طلاق ایک معاشرتی مسئلہ
*طلاق ایک معاشرتی مسئلہ*
اتوار 08 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
کئی سال پہلے میں نے طلاق کے موضوع پر غور کیا تو مجھے یہ لکھنا پڑا کہ مسلمانوں کو طلاق دینے کی بھی تمیز نہیں ہے۔ حالانکہ اسلام نے طلاق کا نہایت حکیمانہ اور مہذب طریقہ بتایا ہے۔
سب سے پہلے اگر میاں بیوی کے درمیان رنجش پیدا ہو جائے تو انہیں چاہیے کہ آپس میں بیٹھ کر بات کریں اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر معاملہ حل نہ ہو تو خاندان کے بزرگ یا معتبر لوگ درمیان میں آئیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کیا جائے۔ اگر وہ اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا۔ (سورۃ النساء: 35)
اگر اس کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شریعت نے طلاق کا راستہ رکھا ہے، لیکن اس کا بھی ایک باوقار اور مرحلہ وار طریقہ ہے۔
ایک شرعی اصول:
[عورت کو حیض کی حالت میں طلاق نہ دی جائے، بلکہ جب وہ حیض سے پاک ہو جائے اور اس پاکی میں اس سے مباشرت نہ کی گئی ہو تو ایک طلاق دی جائے]
پہلے ایک طلاق دی جائے۔ اس کے بعد عورت عدت گزارے گی جو تین حیض یا تقریباً تین مہینے کی مدت ہوتی ہے۔ اس عدت کے دوران مرد کو حق حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو رجوع کر لے اور نکاح دوبارہ قائم ہو جائے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔"(البقرہ: 229)
اگر عدت گزر جائے اور رجوع نہ کیا جائے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دونوں آزاد ہیں۔ عورت چاہے تو کہیں اور نکاح کر سکتی ہے اور مرد بھی دوسری شادی کر سکتا ہے۔ اگر دونوں دوبارہ آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو وہ بھی ممکن ہے۔
اگر دوبارہ نکاح کے بعد پھر اختلاف پیدا ہو جائے تو اسی طریقے سے دوسری طلاق دی جا سکتی ہے اور اس میں بھی عدت کے دوران رجوع کا حق باقی رہتا ہے۔
لیکن جب تیسری طلاق دی جائے تو وہ طلاق قطعی اور حتمی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد رجوع ممکن نہیں رہتا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ غصے میں ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ طریقہ نہ حکمت پر مبنی ہے اور نہ قرآن کے بتائے ہوئے تدریجی نظام کے مطابق ہے۔
*ایک عملی مثال*
فرض کریں میاں بیوی میں سخت جھگڑا ہو گیا۔ اگر شوہر غصے میں آ کر تین طلاقیں دے دے تو ایک لمحے میں پورا گھر ٹوٹ جاتا ہے، بچے متاثر ہوتے ہیں اور دونوں زندگی بھر پچھتاتے ہیں۔
لیکن اگر وہ شریعت کے طریقے پر چلیں اور صرف ایک طلاق دیں تو تین مہینے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس دوران اکثر غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، خاندان والے صلح کرا دیتے ہیں اور گھر ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔
اسی حکمت کی وجہ سے اسلام نے طلاق کو ایک مرحلہ وار عمل بنایا ہے تاکہ جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں سے خاندان تباہ نہ ہوں۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم دین کو جذبات سے نہیں بلکہ سمجھ، حکمت اور قرآن کی رہنمائی کے ساتھ اپنائیں۔
*عدت کے دوران ایک عظیم حکمت عملی، فقہی اور معاشرتی نقطہ نظر سے یہ بہت اہم ہیں*
1- عدت کے دوران عورت کو شوہر کا گھر قطعا" نہیں چھوڑنا چاہیئے بلکہ شرعا" عدت کے دوران عورت کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ ہے۔
2- عورت کو اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنا میک اپ، لباس اور جمالیاتی آزادی رکھنے کا نہ کہ حق ہے بلکہ
اس کا مقصد یہ ہے کہ رجحان، اعتماد اور سماجی استحکام پیدا ہو۔
3- اکثر ہمارے معاشرتی رویے، جیسے کہ بیٹیوں کو سسرال سے فوراً لے آنا یا گھر کی آزادی چھیننا، تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرما
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے