عقیدہ عودہ روح

*عقیدہ عودہ روح*


جون 2026

تحریر و ٹحقیق:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


سوال:

یاد رہے زندگی جسم سے روح کا الحاق ہے اور موت جسم سے روح کا نکل جانا ہے اب قرآنی آیات پر غور کریں

قرآن مجید دو اموات اور دو حیات کا ذکر کرتا ہے۔

جب تک انسان دنیا میں نہیں آتا اکیلی روح موت کی کیفیت ہے جب پیدا ہوتا ہے تو یہ پہلی زندگی ہے ہوئی۔

جب دنیاوی زندگی گزار کر مرتا ہے تو دوسری موت ہوئی لیکن جب حشر میں اللہ تعالی روحون کو جسموں سے ملا دیگا یہ دوسری حیات ہوئی اب اگر قبر مین عودہ روح کو مان لیا جائے تو یہ تیسری زندگی بنتی ہے جبکہ قران مجید فرقان حمید دو موت اور دو حیات کو صراحت سے بیان کرتا ہے۔


میں قران کو مانوں یا حدیث کو؟


جواب:

محترم انجینئر صاحب، آپ نے ایک بار پھر نہایت شاندار، منطقی اور وزنی سوال اٹھایا ہے۔ یہ وہ اشکال ہے جو بڑے بڑے اہل علم کے سامنے آتا ہے جب وہ سورہ غافر کی آیت ۱۱ ("رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ" - اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی) پر غور کرتے ہیں۔

آپ کا یہ سوال کہ "میں قرآن کو مانوں یا حدیث کو؟"، اس کا پہلا اور اصولی جواب تو یہ ہے کہ ایک سچے امتی اور صحابہ کرام کے منہج پر چلنے والے مسلمان کے لیے قرآن اور حدیث میں کوئی ٹکراؤ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کہیں بظاہر ٹکراؤ نظر آئے، تو اصل میں وہ ہمارے **فہم اور سمجھ** کا فرق ہوتا ہے۔ قرآن مجید جڑ اور بنیاد ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث اس جڑ کی تشریح اور تفصیل ہے۔

آئیے، آپ کی اس قرآنی دلیل (دو موت اور دو زندگی) اور عودِ روح کی احادیث کے درمیان جو خوبصورت اور علمی تطبیق ہے، اسے صحابہ کرام ہی کے فہم سے سمجھتے ہیں تاکہ یہ الجھن ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے:

## ۱۔ دو موت اور دو زندگی کی قرآنی حقیقت

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم (جو امام المفسرین ہیں) نے قرآن مجید کی اس آیت کی تشریح خود فرمائی ہے، جس سے آپ کا یہ اشکال بالکل حل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق وہ دو موت اور دو زندگی یہ ہیں:


 1. پہلی موت (عدم): دنیا میں آنے سے پہلے جب انسان کچھ بھی نہیں تھا (مٹی یا نطفہ کی شکل میں بے جان تھا)۔

 2. **پہلی زندگی:** دنیا کی یہ موجودہ زندگی۔


 3. دوسری موت:

 دنیا سے رخصتی (موت جو قبر میں لے جاتی ہے)۔


 4. دوسری زندگی:


 حشر کے دن اٹھایا جانا (مستقل اور ابدی زندگی)۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قبر میں روح کا تعلق قائم ہوتا ہے، تو کیا وہ

 "تیسری زندگی" شمار ہوگی؟


 ۲۔ قبر کا عودِ روح "دنیاوی زندگی" نہیں ہے

محدثین اور شارحینِ حدیث فرماتے ہیں کہ قرآن مجید جس زندگی اور موت کا ذکر کر رہا ہے، وہ احکامِ شریعت اور جزا و سزا کے مستقل ادوار والی زندگی ہے (یعنی دنیا اور حشر)۔


قبر یا برزخ میں روح کا جو اعادہ یا تعلق ہوتا ہے، وہ "دنیاوی طرز کی زندگی"

 نہیں ہے کہ اسے تیسری زندگی شمار کیا جائے۔ اسے عربی میں "حیاتِ برزخی"

 (ایک عارضی اور غیبی حالت) کہا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت کو ہم دنیا کی ایک مثال سے بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں:

 سونے والے اور جاگنے والے کی مثال:

جب ایک انسان گہری نیند سو رہا ہوتا ہے، تو لغوی اور قرآنی طور پر وہ ایک طرح کی موت کی کیفیت میں ہوتا ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے کہ اللہ رات کو روحیں قبض کر لیتا ہے)۔ اب اگر سونے کے دوران وہ خواب دیکھتا ہے، خواب میں ڈرتا ہے، یا خوش ہوتا ہے اور اس کے جسم پر اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ سوتے میں اس کے اندر ایک "نئی زندگی" آ گئی ہے اور یہ اس کی کوئی تیسری زندگی ہے؟ بالکل نہیں۔ وہ زندگی دنیا ہی کی ہوتی ہے، بس اس پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے۔


ٹھیک اسی طرح، قبر میں روح کا لوٹنا دنیا کی طرح سانس لینے، کھانے پینے یا چلنے پھرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ صرف فرشتوں کے سوال و جواب اور برزخ کے احوال کو محسوس کرنے کے لیے ایک **عارضی اور برزخی الحاق** ہوتا ہے۔ چونکہ وہ دنیاوی احکام والی مستقل زندگی نہیں ہے، اس لیے اسے قرآن کی بتائی ہوئی "دو زندگیوں" کے مقابلے میں تیسری زندگی نہیں کہا جا سکتا۔

۳۔ صحابہ کرام کا منہج: دونوں پر برابر ایمان

اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ حدیث قرآن کے خلاف ہے، تو ہمیں (معاذ اللہ) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اس صحیح ترین حدیث کو رد کرنا پڑے گا جس میں رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا کہ "روح جسم میں لوٹائی جاتی ہے"۔ صحابہ کرام کا یہ طریقہ کبھی نہیں تھا کہ وہ قرآن کی ایک آیت کے اپنے فہم کی بنیاد پر اللہ کے رسول ﷺ کی صریح اور صحیح حدیث کا انکار کر دیتے۔

صحابہ کا منہج یہ تھا کہ:

 * وہ قرآن کی اس بات پر بھی ایمان رکھتے تھے کہ مستقل زندگی اور موت دو ہی بار ہیں۔

 * اور وہ اللہ کے رسول ﷺ کی اس بات پر بھی ایمان رکھتے تھے کہ قبر میں سوال و جواب کے وقت روح کا جسم سے ایک خاص برزخی تعلق قائم ہوتا ہے۔


خلاصہ کلام:

انجینئر صاحب، آپ کو قرآن اور حدیث میں سے کسی ایک کو چننے کی بالکل ضرورت نہیں ہے، کیونکہ دونوں ایک ہی چشمے سے نکلے ہیں۔

قرآن مجید مستقل اور مادی زندگی و موت کے ادوار

ع (دنیا اور آخرت) کا احاطہ کر رہا ہے، جبکہ حدیث مبارکہ قبر کے اندر کے غیبی اور برزخی احوال :مڑ کی تفصیل بیان کر رہی ہے۔ جب ہم قبر کے عودِ روح کو دنیاوی زندگی کے بجائے صرف ایک "برزخی کیفیت" مان لیتے ہیں، تو قرآن کی آیت اور حدیثِ رسول ﷺ دونوں اپنے اپنے مقام پر سو فیصد فٹ اور درست ثابت ہوتی ہیں، اور کوئی تضاد باقی نہیں رہتا۔


الدعاء 

یا اللہ تعالی دین کی

درست سمجھ عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے