جنت پر تحقیقی مقالہ اول
قرآن و احادیث کی روشنی میں جنت پر تحقیقی مطالعہ
منگل 08 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
بیانیہ:
جنت ساتویں آسمان پر ہے یہاں پانی کے آبشار ہیں نہریں بہہ رہی ہیں باغات ہیں پھلوں کے درخت ہیں ہمارے باوا آدم وہیں سے زمین پر اتارے گئے اور ہمارا آبائی وطن وہی ہے یہ ساری سہولیات وہاں موجود ہیں تو یقینا" اب بھی وہاں آبادی ہے حورعیں وہیں رہتی ہیں اور اپنے جنتی شوہروں کا انتظار کر رہی ہیں فرشتے وہیں رہتے ہیں کیا یہ سب کچھ سچ نہیں ہے ۔۔۔
سورہ حم سجدہ کے تناظر میں تحقیق:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
1۔ سورہ حم سجدہ میں آسمانوں کی تخلیق کا بیان
سورہ حم سجدہ میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی تخلیق کا ذکر کیا ہے:
ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ ... فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ
(فصلت 11-12)
مطلب:
پھر اللہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جب وہ دھواں تھا، اور اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیئے۔
یہ آیات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ
کائنات میں سات آسمانوں کا نظام ہے
ہر آسمان کی اپنی ترتیب اور نظام ہے۔ پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا گیا
لیکن ان آیات میں جنت کے مقام کی صراحت نہیں کی گئی۔
2۔جنت ساتویں آسمان پر ہے یا نہیں؟
قرآن میں براہِ راست یہ نہیں کہا گیا کہ جنت ساتویں آسمان کے اندر ہے۔
البتہ احادیث اور مفسرین کی تحقیق سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔
(1) جنت کا مقام
بعض احادیث کے مطابق:
جنت آسمانوں کے اوپر ہے
اور عرش کے قریب ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو کیونکہ
وہ جنت کا سب سے اعلیٰ مقام ہے اور اس کے اوپر عرش الرحمن ہے۔
(صحیح بخاری)
اس سے بعض علماء نے نتیجہ نکالا کہ:
جنت سات آسمانوں سے بھی اوپر ہو سکتی ہے۔
3۔ حضرت آدم علیہ السلام کی جنت۔
قرآن کے مطابق:
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ (البقرہ 35)
اکثر اہلِ سنت مفسرین کی رائے:
یہ اصل جنت (دارالخلد) ہی تھی وہی جنت جہاں مومنین جائیں گے
لیکن کچھ علماء نے کہا:
یہ زمین کے قریب کوئی عارضی جنت بھی ہو سکتی تھی
اہل سنت میں پہلی رائے زیادہ مشہور ہے۔
4۔ کیا جنت میں ابھی آبادی موجود ہے؟
قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ:
(1) جنت ابھی موجود ہے
اہل سنت کا عقیدہ ہے:
جنت اور جہنم ابھی پیدا ہو چکی ہیں
(2) جنت میں کچھ مخلوق موجود ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
حوریں موجود ہیں
ملائکہ موجود ہیں
جنت تیار کی جا رہی ہے
لیکن انسانوں کی مستقل آبادی قیامت کے بعد ہوگی۔
5۔ حوریں اپنے شوہروں کا انتظار کر رہی ہیں؟
قرآن میں حوروں کا ذکر کئی جگہ آیا ہے، مثلاً:
> حُورٌ عِينٌ (الطور 20)
> كَأَنَّهُنَّ اللُّؤْلُؤُ الْمَكْنُونُ
(الواقعة 23)
مفسرین کے مطابق:
حوریں جنت میں موجود ہیں
اور جنتیوں کے لئے تیار کی گئی ہیں
لیکن یہ کہنا کہ وہ ابھی بیٹھ کر انتظار کر رہی ہیں
یہ ایک تشبیہی یا واعظانہ انداز ہے، قرآن کی صریح تعبیر نہیں۔
6۔ اہم عقیدتی نکتہ
اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ:
1. جنت حقیقی جگہ ہے
2. جنت میں باغات، نہریں، پھل، محلات سب ہیں
3. وہ ہمیشہ کی زندگی کی جگہ ہے
4. لیکن اس کا صحیح مقام اور تفصیل انسانی علم سے مکمل طور پر پوشیدہ ہے
قرآن خود کہتا ہے:
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُم
کوئی نفس نہیں جانتا کہ اس کے لئے کیا نعمتیں چھپا کر رکھی گئی ہیں(السجدہ 17)
7۔ خلاصہ
آپ کے سوال کا مختصر تحقیقی جواب:
سات آسمانوں کا ذکر قرآن میں ہے۔
سورہ حم سجدہ آسمانوں کی تخلیق بتاتی ہے، جنت کی جگہ نہیں۔
جنت کا مقام غالباً آسمانوں کے اوپر عرش کے قریب ہے۔
جنت ابھی موجود ہے۔
حوریں اور فرشتے وہاں ہیں۔
انسانوں کی مکمل آبادی قیامت کے بعد ہوگی۔
