جماعت ثانی فتوی بن باز

 السوال:


الشیخ عبدالعزیز بن باز کا فتوٰی جماعت ثانی کے بارے میں کیا ہے


عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ (سابق مفتیِ عام سعودی عرب) کا فتویٰ جماعتِ ثانیہ کے بارے میں واضح اور معروف ہے۔


شیخ ابن بازؒ کا موقف


شیخ ابن بازؒ کے نزدیک:


✔ اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور پہلی جماعت ہو چکی ہو

✔ تو وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ جماعت قائم کر سکتا ہے

✔ اور اس میں کوئی حرج نہیں


بلکہ وہ اسے جائز اور بعض حالات میں مستحب کے قریب قرار دیتے ہیں، کیونکہ:


حدیث «ألا رجل يتصدق على هذا…» سے استدلال کیا جاتا ہے


جماعت کی فضیلت عام ہے

شریعت نے جماعت کی ترغیب دی ہے


*ان کی دلیل کا خلاصہ*


شیخ ابن بازؒ فرماتے ہیں کہ:


1- نبی کریم ﷺ نے جماعت سے محروم شخص کے لیے دوسرے کو ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔


2.اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لیے جماعت قائم کرنا مشروع ہے۔


3.اس میں کوئی بدعت نہیں، کیونکہ اس کی اصل سنت میں موجود ہے۔


نتیجہ

شیخ ابن بازؒ کے نزدیک:

🔹 جماعتِ ثانیہ جائز ہے

🔹 حدیث سے اس کا استدلال صحیح ہے


For more information

Vist us at

www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے