تبلیغی جماعت کو خط
*کلامِ الٰہی سے رشتۂ فہم: دعوت و تبلیغ کا کام وقت کا اہم ترین تقاضا*
الداعی الیٰ عملِ خیر:
انجینئر نذیر ملک (سرگودھا)
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين۔ اما بعد!
موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو ایمان پر قائم رکھنے، مساجد کو آباد کرنے اور عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی باتوں کی طرف لانے میں "تحریکِ تبلیغ" نے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں آنے والا اخلاقی اور عملی انقلاب اس مخلصانہ محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لیکن کسی بھی متحرک کام میں وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق نظرِ ثانی اور اصلاح کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں، اس میں ایک مخلصانہ اور دردمندانہ گزارش تبلیغی محنت سے وابستہ بھائیوں، اور بالخصوص اس کام کے نگران علماءِ کرام کی خدمت میں پیش کرنا وقت کا سب سے بڑا دینی تقاضا معلوم ہوتا ہے۔
اصل المیہ: "ہجرِ قرآن" کا خاموش سیلاب
قرآنِ مجید فرقانِ حمید انسانیت کے لیے ہدایت کی آخری دستاویزی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے نزول کا مقصد صرف اس کے الفاظ کی تلاوت یا اس کی برکات حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس کے مفہوم کو سمجھنا اور اس پر تدبر کرنا قرار دیا ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ** (سورہ ص: 29)
"یہ ایک برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر تدبر (غور و فکر) کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔"
آج صورتِ حال یہ ہو چکی ہے کہ ہمارے تبلیغی حلقوں میں روزانہ کی بنیاد پر "فضائلِ اعمال" کا درس تو نہایت باقاعدگی اور التزام سے ہوتا ہے، لیکن مساجد کے ان عوامی حلقوں میں قرآنِ مجید کا ترجمہ اور فہمِ قرآن کا کوئی باقاعدہ سلسلہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عام مسلمان دن رات فضائل تو سن رہا ہے، لیکن وہ اللہ کے اس براہِ راست پیغام سے کٹ چکا ہے جو اس کے عقائد، اس کے روزمرہ کے معاملات، حلال و حرام کی حدود اور معاشرتی رویوں کی اصلاح کرتا ہے۔
ہمیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہم لاشعوری طور پر اس قرآنی وعید کے دائرے میں نہ آ جائیں جہاں میدانِ محشر میں رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کے خلاف استغاثہ دائر کریں گے:
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا** (سورہ الفرقان: 30)
"اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (پسِ پشت ڈال دیا تھا)۔"
فہمِ قرآن اب مشکل نہیں: دورِ حاضر کے تراجم
ماضی میں یہ عذر پیش کیا جاتا تھا کہ عام مسلمان عربی زبان سے ناواقف ہے یا تراجم اتنے سلیس نہیں ہیں، اس لیے براہِ راست ترجمہ پڑھنے سے غلط فہمی کا اندیشہ ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں مستند علماءِ کرام نے قرآنِ مجید کے ایسے شاندار، سلیس اور عام فہم تراجم فرما دیے ہیں کہ ایک معمولی پڑھا لکھا شخص بھی انہیں پڑھ کر قرآن کی اصل روح اور ہدایت کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی ہے کہ:
"وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ"
(ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے)۔ یہ کہنا کہ "قرآن کا ترجمہ خود پڑھنے سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے"، اللہ کے اس واضح اعلان کی نفی اور مسلمانوں کو کلامِ الٰہی کے نور سے دور رکھنے کے مترادف ہے۔ گہرے فقہی اور علمی مسائل کے لیے یقیناً علماء سے رجوع ضروری ہے، لیکن ہدایت، اخلاق اور نصیحت کے لیے قرآن کا دروازہ ہر انسان کے لیے کھلا ہے۔
ایک مخلصانہ اور متوازن تجویز:
"نصف وقت کلامِ پاک کے لیے"
ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ فضائلِ اعمال کو پڑھنا بالکل چھوڑ دیا جائے؛ کیونکہ یہ کتاب ایک جید عالمِ دین (مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ) نے مسلمانوں میں اعمال کی ترغیب کے لیے لکھی تھی، اگرچہ انہوں نے خود دیباچے میں اعتراف کیا کہ یہ انہوں نے شدید علالت کے دور میں ڈاکٹروں کے منع کرنے پر ایک عارضی علمی مصروفیت کے طور پر مرتب کی تھی۔
ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ اس کتاب کی اہمیت کو قرآن کے مرتبے پر غالب نہ آنے دیا جائے۔ اس کا بہترین عملی حل یہ ہے کہ مساجد کے حلقوں اور تعلیمی نشستوں میں ایک نئی ترتیب بنائی جائے:
1. وقت کی مساوی تقسیم:
درس کے کل وقت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ آدھا وقت قرآنِ مجید کے سلیس ترجمے کے درس کے لیے وقف ہو، اور باقی آدھے وقت میں فضائلِ اعمال کا دورہ جاری رکھا جائے۔
2. روزانہ ایک صفحہ فہمِ قرآن:
اگر روزانہ حلقے میں صرف ایک صفحہ قرآن مجید کا ترجمہ سنانے کا معمول بنا لیا جائے، تو چند مہینوں میں پورا حلقہ اللہ کے آفاقی پیغام سے شعوری طور پر جڑ جائے گا۔
حاصلِ کلام:
نیک دکھنا نہیں، نیک بننا ہے!
محترم بھائیو! فضائل کے دروس سننے سے ہمیں ایک "سستا سکون" تو مل جاتا ہے کہ ہم نے ثواب کما لیا، لیکن دین کا اصل مقصد صرف ثواب کا حساب کتاب رکھنا نہیں، بلکہ اپنی زندگی کا احتساب کرنا ہے۔ فضائل کی حد تک محدود رہنے سے معاشرے میں "نیک دکھنے" کا رواج تو بڑھ جاتا ہے، لیکن "نیک بننے" کی وہ روح پیدا نہیں ہوتی جو صرف قرآنِ مجید کے فہم سے پھوٹتی ہے۔
قرآن بیداریِ ضمیر، خوفِ خدا، حقوق العباد کی پاسداری اور معاشرتی انقلاب کی کتاب ہے۔ آئیے! اپنی دعوت کے رخ کو براہِ راست کلامِ الٰہی کی طرف موڑیں تاکہ ہماری محنت اپنی اصل الہامی روح کے ساتھ زندہ ہو سکے اور کل قیامت کے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآنِ مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
تبصرے