1. معراج کی حدیث سے جنت کا مقام کہاں ثابت ہوتا ہے؟
2.کیا جنت ساتویں آسمان کے اندر ہے یا اس سے اوپر؟ (مفسرین کی تفصیلی بحث)
3.حضرت آدم کی جنت: آسمانی یا زمینی؟
حضرت آدمؑ کی جنت — کیا وہ آسمانی جنت تھی یا زمین کی کوئی جنت؟
یہ مسئلہ تفسیر اور عقیدہ دونوں میں صدیوں سے زیرِ بحث ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن، احادیث اور مفسرین کی آراء دیکھنی ہوں گی۔
1۔ قرآن کا اصل بیان
قرآن میں واضح طور پر کہا گیا:
> وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ
(البقرہ 35)
یہ آیت Surah Al-Baqarah میں ہے۔
اسی طرح:
> فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ
(الاعراف 20)
یہ آیت Surah Al-A'raf میں ہے۔
اور پھر فرمایا:
> اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا
(الاعراف 24)
یعنی وہاں سے نیچے اترنے کا حکم دیا گیا۔
یہ الفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ مقام زمین سے بلند تھا۔
2۔ اہل سنت کی اکثریتی رائے
اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ:
حضرت آدمؑ کو جو جنت دی گئی تھی وہ اصل جنت (جنت الخلد) ہی تھی۔
اس رائے کو اختیار کرنے والوں میں بڑے علماء شامل ہیں:
Ibn Kathir
Al-Tabari
Al-Qurtubi
Ibn Taymiyyah
ان کے دلائل:
دلیل 1
قرآن میں لفظ الجنة آیا ہے، جو عموماً آخرت والی جنت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
دلیل 2
حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ آدمؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے:
> اللہ نے آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا (صحیح بخاری)
دلیل 3
معراج کی بعض روایات میں جنت دکھائی گئی جو آسمانوں کے اوپر ہے۔
3۔ دوسری رائے (اقلیتی)
کچھ علماء کا خیال ہے کہ آدمؑ کی جنت زمین پر کوئی باغ تھا۔
اس رائے کو اختیار کرنے والوں میں بعض معتزلی مفسرین شامل ہیں۔
ان کے دلائل:
دلیل 1
جنت میں تو:
موت نہیں
گناہ نہیں
شیطان داخل نہیں ہو سکتا
جبکہ آدمؑ کے واقعہ میں:
شیطان آیا گناہ ہوا
پھر زمین پر بھیج دیا گیا
دلیل 2
اگر وہ آخرت والی جنت ہوتی تو وہاں سے نکالا نہ جاتا۔
4۔ اہل سنت کا جواب
اہل سنت علماء ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں:
جواب 1
اس وقت جنت دارالامتحان کے طور پر تھی۔
یعنی آزمائش کے لئے وہاں رہائش دی گئی تھی۔
جواب 2
شیطان جنت میں داخل نہیں ہوا بلکہ باہر سے وسوسہ ڈالا۔
جواب 3
جنت سے نکالا جانا عارضی تھا۔
کیونکہ انسان کو زمین پر خلافت کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔
5۔ سورہ حم سجدہ کے تناظر میں
Surah Fussilat (Ha-Meem Sajdah) ہمیں بتاتی ہے کہ:
1. پہلے زمین بنائی گئی
2. پھر سات آسمان بنائے گئے
3. کائنات کی تہہ در تہہ ساخت ہے
اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ:
جنت زمین کے نظام کا حصہ نہیں
بلکہ کائنات کے اعلیٰ درجے میں ہے
یعنی آسمانوں کے اوپر۔
6۔ ایک اہم علمی نکتہ
بہت سے مفسرین کہتے ہیں:
ہمیں جنت کی صحیح جغرافیائی لوکیشن معلوم نہیں۔
کیونکہ قرآن کہتا ہے:
> وَعِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(النجم 15)
یہ آیت Surah An-Najm میں ہے۔
اس میں جنت کو سدرة المنتہیٰ کے قریب بتایا گیا ہے۔
اور سدرة المنتہیٰ ساتویں آسمان کے قریب ہے۔
7۔ خلاصہ
تحقیق کا نتیجہ:
1.حضرت آدمؑ کو جنت میں رکھا گیا تھا
2.اہل سنت کی غالب رائے کے مطابق وہ اصل آسمانی جنت تھی۔
3.وہاں سے زمین پر امتحان کے لئے بھیجا گیا۔
4.آخرت میں مومن دوبارہ اسی جنت میں جائیں گے
یعنی ایک لحاظ سے:
انسان کا اصل وطن جنت ہی ہے۔ یہاں اگر آدمؑ جنت سے زمین پر آئے تو وہ زمین پر کس جگہ اترے تھے؟
اس پر تاریخ، حدیث اور جغرافیہ میں حیران کن معلومات ملتی ہیں۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیںدین کا صحیح علم عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
باقی اگلی قسط دوئم میں ملاحظہ فرمائیں
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے