موت کے وقت کی کیفیت

 *موت کے وقت انسان کی کیفیت — قرآن و حدیث کی روشنی میں*


پیر 30 مارچ 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا


انسان ساری زندگی دنیا کی دوڑ میں لگا رہتا ہے، مگر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب سب کچھ رک جاتا ہے اسے “نزع” کہتے ہیں۔


یہ وہ وقت ہوتا ہے جب حقیقت کے پردے اٹھنے لگتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور موت کی سختی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا” (ق:19)


اس لمحے انسان کو اپنی پوری زندگی ایک فلم کی طرح یاد آنے لگتی ہے…


✔ کہاں نیکی کی

✔ کہاں گناہ کیا

✔ کہاں موقع ضائع کیا


اگر اس نے قرآن کو سمجھا تھا، اس پر غور کیا تھا—تو آخری وقت میں وہی آیات اس کے دل کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔


ممکن ہے:

اس کے دل میں شدید ندامت پیدا ہو آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور وہ دل ہی دل میں اللہ سے کہے:


“اے اللہ! میں نے کوتاہی کی… مجھے معاف فرما دے”


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“الندم توبة” (پشیمانی ہی توبہ ہے)


لیکن ایک حقیقت بہت اہم ہے…


آخری وقت کی توبہ ہمیشہ قبول ہو! یہ یقینی نہیں کیونکہ جب موت سامنے آ جائے اور حق واضح ہو جائے تو آزمائش ختم ہو جاتی ہے


جیسے فرعون نے آخری وقت میں ایمان لانا چاہا—مگر قبول نہ ہوا


اس لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان آخری وقت میں سنبھلے…

بلکہ یہ ہے کہ وہ زندگی ہی میں سنبھل جائے


نزع کے وقت کیا کرنا چاہیے؟


✔ “لا إله إلا الله” کی تلقین

✔ اللہ کی رحمت کی امید دلانا

✔ دعا کرنا

✔ سکون والا ماحول رکھنا


اور اگر قرآن (مثلاً سورۃ یٰسین) پڑھا جائے تو یہ ایک یاد دہانی بن سکتا ہے…


لیکن نجات کا اصل دارومدار صرف ایک چیز پر ہے:


ایمان + سچی توبہ + زندگی کا عمل


خلاصہ:


✔ قرآن زندگی میں ہدایت ہے

✔ موت کے وقت نصیحت ہے

✔ اور نجات کا فیصلہ انسان کے ایمان و عمل پر ہے


آج سوچیں…

اگر آج ہی ہمارا آخری دن ہو تو کیا ہم مطمئن ہوں گے؟


اللهم احسن خاتمتنا واغفر لنا وارحمنا


اے مخاطب!

جو وقت گزر چکا وہ تو کبھی واپس نہ آئے گا اپنی سابقہ کوتاہیوں سے سچی توبہ کر لو اور اپنے آئندہ کے اعمال قرآن و سنت کے مطابق ڈھال لو!

 شاید کہ تم فلاح پاو۔


زندگی کے جو لمحے میسر ہیں انھیں غنیمت جانو!

اور اپنا خود احتساب کر لو شاید تیری سمجھ میں آجائے میری بات۔

 

آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے