ہمارے ہیں حسین
*ہمارے ہیں حسین*
منگل 07 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
حضرت امام حسین علیہ سلام کی ذاتِ گرامی کائناتِ انسانیت کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس کی روشنی کسی ایک مکتبِ فکر، کسی ایک علاقے یا کسی ایک دور تک محدود نہیں ہے۔ آپ حق، شجاعت، صبر اور قربانی کا وہ عالمگیر استعارہ ہیں جس پر پوری امتِ مسلمہ کا دل دھڑکتا ہے۔ حسین ہر اس آنکھ کا آنسو ہیں جو مظلومیت پر روتی ہے، اور ہر اس دل کی دھڑکن ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت آباد ہے۔
*نبی کریم کے لاڈلے نواسے ہیں حسین*
امام حسین علیہ سلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت محض ایک نانا کی روایتی محبت نہ تھی، بلکہ یہ ایک الٰہی اور روحانی بندھن تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس نواسے کو دیکھ کر مسکرا دیا کرتے تھے اور ان کے چہرے کو چوم کر اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے۔ سنن ترمذی کی مستند حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔ یہ جملہ کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو کسی انسان کو ملا، جہاں کائنات کے مالک کا محبوب خود کو اپنے نواسے سے جوڑ رہا ہے۔ ایک اور روایت میں حضور نے امام حسن اور امام حسین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ جس نے ان دونوں سے محبت کی، اس نے حقیقت میں مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
علی کے بیٹے اور جگر گوشہ بتول حضرت فاطمہ کے لختِ جگر ہیں حسین۔
امام حسین علیہ سلام اس پاکیزہ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جس کی گواہی خود قرآن پاک نے دی ہے۔ سورہ احزاب کی آیتِ تطہیر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں ایسا پاک صاف کر دے جیسا پاک صاف کرنے کا حق ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، سیدہ فاطمہ، امام حسن اور امام حسین کو اپنی کملی کے نیچے لیا اور فرمایا کہ اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔
امام حسین فاتحِ خیبر حضرت علی المرتضیٰ کے شجاع بیٹے اور خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ الزہراء کے جگر کا ٹکڑا ہیں، جن کی لوریوں میں بھی غیرتِ دین سکھائی گئی تھی۔
حضرت حسن کے چھوٹے بھائی اور جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں حسین
امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی جوڑی کائنات کی معزز ترین جوڑی ہے۔ یہ دونوں بھائی اس زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ دو پھول تھے جن کی خوشبو سے مدینے کی گلیاں مہکتی تھیں۔ جہاں تک ان کی آخرت میں منصب کا تعلق ہے، تو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان حدیث کی تمام معتبر کتابوں میں موجود ہے کہ حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ جنت کے نوجوانوں کی سرداری کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جو بھی جوان جنت میں داخل ہوگا، وہ امام حسین کی سیادت اور سرداری کے سائے میں ہوگا۔
شیعہ کے ہی نہیں بلکہ سنیوں کے بھی ہیں حسین۔
حسین کسی ایک فرقے، گروہ یا نظریے کی جاگیر نہیں ہیں۔ امام حسین کی محبت ایمان کی روح اور اسلام کا خلاصہ ہے۔ مکتبِ تشیع ہو یا مکتبِ تسنن، دونوں کے نزدیک امام حسین کی عظمت اور ان کی محبت دین کا بنیادی حصہ ہے۔ امام احمد بن حنبل ہوں یا امام شافعی، امت کے تمام ائمہ نے اہل بیت کی محبت کو فرض قرار دیا ہے۔ یہ حسین کی ہی ذات ہے جو پوری امت کو جوڑتی ہے۔
کربلا میں انہوں نے کسی ایک گروہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے نانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روشن کیے ہوئے چراغِ دین کی بقا کے لیے اپنا پورا گھرانہ قربان کر دیا۔
حسین ہر اس انسان کے ہیں جو حق کا وفادار اور باطل کا باغی ہے۔
زینب کے بھائی، زین العابدین کے پدر اور شہیدِ کربلا ہیں حسین۔
میدانِ کربلا میں امام حسین نے صبر، رضا اور تسلیم کی وہ داستان رقم کی جس کی مثال تاریخِ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے وہ مان تھے جن کی چادر کی حرمت پر امام حسین نے اپنا سر کٹانا گوارا کیا، لیکن باطل کے سامنے سر جھکانا گوارا نہ کیا۔ آپ سید الساجدین امام زین العابدین کے شفیق والد ہیں جن کے بیمار وجود کو اللہ نے بچا کر سادات کا سلسلہ قیامت تک کے لیے جاری رکھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام حسین کی شہادت کی خبر ان کے بچپن میں ہی دے دی گئی تھی۔ مسند احمد کی روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جبرائیل امین نے حضور کو کربلا کی مٹی لا کر دی تھی اور بتایا تھا کہ آپ کی امت آپ کے اس بیٹے کو شہید کرے گی۔ حضور نے وہ مٹی ام سلمہ کو دی اور فرمایا کہ جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھنا میرا حسین شہید ہو گیا ہے۔ کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں، پیاس کی شدت میں، جب امام حسین نے سجدے میں سر رکھا اور تلوار چلی، تو وہ سجدہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے زندگی دے گیا۔
حاصل کلام:
ہمارے ہیں حسین اس سچائی کا اعتراف ہے کہ حسین ہر دور کے، ہر مظلوم کے اور ہر کلمہ گو کے ہیں۔ انہوں نے کربلا میں اپنا سب کچھ لٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ حکومتیں اور اقتدار عارضی چیزیں ہیں، لیکن حسینیت ابدی ہے۔ یزید مٹ گیا، اس کا نام لینے والا کوئی نہیں بچا، لیکن حسین کا نام آج بھی دنیا کے ہر کونے میں گونج رہا ہے۔
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین، دین است حسین، دین پناہ است حسین، سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید، حقا کہ بنائے لا الہ است حسین۔
الدعاَء
یا اللہ تعالی تیری راہ میں شہید ہونے کو جی چاہتا ہے
یا اللہ حق پر خاتمہ بالایمان کرتے ہوئے شہادت کی موت عطا فرمانا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
تبصرے