روحوں کی واپسی

 *مرنے کے بعد روحوں کی واپسی کی حقیقت، قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ*


منگل 26 مئی 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


مرنے کے بعد روحوں کی واپسی کی حقیقت قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ


انسان ہمیشہ سے موت، روح اور عالمِ برزخ کے متعلق متجسس رہا ہے۔

بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد روحیں دوبارہ دنیا میں آتی ہیں، اپنے گھروں میں گھومتی ہیں، یا زندہ لوگوں سے رابطہ کرتی ہیں۔ جبکہ بعض لوگ ہر خواب اور ہر احساس کو روحوں کی آمد قرار دے دیتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے تاکہ عقیدہ درست رہے اور انسان توہمات سے محفوظ رہے۔


*موت کے بعد دنیا میں واپسی نہیں*


قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ دنیا کی زندگی میں واپس نہیں بھیجا جاتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

حَتّٰی إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ۝ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۝ كَلَّا

“یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں نیک اعمال کرلوں جو میں چھوڑ آیا ہوں۔ ارشاد ہوتا ہے: ہرگز نہیں!”

(سورہ المؤمنون: 99-100)


یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو دنیا میں دوبارہ عمل کے لیے واپس نہیں بھیجا جاتا۔


*شہداء کی تمنا بھی پوری نہیں ہوگی*


احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ شہید اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ اسے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو۔ لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی جائے گی۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 “کوئی شخص جو جنت میں داخل ہوجائے وہ دنیا میں واپس آنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے۔ وہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ دس مرتبہ اللہ کی راہ میں شہید ہو۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)


یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حتیٰ کہ شہید کو بھی دنیا میں دوبارہ واپس نہیں بھیجا جاتا۔


*دنیا کی زندگی ایک بار ملتی ہے*


اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اور یہ امتحان صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے۔

اسی لیے انسان کی زندگی کو ایک “One Way Journey” کہا جاسکتا ہے، یعنی:

“دنیا کی زندگی ایک طرفہ سفر ہے، واپسی نہیں۔”


انسان یہاں عمل کرتا ہے، پھر موت آتی ہے، اس کے بعد عالمِ برزخ اور پھر قیامت۔


عالمِ برزخ کیا ہے؟


موت کے بعد انسان ایک دوسرے جہان میں داخل ہوجاتا ہے جسے “عالمِ برزخ” کہا جاتا ہے۔

یہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ دار زندگی ہے۔


قرآن مجید فرماتا ہے:

 وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

“اور ان کے آگے اٹھائے جانے کے دن تک ایک پردہ (برزخ) ہے۔”(سورۃ المؤمنون: 100)


لہٰذا مرنے کے بعد انسان دنیا کے عام نظام سے نکل جاتا ہے۔


*کیا روحیں آپس میں ملتی ہیں؟*


احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک روحوں میں باہمی تعارف اور انس ہوسکتا ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 الأرواح جنود مجندة، فما تعارف منها ائتلف، وما تناكر منها اختلف

“روحیں جمع کیے ہوئے لشکر ہیں، جو روحیں آپس میں پہچان رکھتی ہیں وہ ایک دوسرے سے مانوس ہوجاتی ہیں، اور جو اجنبی ہوتی ہیں وہ جدا رہتی ہیں۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)


اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ارواح میں تعارف اور مناسبت ہوتی ہے۔

البتہ عالمِ ارواح کی مکمل حقیقت انسان کے علم سے باہر ہے، اس لیے غیر ثابت باتیں یقین کے ساتھ بیان نہیں کرنی چاہییں۔


*خواب اور روحوں کی واپسی میں فرق*


بعض لوگ خواب میں اپنے فوت شدہ عزیزوں کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ روح واقعی دنیا میں آگئی تھی۔

حالانکہ خواب ایک الگ باب ہے۔

اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوسکتے ہیں، لیکن ہر خواب کو عقیدہ نہیں بنایا جاسکتا۔


اسی طرح بعض نفسیاتی کیفیات، یادیں، یا خوف بھی انسان کو یہ محسوس کرا سکتے ہیں کہ کوئی روح موجود ہے۔


*عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیاں*


ہمارے معاشرے میں کئی غیر ثابت باتیں مشہور ہیں، مثلاً:


روحیں ہر جمعرات گھر آتی ہیں۔


فوت شدہ لوگ اپنے گھروں میں گھومتے رہتے ہیں۔


مردے فلاں شخص سے بات کرتے ہیں۔


روحیں دنیا میں آزادانہ پھرتی ہیں۔


ان باتوں پر قرآن و سنت سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔

اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے کو وحی کے تابع رکھے، نہ کہ قصوں، خوابوں اور سنی سنائی باتوں کے تابع۔


*صحیح اسلامی عقیدہ*

صحیح عقیدہ یہ ہے کہ:

1.انسان مرنے کے بعد دوبارہ دنیا کی زندگی میں واپس نہیں آتا۔


2.موت کے بعد عالمِ برزخ شروع ہوجاتا ہے۔


3.ارواح کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔


4.بعض ارواح میں باہمی تعارف ہوسکتا ہے۔


5.خوابوں اور توہمات کو عقیدہ نہیں بنایا جاسکتا۔


6.قرآن و سنت کے بغیر روحوں کے بارے میں قطعی دعوے نہیں کرنے چاہییں۔


حاصل کلام:

موت انسان کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

عقلمند وہ ہے جو دنیا کی عارضی زندگی میں آخرت کی تیاری کرے، کیونکہ واپس آکر دوبارہ عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔


الدعاء 

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، درست فہم اور قرآن و سنت پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔


انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

(اصلاحِ عقیدہ کے لیے ایک علمی تحریر)

تبصرے