مدارس اور عصری تعلیم

 پاکستانی مدارسِ دینیہ کا تعلیمی نظام اور عصری تعلیم: ایک متوازن و تعمیری جائزہ


جمعرات 24 اپریل 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


پاکستان میں مدارسِ دینیہ ایک عظیم دینی، تہذیبی اور تاریخی ورثہ رکھتے ہیں۔ یہ ادارے صدیوں سے قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی علوم کی حفاظت اور اشاعت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ برصغیر میں اسلام کی بقا اور مذہبی شناخت کے تحفظ میں ان مدارس کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ تاہم موجودہ دور کے تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس نظام کا تنقیدی مگر منصفانہ جائزہ لیا جائے اور اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔


مسلکی وابستگی اور دینی بیانیہ


یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اکثر مدارس مختلف مسالک سے وابستہ ہیں—دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ وغیرہ۔ ہر مدرسہ اپنے مسلک کی تعلیم و ترویج کرتا ہے۔ یہ عمل اپنی جگہ ایک فطری دینی روایت کا حصہ ہے، لیکن جب یہی وابستگی تعصب یا دوسرے مکاتبِ فکر کی نفی میں بدل جائے تو معاشرتی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے واضح کیا:

"کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُونَ" (الروم: 32)

یعنی ہر گروہ اپنے پاس موجود چیز پر خوش ہے۔


ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس میں اختلاف کے آداب (Adab al-Ikhtilaf)، رواداری، اور مشترکہ دینی اصولوں کو زیادہ اجاگر کیا جائے، تاکہ اتحادِ امت کو فروغ ملے نہ کہ تقسیم کو۔


معاشی حقیقت اور علما کا کردار


یہ کہنا کہ مدارس کے فارغ التحصیل افراد صرف صدقات و زکوٰۃ پر گزارہ کرتے ہیں، جزوی طور پر درست مگر مکمل تصویر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے علما تدریس، تحقیق، خطابت، قضاء، اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محدود معاشی مواقع ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔


یہ مسئلہ دراصل مہارتوں (skills) کی کمی سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ نیت یا اخلاص سے۔ اگر علما کو عصری علوم، زبانوں، اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تو وہ معاشرے میں زیادہ مؤثر اور خودمختار کردار ادا کر سکتے ہیں۔


نصابِ تعلیم: روایت اور ضرورت


مدارس کا روایتی نصاب (درسِ نظامی) بنیادی طور پر صدیوں پرانا ہے، جس میں منطق، فقہ، تفسیر اور حدیث کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ نصاب اپنی جگہ مضبوط علمی بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن موجودہ دور میں درج ذیل کمی محسوس ہوتی ہے:


سائنسی علوم (Physics, Biology, Technology)


معاشی و سماجی علوم (Economics, Sociology)


عصری زبانیں (خصوصاً انگریزی)


اخلاقیات اور سماجی مہارتیں (Soft Skills)


یہ خلا مدارس کے طلبہ کو جدید دنیا کے تقاضوں سے دور کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عملی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔


دوہرے نظامِ تعلیم کا مسئلہ

پاکستان میں ایک طرف مدارس کا نظام ہے اور دوسری طرف سرکاری و نجی تعلیمی نظام۔ ان دونوں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نتیجتاً:


مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم میں مشکلات پیش آتی ہیں


مارکیٹ میں مقابلہ کمزور ہو جاتا ہے


قومی ترقی میں یکجہتی پیدا نہیں ہو پاتی


یہ ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی درکار ہے۔


تاریخی تناظر: ہم کہاں سے کہاں پہنچے؟


اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایک وقت تھا جب دینی مدارس ہی سائنس، طب، ریاضی اور فلسفہ کے مراکز تھے۔ جابر بن حیان، ابن سینا اور ابن تیمیہ جیسے عظیم نام اسی علمی روایت کا حصہ تھے۔ ان شخصیات نے دین اور دنیا کو الگ نہیں سمجھا بلکہ علم کو ایک اکائی کے طور پر اپنایا۔


آج سوال یہ نہیں کہ وہ شخصیات کیوں پیدا نہیں ہو رہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے علم کو خود کیوں تقسیم کر دیا ہے؟


اصلاح کی سمت: ایک متوازن راستہ


اصلاح کا مطلب یہ نہیں کہ مدارس کی دینی شناخت ختم کر دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔ اس کے لیے چند عملی تجاویز:


1.نصاب میں توازن

دینی علوم کے ساتھ ساتھ بنیادی عصری علوم کو شامل کیا جائے—خاص طور پر سائنس، آئی ٹی، اور معاشیات۔


2.سرکاری ربط و الحاق

مدارس کو تعلیمی بورڈز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ ان کی اسناد کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے۔


3.اساتذہ کی تربیت

اساتذہ کے لیے جدید تدریسی طریقوں اور عصری علوم کی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔


4.ہنر اور ٹیکنیکل تعلیم

طلبہ کو فنی مہارتیں (جیسے IT، الیکٹریشن، کاروباری تربیت) دی جائیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔


5.بین المسالک ہم آہنگی

مشترکہ کورسز اور مکالمے کے ذریعے مختلف مسالک کے درمیان برداشت کو فروغ دیا جائے۔


نتیجہ: مستقبل کی راہ


پاکستان کو ایک ایسے تعلیمی ماڈل کی ضرورت ہے جہاں مدرسہ اور یونیورسٹی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون ہوں۔ جہاں عالمِ دین صرف مسجد کا امام نہ ہو بلکہ ایک محقق، مفکر، سائنسدان، اور رہنما بھی ہو۔


یہ وقت ہے کہ ہم مدارس کو محدود دائرے سے نکال کر قومی ترقی کا فعال حصہ بنائیں۔ جب دینی علم اور عصری مہارتیں ایک ساتھ چلیں گی، تب ہی ایک ایسی نسل تیار ہوگی جو نہ صرف دین کی صحیح نمائندگی کرے گی بلکہ دنیا میں بھی باوقار مقام حاصل کرے گی۔


"علم وہ روشنی ہے جو جب دین اور دنیا دونوں کو منور کرے، تب ہی قومیں عروج پاتی ہیں۔"


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے