التحیات کا اسلوب

 *التحیات: معراج کی نسبت، “یا نبی” کا اسلوب، اور صحابہ کا طرزِ عمل*


جمعہ 20 مارچ 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


نماز میں پڑھے جانے والے کلمات “التحیات” نہایت جامع اور بابرکت دعاء ہیں۔ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ شبِ معراج کی گفتگو ہے، مگر تحقیق کے مطابق:


واقعۂ معراج میں نماز فرض ہوئی، لیکن “التحیات” کو مکمل مکالمہ قرار دینا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔


حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

“ہمیں رسول اللہ ﷺ نے تشہد اس طرح سکھایا جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے”(بخاری، مسلم)


اس سے واضح ہوا کہ “التحیات” تعلیمِ نبوی ہے۔


اشکال:

“السلام عليك أيها النبي” میں نبی ﷺ کو حاضر کے صیغے سے سلام کیوں؟


✅ جواب:

یہ الفاظ توقیفی ہیں، یعنی جیسے نبی ﷺ نے سکھائے ویسے ہی پڑھے جائیں گے، ان میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔


حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے:

نبی ﷺ کی حیات میں ہم کہتے تھے:

“السلام عليك أيها النبي”

اور وصال کے بعد بعض صحابہ نے کہا:

“السلام على النبي”

(صحیح بخاری)


لیکن امت کا عمل اسی پر رہا کہ اصل الفاظ:

“السلام عليك أيها النبي” ہی پڑھے جائیں۔


خلاصہ:

✔ “التحیات” نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعاء ہے

✔ معراج کی مکمل گفتگو کہنا ثابت نہیں

✔ “السلام عليك” پڑھنا سنت کے مطابق ہے

✔ صحابہ کا صیغہ بدلنا اجتہاد تھا، مگر امت نے اصل الفاظ کو برقرار رکھا


الدعاء 

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کو صحیح سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے