شعیہ سنی اختلافات

 *فقہ جعفریہ اور چاروں مشہور فقہائے اہل سنت میں اختلافات*


جمعہ 3 جولائی 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


فقہ جعفریہ (شیعہ مکتبہ فکر) اور چاروں مشہور فقہائے اہل سنت (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے درمیان بنیادی عقائد (جیسے توحید اور رسالت) میں اتفاق ہے، لیکن فروعی یعنی فقہی مسائل، نماز کے طریقے، اور روزمرہ کے احکام میں کچھ واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔


یہ اختلافات زیادہ تر احادیث کی قبولیت کے معیار، ائمہ اہل بیت کے فرامین پر اعتماد اور قرآنی آیات کی تشریح کے فرق کی وجہ سے ہیں۔ ذیل میں اہم ترین فقہی اختلافات کو واضح کیا گیا ہے


1. نماز (صلوٰۃ) کے احکام

نماز کی ہئیت اور شرائط میں چند نمایاں فرق ہیں:


 ہاتھ باندھنا یا چھوڑنا:

 اہل سنت (مالکی فقہ کے علاوہ) نماز میں ہاتھ باندھتے ہیں۔ فقہ جعفریہ میں نماز میں ہاتھ باندھنا (تکتُّف) جائز نہیں ہے، وہ ہاتھ بالکل سیدھے چھوڑ کر (سدل) نماز پڑھتے ہیں۔


 سجدے کی جگہ: فقہ جعفریہ کے نزدیک سجدہ صرف زمین یا زمین سے اگنے والی غیر خوردنی چیزوں (جیسے لکڑی، پتے، یا مٹی کی ٹکیہ جسے 'سجدہ گاہ' یا 'تربت' کہتے ہیں) پر ہی جائز ہے۔ چمڑے، قالین یا کپڑے پر سجدہ جائز نہیں۔ اہل سنت کے ہاں کپڑے اور قالین وغیرہ پر سجدہ بالکل درست ہے۔


 نمازیں جمع کرنا:

 فقہ جعفریہ میں عام حالات میں بھی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو ملا کر (جمع کر کے) پڑھنا جائز ہے، جس کی وجہ سے وہ عموماً دن میں تین اوقات میں پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں۔ اہل سنت کے ہاں (بشمول حنفی) نمازیں سفر، بارش یا سخت مجبوری کے بغیر اپنے اپنے متعین وقت پر پڑھنا ہی لازم ہے۔


آمین کہنا اور بسم اللہ:

فقہ جعفریہ میں سورہ فاتحہ کے بعد بلند آواز سے "آمین" کہنا نماز کو باطل کر دیتا ہے (وہ اس کی جگہ 'الحمد للہ رب العالمین' کہتے ہیں)۔


جبکہ اہل سنت کے ہاں آمین کہنا سنت ہے۔ اسی طرح شیعہ فقہ میں ہر سورت سے پہلے بسم اللہ کو سورت کا حصہ مان کر بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے۔


2.وضو کے طریقے کا فرق

قرآن مجید کی سورہ المائدہ (آیت 6) کی تفسیر میں دونوں مکاتبِ فکر کا طریقہ مختلف ہے:


پیروں کا دھونا یا مسح:

اہل سنت کے نزدیک وضو میں دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھونا فرض ہے۔ فقہ جعفریہ کے نزدیک پاؤں دھونا نہیں ہے، بلکہ انگلیوں کے سروں سے لے کر ٹخنوں کے ابھار تک گیلے ہاتھ سے پاؤں کا مسح کرنا فرض ہے۔


 موزوں پر مسح:

 اہل سنت چمڑے کے جرابوں یا موزوں پر مسح کو جائز مانتے ہیں۔ فقہ جعفریہ اس کو تسلیم نہیں کرتی۔


3.نکاح اور طلاق کے قوانین

خاندانی نظام اور فقہِ ازدواج میں چند بڑے اختلافات یہ ہیں:


 طلاق کا طریقہ:

 فقہ جعفریہ میں طلاق کے لیے دو عادل (سچے اور متقی) گواہوں کا اسی مجلس میں موجود ہونا لازمی شرط ہے، اور ایک وقت میں دی گئی تین طلاقیں صرف ایک ہی شمار ہوتی ہیں۔ اہل سنت کے ہاں طلاق کے لیے گواہ شرط نہیں ہیں، اور حنفی فقہ میں ایک وقت کی تین طلاقیں تین ہی نافذ ہو جاتی ہیں۔


 متعہ (عارضی نکاح): فقہ جعفریہ میں "نکاحِ متعہ" (ایک طے شدہ وقت کے لیے نکاح) کو شرعاً جائز سمجھا جاتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک یہ اسلام کے ابتدائی دور میں جائز تھا لیکن بعد میں رسول اللہ ﷺ نے اسے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا تھا، اس لیے اب یہ باطل ہے۔


4.زکوٰۃ، خمس اور وراثت

مالی معاملات اور ترکے کی تقسیم میں بھی اصول مختلف ہیں:


 خمس کا نظام:

 فقہ جعفریہ میں سال بھر کی کمائی اور کاروبار کے خالص منافع (بچت) پر 20% (خمس یعنی پانچواں حصہ) دینا واجب ہے، جو ائمہ اور ساداتِ کرام کے فلاحی کاموں کے لیے ہوتا ہے۔ اہل سنت کے ہاں خمس صرف مالِ غنیمت یا معدنیات پر ہے، عام آمدنی پر صرف 2.5% زکوٰۃ ہے۔

 

وراثت میں بیٹی کا حصہ:

فقہ جعفریہ میں اگر مرنے والے کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو، تو پورا ترکہ بیٹیوں کو ہی ملتا ہے (عصبہ یعنی چچا یا بھائیوں کو نہیں جاتا)۔ اہل سنت کے ہاں فرضی حصہ دینے کے بعد بچا ہوا مال عصبہ (مرد رشتہ داروں) میں تقسیم ہوتا ہے۔


5.اذان کے کلمات

اذان میں دو جگہوں پر واضح فرق پایا جاتا ہے:


 * فقہ جعفریہ میں اذان و اقامت میں "حی علی خیر العمل" (آؤ بہترین عمل کی طرف) کہنا واجب ہے۔


 * وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی کے بعد مستحب (اختیاری) طور پر "أشهد أن علیاً ولی اللہ" بھی پڑھتے ہیں۔


 * اہل سنت کی فجر کی اذان میں "الصلاۃ خیر من النوم" کہا جاتا ہے، جو شیعہ اذان میں نہیں ہوتا۔


تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے