افطاری کا مسنون وقت

 روزہ کھولنے (افطار کرنے) کا مسنون اور شرعی وقت


جمعہ 2 جون 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


 غروبِ آفتاب یعنی سورج کا افق میں پوری طرح چھپ جانا ہے۔ جیسے ہی سورج کا دائرہ مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہو جائے، روزہ افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

قرآنِ کریم کی روشنی میں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ (سورة البقرة: 187)

ترجمہ: "پھر رات ہونے تک روزے کو پورا کرو۔"

عربی زبان اور شریعت کی رو سے "لیل" (رات) کا آغاز سورج کے غروب ہوتے ہی ہو جاتا ہے۔ جب آفتاب کا پورا دائرہ چھپ جائے تو دن ختم اور رات شروع ہو جاتی ہے، یہی افطار کا شرعی وقت ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

احادیثِ نبوی ﷺ میں سورج غروب ہوتے ہی بلا تاخیر روزہ کھولنے کی شدید تاکید کی گئی ہے اور اسے خیر و برکت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔


1۔ افطار کے وقت کی تعیین:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جب رات اس طرف (مشرق) سے نمودار ہو جائے اور دن اس طرف (مغرب) سے پیٹھ پھیر لے اور سورج غروب ہو جائے، تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو گیا۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)


2۔ افطار میں جلدی کرنے کی فضیلت:

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لوگ ہمیشہ خیر (بھلائی) پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔" (صحیح بخاری)


3۔ تاخیر کرنے کی ممانعت:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہودی اور عیسائی اس میں تاخیر کرتے ہیں (وہ ستاروں کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں)۔" (سنن ابو داؤد)

آثارِ صحابہ کی روشنی میں

صحابہ کرام علیہم الرضوان کا بھی یہی معمول تھا کہ وہ سورج غروب ہوتے ہی بغیر کسی تاخیر کے سب سے پہلے روزہ افطار فرماتے تھے۔


1۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمل اور گواہی:

مسند احمد اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ ان میں سے ایک صاحب (ابن مسعود) افطار اور نماز (مغرب) دونوں میں جلدی کرتے ہیں، جبکہ دوسرے صاحب دونوں میں تاخیر کرتے ہیں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "جلدی کون کرتے ہیں؟" عرض کیا گیا: "عبداللہ بن مسعود۔" انہوں نے فرمایا: "رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔"


2۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا عمل:

امام مالک کی 'مؤطا' میں روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب رات کی سیاہی کو (مغرب کی طرف) دیکھ لیتے اور یہ نماز وہ روزہ افطار کرنے سے پہلے پڑھتے تھے (یعنی سورج ڈوبتے ہی ہلکا سا افطار فرما کر نماز ادا کرتے، پھر تفصیلی کھانا کھاتے)۔


خلاصہ یہ ہے کہ جیسے ہی سورج مکمل طور پر غروب ہو جائے، روزہ افطار کر لینا سنتِ رسول ﷺ اور طریقۂ صحابہ ہے۔ افطار میں اتنی تاخیر کرنا کہ آسمان پر تارے نظر آنے لگیں، سنت کے خلاف اور ناپسندیدہ ہے۔


الدعاء 

یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث 


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے