری کتاب میں پڑھا ہے کہ اس دن کا روزہ مستحب ہے تو سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا قطعی حکم کیا ہے


جواب

شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کے بارے میں کوئی ایک بھی صحیح اور مرفوع روایت ثابت نہیں جس کےمطابق حتی کہ فضائل اعمال میں بھی عمل کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے وہ یا تو بعض تابعین سے مقطوع آثار ہیں یا پھر ایسی احادیث ہیں جن میں صحیح ترین کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ موضوع یا بے حد ضعیف ہیں۔


یہ روایات بہت سے ایسے علاقوں میں مشہور ہیں جن میں جہالت کا غلبہ ہے اور لوگ از راہ جہالت یہ سمجھتے ہیں کہ اس رات موت اور حیات کا فیصلہ ہوتا ہے ۔۔۔الخ


لہذہ اس رات کا قیام کیا جاۓ نہ دن کا روزہ رکھا جاۓ اور نہ کسی معین عبادت کے لۓ اس رات کو مخصوص کیا جاۓ۔ جاہلوں کی ایک کثیر تعداد اس رات کو جو اعمال سرانجام دیتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ واللہ اعلم


*شیخ ابن جبرین*

*مفتی حرمین  الشریفین*

*المملکہ عربیہ السعوددیہ*

(فتاوی اسلامیہ جلد۔1 صفحہ 231)


*شب برات کی شرعی طور پر کوئی حیثیت نہیں*


*الدعاَء*

یا اللہ تعالی  ہمیں رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کی سنتوں پر عمل کی توفیق دے اور بدعات سی بچا۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: دینِ اسلام کے سنہرے اصول


منگل، 03 فروری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


اے عقل و دانش رکھنے والو!


یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد ﷺ کے ذریعے دین کو اپنی آخری اور مکمل شکل میں نازل فرما دیا، جس میں نہ کسی اضافے کی گنجائش ہے اور نہ کسی کمی کی۔


اللہ ربّ العزّت کا ارشاد ہے

﴿اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾

“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرما لیا۔”

(سورۃ المائدہ: 3)


پس جو شخص دین میں اپنی طرف سے، یا اپنے بزرگوں اور مذہبی پیشواؤں کے کہنے پر، کسی عمل کو نیکی سمجھ کر شامل کرتا ہے، وہ درحقیقت دین میں بدعت کا ارتکاب کرتا ہے، اور ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مردود ہے۔


رسول اللہ ﷺ کا واضح اور دوٹوک فرمان ہے:


«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

“ہر بدعت گمراہی ہے۔”

(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ)


اور ایک دوسری روایت میں ہے:

«وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»

“اور ہر گمراہی آگ (جہنم) میں لے جانے والی ہے۔”

(سنن النسائی، کتاب العیدین)


*قبولیتِ عمل کا معیار*

دین میں وہی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول ہے جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے (سنت) کے مطابق ہو۔

اور جو عمل سنتِ رسول ﷺ کے خلاف ہو، خواہ بظاہر کتنا ہی نیک کیوں نہ دکھائی دے، وہ ردّ کر دیا جاتا ہے۔


نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔”

(صحیح البخاری، حدیث: 2697 — صحیح مسلم، حدیث: 1718)


ایک اصولی اور منطقی مثال


نمازِ ظہر چار رکعت فرض ہے۔

اگر کوئی شخص نیکی کے جذبے سے، چار کے بجائے پانچ یا چھ رکعت ادا کرے تو اس کی یہ نماز ہرگز قبول نہیں ہوگی۔


حالانکہ اس نے:


سورۃ الفاتحہ پڑھی

رکوع و سجود کیے

تسبیحات اور دعائیں پڑھیں


یہ سب بظاہر نیک اعمال ہیں، مگر چونکہ یہ سنتِ رسول ﷺ کے خلاف ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں۔


پس اصول یہ ہے:

جو عمل سنت کے مطابق ہوگا وہی قابلِ قبول ہوگا،

اور جو سنت کے مطابق نہیں ہوگا وہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگا۔


اسلام میں عیدوں کا تصور


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهٰذَا عِيدُنَا»

“ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے۔”

(صحیح البخاری، کتاب العیدین)


اسلام میں صرف دو ہی عیدیں مقرر کی گئی ہیں:


1.عید الفطر

2.عید الاضحیٰ


ان کے علاوہ کسی اور تہوار یا جشن کو دینی حیثیت دینا شریعت میں ثابت نہیں۔


اسلام کی بنیاد


یاد رکھو! اسلام کی بنیاد تین چیزوں پر ہے:


1.قرآنِ مجید

2.سنت و حدیثِ رسول ﷺ

3.آثارِ صحابہؓ

یعنی اللہ کے احکامات، رسول ﷺ کا طریقہ، اور صحابہ کرامؓ کی عملی تشریح — یہی دین کا معیار ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا أَطِيْعُوا اللّٰهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْۚ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾

“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور ان کی جو تم میں صاحبِ امر ہوں۔ پھر اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔”

(سورۃ النساء: آیت 59)


الدعاء: 

اے اللہ تعالی!

ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرما،

اور ہمیں اپنے احکامات پر رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔


آمین یا ربّ العالمین


احقر العباد

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *شب برات کی شرعی حیثیت*


ہفتہ 31 جنوری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


*شعبان کی پندرھویں رات عبادت کی خاص رات نہیں ہے*


سوال

میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ پندرہ شعبان کا روزہ دوسری بدعات میں سے ایک بدعت ہے جبکہ ایک دوسری کتاب میں پڑھا ہے کہ اس دن کا روزہ مستحب ہے تو سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا قطعی حکم کیا ہے


جواب

شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کے بارے میں کوئی ایک بھی صحیح اور مرفوع روایت ثابت نہیں جس کےمطابق حتی کہ فضائل اعمال میں بھی عمل کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے وہ یا تو بعض تابعین سے مقطوع آثار ہیں یا پھر ایسی احادیث ہیں جن میں صحیح ترین کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ موضوع یا بے حد ضعیف ہیں۔


یہ روایات بہت سے ایسے علاقوں میں مشہور ہیں جن میں جہالت کا غلبہ ہے اور لوگ از راہ جہالت یہ سمجھتے ہیں کہ اس رات موت اور حیات کا فیصلہ ہوتا ہے ۔۔۔الخ


لہذہ اس رات کا قیام کیا جاۓ نہ دن کا روزہ رکھا جاۓ اور نہ کسی معین عبادت کے لۓ اس رات کو مخصوص کیا جاۓ۔ جاہلوں کی ایک کثیر تعداد اس رات کو جو اعمال سرانجام دیتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ واللہ اعلم


*شیخ ابن جبرین*

*مفتی حرمین  الشریفین*

*المملکہ

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: تفسیر سورۃ العصر ترجمہ و تفسیر (سورۃ نمبر 103)


پیر 09 فروری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ


وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ


ترجمہ:

قسم ہے زمانے کی!

بے شک انسان نقصان میں ہے،

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی، اور صبر کی نصیحت کی۔


تعارفِ سورت:

یہ مکی سورت ہے، تین آیات پر مشتمل ہے، مگر اپنے معنی و پیغام میں یہ پورے قرآن کا خلاصہ سمجھی جاتی ہے۔

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

“اگر لوگ صرف سورۃ العصر پر غور کر لیں تو یہی ان کے لیے کافی ہے۔”

یعنی اس سورت میں کامیاب زندگی کا پورا فلسفہ موجود ہے۔


آیت 1: "وَالْعَصْرِ" – قسم ہے زمانے کی۔ اللہ تعالیٰ نے زمانے (عصر) کی قسم کھائی،

کیونکہ وقت ہی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ انسان کی عمر گھٹتی جاتی ہے، اور جو وقت اللہ کی اطاعت میں گزرتا ہے وہی اصل میں نفع ہے۔


امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں:


 اللہ نے زمانے کی قسم کھا کر ہمیں متنبہ کیا کہ یہ زندگی محدود ہے، جو وقت گزر گیا وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔


آیت 2: "إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ" – بے شک انسان نقصان میں ہے یہ ایک عام حکم ہے،

یعنی تمام انسان خسارے میں ہیں، کیونکہ وقت گزرتا جا رہا ہے اور انسان اپنی زندگی کو عیش و غفلت میں ضائع کر رہا ہے۔ اگر اس نے اپنے وقت کو ایمان اور عملِ صالح میں نہیں لگایا، تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے میں ہے۔


خسارہ سے مراد صرف مال یا دنیاوی نقصان نہیں، بلکہ زندگی کے مقصد سے محرومی ہے۔


آیت 3: "إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا..."  سوائے ان کے جو ایمان لائے

یہاں اللہ تعالیٰ نے چار شرطیں بیان فرمائیں جن پر عمل کرنے والا انسان نقصان سے بچ جاتا ہے:


(1) ایمان:

اللہ، رسول ﷺ، آخرت، فرشتوں، کتابوں اور تقدیر پر سچا ایمان۔

ایمان وہ بنیاد ہے جو انسان کو راہِ ہدایت پر قائم رکھتی ہے۔


(2) عملِ صالح:

ایمان کے بعد نیک اعمال، جیسے نماز، روزہ، صدقہ، والدین کی خدمت، سچائی، عدل اور حسنِ اخلاق۔

ایمان کے بغیر عمل قبول نہیں، اور عمل کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔


(3) "وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ" – حق کی تلقین:

یعنی دوسروں کو حق، عدل، اور سچائی کی دعوت دینا۔

یہ دین کی تبلیغ، امر بالمعروف، اور نہی عن المنکر کا حکم ہے۔

مسلمان خود بھی سیدھی راہ پر چلے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلائے۔


(4) "وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ" – صبر کی نصیحت:

یعنی مشکلات، مصائب، اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہنا،

دین پر استقامت اختیار کرنا، اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرنا۔ کیونکہ حق کے راستے پر چلنے والوں کو لازماً آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے۔


سورۃ العصر کا خلاصہ:

یہ سورت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیاب زندگی کے چار ستون ہیں:


1. ایمان

2. نیک عمل

3. حق کی دعوت

4. صبر و استقامت


جو شخص ان چار اوصاف سے خالی ہے، وہ خواہ کتنا ہی دولت مند یا طاقتور کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک خسارے میں ہے۔


عملی پیغام:

وقت ضائع نہ کریں — یہ زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ ہے۔

ایمان کو مضبوط بنائیں، اعمال کو بہتر کریں۔

نیکی اور حق کی بات دوسروں تک پہنچائیں۔


مصیبتوں میں صبر کریں، کیونکہ صبر ایمان کا زینت ہے۔


 نتیجہ:

سورۃ العصر گو مختصر ہے مگر معنی میں بہت وسیع ہے۔

یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی نجات صرف ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت، اور صبر میں ہے۔ یہ چار صفات اپنانے والا انسان ہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔


الدعاء 

یا حیئ یاقیوم برحمتک استغیث 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *نماز چاشت کے مسائل*


منگل 10 فروری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


برادران اسلام:

السلام علیکم ورحمتہ 

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے اس رمضان میں اگر آپ اپنی فرض نمازوں کے ساتھ نفل نماز اشراق، نماز چاشت، نماز ضحی یا نماز اوابین بھی پڑھنا شروع کر لیں تو رمضان کے روزوں کا اجر دوبالا ہو جائے گا۔

اللہ تعالی عمل کی توفیق دے

آمین یا رب العالمین۔

 

مسئلہ  نمبر 418 

*نماز فجر ادا کرنے کے بعد اسی جگہ نماز چاشت کا انتظار کرنے اور اس کی دورکعت ادا کرنے کا ثواب ایک حج اور ایک عمرے کے برابر ہے۔*

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی، پھر سورج طلوع ہونے تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا اور دو رکعت نماز ادا کی اسے ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔ راوی نے کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا " پورے ایک حج اور ایک عمرہ کا پورے ایک حج اور ایک عمرہ کا، پورے ایک حج اور ایک عمرہ کا ۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا)


 مسئلہ نمبر 419

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو نماز چاشت پڑھتے دیکھا تو کہا کیا لوگوں کو علم نہیں کہ اس

وقت کے علاوہ دوسرا وقت (اس) نماز کے لئے افضل ہے ( اور یہ وہ وقت ہے جس کے بارے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ نماز اوابین کا وقت تب ہی ہوتا ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں اسے مسلم نے روایت کیا ہے ۔


