دین کے سنہرے اصول

 دینِ اسلام کے سنہرے اصول


منگل، 03 فروری 2026

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


اے عقل و دانش رکھنے والو!


یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد ﷺ کے ذریعے دین کو اپنی آخری اور مکمل شکل میں نازل فرما دیا، جس میں نہ کسی اضافے کی گنجائش ہے اور نہ کسی کمی کی۔


اللہ ربّ العزّت کا ارشاد ہے

﴿اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾

“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرما لیا۔”

(سورۃ المائدہ: 3)


پس جو شخص دین میں اپنی طرف سے، یا اپنے بزرگوں اور مذہبی پیشواؤں کے کہنے پر، کسی عمل کو نیکی سمجھ کر شامل کرتا ہے، وہ درحقیقت دین میں بدعت کا ارتکاب کرتا ہے، اور ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مردود ہے۔


رسول اللہ ﷺ کا واضح اور دوٹوک فرمان ہے:


«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

“ہر بدعت گمراہی ہے۔”

(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ)


اور ایک دوسری روایت میں ہے:

«وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»

“اور ہر گمراہی آگ (جہنم) میں لے جانے والی ہے۔”

(سنن النسائی، کتاب العیدین)


*قبولیتِ عمل کا معیار*

دین میں وہی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول ہے جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے (سنت) کے مطابق ہو۔

اور جو عمل سنتِ رسول ﷺ کے خلاف ہو، خواہ بظاہر کتنا ہی نیک کیوں نہ دکھائی دے، وہ ردّ کر دیا جاتا ہے۔


نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔”

(صحیح البخاری، حدیث: 2697 — صحیح مسلم، حدیث: 1718)


ایک اصولی اور منطقی مثال


نمازِ ظہر چار رکعت فرض ہے۔

اگر کوئی شخص نیکی کے جذبے سے، چار کے بجائے پانچ یا چھ رکعت ادا کرے تو اس کی یہ نماز ہرگز قبول نہیں ہوگی۔


حالانکہ اس نے:


سورۃ الفاتحہ پڑھی

رکوع و سجود کیے

تسبیحات اور دعائیں پڑھیں


یہ سب بظاہر نیک اعمال ہیں، مگر چونکہ یہ سنتِ رسول ﷺ کے خلاف ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں۔


پس اصول یہ ہے:

جو عمل سنت کے مطابق ہوگا وہی قابلِ قبول ہوگا،

اور جو سنت کے مطابق نہیں ہوگا وہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگا۔


اسلام میں عیدوں کا تصور


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهٰذَا عِيدُنَا»

“ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے۔”

(صحیح البخاری، کتاب العیدین)


اسلام میں صرف دو ہی عیدیں مقرر کی گئی ہیں:


1.عید الفطر

2.عید الاضحیٰ


ان کے علاوہ کسی اور تہوار یا جشن کو دینی حیثیت دینا شریعت میں ثابت نہیں۔


اسلام کی بنیاد


یاد رکھو! اسلام کی بنیاد تین چیزوں پر ہے:


1.قرآنِ مجید

2.سنت و حدیثِ رسول ﷺ

3.آثارِ صحابہؓ

یعنی اللہ کے احکامات، رسول ﷺ کا طریقہ، اور صحابہ کرامؓ کی عملی تشریح — یہی دین کا معیار ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا أَطِيْعُوا اللّٰهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْۚ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾

“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور ان کی جو تم میں صاحبِ امر ہوں۔ پھر اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔”

(سورۃ النساء: آیت 59)


الدعاء: 

اے اللہ تعالی!

ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرما،

اور ہمیں اپنے احکامات پر رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔


آمین یا ربّ العالمین


احقر العباد

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے