عقیدہ حیات الانبیاء قرآن
قرآنِ کریم میں انبیاء علیہم السلام کی برزخی حیات کا ذکر صراحت کے ساتھ (براہِ راست لفظوں میں) تو موجود نہیں ہے، لیکن جمہور مفسرین اور علماءِ امت نے قرآنِ مجید کی متعدد آیات سے **اشارۃً اور دلالۃً** اس عقیدے کو ثابت کیا ہے۔
قرآنِ پاک کی روشنی میں اس عقیدے کے دلائل درج ذیل ہیں:
### ۱. شہداء کی حیات سے استدلال (قیاسِ اولیٰ)
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی زندگی کو بہت واضع انداز میں بیان فرمایا ہے:
> **وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۖ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ**
> *"اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ہے۔"* (سورہ البقرہ: 154)
>
ایک اور جگہ فرمایا:
> **وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ**
> *"اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔"* (سورہ آل عمران: 169)
>
**استدلال کی وجہ:**
علماءِ امت (جیسے امام بیہقی، حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ جلال الدین سیوطی) فرماتے ہیں کہ انبیاءِ کرام کا مقام و مرتبہ، اللہ کے ہاں شہداء سے کہیں زیادہ بلند اور برتر ہے۔ جب اللہ کی راہ میں جان دینے والے عام شہداء قبر کی زندگی میں زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی مل رہا ہے، تو جو ہستیاں کائنات میں سب سے افضل ہیں اور جن کے صدقے امتیوں کو شہادت کا رتبہ ملتا ہے، وہ انبیاء کرام بدرجہ اولیٰ (خیلی زیادہ حقدار ہونے کے ناطے) اپنی قبورِ مبارکہ میں زندہ ہیں۔
### ۲. نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا حکم
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
> **إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا**
> *"بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔"* (سورہ الاحزاب: 56)
>
**استدلال کی وجہ:**
یہ حکم قیامت تک کے تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے امتیوں کو اپنے نبی پر سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، اور سلام ہمیشہ اسے پیش کیا جاتا ہے جو حی و قائم ہو اور سلام کو سمجھتا یا سنتا ہو۔ اگر (معاذ اللہ) آپ ﷺ کی حیاتِ برزخی کا وجود نہ ہوتا، تو اس خطاب اور تحفہِ سلام کا وہ خاص تعلق برقرار نہ رہتا جس کا حدیث میں ذکر ہے کہ "آپ ﷺ سلام کا جواب دیتے ہیں"۔
### ۳. انبیاء سے ملاقات اور گفتگو کا حکم
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
> **وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ**
> *"اور آپ ان رسولوں سے پوچھ دیکھیے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے رحمن کے سوا ایسے معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟"* (سورہ الزخرف: 45)
>
**استدلال کی وجہ:**
اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء سے سوال کرنے (پوچھنے) کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سابقہ انبیاءِ کرام وفات کے بعد بھی ایک خاص برزخی حیات کے ساتھ موجود ہیں، جن سے گفتگو اور ملاقات ممکن ہے۔ اسی حکمِ خداوندی کے تحت معراج کی رات نبی کریم ﷺ کی تمام انبیاء سے ملاقات ہوئی اور آپ ﷺ نے ان کی امامت فرمائی۔
### خلاصہ
اگرچہ قرآنِ پاک میں "حیاتِ انبیاء" کے لیے الگ سے مستقل الفاظ موجود نہیں ہیں، لیکن قرآنی آیات کا **عمومی مزاج، شہداء کی حیات کا تذکرہ اور تعظیمِ رسول ﷺ کے احکامات** یہ ثابت کرتے ہیں کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کی وفات عام انسانوں کی طرح مٹ جانے کا نام نہیں، بلکہ وہ اللہ کے ہاں ایک اعلیٰ اور ارفع برزخی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں۔
تبصرے