صلاۃ جمع بین کی رخصت
*سفر میں نماز قصر اور جمع بین کی رخصت، کتنے فاصلے اور کتنے دن تک؟*
تحقیق و تحقیق:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اسلام نے مسافر کے لیے نماز میں آسانی رکھی ہے۔ اس میں دو اہم رخصتیں ہیں:
1.قصر چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھنا
2.جمع بین الصلاتین دو نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرنا:
فقہاء نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
1.قصر نماز کب شروع ہوتی ہے؟
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ
ترجمہ:
“جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر نماز قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔”
سورۃ النساء: 101
2.سفر کا فاصلہ کتنا ہو؟
فقہاء نے احادیث اور آثارِ صحابہ کی بنیاد پر مختلف انداز سے مسافت بیان کی ہے۔
فقہ حنفی
احناف کے نزدیک:
تقریباً 48 شرعی میل
یعنی لگ بھگ 77 تا 88 کلومیٹر
یا اس سے زیادہ سفر ہو تو آدمی “مسافر” شمار ہوگا۔
جمہور فقہاء (شافعی، مالکی، حنبلی)
ان کے نزدیک بھی تقریباً یہی مسافت معتبر ہے، اگرچہ تعیین میں معمولی فرق پایا جاتا ہے۔
عملاً آج کے دور میں:
تقریباً 80 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر کو شرعی سفر سمجھا جاتا ہے۔
3.کتنے دن تک قصر کی اجازت ہے؟
یہاں فقہاء کا اختلاف زیادہ نمایاں ہے۔
فقہ حنفی
اگر کسی جگہ:
15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی پکی نیت ہو
تو آدمی “مقیم” بن جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔
اگر:
15 دن سے کم قیام ہو
تو قصر جاری رہے گی۔
شافعی، مالکی، حنبلی
ان کے نزدیک:
تقریباً 4 دن یا اس سے زائد قیام کی نیت ہو تو نماز پوری پڑھی جائے گی۔
4.نبی کریم ﷺ کا عمل
فتح مکہ:
نبی کریم ﷺ نے مکہ میں 19 دن قیام فرمایا اور قصر ادا فرماتے رہے۔
غزوۂ تبوک:
بیس دن کے قریب قیام کے باوجود قصر ثابت ہے۔
اسی وجہ سے بعض اہلِ علم کہتے ہیں:
جب تک مستقل اقامت کی نیت نہ ہو، مسافر قصر کر سکتا ہے۔
5.جمع بین الصلاتین کتنے دن؟
جمع کا حکم قصر سے کچھ مختلف ہے۔
اگر آدمی مسافر ہے:
تو:
ظہر+عصر
مغرب+عشاء
جمع کر سکتا ہے۔
لیکن:
✔ ضرورت
✔ مشقت
✔ سفر کی دشواری
ان چیزوں کا لحاظ بہتر سمجھا گیا ہے۔
6.کیا ہر سفر میں جمع ضروری ہے؟
نہیں۔
اہم فرق سمجھ لیجیے:
عمل حکم
قصر سنت مؤکدہ / واجب کے قریب (احناف)
جمع رخصت و آسانی
یعنی:
قصر کو زیادہ تاکید حاصل ہے جبکہ جمع ضرورت کے وقت سہولت ہے
7.موجودہ دور میں ایک اہم غلط فہمی
بعض لوگ سمجھتے ہیں: “جہاں سفر ہو وہاں لازماً نمازیں جمع کرنی چاہئیں”
یہ درست نہیں۔
نبی کریم ﷺ:
کبھی جمع فرماتے تھے
کبھی ہر نماز الگ وقت میں ادا فرماتے تھے
لہٰذا دونوں سنتیں ثابت ہیں۔
خلاصہ، قصر
✔ تقریباً 80 کلومیٹر یا زیادہ سفر میں
✔ چار رکعت والی نماز دو رکعت
قیام کی مدت
حنفی: 15 دن سے کم قصر
جمہور: 4 دن سے کم قصر
نوٹ:
اس مدت کہ بعد اگر مذید رکنا پڑے تو اتنے ہی دن مذید رخصت مل جائے گی۔
جمع بین الصلاتین
✔ سفر میں جائز
✔ نبی کریم ﷺ سے ثابت
✔ ضرورت و آسانی کے لیے رخصت
اسلام کی یہ رخصتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ:
شریعت عبادت میں پابندی بھی چاہتی ہے اور بندوں کے حالات کا لحاظ بھی رکھتی ہے۔
نوٹ:
اکثر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اب وہ سفر نہیں رہے اس سلسلے میں حضرت عمر کا قول ہے کہ میں نے بھی رسول اللہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کی طرف سے یہ تم پر صدقہ ہے اور تم یہ اللہ تعالی کا صدقہ قبول کرو۔
وما علینا الا البلاغ المبین
الدعاء:
یا اللہ تعالی ہمیں اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرما اور نبی کریم کی سنتوں پر من و عن عمل کرنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے