حقیقت درود
*حقیقتِ درود: الجھنوں سے پاک ایک مسنون منہج*
ہفتہ 27 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینئر نظیر ملک، سرگودھا
ہم روزانہ اپنی نمازوں میں درودِ ابراہیمی پڑھتے ہیں: اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید۔
اگر ہم اس مبارک درود کے ترجمے اور اس کے صیغوں پر اپنے انداز میں تھوڑا غور فرمائیں، تو عقیدے کا ایک بہت بڑا اور گہرا نکتہ واضح ہوتا ہے۔
جب ہم درودِ ابراہیمی پڑھتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ تعالیٰ سے ریکوئسٹ یعنی عاجزانہ درخواست کر رہے ہوتے ہیں کہ: "یا اللہ! تو رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر۔" یہاں رک کر ایک بہت اہم بات سمجھنے کی ہے جو امت کے ایک بڑے جڑے ہوئے مسئلے کا خوبصورت حل پیش کرتے ہیں۔
آج کل علمی حلقوں اور عوام میں یہ بحث بہت عام ہے کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں سنتے، یا نبی کریم ﷺ تک ہمارا درود کیسے پہنچتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر بھیجے جانے والے درود میں یہ بڑی باریکی رکھی ہے کہ ہم خود براہِ راست درود نہیں بھیجتے، بلکہ ہم کائنات کے مالک اللہ سے ریکوئسٹ کرتے ہیں کہ یا اللہ! تو بھیج۔
اب یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی قدرت ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ کو چاہے ڈائریکٹ سنوا دے، یا (مثال کے طور پر) ای میل کے ذریعے الیکٹرانک نظام کی طرح پہنچائے، یا اپنے مقرر کردہ فرشتوں کے ذریعے مدینہ منورہ پہنچائے، جیسے مرضی بھیجے۔ ہم امتی ہونے کے ناطے اپنے درود کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور آگے پہنچانا اور قبول کرنا اس رب کا کام ہے۔
عربی زبان اور شریعت کے اصول کے مطابق، درودِ ابراہیمی میں "اللہم صل" دراصل فعلِ امر کا صیغہ ہے، جو جب بندے کی زبان سے اللہ کے لیے نکلے تو وہ خالص دعا بن جاتا ہے۔ انسان عاجز ہے اور وہ نبی کریم ﷺ کے شایانِ شان تحفہ خود نہیں بھیج سکتا، اسی لیے وہ اللہ کو واسطہ بناتا ہے۔ جب معاملہ اللہ رب العزت کے سپرد ہو گیا، تو فاصلوں اور سننے نہ سننے کی تمام مادی بحثیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ حدیثِ پاک میں بھی آتا ہے کہ اللہ کے کچھ مقرر کردہ فرشتے زمین میں گشت کرتے ہیں جو امت کا سلام آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔
اگر امتِ مسلمہ اس باریک اور مخلصانہ نکتے کو سمجھ لے کہ درود دراصل اللہ کے سامنے کی جانے والی ایک عاجزانہ دعا ہے، تو وہ تمام فقہی الجھنیں اور تفرقات جو دور و نزدیک کے فلسفوں سے پیدا ہوتے ہیں، وہ خود بخود دم توڑ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح اور سادہ فہم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے