بارش میں صلاۃ جمع بین

 *بارش میں نماز مغرب اور نماز عشاء کے جمع بین کرنے اور حدیث “صلّوا في الرحال” کے باہمی تعلق پر ایک مدلل اور مربوط مضمون*


مئی 2026

تحقیق و تحریر: 

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


بارش میں نماز اور “صلّوا في الرحال” کی احادیث کا فقہی تجزیہ۔


اسلام دینِ رحمت ہے جو عبادات میں سہولت اور رفعِ مشقت کو بنیادی اصول کے طور پر پیش کرتا ہے۔ نماز، جو دین کا ستون ہے، اس کے اوقات کی پابندی لازم ہے، لیکن شریعت نے بعض حالات میں رخصت بھی دی ہے تاکہ بندہ مشقت میں مبتلا نہ ہو۔

انہی رخصتوں میں سے ایک اہم مسئلہ بارش کے دوران نماز کا طریقہ ہے، جس پر دو معروف احادیث اور فقہی آراء کی بنیاد پر گفتگو کی جاتی ہے۔


1.حدیث “صلّوا في الرحال” کا مفہوم: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ سے روایت ہے کہ:

جب بارش یا سخت سردی ہوتی تو مؤذن کو حکم دیا جاتا کہ اعلان کرے:

“ألا صلّوا في الرحال”

یعنی: اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔

یہ روایت واضح طور پر درج ذیل امور پر دلالت کرتی ہے:

بارش یا مشقت میں مسجد آنا لازم نہیں رہتا۔


جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز ادا کرنا جائز ہے:


دین میں آسانی کا پہلو غالب ہے لیکن اس حدیث میں ایک نکتہ بہت اہم ہے: اس میں نمازوں کو جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ صرف جماعت سے رخصت کا بیان ہے۔


2.بارش میں جمع بین الصلاتین کی روایات

دوسری طرف بعض احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ:

نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں بارش کے موقع پر مغرب و عشاء کو جمع فرمایا۔


یہ روایات مختلف طرق سے مروی ہیں، اور محدثین نے ان کی بنیاد پر یہ سمجھا کہ:


شدید بارش کیچڑ اور مشقت

یا عام لوگوں کے لیے تکلیف

کی صورت میں نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔


3.فقہی اختلاف کا بنیادی سبب یہاں سے دو مختلف فہم پیدا ہوئے:


(الف) وہ فقہاء جو جمع کے قائل ہیں (شافعی، مالکی، حنبلی)


ان کے نزدیک:

“صلّوا في الرحال” سے معلوم ہوتا ہے کہ مشقت میں رخصت دی جا سکتی ہے


اور دیگر احادیث سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے بارش میں جمع بھی فرمایا لہٰذا بارش میں جمع تقدیم یا تاخیر جائز ہے


(ب) فقہ حنفی کا موقف


احناف کے نزدیک:

“صلّوا في الرحال” صرف جماعت کی رخصت ہے

اس سے نماز کے اوقات میں تبدیلی ثابت نہیں ہوتی اور نبی ﷺ کا جمع کرنا اکثر جمع صوری یا مخصوص حالات پر محمول ہے


اس لیے ان کے نزدیک:

بارش میں بھی ہر نماز اپنے وقت میں پڑھی جائے

البتہ عملی آسانی کے لیے “جمع صوری” اختیار کیا جا سکتا ہے


4.دونوں دلائل کو جمع کرنے کی حکمت:

اگر دونوں قسم کی احادیث کو دیکھا جائے تو ایک جامع تصویر سامنے آتی ہے:


“صلّوا في الرحال”  مشقت میں مسجد کی حاضری کی رخصت۔

بارش میں جمع والی روایات بعض حالات میں اوقات میں بھی نرمی:


یعنی شریعت نے:

✔ اصل اصول: نماز وقت پر

✔ رخصت: مشقت میں آسانی

✔ تطبیق: حالات کے مطابق گنجائش


5. عملی صورت (خلاصہ)

معمولی بارش: نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔


شدید بارش یا مشقت:

بعض فقہاء کے نزدیک مغرب و عشاء جمع ہو سکتی ہیں

احناف کے نزدیک ہر نماز اپنے وقت میں مگر آسانی کے ساتھ (جمع صوری)


حاصل نتیجہ:

حدیث “صلّوا في الرحال” دراصل دین کی رحمت اور سہولت کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ بارش میں جمع کی روایات شریعت کی وسعت اور اجتہادی گنجائش کو واضح کرتی ہیں۔


دونوں کو جمع کرنے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ:

اسلام عبادت میں پابندی بھی چاہتا ہے اور مشقت میں آسانی بھی۔


اور یہی توازن اسلامی فقہ کی خوبصورتی ہے۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی ہمیں دین اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرما اور محمد الرسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر من و عن عمل کی توفیق عطا فرما۔


آمین یا رب العالمین 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے