پردہ،حیا اور پاکیزگی
*پردہ، حیا اور معاشرتی پاکیزگی*
مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن و سنت کی روشنی میں ایک اہم پیغام
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے بہترین اصول عطا کرتا ہے۔ انہی اصولوں میں ایک عظیم اصول “پردہ اور حیا” ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جس تیزی کے ساتھ بے حیائی، فحاشی، خاندانی انتشار اور اخلاقی زوال بڑھ رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ پردے سے دوری اور غیر محرم مرد و عورت کے درمیان بے احتیاطی ہے۔
قرآنِ مجید نے مرد و عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«“مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔”
(سورۃ النور: 30)»
اسی کے فوراً بعد ارشاد فرمایا:
«“اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں…”
(سورۃ النور: 31)»
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام صرف عورت ہی نہیں بلکہ مرد کو بھی حیا، پاکیزگی اور حدودِ شرع کی پابندی کا حکم دیتا ہے۔ اگر مرد اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کریں اور عورتیں پردے میں بے احتیاطی برتیں تو معاشرہ فتنہ و فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے غیر محرم مرد و عورت کے اختلاط کے خطرات کو انتہائی واضح انداز میں بیان فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«“عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو۔”»
ایک صحابیؓ نے عرض کیا:
“یارسول اللہ! دیور کے بارے میں کیا حکم ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
«“الحمو الموت”
“دیور تو موت ہے۔”»
یہ حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہے۔
اس حدیث میں “موت” سے مراد یہ ہے کہ قریبی غیر محرم رشتہ داروں کے ساتھ بے احتیاطی بعض اوقات ایسے خطرناک نتائج پیدا کر دیتی ہے جو خاندانوں کی تباہی، بدگمانی، بے حیائی اور گناہوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ چونکہ لوگ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ پردے میں غفلت برتتے ہیں، اس لیے شریعت نے اس مقام پر زیادہ احتیاط کی تعلیم دی۔
آج ہمارے معاشرے میں میڈیا، سوشل میڈیا، فیشن، مخلوط ماحول اور بے پردگی نے حیا کے تصور کو کمزور کر دیا ہے اور گھروں میں عورتوں کا" پلہ" کرنے کا رواج تو نا پید ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خواتین کو "پلہ" کرنے میں شرم آتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ:
- خاندانی جھگڑے بڑھ رہے ہیں،
- طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے،
- نوجوان نسل اخلاقی انتشار کا شکار ہے،
- اور دلوں سے خوفِ خدا کم ہوتا جا رہا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ پردہ صرف کپڑے کا نام نہیں بلکہ:
- نگاہ کا پردہ،
- گفتگو کا پردہ،
- سوشل میڈیا کے استعمال کا پردہ،
- ہنسی مذاق اور ہاتھا پائی بڑی دور تک پنچ گئی ہے خواتین نے گھر کے مردوں سے تو کیا ڈرنا اب تو لگتا ہے اللہ سے بھی ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
- اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی بھی پردے کا حصہ ہے۔
رنا تھیں گیاں زور جوان کولوں
نیئں ڈردیاں ہن حدیث قران کولوں
اسلام عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ اسے عزت، تحفظ اور وقار عطا کرتا ہے۔ اسی طرح مرد کو بھی پاکیزگی، غیرت اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ جب مرد و عورت دونوں شریعت کی حدود کی پابندی کریں گے تو خاندان مضبوط ہوں گے اور معاشرہ پاکیزہ بنے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
- والدین اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں،
- گھروں میں حیا اور پردے کا ماحول پیدا کیا جائے،
- میڈیا کے منفی اثرات سے بچا جائے،
- اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ کیا جائے۔
اگر ہم نے حیا اور پردے کے اسلامی نظام کو مضبوطی سے اختیار کر لیا تو ان شاء اللہ معاشرہ بے حیائی، فتنہ اور اخلاقی تباہی سے محفوظ ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی حیا، پاکدامنی اور شریعت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
تبصرے