نماز عید شیعہ

 وعلیکم السلام برادرم،

اہلِ تشیع (فقہ جعفریہ) کے مطابق نمازِ عید الاضحی پڑھنے کا مکمل طریقہ،

 مستحب قنوت کا اردو ترجمہ اور ایک متبادل (مختصر) دعا نیچے تفصیل سے درج ہے:


بنیادی معلومات اور نیت

نمازِ عید الاضحی دو رکعت ہے اور اس میں اذان یا اقامت نہیں ہوتی، بلکہ مؤذن تین مرتبہ الصلاۃ کہتا ہے۔ امامِ زمانہ کی غیبت کے زمانے میں یہ نماز سنتِ مؤکدہ ہے اور اسے باجماعت یا اکیلے دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے دل میں یا زبان سے اس طرح نیت کریں:

"پڑھتا ہوں دو رکعت نمازِ عید الاضحی، قربۃً الی اللہ"


 پہلی رکعت کا طریقہ

1۔ نیت کے بعد تکبیرۃ الاحرام (اللہ اکبر) کہہ کر ہاتھ باندھے بغیر چھوڑ دیں (ہاتھ باندھنا جائز نہیں ہے)۔

2۔ سورہ الحمد اور کوئی دوسری سورت (بہتر ہے کہ سورہ اعلیٰ) پڑھیں۔


3۔ سورت مکمل کرنے کے بعد پانچ مرتبہ مسلسل تکبیر کہنی ہے اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھنا ہے (یعنی 5 تکبیریں اور 5 قنوت)۔


4۔ پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبیر (چھٹی تکبیر) کہہ کر رکوع میں جائیں۔


5۔ رکوع اور اس کے بعد حسبِ معمول دو سجدے ادا کریں۔


دوسری رکعت کا طریقہ

1۔ دوسرے سجدے سے اٹھ کر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔


2۔ پہلے سورہ الحمد اور کوئی دوسری سورت (بہتر ہے کہ سورہ شمس) پڑھیں۔

3۔ سورت مکمل کرنے کے بعد چار مرتبہ تکبیر کہنی ہے اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھنا ہے (یعنی 4 تکبیریں اور 4 قنوت)۔


4۔ چوتھے قنوت کے بعد ایک اور تکبیر (پانچویں تکبیر) کہہ کر رکوع میں جائیں۔


5۔ رکوع اور اس کے بعد دو سجدے کریں۔

6۔ سجدوں سے فارغ ہو کر تشہد اور سلام پڑھ کر نماز مکمل کریں۔


عیدین کی مخصوص مستحب دعاِ قنوت اور ترجمہ:

عید کی نماز کے قنوت میں سب سے افضل اور مشہور دعا درج ذیل ہے:


اللّهُمَّ أَهْلَ الْكِبْرِياءِ وَالْعَظَمَةِ، وَأَهْلَ الْجُودِ وَالْجَبَرُوتِ، وَأَهْلَ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ، وَأَهْلَ التَّقْوى وَالْمَغْفِرَةِ، أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هذَا الْيَوْمِ الَّذِي جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمِينَ عِيداً، وَلِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ذُخْراً وَشَرَفاً وَمَزِيداً، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُدْخِلَنِي فِي كُلِّ خَيْرٍ أَدْخَلْتَ فِيهِ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُخْرِجَنِي مِنْ كُلِّ سُوءٍ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ۔ اللّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ ما سَأَلَكَ مِنْهُ عِبادُكَ الصَّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِكَ فِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ عِبادُكَ الْمُخْلَصُونَ۔


اردو ترجمہ:

اے معبود! تو ہی بڑائی اور عظمت کا مالک ہے، تو ہی بخشش اور تسلط کا صاحب ہے، تو ہی معافی اور رحمت کا سزاوار ہے، اور تو ہی تقویٰ اور مغفرت کا اہل ہے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس دن کے حق کے واسطے جس کو تو نے مسلمانوں کے لیے عید قرار دیا، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ذخیرہ، شرافت اور بلندیِ مرتبہ کا ذریعہ بنایا، یہ کہ تو محمد اور آلِ محمد پر درود بھیج، اور مجھے ہر اس خیر میں داخل فرما جس میں تو نے محمد اور آلِ محمد کو داخل فرمایا، اور مجھے ہر اس برائی سے نکال لے جس سے تو نے محمد اور آلِ محمد کو نکالا، تیرا درود ہو ان پر اور ان سب پر۔ اے معبود! میں تجھ سے اس بہترین چیز کا سوال کرتا ہوں جس کا تجھ سے تیرے نیک بندوں نے سوال کیا، اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس چیز سے جس سے تیرے مخلص بندوں نے پناہ مانگی ہے۔

 متبادل (دوسری) مختصر دعا

اگر کسی کو اوپر بیان کردہ لمبی دعا یاد نہ ہو یا پڑھنے میں مشکل ہو، تو فقہ جعفریہ کے مطابق عید کے قنوت میں کوئی بھی دوسری دعا یا صلوات پڑھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ مختصر اور جامع دعا پڑھی جا سکتی ہے:


اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَعَافِنَا وَاعْفُ عَنَّا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِينَ۔


اردو ترجمہ:

اے معبود! ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما، ہمیں عافیت دے اور دنیا و آخرت میں ہم سے درگزر فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ درود بھیجے محمد اور ان کی پاکیزہ آل پر۔

اس متبادل دعا کو بھی پہلی رکعت کے 5 قنوت اور دوسری رکعت کے 4 قنوت میں پڑھا جا سکتا ہے۔ نماز کے بعد باجماعت کی صورت میں امام کا دو خطبے دینا سنت ہے۔


الدعاء 

یاحیئ و یا قیوم برحمتک استغیث

تبصرے