صالحین کے پہچان
*آج کے صالحین کی پہچان*
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
آج کے دور میں صالح انسان کی پہچان زیادہ تر اس کے “عمل، نیت اور کردار” سے ہوتی ہے—نہ کہ نام، شہرت یا ظاہری دعووں سے۔
آج کے صالحین کی پہچان
1) اللہ سے مضبوط تعلق
صالح انسان کی پہلی علامت یہ ہے کہ:
وہ پانچ وقت نماز کا پابند ہوتا ہے
قرآن سے اس کا تعلق ہوتا ہے
تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھتا ہے
قرآن کا اصول ہے:
“بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے”
جو نماز کے باوجود گناہ سے نہیں بچتا، اس کے عمل میں کمی ہوتی ہے۔
2) سچائی اور دیانت
آج کے صالح انسان کی بڑی علامت:
جھوٹ سے نفرت
وعدہ پورا کرنا
امانت میں خیانت نہ کرنا
چاہے کاروبار ہو، نوکری ہو یا گھریلو زندگی—وہ سچائی پر قائم رہتا ہے۔
3) حلال و حرام کی تمیز
صالح انسان:
رشوت نہیں لیتا
دھوکہ نہیں دیتا
حرام کمائی سے بچتا ہے
وہ جانتا ہے کہ: “کم مگر حلال بہتر ہے، زیادہ مگر حرام نہیں”
4) حیا اور پردہ داری
خصوصاً آج کے فتنوں میں:
مرد و عورت دونوں اپنی حدود کا خیال رکھتے ہیں
نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں
بے حیائی کے ماحول سے بچتے ہیں
حیا ایمان کا حصہ ہے، اور یہ صالح ہونے کی مضبوط علامت ہے۔
5) لوگوں کے حقوق ادا کرنا
صالح انسان:
والدین کا ادب کرتا ہے
پڑوسیوں کا خیال رکھتا ہے
کمزوروں پر ظلم نہیں کرتا
ملازمین اور ماتحتوں کے حقوق دیتا ہے
6) نرم مزاج اور اچھا اخلاق
نبی ﷺ نے فرمایا:
“تم میں بہترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو”
آج کا صالح انسان:
غصے پر قابو رکھتا ہے
بدلہ لینے کے بجائے معاف کرتا ہے
دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے
7) تنہائی میں اللہ کا خوف
اصل معیار یہی ہے:
جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی گناہ سے بچنا
خفیہ حالت میں بھی اللہ کو حاضر جاننا
یہی اصل تقویٰ ہے۔
8) اصلاح کی کوشش
صالح انسان صرف خود نیک نہیں ہوتا بلکہ:
دوسروں کو بھی نیکی کی طرف بلاتا ہے
برائی سے روکتا ہے
اچھائی کا ماحول بناتا ہے
خلاصہ
آج کے صالح انسان کی پہچان یہ ہے:
✔ نماز کا پابند
✔ سچا اور دیانتدار
✔ حلال روزی کمانے والا
✔ باحیا اور پاکدامن
✔ حقوق العباد ادا کرنے والا
✔ اچھے اخلاق والا
✔ تنہائی میں بھی اللہ سے ڈرنے والا
تبصرے