*وضاحت*

اگر سورج طلوع ہونے کے پندرہ بیس منٹ بعد یہ نوافل ادا کئے جائیں تو نماز اشراق کہلاتے گی۔ اگر طلوع آفتاب سے تقریبا" گھنٹہ بعد یہ نفل ادا کئے جائیں تو اسے نماز چاشت کہتے ہیں اور اگر طلوع آفتاب کے دو ڈھائی گھنٹے بعد( ظہر سے پہلے) ادا کئے جائیں تو نماز اوابین کہلاتے گی، جسے جب وقت میسر آئے پڑھ لے۔


مسئلہ نمبر 420

*نماز چاشت کے لئے چار رکعت ادا کر نی افضل ہیں۔*


مسئلہ نمبر 421 

*نماز چاشت کی چار رکعت ادا کرنے والے کے دن بھر کے سارےکام اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ لے لیتے ہیں*


حضرت ابو درداء اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ ارشاد فرماتا ہے "آدم کے بیٹے! دن کے شروع میں میرے لئے چار رکعت نماز ادا کر میں تیرے سارے کاموں کے لئے کافی ہو جاؤں گا ۔( اسے ترندی نے روایت کیا ہے۔)


وضاحت : نماز چاشت کے لئے کم سے کم دور کعت ، زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں لیکن چار رکعت پڑھنی افضل ہیں


*الدعاء*

یا اللہ تعالی ہمیں فرض نمازوں کی طرح باقاعدگی سے نفل نمازیں بھی اہتمام کے ساتھ پڑنے کی توفیق عطا فرماء۔

 

آمین یا رب العالمین۔

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *ناجائز کمائی کے احکامات (قسط اول)*


بدھ 11 فروری2026

تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


وہ مال جو ناجائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو مثلا سود ،چوری، رشوت، خیانت، غصب، دھوکہ ، ظلم اور حرام پیشے کے ذریعے سب حرام ہیں ۔ ایسی کمائی اسلام میں سخت منع ہے، اور یہ گناہ کبیرہ ہے جو ان حرام کاری کے ذریعہ زندگی گذارتا ہے ان کے لئے دنیا و آخرت میں رسواکن عذاب ہے ۔


اس بات کا اندازہ ایک حدیث سے لگائیں :


عن ابن عُمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا تزالُ المسألةُ بأحدكم حتى يلقى الله تعالى وليس في وجههِ مزعةُ لحمٍ۔ (رواہ البخاری و مسلم)


ترجمہ: تم ميں سے ايک شخص(عادی بھیکاری) مانگتا رہتا ہے يہاں تک کہ اللہ تعالی سے جا ملتا ہے (قیامت میں اس حال میں آئے گا  کہ اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہيں ہوگا۔


جب بھیک مانگنے کی اتنی بڑی سزا ہے تو حرام خوری کرنےاور حرام کاری میں زندگی بسر کرنے کی کیا سزا ہوگی ؟ اللہ تعالی ہمیں کسب حرام اور اکل حرام سے بچائے ۔ آمين


(1) حرام خور کی سب سے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ جنت سے محروم ہوجاتا ہے۔


نبی ﷺ کا فرمان ہے : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ (السلسلہ الصحیحۃ: 2609)


ترجمہ: "وہ گوشت جنت میں نہ جاسکے گا جس کی نشونما حرام مال سے ہوئی ہو (اور ایسا حرام گوشت) دوزخ کا زیادہ مستحق ہے ۔


٭سحت: اس میں ہروہ مال شامل ہے جو حرام طریقے سے کمایا گیا ہو۔


فائدہ : اگر اللہ تعالی نے دنیا میں ہی اپنی رحمت سے معاف کردیا، یا اس سے متعلق سچی توبہ قبول کرلی تو پھر معاملہ الگ ہے ورنہ اگر مسلمان ہو کر حرام خوری کی تو اس کی سزا پہلے جہنم میں ملے پھر وہ جنت میں جائے گا۔


(2) اگر کسی نے زمیں غصب کرلی ہو تو اسے قیامت کے دن زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ ظَلَمَ مِنْ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ. (رواه البخاري: 2452)


ترجمہ :جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔یعنی ساتوں طبقوں میں اسے دھنسا دیا جائے گا۔


(3) حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔


عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أيها الناس ، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا ، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين ، فقال : ( يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم ) وقال : ( يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ) ثم ذكر الرجل يطيل السفر ، أشعث أغبر ، يمد يديه إلى السماء ، يا رب ، يا رب ، ومطعمه حرام ، ومشربه حرام ، وملبسه حرام ، وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك ".

 ( رواه مسلم )

ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ اشیاء ہی قبول کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے متقی لوگوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ، فرمایا: ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی کرتے ہو میں اسکو بخوبی جانتا ہوں۔ (المؤمنون/51)اور مؤمنین کو فرمایا: ترجمہ:اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ اشیاء عنائت کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ (البقرہ/172) پھر اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے: یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو؟


الدعاَء 

یا اللہ تعالی ہمیں کسب حرام سے بچا اور رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرما۔


آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:27 pm] Nazir Malik: *ناجائز کمائی کے احکامات قسط دوئم*


جمعرات 12 فروری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


(4) صدقہ کی عدم قبولیت :

وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أنّ رسول الله صلى الله عليه آله وسلم قال : لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلاَ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ . ( رواه مسلم )

ترجمہ: اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی نماز بغیر طہارت کے قبول نہ کی جائے گی اور نہ ہی حرام مال کا کوئی صدقہ قبول کیا جائے گا۔


٭ غلول کہتے ہیں ہر وہ مال جس میں حرام عنصر داخل ہو۔


(5) حرام مال کا اثر عبادت پہ بھی ہوتا ہے جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

لا يقبل اللّه صلاة امرىء في جوفه حرام(جامع العلوم والحکم لابن رجب)

ترجمہ: اللہ اس آدمی کی عبادت قبول نہیں کرتا جس کے پیٹ میں حرام داخل ہو۔


(6) حرام مال کھانا عذاب قبر کا موجب ہے جیساکہ بخاری کی حدیث میں سود خور کے متعلق ہے خون کا ایک دریا ہے ، جس میں ایک آدمی (تیر رہا ) ہے ، اس نہر کے ایک کنارے ایک آدمی کھڑا ہے ، اس کے پاس پتھروں کا ایک ڈھیر ہے ، خون کے دریا میں جو آدمی ہے ، وہ کوشش کرتا ہے کہ اس دریا سے باہر نکل جائے ، جب وہ کنارے کے قریب آتا ہے، تو کنارے پر کھڑا شخص اس کے منہ میں زور سے پتھر دے مارتا ہے ، پھر وہ شخص خون کے دریا کے وسط میں چلا جاتا ہے ،پھر وہ کوشش کرتا ہے کہ باہر نکل جائے ، لیکن کنارے پر کھڑا شخص اس کے منہ پر پھر زور سے ایک پتھر مارتا ہے ۔ اس کے ساتھ مسلسل یہی سلوک ہورہا ہے ۔

سود خور کی اور بھی سزائیں احادیث میں مذکور ہیں ۔


(7) حرام مال کھانے والا ملعون ہے جیساکہ رشوت خور کے متعلق آیا ہے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ ‏.‏{ سنن ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ }

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔


الدعاَء

یا الٰہی کسب حرام سے بچا اور رزق حلال نصیب فرما۔


آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

[15/02, 12:38 pm] Nazir Malik: نماز میں رفع الیدین سنت مؤکدہ ہے اور منسوخ نہیں۔


ہفتہ 14 فروری 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


سوال:

کیا نبی کریم کے زمانے میں منافقین نماز کے دوران اپنے بت بغلوں میں اور اپنے  ٹانگوں کے بیچ میں رکھ لیتے تھے اور جب آپ نے نماز میں نمازیوں کو ٹانگیں کھولنے اور رفع الیدین کرنے کا حکم دیا تو منافقین کے بت بغلوں سے گر جاتے تھے

اور بعد میں جب رفع الیدین کی ضرورت نہ رہی تو کیا آپ نے رفع الیدین کے حکم کو منسوخ کر دیا تھا؟

کتب احادیث، تاریخ اور آثار صحابہ سے ماخوذ تحقیقی مضمون:

مزید برآں یہ بھی واضع فرما دیں کہ کیا اب بھی رفع الیدین کیا جا سکتا ہے اور نماز میں پاوں کو کھولا جا سکتا ہے؟


محترم، آپ نے نماز میں “رفع الیدین” (ہاتھ اٹھانے) کے بارے میں بہت اہم سوال پوچھا خاص طور پر یہ منطق جو کچھ لوگ مشہور کرتے ہیں(جیسے کہ بتوں کی وجہ سے رفع الیدین شروع ہوا، پھر منسوخ ہوا) اس کا جواب بالکل تحقیق اور معتبر احادیث و آثار کی روشنی میں درج ذیل ہے👇


۱۔ کیا “منافقین بت اپنے بغلوں میں نماز میں لے آتے تھے اور اسی وجہ سے رفع الیدین شروع ہوا؟

👉 اس بارے میں کوئی صحیح یا مستند روایت قطعاً موجود نہیں ہے۔

یہ جو روایات گردش کرتی ہیں کہ “ابتداء میں لوگ بغلوں میں بت یا چیزیں چھپا کر نماز میں لاتے تھے، اس لئے رفع الیدین کیا گیا تاکہ وہ گر جائیں” 


🔹 اس کا کوئی سند شدہ بیان احادیث کی کتب میں موجود نہیں ہے۔


🔹 یہ صرف لوک کا قصہ یا افسانہ ہے اور اسے علماء نے رد فرمایا ہے۔ 

توحید ڈاٹ کام


➡️ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے دعویٰ کی کوئی سند نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی معتبر تاریخی حوالہ موجود ہے۔ � توحید ڈاٹ کام


۲۔ کیا رسول ﷺ نے رفع الیدین منسوخ کیا تھا؟


یہ موضوع علماء کے درمیان اختلافِ رائے کا باعث رہا ہے، لیکن یہاں دو اہم نکات ہیں:

✅ (أ) صحیح حدیث اور سلف کا عمل

صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز میں چند مخصوص مقامات پر اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے:


✔ جب نماز شروع ہوتی تھی (تکبیرِ تحریمہ)

✔ رکوع کے لئے جاتے ہوئے

✔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے

✔ (بعض روایات میں) تیسری رکعت میں کھڑے ہونے پر بھی �


اس روایت کے مطابق صحابہ کرام بھی رفع الیدین کرتے تھے۔

امام بخاری نے اس موضوع پر ایک الگ کتبہ (جُزْء فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ جس میں 120 جید احایث رفع الیدین کے حق میں لکھی ہیں) اور یہ بتاتے ہیں کہ صحابہ کا عمل اسی کے مطابق تھا۔ �


📌 امام نَوَوِي کے مطابق ایک صحابی الْحَسَن رضی اللہ عنہ نے کہا:

“صحابہ نے رفع الیدین کا عمل کیا ہے اور کسی ایک کا انکار ثابت نہیں ہے۔” �


✅ (ب) کچھ روایات اور اختلاف فقهاء

بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ صرف آغازِ نماز پر رفع الیدین کرتے تھے اور بار بار نہیں۔

احناف اور بعض تابعین اس کو دلیل بنا کر کہتے ہیں کہ شاید صرف ابتداء میں رفع الیدین رہ گیا تھا۔ �

islamicacademy.org +1

لیکن معتبر علماء (شافعی، حنبلی، بہت سے اہل حدیث) نے فرمایا:

✔ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رفع الیدین نماز کے چند مخصوص مقامات پر نبی ﷺ کا معمول تھا۔ �

✔ ان مسانید کو یکسر منسوخ ثابت کرنا صحیح نہیں۔ �

Islam-QA

📌 اسلام ویب (Dar al-Ifta) کے مطابق:

“نبی ﷺ نے کبھی رفع الیدین کو محبتاً ترک نہیں فرمایا، اور نہ ہی اسے منسوخ ثابت کرنے کی کوئی مستند دلیل ہے۔” �

Islamweb

۳۔کیا رفع الیدین منسوخ ہوا؟

🔹 اصل اور صحیح رائے یہ ہے کہ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا۔ بلکہ

✔ یہ سنت (مستحب) ہے جو مختلف مقامات پر کیا جاتا تھا۔ �

✔ جو روایتیں انکار کرتی ہیں، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، لیکن ان کو ضعیف یا متضاد قرار دیا گیا اور اصل حدیث فوقیت رکھتی ہے۔ �

Islam-QA

لہذا

➡️ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا

➡️ ایسا نہیں کہ کسی خبر سے ثابت ہو کہ نبی ﷺ نے اسے ترک فرمایا۔


۴۔ کیا آج بھی نماز میں رفع الیدین کیا جا سکتا ہے؟

ہاں۔۔ رفع الیدین کرنا واجب نہیں، مگر مستحب اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔

🔹 علمائے اہل حدیث اور شافعی، حنبلی فقہاء کے نزدیک:

✔ نماز میں مخصوص مقامات پر رفع الیدین کرنا سنت مؤکد ہے۔ �

Islam-QA

🔹 احناف کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ:

✔ ہاتھ اٹھانا صرف تکبیرِ تحریمہ (نماز کے آغاز میں) میں لازم ہے۔ �1wxx1

Islam-QA

دونوں میں اختلاف ہے، مگر ہر ایک کی نماز صحیح ہے اور رفع الیدین کرنا بحثِ خلاف سنت نہیں۔ �

Islam-QA

 ۵۔ خلاصہ (تحقیق شدہ)

سوال


جواب

کیا منافقین بغلوں میں بت لے آتے تھے؟

نہیں۔ یہ افسانہ ہے، کوئی سند نہیں۔ �

توحید ڈاٹ کام


9-کیا رفع الیدین منسوخ ہوا تھا؟

نہیں۔ منسوخ نہیں ہوا۔ �

Islam-QA

کیا نبی ﷺ نے اسے ترک فرمایا؟

کوئی صحیح دلیل نہیں۔ �

Islamweb

کیا امروز اٹھایا جا سکتا ہے؟

جی ہاں۔ مستحب ہے اور سنت ہے۔ �

Islam-QA

📌 نتیجہ

✨ رفع الیدین سنتِ نبوی ﷺ ہے جو مخصوص مقامات پر کیا جاتا ہے (شروع، رکوع، رکوع سے اٹھنے، بعض روایات میں تشہد کے بعد بھی)۔ �


✨ اس کے متعلق جو مبہم روایات ہیں ان کو پوری حدیث اور سلف کے عمل کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

✨ جو بات مشہور ہے کہ “ابتداء میں کیا جاتا تھا پھر منسوخ ہو گیا” — وہ مستند نہیں۔ 

لیکن نبی کریم کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اسے سو شہیدوں کا ثواب۔


رفع الیدین کے مقامات

اصلی حدیث میں جو مقامات آئے ہیں:


1.نماز کے آغاز میں (تکبیرِ تحریمہ)

2.رکوع کے لیے جاتے ہوئے

3.رکوع سے اٹھتے وقت 

یہ حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، اور یہی وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں علماء نے بحث کی ہے۔ 


 ۱۰۔ خلاصہ (قابلِ عام فہم)


*سوال جواب*

کیا رفع الیدین رسول ﷺ کی سنت ہے؟ جی ہاں، ثابت و مستند روایت سے ثابت ہے۔ 


کیا اسے منسوخ کیا گیا؟ نہیں، منسوخ نہیں ہوا۔ 


کیا نبی ﷺ نے ترک فرمایا؟ کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی۔ 


کیا آج بھی اٹھایا جا سکتا ہے؟ جی ہاں، سنتِ مؤکدہ ہے۔ 

کیا نماز بغیر اٹھائے بھی صحیح؟ ہاں، پر سنت کی ثواب کم ہو جائے گی۔ 


حوف آخر:

رفع الیدین ایک مضبوط سنتِ نبوی ﷺ ہے جو مؤکد اور فضیلت والی سنت ہے، اور اسے نماز میں اپنانا اپنے نماز کو نبی ﷺ کے طریقے کے قریب لانے کا بہترین طریقہ ہے۔ 


پاکستان میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفع الیدین کرنے کی سنت فوت ہوتی جا رہی ہے۔ اس سنت کو اپنے جذبہ ایمانی سے زندہ کیجئے اور  سو شہیدوں کا ثواب پائیں۔


اسلام میں سنت کو زندہ کرنا اور اس پر عمل کرنا بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:

“جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا، اسے سو شہیدوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔”

یہ حدیث بخاری و مسلم میں روایت ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنتوں کو اپنانا اور دوسروں تک پہنچانا نہ صرف فرد کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ امت میں دین کی بقا، روحانیت کی تجدید کا سبب بھی بنتا ہے۔


الدعاَء 

یا اللہ تعالی ہمیں تیرے احکام پر تیرے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے