فرقہ ورانہ عقائد

 *فرقہ وارانہ عقائد کا ایک جامع، تحقیقی اور متوازن جائزہ*


بدھ 05 فروری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


فرقہ واریت دراصل اسلام کا پیدا کردہ مسئلہ نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ قرآنِ مجید نے امت کو ایک وحدت قرار دیا اور تفرقے کو صریح گمراہی کہا، مگر تاریخ کے مختلف ادوار میں سیاسی، نسلی، فکری اور شخصی عوامل نے دینی اختلاف کو فرقہ واریت میں بدل دیا۔ یہ فرقے بعض اوقات صرف فکری یا فقہی اختلاف تک محدود رہے، اور بعض نے عقیدے کی بنیادوں کو متاثر کیا۔


نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد سب سے پہلا اختلاف سیاسی نوعیت کا تھا، مگر جلد ہی یہی اختلافات عقیدے میں سرایت کر گئے۔ خلافت، امامت، تقدیر، ایمان، اور صفاتِ الٰہی جیسے موضوعات پر آراء میں شدت آتی گئی اور یوں مختلف مکاتبِ فکر وجود میں آئے۔


اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اصول یہ ہے کہ ہر فرقہ گمراہ نہیں اور ہر گمراہی کفر نہیں۔ فرقہ اس وقت خطرناک بن جاتا ہے جب وہ:

ضروریاتِ دین کا انکار کرے۔


قرآن و سنتِ متواتر کے مقابل عقل، کشف یا امام کے قول کو مقدم کرے۔


صحابہؓ یا انبیاءؑ کی توہین کرے


امتِ مسلمہ کی اکثریت کو گمراہ یا کافر قرار دے


ابتدائی فرقوں میں خوارج نمایاں ہیں۔ ان کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے۔ اس عقیدے نے انہیں تکفیر، تشدد اور قتل تک پہنچا دیا۔ اگرچہ وہ عبادت گزار تھے، مگر نصوص کے ظاہری مفہوم پر جمود اور فہمِ صحابہؓ سے انحراف نے انہیں گمراہی میں مبتلا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں دین سے خارج ہونے کے مترادف قرار دیا، اگرچہ فقہاء نے ان کی تکفیر میں احتیاط برتی۔


اس کے برعکس مرجئہ نے ایمان کو صرف زبانی اقرار تک محدود کر دیا اور عمیل کو ایمان سے جدا سمجھا۔ اس فکر نے عملی بے راہ روی کو جنم دیا۔ اگرچہ مرجئہ کا یہ نظریہ باطل ہے، مگر جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ بدعت تو ہے، کفر نہیں، کیونکہ وہ اصولِ دین کا انکار نہیں کرتے تھے۔


اسی طرح قدریہ اور جبریہ دو انتہائیں ہیں۔ قدریہ نے اللہ کی تقدیر کا انکار کر کے انسان کو خالقِ افعال مانا، جبکہ جبریہ نے انسان کو بالکل مجبور محض قرار دیا۔ اہلِ سنت نے ان دونوں کے درمیان معتدل راستہ اختیار کیا۔ قدریہ کے بعض اقوال کفر کے قریب ہیں، مگر ہر قدری کو کافر قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ بہت سے لوگ تاویل اور فکری مغالطے کا شکار تھے۔


بعد کے ادوار میں فلسفہ اور یونانی فکر کے اثر سے معتزلہ پیدا ہوئے۔ انہوں نے عقل کو نقل پر فوقیت دی اور صفاتِ باری تعالیٰ کا انکار یا تاویلِ بعید کی۔ قرآن کے مخلوق ہونے کا نظریہ اسی فکر کا نتیجہ تھا۔ یہ عقیدہ جمہور اہلِ سنت کے نزدیک باطل اور گمراہ کن ہے، مگر معتزلہ کی عمومی تکفیر نہیں کی گئی، بلکہ ان کے مخصوص کفریہ اقوال پر حکم لگایا گیا۔


فرقہ واریت کا سب سے نازک باب وہ ہے جہاں محبتِ اہلِ بیت یا صحابہؓ سے اختلاف عقیدے میں بدل جاتا ہے۔ اہلِ سنت اہلِ بیت سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، مگر جب یہ محبت غلو میں بدل کر صحابہؓ کی تکفیر یا توہین تک پہنچ جائے تو یہ خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح صحابہؓ کی عدالت اور دین میں ان کے مقام کا انکار، جمہور اہلِ سنت کے نزدیک سخت گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر کے قریب ہے۔


اہلِ سنت کا منہج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ فرقے کے بجائے عقیدے کا جائزہ لیا جائے۔ کسی فرقے سے نسبت ہونا خود کفر نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس فرد کا عقیدہ قرآن، سنت اور اجماعِ امت کے مطابق ہے یا نہیں۔


یہی وجہ ہے کہ ائمہ اربعہ، محدثین اور اکابرین امت نے کبھی عوام الناس کی تکفیر میں جلد بازی نہیں کی۔ امام احمد بن حنبلؒ جیسے جلیل القدر امام نے بھی خلقِ قرآن کے فتنہ میں صبر اختیار کیا مگر مسلمانوں کو کافر کہنے سے احتراز کیا۔


آج کے دور میں فرقہ واریت کی سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ ہر گروہ خود کو "واحد ناجی فرقہ" اور باقی سب کو گمراہ بلکہ کافر سمجھتا ہے۔ یہ روش نہ قرآن کی ہے، نہ سنت کی، اور نہ ہی سلف صالحین کی۔


قرآن کا واضح اعلان ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾


نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ:


*فرقہ واریت دین کا مسئلہ نہیں، فہمِ دین کا مسئلہ ہے*


ہر اختلاف بدعت نہیں اور ہر بدعت کفر نہیں.


دین کی اصل روح اتحاد، عدل اور علمی دیانت ہے


تکفیر نہیں، تصحیحِ عقیدہ اصل ذمہ داری۔


حرف آخر:

آج کے دور میں مشکل یہ ہے کہ لوگ اپنے فرقے کے بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتے۔ 


*فرقہ واریت کا حل*

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے فرقے کے عقائد پر تنقید کو سنیں کھلے ذہن سے سوچیں غور کریں اور مد مقابل کے عقائد اگر قرآن و حدیث کے مطابق ہیں تو فورا" مد مقابل کی بات کو تسلیم کیا جائے اور اپنے عقیدے سے رجوع کیا جائے اور اسی میں ایمان کی عافیت ہے۔

ہاد رہے کہ ضروری نہیں کہ مد مقابل کا عقیدہ ہی غلط ہو آپ کا اپنا عقیدہ بھی تو غلط ہو سکتا ہے


وما علینا الا البلاغ المبین 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے