آخرت سے غفلت معاشرتی بگاڑ
*آخرت سے غفلت، معاشرتی بگاڑ کی اصل وجہ*
مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہر طرف ایک عجیب بے چینی، بے حیائی، بے ایمانی، رشوت، ظلم، دھوکہ دہی، قتل و غارت اور حقوق کی پامالی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز مٹتی جا رہی ہے۔ انسان اپنی خواہشات کا غلام بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس تباہی کی اصل وجہ کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس تمام فساد کی جڑ “اللہ کے خوف” اور “یومِ آخرت کے یقین” کا کمزور ہو جانا ہے۔
قرآنِ کریم بار بار انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے، اصل فیصلہ آخرت میں ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور بے شک تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دی جائے گی۔”
جب انسان یہ یقین کھو دیتا ہے کہ ایک دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اپنے ہر لفظ، ہر نگاہ، ہر خیانت اور ہر ظلم کا حساب دینا ہے، تو پھر وہ بے خوف ہو جاتا ہے۔ پھر نہ اسے قانون کا ڈر رہتا ہے، نہ معاشرے کی پرواہ، اور نہ اللہ کی پکڑ کا احساس۔
اسی لیے آج ہم دیکھتے ہیں کہ:
*رشوت عام ہو چکی ہے
*جھوٹ کاروبار کا حصہ بن گیا ہے
*چوری اور دھوکہ ذہانت سمجھے جاتے ہیں
*ظلم طاقت کی علامت بن گیا ہے
*بے حیائی فیشن کہلاتی ہے
*گناہوں سے نفرت کے بجائے محبت پیدا ہو گئی ہے
حالانکہ ایک مومن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ وہ تنہائی میں بھی گناہ سے بچے، کیونکہ اسے یقین ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
اللہ کی پکڑ سے غافل نہ ہو
اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دیکھ نہیں رہا۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:
“اور ظالموں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھو، وہ تو انہیں اس دن کے لیے مہلت دیتا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔”
اسی حقیقت کو شاعر نے کیا خوب بیان کیا:
نہ دیکھ دیر گیری اس کی
کہ سخت ہے گرفت اُس کی
آج انسان دنیا کی وقتی آزادی کو اصل کامیابی سمجھ بیٹھا ہے، لیکن وہ بھول گیا ہے کہ اللہ کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے، جہاں نہ سفارش چلے گی، نہ رشوت، نہ طاقت اور نہ عہدہ۔
*عدل و انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں*
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف وعظ سے معاشرہ مکمل درست نہیں ہوتا، بلکہ عدل و انصاف کا مضبوط نظام بھی ضروری ہے۔
حقوق العباد کے لیے دنیا میں عدالتیں، تھانے، کچہریاں، تحصیلیں اور قوانین قائم کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں۔ مگر سوال یہ ہے کہ “حقوق اللہ” کے تحفظ کے لیے کیا عملی نظام موجود ہے؟
اگر معاشرے میں نماز، حیا، دیانت، اخلاق اور اللہ کے احکامات کی اہمیت ختم کر دی جائے تو پھر جرائم بڑھتے ہیں، کیونکہ دلوں سے خدا کا خوف نکل جاتا ہے۔
جب انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ:
نماز صرف عبادت نہیں بلکہ کردار سازی ہے
ثسے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے حیا کو ایمان کی شاخ قرار دیا ہے۔
افسوس کہ آج بعض لوگ نصیحت سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ نہ انہیں قرآن کی فکر ہے، نہ حدیث کی پرواہ۔ اسی کیفیت کی ترجمانی ایک پنجابی شعر میں یوں کی گئی:
رنّاں تھیں گئیاں زور جوان کولوں
نئیں ڈردیاں ہُن حدیث قرآن کولوں
یعنی بعض لوگ اپنی خواہشات کے سامنے اس قدر بے لگام ہو گئے ہیں کہ انہیں نہ بڑوں کا لحاظ رہا اور نہ دین کی حدود کا خوف۔
لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی وہی خوبصورت ہے جو اللہ کی حدود کے اندر ہو۔ حدود ٹوٹ جائیں تو معاشرے بکھر جاتے ہیں، خاندان تباہ ہو جاتے ہیں اور نسلیں برباد ہو جاتی ہیں۔
*اصلاح کی ضرورت*
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ:
*گھروں میں اللہ کا خوف پیدا کیا جائے
*بچوں کی دینی تربیت کی جائے
*نماز کو زندگی کا حصہ بنایا جائے
*حیا اور پردے کو عزت سمجھا جائے
*عدل و انصاف کو مضبوط کیا جائے
*رشوت اور ظلم کے خلاف سخت نظام بنایا جائے
*علماء، والدین، اساتذہ اور حکمران سب اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
اگر ہم نے اپنے معاشرے کو اللہ کے احکامات کے مطابق نہ ڈھالا تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ ہم نے انہیں کیسا ماحول دیا۔
حاصل کلام:
دنیا کی اصل کامیابی دولت، شہرت یا طاقت نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ انسان اگر یہ یقین پیدا کر لے کہ ایک دن اسے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے، تو اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔
الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا خوفِ خدا، آخرت کی تیاری، حلال زندگی، حیا، عدل اور دیانت نصیب فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو ہر قسم کی بے حیائی، ظلم اور فساد سے محفوظ فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
تبصرے