انسان کا اختیار
*انسان کا اختیار، توفیقِ الٰہی اور حسابِ آخرت*
پیر 02 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
1️⃣ انسان اپنے اعمال میں آزاد ہے کیونکہ اعمال میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ اور اختیار دیا ہے:
﴿وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ﴾
(اور کہہ دیجئے: حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے) سورۃ الکہف 18:29
﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾
(ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا)سورۃ الانسان 76:3
➡️ واضح ہوا: راستہ دکھانا اللہ کا کام ہے، انتخاب انسان کا۔
2️⃣ جو فائدہ پہنچتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے
﴿مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ﴾
آپ کو جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے
(سورۃ النساء 4:79)
﴿وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ﴾
تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے (سورۃ النحل 16:53)
➡️ ہر خیر، نعمت، کامیابی اور توفیق — اصل میں اللہ کا فضل ہے۔
3️⃣ جو گزند پہنچتا ہے وہ انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے
﴿وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ﴾
اور آپ کو جو برائی پہنچتی ہے وہ آپ کے اپنے نفس کی وجہ سے ہے
(القرآن، سورۃ النساء 4:79)
﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾
(تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے)
(سورۃ الشوریٰ 42:30)
➡️ نقصان اور سزا انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔
4️⃣ نیکی کے کاموں میں اللہ مدد کرتا ہے
﴿وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ﴾
جو لوگ ہدایت اختیار کرتے ہیں، اللہ ان کی ہدایت بڑھا دیتا ہے اور انہیں تقویٰ عطا کرتا ہے
(القرآن، سورۃ محمد 47:17)
﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾
(اللہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھتا ہے)
(سورۃ ابراہیم 14:27)
📜 حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اعملوا فكل ميسر لما خلق له"
عمل کرو، ہر شخص کو اسی کام کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے
(صحیح بخاری، حدیث 4949)
(صحیح مسلم، حدیث 2647)
➡️ نیکی کی راہ اختیار کرنے پر اللہ آسانی اور استقامت عطا کرتا ہے۔
5️⃣ برائی سے اللہ زبردستی نہیں روکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ﴾
اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے
(سورۃ التکویر 81:29)
لیکن ساتھ ہی:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ﴾
(بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا)
القرآن، سورۃ الاعراف 7:28
➡️ اللہ برائی کو پسند نہیں کرتا، حکم نہیں دیتا، مگر امتحان کے نظام میں انسان کو زبردستی نہیں روکتا۔
6️⃣ ان سب اعمال کا حساب آخرت میں ہوگا
﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾
(جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ اسے دیکھ لے گا)
سورۃ الزلزال 99:7-8
📜 حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إنما الأعمال بالنيات"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)
— صحیح بخاری، حدیث 1
— صحیح مسلم، حدیث 1907
➡️ حساب نیت اور عمل دونوں پر ہوگا۔
*مکمل مربوط خلاصہ*
✔ انسان کو راستہ دکھایا گیا لیکن انتخاب اس کا اپنا ہے۔
✔ جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ کا فضل ہے۔
✔ جو نقصان پہنچتا ہے وہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔
✔ نیکی کی طرف بڑھنے پر اللہ ہدایت اور استقامت بڑھاتا ہے۔
✔ برائی کا حکم اللہ نہیں دیتا اور زبردستی نہیں کراتا، مگر امتحان کے لیے اختیار باقی رکھتا ہے۔
✔ ہر عمل کا مکمل حساب قیامت کے دن ہوگا۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما۔
اور برائی سے محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے