فتوی جماعت ثانی

 شیخ ابن عثیمینؒ کا فتویٰ 

برائے جماعت ثانی


انہوں نے اپنی کتب و دروس (خصوصاً الشرح الممتع اور مجموع فتاویٰ و رسائل) میں فرمایا:


1️⃣ اصل حکم

اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور جماعت ہو چکی ہو تو:

✔ وہ دوسروں کے ساتھ جماعت قائم کر سکتا ہے

✔ اس میں کوئی حرج نہیں

✔ بلکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے نسبتاً اکیلے پڑھنے کے


2️⃣ دلیل

انہوں نے حدیث:

> «ألا رجل يتصدق على هذا فيصلي معه»


سے استدلال کیا، جس میں حضرت محمد ﷺ نے جماعت سے رہ جانے والے شخص کے لیے دوسرے کو اس کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔


شیخ کے نزدیک:

یہ نصّ جواز پر دلالت کرتی ہے اس میں مسجد کی تخصیص نہیں


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جماعت منع نہیں


خلاصۂ موقف

🔹 جماعتِ ثانیہ جائز ہے

🔹 حدیث سے اس کی دلیل موجود ہے

🔹 مگر اسے عادت یا اختلاف کا ذریعہ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے