سلانوالی کی ترقی

 *تصویر کا اصل رخ*


سلانوالی میں بس کے

لنگوٹے رکھو کس کے

کمانے کو کچھ نہیں

وقت گزارو ہنس کے


آئیڈیا اچھا ہے

لیکن فیزیبل نہیں 

ڈاک کا نظام دنیا بھر میں غیر فعال ہو رہا ہے 

الیکٹرانک میڈیا تیزی سے جگہ لے رہا ہے

ای میل، وائس میل، فیس بک، ٹیوٹر، آن لائن بنکنگ، ڈیجیٹل منی ٹرانسفر اور کرپپٹو کرنسی، اے ٹی ایم مشین اور آن لائن شاپنگ تیزی سے پروموٹ ہو رہی ہیں

میرا صرف ایک سوال

کتنے لوگوں نے پچھلے پانچ سال میں منی آرڈر بھیجا یا رسیو کیا ہے۔ پوسٹ کارڈ، پی پی کالز خط، بیرنگ یا پارسل بذریعہ ڈاکخانہ وصول یا ارسال کی ہونگی۔ یہ سہولیت کتنا عرصہ پہلے ابسلیٹ ہو چکی ہیں۔

موبائل نے ہمارے کلچر کو کھا لیا ٹیلیویژن ٹیلیفون، فیکس مشین، گھڑی،  الارم ٹائم پیس، ریڈیو، ٹیلیگرام، وی سی آر، گراموفون ریکارڈ، ویڈیو کیمرا ، فلاپی ڈسک، سی ڈی، یو آیس بی، ٹیپ ریکارڈر اور نہ جانے کیا کیا مشینیں اور گجٹس یہ موبائل ہضم کر گیا۔


آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ مستقبل قریب میں بندوق، پسٹل، چاقو، کاربین، توا، پرانت، پتیلی چولھہ، چکی، گرائنڈر، چھری کانٹے چمٹا، کٹورہ، چوکی، پیچھا کھرچنا آٹے والی چھلنی، جھرنا،  اور نہ جانے کیا کیا اوزار ناپید ہونے والے ہیں یا عجائب گھر کی زینت بننے والے ہیں۔


ہماری عملی دنیا نہ سہی مگر ہماری خیالی دنیا تو روشن ہے۔


پیوستہ رہ شجر سے اور امید بہار رکھ۔


سن آف سوائل


انجینیئر نذیر ملک  سلانوالی

تبصرے