چوتھے دن کی قربانی
*چوتھے دن کی قربانی کا جواز و عدم جواز*
جمہ 29 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
فقہی طور پر یہ سہولت صرف حاجی کے لئے ہے وہ اس لئے کہ اگر حاجی 12 ذوالحجہ کو مغرب سے پہلے مینا نہ چھوڑ سکے تو اسے 13 تاریخ کو بھی رمی کرنی پڑے گی اور اسی لئے وہ حاجی 13 کو بھی قربانی کر سکتا ہے
اس کی اصل فقہی بنیاد یہی ہے، اور اسی نکتے کو بعض اہلِ علم نے 13 ذوالحجہ تک قربانی کے جواز کے ضمن میں بھی ذکر کیا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾
یعنی: “جو شخص دو دن میں جلدی واپس آ جائے اس پر بھی گناہ نہیں، اور جو تاخیر کرے اس پر بھی گناہ نہیں۔”
اس آیت کی رو سے:
• حاجی اگر 12 ذوالحجہ کے غروب سے پہلے مِنیٰ چھوڑ دے تو وہ “تعجّل” کر گیا۔
• لیکن اگر غروبِ آفتاب تک مِنیٰ میں موجود رہے تو پھر اسے 13 ذوالحجہ کی رمی بھی کرنا ہو گی۔
اسی وجہ سے 13 ذوالحجہ بھی “ایامِ تشریق” میں شامل ہے۔
اب استدلال یہ کیا جاتا ہے کہ جب:
• 13 تاریخ ایامِ منیٰ میں شامل ہے۔
• رمی جمرات اس دن بھی مشروع ہے۔
• اور حدیث میں “تمام ایامِ تشریق ذبح کے دن ہیں” بھی وارد ہوئی ہے۔
تو پھر قربانی کی گنجائش بھی 13 تاریخ تک ہونی چاہیے۔
اسی استدلال کی بنیاد پر: • شافعیہ
• حنابلہ
• اور بعض صحابہؓ
چار دن قربانی کے قائل ہیں۔
البتہ احناف جواب میں فرماتے ہیں کہ:
• 13 ذوالحجہ کا ایامِ تشریق میں شامل ہونا اپنی جگہ درست ہے،
• لیکن قربانی کے ایام کے تعین کے لیے ان کے نزدیک دیگر آثار اور تعاملِ صحابہ زیادہ قوی ہیں،
• اس لیے قربانی 12 کے غروب تک ہی ہوگی۔
لہٰذا بیان کردہ بات علمی و فقہی اعتبار سے ایک مضبوط استدلال ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ قدیم زمانے سے فقہاء کے درمیان اجتہادی اختلاف کا موضوع رہا ہے۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے