عقیدہ حیات الانبیاء صحاح ستہ
جی ہاں، عقیدہ حیات الانبیاء (بالخصوص حیات النبی ﷺ) **صحاح ستہ** (احادیث کی چھ مستند ترین کتابوں) کی احادیث سے بالکل ثابت ہے، خواہ صراحت کے ساتھ ہو یا ان احادیث کے ذریعے جن سے یہ عقیدہ دلالتہً ثابت ہوتا ہے۔
علماءِ امت نے صحاح ستہ کی روشنی میں اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے درج ذیل بنیادی احادیث پیش کی ہیں:
### ۱. انبیاء پر مٹی کا حرام ہونا (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
صحاح ستہ میں شامل تین بڑی کتابوں میں یہ مشہور اور صحیح حدیث موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> **"إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ"**
> *"بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا (خراب کرنا) حرام کر دیا ہے۔"*
> **(سنن ابی داؤد: 1047، سنن نسائی: 1374، سنن ابن ماجہ: 1636 - الفاظ ابی داؤد کے ہیں)**
>
یہ حدیث اس بات کی واضع دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام کے اجسامِ مبارکہ اپنی قبور میں بالکل اسی طرح محفوظ اور سلامت ہیں جیسے زندگی میں تھے، اور یہی حیاتِ برزخی کی بنیاد ہے۔
### ۲. قبرِ مبارک پر درود کا سنا جانا اور سلام کا جواب (سنن ابی داؤد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> **"مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ"**
> *"جب بھی کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو (میری قبرِ مبارک کی طرف یا سلام کی طرف) متوجہ فرما دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔"*
> **(سنن ابی داؤد: 2041)**
>
قبرِ مبارک پر سلام کا سننا اور اس کا جواب دینا ایک مستقل زندگی کا تقاضا کرتا ہے، جسے علماء "حیاتِ برزخی" کہتے ہیں۔
### ۳. معراج کی رات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نماز پڑھتے دیکھنا (صحیح مسلم)
صحیح مسلم میں خود نبی کریم ﷺ کا یہ آنکھوں دیکھا واقعہ موجود ہے:
> **"مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ"**
> *"معراج کی رات میرا گزر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے ہوا، وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔"*
> **(صحیح مسلم: 2375)**
>
قبر کے اندر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں ایک خاص مادی و روحانی حیات کے ساتھ زندہ ہیں، کیونکہ مردہ نماز نہیں پڑھ سکتا۔
### ۴. انبیاء سے ملاقات اور گفتگو (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی **احادیثِ معراج** میں تفصیلاً مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات آسمانوں پر حضرت آدم، حضرت عیسیٰ، حضرت یحییٰ، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سے ہوئی۔ آپ ﷺ نے ان سے گفتگو فرمائی، انہوں نے آپ ﷺ کو خوش آمدید کہا اور آپ ﷺ نے شبِ معراج بیت المقدس میں ان سب کی امامت بھی فرمائی۔
یہ تمام واقعات اس بات پر دال ہیں کہ وفات پا جانے کے باوجود تمام انبیاءِ کرام اللہ کے ہاں زندہ اور متحرک ہیں۔
### ایک علمی نکتہ:
اگرچہ حدیث کے الفاظ **"الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ"** (انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں) اپنی سند کے لحاظ سے *صحیح ابن حبان* اور *مسند ابو یعلیٰ* میں ہیں (جو صحاح ستہ سے باہر ہیں)، لیکن صحاح ستہ کی وہ احادیث جو اوپر بیان کی گئی ہیں (مثلاً زمین پر جسموں کا حرام ہونا، سلام کا جواب دینا اور موسیٰ علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا) اسی مفہوم کو پوری طرح ثابت کرتی ہیں۔
اسی لیے امام بیہقی، حافظ ابن حجر، اور ملا علی قاری جیسے عظیم محدثین نے لکھا ہے کہ صحاح ستہ کی احادیث سے عقیدہ حیات الانبیاء قطعی طور پر ثابت ہے۔
تبصرے