سفر مین جمع بین
*سفر میں نمازوں کو جمع کرنا سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک مدلل جائزہ*
مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی فطری ضروریات، کمزوریوں اور حالات کو ملحوظ رکھتا ہے۔ عبادات میں بھی شریعت نے سختی نہیں بلکہ اعتدال اور آسانی کو اختیار کیا ہے۔ اسی رحمت و سہولت کا ایک مظہر سفر میں نمازوں کو جمع کرنا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی سنتِ مطہرہ سے ثابت ہے۔
افسوس کہ آج بہت سے مسلمان اس سنت سے ناواقف ہیں، جبکہ بعض لوگ اسے غیر ضروری یا خلافِ معمول سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنتِ نبوی ﷺ کو دلائل کے ساتھ سمجھا جائے اور اعتدال کے ساتھ زندہ رکھا جائے۔
سفر میں جمع بین الصلاتین کا مفہوم:
“جمع بین الصلاتین” سے مراد یہ ہے کہ:
ظہر اور عصر کو ایک وقت میں
یا مغرب اور عشاء کو ایک وقت میں ادا کیا جائے۔
اس کی دو صورتیں ہیں:
1.جمع تقدیم
پہلی نماز کے وقت میں دونوں نمازیں ادا کرنا۔
مثلاً:
ظہر کے وقت عصر پڑھ لینا
یا مغرب کے وقت عشاء پڑھ لینا
2.جمع تاخیر
پہلی نماز کو مؤخر کر کے دوسری نماز کے وقت میں دونوں پڑھنا۔
مثلاً:
ظہر کو عصر کے وقت پڑھنا
یا مغرب کو عشاء کے وقت ادا کرنا
قرآنِ کریم میں آسانی کا اصول:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
“اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا۔”
(سورۃ البقرہ: 185)
اسی طرح فرمایا:
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ
ترجمہ:
“اللہ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔”
سورۃ الحج: 78
یہی اصول سفر میں نمازوں کی رخصت میں بھی نمایاں ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے ثبوت
1.حضرت ابن عباسؓ کی روایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
“رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر کو، اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، بغیر خوف اور بارش کے۔”
راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباسؓ سے پوچھا: آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟
انہوں نے فرمایا
“تاکہ اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈالیں(صحیح مسلم
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ امت کی آسانی کو پسند فرماتے تھے۔
2.سفر میں جمع کا معمول
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:
“جب رسول اللہ ﷺ سفر میں جلد روانہ ہوتے تو ظہر کو مؤخر کر کے عصر کے وقت جمع فرماتے، اور مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے ساتھ جمع فرماتے۔
(بخاری، مسلم)
یہ روایت واضح ثبوت ہے کہ سفر میں جمع کرنا آپ ﷺ کے عملی معمولات میں شامل تھا۔
3.غزوۂ تبوک میں جمع
حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں:
“غزوۂ تبوک کے سفر میں نبی کریم ﷺ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع فرمایا کرتے تھے۔”
(جامع ترمذی، سنن ابوداؤد)
فقہاء کا موقف
جمہور فقہاء
امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور متعدد محدثین کے نزدیک:
✔ سفر میں جمع بین الصلاتین سنت اور جائز ہے
✔ ضرورت، مشقت یا آسانی کے لیے اس پر عمل کیا جا سکتا ہے
فقہ حنفی کا موقف
احناف سفر میں “قصر” کو سنتِ مؤکدہ مانتے ہیں، لیکن حقیقی جمع کو محدود سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک:
اصل یہ ہے کہ ہر نماز اپنے وقت میں پڑھی جائے
البتہ عرفات و مزدلفہ میں حقیقی جمع ثابت ہے
دیگر مواقع پر “جمع صوری” کی گنجائش بیان کی جاتی ہے
اس کے باوجود احناف بھی ان احادیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ ان کی الگ توجیہ کرتے ہیں۔
سنت کو زندہ رکھنے کی ضرورت:
آج بعض لوگ سفر میں جمع کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ:
✔ یہ نبی کریم ﷺ کی ثابت شدہ سنت ہے
✔ صحیح احادیث سے ثابت ہے
✔ امت کے بڑے فقہاء نے اس پر عمل کیا ہے
لہٰذا:
اس سنت پر عمل کرنے والوں کو ملامت نہیں کرنی چاہیے
اور نہ ہی اسے دین میں نیا عمل سمجھنا چاہیے
البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ:
❌ اسے معمولِ دائمی نہ بنایا جائے
❌ بلا ضرورت ہر وقت جمع نہ کیا جائے
✔ بلکہ سنت اور رخصت سمجھ کر اعتدال کے ساتھ اختیار کیا جائے
سفر میں جمع اور قصر دونوں سنتیں ہیں:
نبی کریم ﷺ سفر میں:
چار رکعت والی نمازوں کو دو رکعت پڑھتے تھے (قصر)
اور بعض اوقات نمازیں جمع بھی فرماتے تھے
یہ دونوں عمل شریعت کی رحمت اور آسانی کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتیجہ:
سفر میں نمازوں کو جمع کرنا رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنتِ مطہرہ ہے، جس کا مقصد امت پر آسانی کرنا اور مشقت کو دور کرنا ہے۔
صحیح احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مختلف اسفار میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع فرمایا۔ امت کے جلیل القدر فقہاء نے بھی اس سنت کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات میں اختلاف موجود ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ:
اس سنت کو علم و اعتدال کے ساتھ سمجھیں
دوسروں پر طعن و تشنیع نہ کریں۔
اور جہاں شرعی ضرورت ہو وہاں اس رخصت سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی ہر سنت امت کے لیے رحمت، حکمت اور آسانی کا سرچشمہ ہے۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں تیرے احکامات تیرے نبی کے طریقہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے