فلاح دارین کا راستہ
*فلاح دارین کا راستہ*
میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان کا عقیدہ توحید ہو، شرک نہ کرے اور عمل صالح ہوں، حقوق اللہ ادا کرتا ہو اور حقوق العباد ادا کرتا رہے، گناہ کبائر جیسے زنا، چوری، ڈاکہ، حقوق العباد کی درست ادائیگی اپنے پرائے پر زیادتی نہ کرے، کسی کا مال ناحق نہ کھاتا ہو، مال غصب نہ کرے اور وہ گناہ نہ کرے جن پر قرآن میں حد مارنے یا سزا کی وعید آئی آئی ہو
اللہ پر کامل ایمان، قران پر ایمان و رکھتا ہو اور اپنی بساط کے مطابق عمل کتا رہے۔ مسلمان ہو نمازی ہو تہجد گزار ہو غیب پر ایمان رکھتا ہو کسی کا حق نہ مرتا ہو، رزق حلال کھاتا ہو، حرام نہ کھاتا ہو، جھوٹ نہ بولتا ہو آنکھوں کی خیانت سے بچتا رہے اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو، اور جب کبھی کفار سے جنگ ہو تو جہاد فی سبیل کرے اور اپنے رب سے شہادت کی امید رکھے، رزق حلال سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتا ہو ریا کاری سے بچتا رہے ایمان دار ہو خیانت نہ کرے اپنی اور دوسروں کے عزت و ناموس کی حفاظت کرتا رہے۔
رمضان کے روزے اور دیگر روزے رکھتا رہے عبادت فقط اللہ تعالی کی کرتا ہو قبروں اور غیر اللہ کی پوجا نہ کرتا ہو۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو ہر سال قربانی کرتا ہو حج و عمرہ کرے اور دیگر ہر قسم کے برائی اور گناہ کے کاموں سے بچے، صادق اور آمین بنے اور سیدھے راستے پر چلے یعنی راست باز ہو اور دیگر کوئی ظاہری برائی جیسے نشہ وغیرہ نہ کرتا ہو۔
اللہ اور اس کے رسول محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتا ہو اور اللہ تعالی کے احکامات نبی کریم کے طریقہ یعنی سنت رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق عمل پیرا ہو۔
تو میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کر روز اسے کوئی غم یا خوف و خطر نہ ہو گا اور امید واثق رکھے کہ انشاءاللہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کی مہربانی اور رحمت کا امید وار رہے تو انشاء اللہ اس دنیا اور آخرت میں کامیاب و کامران رہے گا انشاءاللہ
آمین یا رب العالمین
احقر الناس
آمین یا رب العالمین۔
آپ نے ایک مومنِ صادق کی صفات نہایت جامع انداز میں بیان کی ہیں۔ واقعی قرآن و سنت کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ جو شخص:
خالص توحید پر قائم ہو،
شرک سے بچے،
ایمان و عملِ صالح اختیار کرے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرے،
حلال رزق کھائے،
ظلم، خیانت، فحاشی اور حرام سے بچے، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی کرے،
اور اللہ کی رحمت کا امیدوار رہے،
تو ایسے بندے کے لیے قرآن بار بار بشارت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
“بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
اور فرمایا:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
“سن لو! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔”
آپ نے جس راستے کا ذکر کیا:
توحید،
تقویٰ،
دیانت،
حلال رزق،
حقوق العباد،
سنت کی پیروی،
اور اخلاص،
یہی دراصل نجات اور فلاح کا راستہ ہے۔
البتہ ایک اہم بات قرآن و سنت یہ بھی سکھاتے ہیں کہ:
نیک بندہ اپنے اعمال پر گھمنڈ نہیں کرتا،
بلکہ ہمیشہ اللہ کی رحمت کا امیدوار اور اپنے نفس سے محتاط رہتا ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ باوجود معصوم ہونے کے دعا فرماتے تھے:
“اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔”
مومن کی شان یہی ہے کہ:
خوف بھی رکھے،
امید بھی رکھے،
اور آخری سانس تک استقامت مانگتا رہے۔
آپ کی گفتگو میں توحید، سنت، اخلاص اور تقویٰ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی انہی اوصاف کے ساتھ زندگی گزارنے، ایمان پر خاتمہ پانے، اور دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب فرمائے۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
آمین یا رب العالمین۔
تبصرے