فلاح دارین کی کنجی
*فلاحِ دارین کی کنجی*
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
ایمانِ کامل، عملِ صالح اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی
انسانی زندگی ایک مختصر سفر ہے، جس کی ابتدا دنیا سے اور انتہا آخرت پر ہوتی ہے۔ دنیا امتحان گاہ ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کی زندگی۔ کامیاب وہی انسان ہے جو اپنے رب کو پہچان لے، اپنے نبی محمد ﷺ کی اطاعت اختیار کرے، اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال لے۔ یہی دراصل فلاحِ دارین یعنی دنیا و آخرت کی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرمایا:
> فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
“جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہوگیا۔”
ایک مومن کی سب سے پہلی بنیاد خالص توحید ہے۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، معبود، مشکل کشا اور حاجت روا مانتا ہے۔ عبادت، دعا، سجدہ، نذر و نیاز اور استعانت صرف اللہ کے لیے خاص کرتا ہے۔ شرک، بدعات، قبروں کی پوجا اور غیر اللہ سے فریاد کو اپنے ایمان کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
اس کے بعد ایمان بالرسالت آتا ہے۔ مومن یقین رکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، اور نجات صرف آپ ﷺ کی اطاعت اور سنت کی پیروی میں ہے۔ وہ اپنی عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔
حقیقی مومن صرف زبانی دعوے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ عملِ صالح اختیار کرتا ہے۔ وہ نماز قائم کرتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ ادا کرتا ہے، حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ وہ تہجد گزار بنتا ہے، قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھتا ہے۔
اسی طرح وہ حقوق العباد کی ادائیگی کو بھی دین کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔ وہ کسی کا مال ناحق نہیں کھاتا، خیانت نہیں کرتا، جھوٹ نہیں بولتا، چغلی اور غیبت سے بچتا ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اپنی زبان، نگاہ اور کردار کی حفاظت کرتا ہے۔ رزقِ حلال کماتا ہے اور اپنے اہل و عیال کو پاکیزہ روزی کھلاتا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حرام لقمہ عبادت کی قبولیت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ایک سچا مومن زنا، چوری، ڈاکہ، سود، نشہ، دھوکہ دہی اور دیگر کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ گناہ انسان کے دل کو تاریک اور آخرت کو برباد کر دیتے ہیں۔ اگر کبھی اس سے لغزش ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
مومن کی زندگی اخلاص سے بھرپور ہوتی ہے۔ وہ ریاکاری اور دکھاوے سے بچتا ہے، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ وہ عزت و ناموس کی حفاظت کرتا ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے، یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کا سہارا بنتا ہے اور معاشرے میں خیر و بھلائی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔
جب دینِ اسلام پر کوئی آزمائش آئے تو وہ اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہتا ہے۔ اگر وقت آئے تو جہاد فی سبیل اللہ کو سعادت سمجھتا ہے اور شہادت کی تمنا رکھتا ہے۔ مگر اس کا ہر عمل قرآن و سنت کی حدود کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ جذبات یا انتہا پسندی کے تابع۔
ایسا مومن خوف اور امید دونوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتا بھی ہے مگر اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ ایمان، توحید، تقویٰ اور عملِ صالح پر قائم رہا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے گا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
“بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
ایسے ہی لوگوں کے بارے میں امید کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، انہیں قیامت کے دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔
لہٰذا فلاحِ دارین کا راستہ نہ دولت میں ہے، نہ شہرت میں، نہ دنیاوی طاقت میں؛ بلکہ خالص ایمان، سچی توبہ، نیک اعمال، حقوق العباد کی ادائیگی، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمانِ کامل، عملِ صالح، اخلاص، تقویٰ اور حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے، ہماری قبروں کو نور سے بھر دے، ہمیں عذابِ قبر اور عذابِ جہنم سے محفوظ رکھے، اور روزِ قیامت اپنے محبوب ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
> رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
آمین یا رب العالمین۔
احقر العباد
انجینیئر نذیر ملک
سرگودھا
تبصرے