یزید کا دور

 *یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں اہم تاریخی واقعات کے اسباب و نتائج کا تحقیقی جائزہ*


منگل 8 جولائی 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


یزید بن معاویہ کی خلافت کا دور تقریباً تین سال آٹھ ماہ رہا۔


آغازِ خلافت: رجب 60 ہجری میں، اپنے والد معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد۔


اختتامِ خلافت: ربیع الاول 64 ہجری میں، جب ان کا انتقال ہوا۔


اسلامی تاریخ میں یزید بن معاویہ کا دور حکومت سیاسی، سماجی اور مذہبی لحاظ سے انتہائی ہنگامہ خیز اور دور رس اثرات کا حامل رہا ہے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید نے زمامِ اقتدار سنبھالی، تو امتِ مسلمہ ایک ایسے نئے سیاسی نظام سے متعارف ہوئی جس کی بنیاد شورائیت کے بجائے موروثیت پر تھی۔ یزید کے مختصر دورِ اقتدار میں تین ایسے بڑے تاریخی واقعات رونما ہوئے جنہوں نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ ان واقعات میں سانحہ کربلا، واقعہ حرہ (مدینہ منورہ پر حملہ) اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ شامل ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں ان تینوں بڑے واقعات کے اسباب اور ان کے پیدا ہونے والے نتائج کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔


1۔ سانحہ کربلا (61 ہجری)

اسباب:


سیدنا امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت کو اصولِ اسلام اور خلافت راشدہ کے نظام کے منافی سمجھا، کیونکہ یزید کا تعیّن شوریٰ کے مسلمہ اصولوں کے بغیر ہوا تھا۔ امام عالی مقام کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ دین کی اساسی اقدار کا تحفظ اور امت کی اصلاح تھا۔ کوفہ کے لوگوں نے جب امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھ کر وہاں آنے کی دعوت دی اور وفاداری کا یقین دلایا، تو آپ نے حجت تمام کرنے کے لیے عراق کا رخ کیا۔ دوسری طرف یزید نے اپنے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو سخت اقدامات کا حکم دیا، جس نے کوفہ پر کنٹرول حاصل کر کے امام کے قافلے کو کربلا کے میدان میں گھیر لیا اور بیعت نہ کرنے کی پاداش میں پانی بند کر کے ظلم کی انتہا کر دی۔


نتائج:

۱۰ محرم 61 ہجری کو امام حسین اور ان کے اہل بیت کی مظلومانہ شہادت نے امت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سیاسی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنو امیہ کی حکومت کا اخلاقی جواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا اور وہ عوامی سطح پر شدید نفرت کا نشانہ بنے۔ مذہبی اور سماجی طور پر، اس سانحے نے مظلومیت اور حق کے لیے ڈٹ جانے کے جذبے کو ابھارا، جس کے نتیجے میں مستقبل میں اموی سلطنت کے خلاف توابین اور مختار ثقفی جیسی بڑی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں، جنہوں نے بالآخر اموی خلافت کے زوال کی بنیاد رکھی۔


2۔ واقعہ حرہ (63 ہجری)


اسباب:

سانحہ کربلا کے بعد مدینہ منورہ کے اہل علم اور اکابرین میں اموی حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ جب مدینہ کے ایک وفد نے دمشق کا دورہ کیا اور وہاں یزید کے غیر اسلامی طرزِ زندگی کا بچشمِ خود مشاہدہ کیا، تو واپس آ کر انہوں نے یزید کی بیعت توڑنے کا علانیہ فیصلہ کر دیا۔ اہل مدینہ نے اموی گورنر کو نکال باہر کیا اور عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے یزید نے مسلم بن عقبہ کی قیادت میں ایک بڑا لشکر مدینہ روانہ کیا، جس نے اہل مدینہ کو بیعت پر مجبور کرنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کیا۔


نتائج:

مدینہ منورہ کے باہر "حرہ" کے مقام پر ہونے والی اس جنگ میں انصار و مہاجرین کی ایک بڑی تعداد، جن میں متعدد صحابہ اور کبار تابعین شامل تھے، شہید کر دیے گئے۔ اموی فوج نے تین دن تک مدینہ منورہ میں قتل و غارت گری مچائی، جس سے شہرِ رسول کی حرمت بری طرح پامال ہوئی۔ اس واقعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ حجاز میں بنو امیہ کے خلاف نفرت اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور سلطنت کے اندرونی استحکام کو شدید دھچکا لگا، کیونکہ سلطنت کے مرکزِ علم و دین کو نشانہ بنانے سے اموی حکومت کا تشخص ایک جابر اور ظالم ملوکیت کے طور پر راسخ ہو گیا۔


3- مکہ مکرمہ کا محاصرہ اور کعبہ کو نقصان (64 ہجری)

اسباب:

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا اور انہوں نے یزید کی بیعت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ مدینہ میں واقعہ حرہ سے فارغ ہونے کے بعد، یزیدی فوج نے یزید کے براہِ راست حکم پر مکہ کا رخ کیا۔ مسلم بن عقبہ راستے میں مر گیا، تو حصین بن نمیر نے لشکر کی کمان سنبھالی۔ اموی فوج نے مکہ کا محاصرہ کر لیا اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے پہاڑوں پر منجنیقیں نصب کر کے شہر پر سنگ باری شروع کر دی۔

نتائج:

اس محاصرے کے دوران منجنیقوں سے پھینکے جانے والے پتھروں اور آگ کے گولوں کی وجہ سے خانہ کعبہ کی دیواریں اور غلاف شدید متاثر ہوئے، اور کعبہ کی لکڑی کی چھت جل کر راکھ ہو گئی۔ یہ محاصرہ جاری تھا کہ دمشق سے یزید بن معاویہ کی اچانک موت کی خبر مکہ پہنچی، جس کے بعد شامی فوج محاصرہ ختم کر کے واپس لوٹ گئی۔ اس واقعے کے نتیجے میں مکہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت قائم ہو گئی، جن کی خلافت کو اگلے چند سالوں تک حجاز، یمن، عراق اور مصر کے بڑے حصے نے تسلیم کر لیا، جس سے بنو امیہ کی حکومت عارضی طور پر صرف شام تک محدود ہو کر رہ گئی۔

**مجموعی تحقیقی نتیجہ**

یزید بن معاویہ کا چار سالہ دورِ حکومت اسلامی تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں سے خلافت راشدہ کا شورائی نظام مستقل طور پر خاندانی ملوکیت میں تبدیل ہو گیا۔ یزید کے دور کے یہ تینوں بڑے واقعات (کربلا، حرہ، اور مکہ کا محاصرہ) دراصل اسی موروثی اقتدار کو برقرار رکھنے کی سیاسی کوششوں کا نتیجہ تھے۔ ان واقعات کے نتیجے میں مسلم معاشرے میں گہرے سیاسی اور فرقہ وارانہ اختلافات نے جنم لیا۔ اگرچہ عارضی طور پر اموی حکومت قائم رہی، لیکن ان اقدامات کی وجہ سے سلطنت کے اندر وہ اخلاقی کمزوری پیدا ہو گئی جس نے آگے چل کر بنو امیہ کے مستقل زوال اور بنو عباس کے عروج کا راستہ ہموار کیا۔ ان واقعات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ یہ سبق دیتا ہے کہ جب اساسی اسلامی اصولوں کو سیاسی مصلحتوں پر قربان کیا جائے، تو اس کے نتائج پوری امت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔


الدعاء 

اے اللہ تعالی!

ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اپنے وطن پر برے حاکم سے ظالم حاکم سے، برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھیوں سے اور برے پڑوسی ملکوں سے۔


آمین یا رب العالمین 

 Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے