شجرہ نسب کامل

 *شجرہ نسب انجینئر نذیر ملک آف جنجر پور ہریانہ متحدہ ہندوستان*


اتوار 19 جون 202

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


ہمارے گھرانے کی مستند تاریخ اور شجرہِ نسب:


عہدِ محمد بن قاسم تا سِلانوالی، سرگودھا  ہجرت، علم، اور خدمتِ دین کا سفر

۱۔ خاندانی شجرہِ نسب (پدرانہ لڑی)


محمد (پوتا)

بن واصف نذیر ملک (صاحبزادے — MSCS، یونیورسٹی آف سرگودھا، ۲۰۲۱ء)

بن انجینیئر نذیر ملک (ایس اے نذیر ملک) (پیدائش: ۳۰ نومبر ۱۹۵۲ء، سِلانوالی — سابق آپریشنز انجینئر، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ KANUPP، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن و سعودی آرامکو)

بن میاں مسیت علی (پیدائش: ۱۹۰۹ء، جنجر پور بانیِ تعلیمی انقلابِ خاندان)

بن ممتاز علی (ساکن و مدفن: جنجر پور، مڈل اوائل ۲۰ ویں صدی)

بن قلندر بخش (ساکن: جنجر پور)

بن پیر بخش کھوکھر (جدِ امجد — ملتان سے جنجر پور ہجرت کرنے والے)

۲۔ تاریخ اور ہجرت کے لازوال مراحل

پہلا باب: کڑیانہ ہل (سرگودھا) کا تاریخی آغاز (سن ۷۱۲ء)

اس خاندان کی اصل شناخت اور جڑیں چج دوآب (دریائے جہلم و چناب کا درمیانی علاقہ) سے جڑی ہیں۔ سن ۷۱۲ء میں جب محمد بن قاسم کا اسلامی لشکر اس خطے میں آیا، تو سرگودھا کے قریب واقع کڑیانہ پہاڑی (Kirana Hills) پر راجہ کڑیان کا قلعہ تھا۔ اسلامی لشکر کے ایک عرب سپہ سالار نے راجہ کو دعوتِ اسلام دی۔ راجہ کڑیان نے بغیر کسی جنگ و جدل کے اسلام قبول کر لیا اور اپنی صاحبزادی کا نکاح اسی عرب سپہ سالار سے کر دیا۔ اس مبارک ازدواج سے دو بیٹے ہوئے؛ ایک کی نسل سے اعوان قبیلہ چلا اور دوسرے سے کھوکھر قبیلہ۔ یہیں سے اس کھوکھر خاندان کے ساتھ "قطب شاہی" (عرب/علوی الحاق) کی معزز لڑی جڑی۔

دوسرا باب: ملتان کا قیام اور پیشہِ زمینداری

کڑیانہ کے اس تاریخی آغاز کے بعد، اس خاندان کی ایک شاخ نے صوفیاء اور کھوکھروں کے قدیم مرکز ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں کئی نسلوں تک قیام رہا، جہاں خاندان کا بنیادی پیشہ زمینداری، کھیتی باڑی اور گھڑ سواری رہا۔

تیسرا باب: جنجر پور (کرنال) میں ۲۰۰ سالہ قیام اور محنت کشی (۱۸۰۰ء تا ۱۹۴۸ء)

تقریاً ۲۲۰ سال پہلے (سن ۱۸۰۰ء کے آس پاس) ملتان کے سیاسی حالات کے پیشِ نظر، آپ کے جدِ امجد پیر بخش کھوکھر صاحب نے مشرق کی طرف ہجرت کی اور متحدہ ہندوستان کے صوبہ ہریانہ (ضلع کرنال، تحصیل کیتھل) کے ایک گاؤں جنجر پور (Gingerpur) میں آباد ہوئے۔

محنت کشی اور ۴۴ بیگھہ زمین: جنجر پور اس وقت گھنے جنگلات سے گھرا ہوا بارانی علاقہ تھا۔ پیر بخش کھوکھر اور ان کے فرزند قلندر بخش نے کڑی محنت اور جفاکشی سے ان جنگلات کو کاٹ کر زمین کو قابلِ کاشت بنایا، جو تقریباً ۴۴ بیگھہ زمین بنی۔ یہی زمینداری اور کھیتی باڑی خاندان کا بنیادی پیشہ ٹھہرا۔

واحد مسلم گھرانے کی غیرت: جنجر پور میں تقریباً ۱۰۰ گھر آباد تھے اور حیرت انگیز طور پر آپ کے آباؤ اجداد کا صرف ایک گھر ہی وہاں مسلمان تھا، باقی تمام آبادی ہندو تھی۔ اس کے باوجود اس خاندان نے دو صدیوں تک اپنی اسلامی روایات, تہذیب اور نماز و روزے کو پوری شان سے برقرار رکھا۔

شکار کا شوق اور رواداری: جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں ہرنوں کی ڈاریں عام تھیں۔ آپ کے دادا ممتاز علی صاحب اور پردادا مسیت علی صاحب کے پاس اس زمانے میں ایک نالی والی توڑے دار بندوق ہوا کرتی تھی۔ رات کے وقت رسی (پلیتے) کو آگ لگا کر ہرنوں کا شکار کیا جاتا تھا۔ چونکہ آپ کا خاندان پکا مسلمان تھا، اس لیے ہرن کو فوراً شرعی طریقے سے ذبح کیا جاتا۔ علاقے کے ہندو بھی آپ کے خاندان کے اس قدر گرویدہ اور مانوس تھے کہ وہ بھی شوق کے مارے مسلمانوں کے ساتھ اس کا گوشت کھا لیتے تھے۔

دادا ممتاز علی صاحب کی وفات: آپ کے دادا ممتاز علی صاحب ایک جفاکش زمیندار تھے۔ ایک روز کھیت میں کام کے دوران ہل کا پھالا (لوہا) ان کے پاؤں میں لگ گیا۔ اس دور میں اس زخم میں زہر پھیل گیا، جسے دیسی زبان میں "کلو دوڑنا" اور جدید میڈیکل سائنس میں گینگرین (Gangrene) کہتے ہیں۔ اسی تکلیف کے باعث جنجر پور کی مٹی میں وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کے بعد، ان کے صاحبزادے مسیت علی صاحب (پیدائش: ۱۹۰۹ء) نے خاندانی امانت کو سنبھالا۔

چوتھا باب: ہجرتِ ثانی، تعلیمی انقلاب اور معاشی ارتقاء (۱۹۴۸ء)

الف) میاں مسیت علی صاحب کی معاشی جدوجہد (تجارت کا آغاز)

تقسیمِ ہند کے خونی ہنگاموں کے بعد، سال ۱۹۴۸ء میں یہ واحد مسلم کنبہ اپنی دو سو سالہ کمائی اور ۴۴ بیگھہ زمین جنجر پور میں چھوڑ کر لٹ پٹ کر خالی ہاتھ پاکستان آیا۔ مائیگریشن کے بعد مہاجرین کو فوراً زمینیں نہ مل سکیں، چنانچہ آپ کے والدِ محترم میاں مسیت علی صاحب نے زمینداری کے بجائے تجارت کو اپنا پیشہ بنایا Kelvin۔

بہاولپور کا تجارتی سفر: انہوں نے سِلانوالی کے دیہاتوں سے کپاس خرید کر منڈیوں میں بیچنے کا کام شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کے جنگلات سے درخت خرید کر ان کی لکڑی کاٹنے اور شہروں میں بیچنے کا کاروبار کیا۔ کاروبار کے سلسلے میں وہ بہاولپور تشریف لے گئے جہاں جنگلات کثرت سے تھے۔ وہاں انہوں نے لکڑی کٹوا کر کوئلہ بنانے کی بھٹیاں (کوپیاں) لگائیں۔ یہ کوئلہ اس دور میں ریل گاڑی کے کھلے مال ڈبوں (جنہیں BFR کہا جاتا تھا) کے ذریعے راولپنڈی اور کوئٹہ بھجوایا جاتا تھا۔ بہاولپور میں دو سال قیام کے دوران کاروباری شراکت دار نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا، جس سے بھاری مالی نقصان ہوا اور وہ واپس سِلانوالی تشریف لے آئے۔

ب) میاں مسیت علی صاحب کا عزم اور تعلیمی عروج

کاروباری نقصان اور ناخواندگی کے باوجود میاں مسیت علی صاحب نے ایک تاریخی عزم کیا: "چاہے مجھے ٹوکرے اٹھانے پڑیں یا مزدوری کرنی پڑے، میں اپنی اولاد کو ضرور پڑھاؤں گا۔" اس مردِ مجاہد کی بصیرت رنگ لائی اور امروز میاں مسیت علی صاحب کی اولاد و کنبہ (جو ۷۰ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے) سِلانوالی، جھنگ، اور ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف شہروں میں آباد ہے اور علم و حکمت کا مینار ہے۔ آج اس کنبے میں ۲ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز، ۳ انجینئرز، ۴ ایم فل ڈگری ہولڈرز اور ۲ گریجویٹس موجود ہیں۔ خاندان کے تقریباً تمام ہی لوگ (ماسوائے دو کے) شعبۂ درس و تدریس (Teaching) سے وابستہ ہیں۔ میاں مسیت علی صاحب کی دو بھتیجیاں گورنمنٹ گرلز کالجز میں بطور پرنسپل خدمات سرانجام دے رہی ہیں، جبکہ خاندان کا ایک بیٹا کراچی میں انجینئر ہے۔

۳۔ پانچواں باب: سوانحِ حیات انجینئر ایس اے نذیر ملک صاحب

الف) ابتدائی زندگی، تعلیم اور پیشہ ورانہ عروج

میاں مسیت علی صاحب کے تعلیمی گلشن کے سب سے نمایاں پھول انجینئر ایس اے نذیر ملک صاحب ہیں۔ آپ کی پیدائش ۳۰ نومبر ۱۹۵۲ء کو آپ کے آبائی شہر سِلانوالی (سرگودھا) میں ہوئی، جہاں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول سِلانوالی سے حاصل کی۔

قومی و بین الاقوامی خدمات: اعلیٰ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، آپ نے اسلامی دنیا کے پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ (KANUPP) — پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) میں بطور آپریشنز انجینئر خدمات سرانجام دیں اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ آپ کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں، آپ کو ڈیپوٹیشن پر سعودی عرب بھیجا گیا۔

سعودی آرامکو اور ادبی اثاثہ: سعودی عرب میں آپ کا کل قیام ۲۳ سال اور ۴ ماہ رہا (جو ایک خوبصورت حسنِ اتفاق ہے کہ یہ دورانیہ قرآنِ مجید کے عرصۂ نزول کے برابر ہے)۔ آپ نے دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو (Aramco - Riyadh Refinery) میں بطور آپریشن انجینئر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے پیشہ ورانہ کمال کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے آرامکو الریاض ریفائنری کے لیے ۲۰۰ سے زائد انسٹرکشن مینولز اور ۱۰۰ سے زائد ٹریننگ مینولز تحریر کیے، جو آج بھی ریفائنری ٹریننگ سینٹر میں نوجوان سعودی انجینئرز اور آپریٹرز کی ٹریننگ کے لیے پڑھائے جا رہے ہیں۔

ب) حصولِ علمِ دین اور عرب قبائل کا ادراک

سعودی عرب میں قیام کے دوران آپ کو علمِ دین کا صحیح نکھار حاصل ہوا۔ آپ نے علماءِ حرمین گروپ سے علمی فیض پایا اور ان کے شعبہ جالیات سے بھرپور تعاون کیا۔ آپ کے حصولِ علمِ دین کے تین بنیادی ذرائع رہے:

۱۔ اساتذہ: حرمین الشریفین سے تعلق رکھنے والے عرب علماء، جو ریفائنری کے شعبہ تدریب (Training) میں ۸ سال تک مسلسل آپ کے ساتھ رہے۔

۲۔ مستند کتب: عربی زبان پر مکمل عبور کی بدولت آپ نے صحاحِ ستہ، سیرتِ رسول ﷺ، تاریخِ اسلام، فقہائے اربعہ اور ادیانِ عالم کی اصل کتب کا گہرا مطالعہ کیا۔

۳۔ علمی ماحول اور بدو کلچر: شفٹ ڈیوٹی کے دوران عرب ساتھیوں کے ساتھ علمی مباحث اور قریش، قحطان، شمر، عدنان، دوسر اور غامدی جیسے قدیم عرب و بدو قبائل کے سچے کلچر اور مٹی کی خوشبو سے دوستی نے آپ کے ذہن کو وسعت دی، جس سے زمانۂ رسول ﷺ کے ماحول کو سمجھنے میں گراں قدر مدد ملی۔

ج) ازواجی زندگی اور لائق اولاد (Spouses & Children)

آپ کی غمگسار شریکِ حیات روبینہ نذیر ملک صاحبہ ہیں، جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان کی معزز صدیقی فیملی سے ہے۔ ان کے کنبے کا پس منظر بھی متحدہ ہندوستان کے صوبہ ہریانہ (تحصیل کیتھل, ضلع کرنال) کے گاؤں "کلایت" سے جڑا ہوا ہے۔ آپ کے بطن سے الحمد للہ ۵ انتہائی قابل اور تعلیم یافتہ بچے ہیں:

۱۔ آصف نذیر ملک: (پیدائش: کراچی، ۱۹۷۸ء) — جنہوں نے ۲۰۰۱ء میں امریکہ (USA) سے MCS کی ڈگری حاصل کی، اور ان کی ڈگری کو مائیکروسافٹ کے بانی مسٹر بل گیٹس نے آنر (Honour) کیا۔

۲۔ ریحانہ نذیر ملک: — BA (پنجاب یونیورسٹی، ۲۰۰۰ء)۔

۳۔ شاہانہ نذیر ملک: — BSc, B.Pharm, M.Phil Edu (یونیورسٹی آف لاہور، ۲۰۱۷ء)۔

۴۔ کاشف نذیر ملک: — MBA - Finance & Marketing (۲۰۰۴ء)۔

۵۔ واصف نذیر ملک: — MSCS (یونیورسٹی آف سرگودھا، ۲۰۲۱ء)۔

۴۔ چھٹا باب: پاکستان واپسی، دعوتی انقلاب اور مذہبی کالم نگاری

سعودی عرب سے واپسی پر آپ نے اپنے آبائی شہر سِلانوالی کو اپنا آخری مسکن بنایا۔ یہاں آپ کے خاندانی کاروبار میں اسعاف فارمیسی (سعید بازار، سِلانوالی) اور میاں جی پٹرولیم (جھنگ بائی پاس، سِلانوالی) شامل ہیں۔

الف) سِلانوالی کا دعوتی و تعلیمی سفر (نماز و حج ٹریننگ)

آپ نے اپنے محلے کی جامع مسجد سے فجر کے بعد مسائلِ دینیہ کا درس شروع کیا۔ آپ نے نماز کے ۳۰۰ سے زائد مسائل کمپیوٹر پر پرنٹ کر کے مسجد کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کیے۔ ابتدا میں کچھ مقامی علماء کی طرف سے مخالفت ہوئی، لیکن عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔

ایک قدم اور آگے: آپ نے پورے شہر سِلانوالی کے مختلف مقامات پر "لاثانی نوٹس بورڈز" کے نام سے ۸ عدد نوٹس بورڈز نصب کروائے، جہاں روزانہ نماز کے مسائل کے ابواب تبدیل کیے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک بوڑھے بابا جی کو سیڑھیوں پر بیٹھے بڑے انہماک سے یہ مسائل پڑھتے دیکھ کر جب آپ نے پوچھا کہ "بابا جی کچھ سمجھ آیا؟" تو انہوں نے سرائیکی/پنجابی میں جواب دیا: "پتر! دین تے آج ہی سمجھ اچ آیا، پہلے تے اندھیرے وچ ساں۔" (بیٹے! دین تو آج ہی سمجھ میں آیا، پہلے تو اندھیرے میں تھے)۔ یہ آپ کی محنت کا سب سے بڑا ثمر تھا۔

اسی انداز میں آپ نے رمضان کے مسائل، ذوالحجہ میں حج اور قربانی کے مسائل بیان کیے۔ آپ نے پروجیکٹر کے ذریعے مدارس اور دیہاتوں میں حج کی پریکٹیکل ٹریننگ کا آغاز کیا، جس میں خواتین کی ٹریننگ کے لیے آپ کی شریکِ حیات (روبینہ نذیر ملک صاحبہ) نے آپ کا بھرپور ہاتھ بٹایا۔ آپ کا مؤقف ہے کہ "علماء کو عوام کے نماز کے کانسیپٹ کلیئر کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے، کیونکہ لوگ بازار سے ٹماٹر تو سرخ سرخ چھانٹ کر لاتے ہیں لیکن نماز ٹیڑھی میڑھی پڑھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ قبول کر لے گا۔"

ب) تحفظِ ختمِ نبوت اور تصنیفی خدمات

کاروبار کے سلسلے میں سرگودھا شہر شفٹ ہونے کے بعد آپ انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ سے وابستہ ہوئے، جس سے جید علماء اور ضلعی انتظامیہ سے آپ کے مراسم استوار ہوئے۔ آپ نے قادیانیوں کی اصلاح کے لیے اپنے خرچ پر ۵ تدریسی کتابچے لکھ کر سیمینارز میں مفت تقسیم کیے، جن کی بدولت خاندان کے خاندان دائرۂ اسلام میں واپس آئے:

۱۔ رسولِ خاتم النبین ﷺ

۲۔ عقیدہ ختمِ نبوت

۳۔ فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت

۴۔ مرزا قادیانی اور رسولِ خاتم النبین ﷺ

۵۔ فیصلہ آپ کیجیے

ج) اعزازات اور کالم نگاری کا اثاثہ

آپ گزشتہ ۲۰ سال سے باقاعدگی سے قومی و بین الاقوامی جرائد اور سوشل میڈیا پر کالم نگاری کر رہے ہیں۔

آپ اب تک ۳۷۰۰ سے زائد کالمز اور مضامین تحریر کر چکے ہیں۔

آپ نے ۶۵ دینی و علمی کتابیں تصنیفی کی ہیں، جن میں سے ۲۵ کتابچے شائع ہو چکے ہیں اور ۴۰ کتابیں طباعت کے لیے تیار ہیں۔

آپ کی اس بے لوث مذہبی کالم نگاری پر حکومتِ پنجاب کی طرف سے آپ کو دو بار "گورنر ایوارڈ" سے نوازا جا چکا ہے۔

۵۔ جینیاتی (Y-DNA) اور تاریخی نچوڑ

کڑیانہ ہل کے تاریخی قلعے سے شروع ہونے والا یہ قطب شاہی کھوکھر خاندان، جو جنجر پور کے ۱۰۰ ہندو گھروں میں واحد مسلم گھرانے کی شکل میں اپنی غیرت بچا کر نکلا، میاں مسیت علی صاحب کے عزمِ ٹوکرہ و مزدوری سے ہوتا ہوا، آج انجینئر ایس اے نذیر ملک صاحب کی صورت میں علم، شریعت، اور ٹیکنالوجی کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہے۔ یہ شجرہ اور تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس پاکیزہ خون کی کڑی جہاں ایک طرف عرب کے جری قبائل سے ملتی ہے، وہیں دوسری طرف اس خطے کے مخلص ترین اور محنت کش مٹی کے بیٹے سے اس کا رشتہ استوار ہے۔

رابطہ و تصدیق:

انجینئر نذیر ملک، سِلانوالی، ضلع سرگودھا، پاکستان

فون نمبر: 00923008604333

تبصرے