التحیات پر تحقیقی مقالہ

 التحیات: معراج کی مبارک گفتگو — ایک تحقیقی و مدلل جائزہ


جمعہ 30 رمضان 1447ھ

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


بعض اہلِ علم اور واعظین کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ نماز میں پڑھے جانے والے کلمات "التحیات" دراصل شبِ معراج میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہیں۔ آئیے اس بات کو علمی انداز میں، دلائل کے ساتھ واضح کرتے ہیں:


1.معراج کا پس منظر

واقعۂ واقعہ معراج میں نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا قرب خاص حاصل ہوا۔ یہ ایک عظیم الشان معجزہ تھا جس میں بہت سی عظیم نعمتیں عطا ہوئیں، جن میں نماز بھی شامل ہے۔


 2. التحیات کو "گفتگو" سمجھنے کی روایت

عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ:


نبی کریم ﷺ نے عرض کیا:

التحیات لله والصلوات والطيبات


اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا:

السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين


پھر فرشتوں نے کہا:

أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله


یہ ترتیب عوام میں بہت مشہور ہے اور روحانی طور پر بہت خوبصورت محسوس ہوتی ہے۔


 3.تحقیق: کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے؟

اہم نکتہ یہ ہے:

صحیح اور مستند احادیث (صحیح بخاری و مسلم) میں یہ صراحت موجود نہیں کہ یہ مکمل کلمات معراج کی گفتگو ہیں۔


بلکہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

 ہمیں تشہد اس طرح سکھایا گیا جیسے قرآن کی سورت سکھائی جاتی ہے

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)


اس حدیث میں تشہد کی تعلیم کا ذکر ہے،

 لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ یہ معراج کی گفتگو ہے۔


 4.علماء کی آراء

اہلِ علم کی اس بارے میں دو آراء ہیں:


(1) احتیاط والا موقف (راجح)

اکثر محدثین اور محققین کا کہنا ہے:

التحیات کو معراج کی "مکمل گفتگو" کہنا ثابت نہیں

یہ بیان زیادہ تر ضعیف روایات یا غیر مستند اقوال پر مبنی ہے

اس لیے اسے بطور عقیدہ بیان کرنا درست نہیں


(2) حکمت و تطبیق والا موقف

بعض علماء نے کہا:

اگرچہ یہ الفاظ حدیث میں بطور "گفتگو" ثابت نہیں


لیکن ان میں جو ترتیب ہے، وہ ایک ادبِ گفتگو کی جھلک ضرور دیتی ہے:

پہلے اللہ کی حمد

پھر نبی ﷺ پر سلام

پھر امت پر سلام

پھر ایمان کی گواہی


اس لحاظ سے اسے "روحانی تمثیل" کہا جا سکتا ہے، مگر قطعی تاریخی واقعہ نہیں


5. اصل حقیقت کیا ہے؟


✔ "التحیات" دراصل نماز کے تشہد کے کلمات ہیں

✔ یہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سکھائے

✔ یہ ایمان، ادب اور عقیدہ کا جامع خلاصہ ہیں


 لیکن:

اسے معراج کی باقاعدہ مکالمہ (dialogue) کہنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں


6.التحیات کی حکمت

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے:

اللہ کے لیے کامل تعظیم

نبی ﷺ کے ساتھ ادب

امتِ مسلمہ کے لیے خیر خواہی توحید و رسالت کا اقرار


خلاصہ

التحیات ایک عظیم دعا ہے

معراج کی طرف نسبت مشہور تو ہے مگر ثابت نہیں


صحیح بات یہی ہے کہ: 

 یہ نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا ہے، نہ کہ مستند طور پر معراج کی رات کی گفتگو۔

الدعاء 

یا اللہ تعالی  ہمیں دین اسلام پر من و عن عمل کرنے والا بنا۔

آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے